جون 2020

جون 1 تا 30 جون، 2020

زراعت

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے ایک جائزہ اجلاس کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت 37 بلین روپے کے زرعی پیکج کے کامیاب نفاذ کے لیے صوبوں کے ساتھ ہر سطح پر تعاون کرے گی۔ اس پیکج میں کیمیائی کھاد، کپاس کے بیج، سفید مکھی کیڑے مار زہر پر زرتلافی شامل ہے۔ پیکج میں زرعی قرضوں پر سود میں کمی اور مقامی طور پر تیار ہونے والے ٹریکٹروں کی فروخت پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ بھی شامل ہے۔ زرعی پیکچ میں کسانوں کو کھاد کی خریداری پر 37 بلین روپے زرتلافی کی پیشکش کی گئی ہے۔
(ڈان، 4 جون، صفحہ9)

وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے فارمرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایف اے پی) کے وفد کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں 50 بلین روپے کا زرعی پیکچ ان کا ہدف ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے کسانوں کے لیے امداد میں اضافے اور انہیں براہ راست زرتلافی دینے کے لیے یہ پیکج منظور کیا ہے اورکسانوں کو براہ راست رقم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح رہے گی۔ وفد نے عبدالحفیظ شیخ سے ملاقات کرکے بجٹ تجاویز جمع کروائی ہیں جن میں کیمیائی کھاد کی درآمد پر ڈیوٹی میں کمی، زرعی قرضوں کی معافی اور اس کی شرح سود میں کمی، زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی اور زرعی و مال مویشی شعبہ سے متعلق اشیاء کی درآمد و برآمد کو آزاد (ڈی ریگولیٹ) کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 9 جون، صفحہ1)

پاکستان اقتصادی سروے 2019-20 کے مطابق کرونا وائرس سے زرعی شعبہ پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔ مجموعی طور پر گزشتہ سال 0.5 فیصد بڑھوتری کے مقابلے اس سال 2.67 فیصد بڑھوتری ہوئی۔ سوائے کپاس اور گنے کے تمام فصلوں کی پیداوار میں بڑھوتری مثبت رہی ہے۔ تاہم 2019 کے آخر میں شروع ہونے والے ٹڈی دل حملوں سے بلوچستان، پنجاب اور سندھ میں اہم پیداواری علاقوں میں فصلوں کو نقصان ہوا ہے۔ ابتدائی اندازے ظاہر کرتے ہیں کہ 115,000 ہیکٹر پر فصلیں بشمول گندم، روغنی بیج، کپاس، دالیں، پھل و سبزی اور چراہ گاہیں متاثر ہوئی ہیں۔ چاول کی پیداوار 2.9 فیصد اضافے سے 7.410 ملین ٹن جبکہ مکئی کی پیداوار چھ فیصد اضافے سے 7.236 ملین ٹن ہوئی۔ کپاس کی پیداوار 6.9 فیصد کم ہوکر 9.178 ملین گانٹھیں ہوئی جبکہ گنے کی پیداوار 0.4 فیصد کمی کے بعد 66.880 ملین ٹن ہوئی۔ گندم کی پیداوار 2.5 فیصد اضافے کے بعد تقریباً 25 ملین ٹن رہی۔
(ڈان، 12 جون، صفحہ10)

پاکستان کسان اتحاد (پی کے آئی) نے تحریک انصاف، وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ مزاکرات ختم کردیے ہیں اور اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس پر احتجاج اور دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ پی کے آئی کی اعلی قیادت نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق فخر امام اور دیگر وزارء کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں کے بعد 17 اور 18 جون کا بلترتیب لاہور اور اسلام آباد میں احتجاج ملتوی کردیا تھا۔ لیکن وفاقی وزراء کی جانب سے ایک ہفتے کے بعد بھی کوئی وعدہ پورا نہیں ہوا۔ پی کے آئی کے مرکزی صدر خالد محمود کھوکھر کے مطابق ان کی اعلی قیادت نے تین بڑے مطالبات پیش کیے ہیں جن میں کیمیائی کھاد پر ٹوکن سسٹم کے بجائے براہ راست زرتلافی کی فراہمی، زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی کے نرخ کم کرکے 5.35 روپے فی یونٹ مقرر کرنے اور ہرقسم کے زرعی قرضوں پر سود کی معافی شامل ہے۔
(ڈان، 24 جون، صفحہ1)

گندم

چیف سیکریٹری پنجاب جواد رفیق ملک نے گندم خریداری کی نئی پالیسی پر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسانوں اور غریبوں کو زیادہ سے زیادہ مدد فراہم کرنے کے لیے گندم کی خریداری کی نئی پالیسی بننی چاہیے اور حکومت پر سے مالی دباؤ کا خاتمہ اور آٹا ملوں کا حکومت پر انحصار کم ہونا چاہیے۔ چیف سیکریٹری نے گندم کی خریداری کے مرحلے میں حکومت پر مالی دباؤ کے خاتمے، ملوں کا حکومت پر انحصار کم کرنے، کسانوں کی بہتر آمدنی، غریب افراد کو براہ راست زرتلافی دینے، قیمتوں پر اختیار، گندم کے محفوظ ذخائر اور اس کی بین الصوبائی ترسیل و برآمدات پر سفارشات کی تیاری کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔کمیٹی محکمہ زراعت، خوراک، منصوبہ بندی و ترقی اور محکمہ خزانہ کے سیکریٹریوں پر مشتمل ہے جو تین دنوں میں اپنی سفارشات تیار کریں گی جو حتمی منظوری کے لیے وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی۔ کمیٹی یہ تجاویز بھی دے گی کہ گندم کی نئی خریداری پالیسی پر عملدرآمد کس طرح ہوگا۔
(بزنس ریکارڈر، 2 جون، صفحہ12)

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے ایک اجلاس میں وفاقی حکومت نے نجی شعبہ کو لامحدود گندم درآمد کرنے کی اجازت دینے اور درآمد پر عائد 60 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔گندم کی درآمد پر اس وقت عائد اضافی چھ فیصد اور دو فیصد ایڈشنل ڈیوٹی بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ چھوٹ 0.5 ملین ٹن گندم کی درآمد پر بھی لاگو ہوگی جس کی اجازت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی پہلے ہی دے چکی ہے۔اجلاس کے بعد سیکریٹری قومی غذائی تحفظ و تحقیق عمر حامد خان نے بتایا کہ ملک میں گندم کی کٹائی جاری ہے اور اب تک تقریباً 25 ملین ٹن گندم کی کٹائی ہوچکی ہے۔ اس سال گندم کی تقریباً 27 ملین ٹن پیداوار متوقع ہے۔
(ڈان، 8 جون، صفحہ1)

سیکریٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق عمر حامد خان اور محکمہ خوراک پنجاب نے کہا ہے کہ سندھ و پنجاب حکومتیں اقتصادی رابطہ کمیٹی کی ہدایت کے مطابق ملک بھر میں آٹا اور گندم کی مناسب قیمت پر فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے گندم کے اجراء کی پالیسی جاری کریں گی۔ محکمہ خوراک سندھ کا کہنا ہے کہ صوبہ سندھ اگلے 10 دنوں میں پالیسی جاری کرے گا۔
(ڈان، 30 جون، صفحہ9)

آم

ایک خبر کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے تجارتی سست روی، ٹڈی دل حملہ اور غیر موافق موسم نے مل کر رواں سال کو آم کے کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بنا دیا ہے۔ اس سال آم کی پیداوار اور طلب دونوں کم ہورہی ہے۔ سانگھڑ، سندھ کے ایک چھوٹے کاشتکار محمد انصر کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل حملوں کے نتیجے میں ان کی آم کی پیداوار 30 فیصد کم ہوئی ہے۔ پنجاب میں، جہاں پاکستانی آموں کی 70 فیصد پیداوار ہوتی ہے، اس سال 35 فیصد سے زیادہ آم کی پیداوار میں کمی دیکھی گئی ہے جبکہ سندھ میں آم کی پیداوار میں 15 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 19 جون، صفحہ14)

کھاد

فرٹیلائزر مینو فیکچررز آف پاکستان ایڈوائزری کونسل نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ متوقع زرتلافی اسکیم کی وجہ سے تمام کیمیائی کھادوں کی فروخت رک گئی ہے۔ زرتلافی کی فراہمی اور اسکیم پر عملدرآمد میں تاخیر کی وجہ سے اس کے فوائد اپنی اہمیت کھورہے ہیں۔ حکومت نے زرعی شعبہ کے لیے 50 بلین روپے کے پیکج کی منظوری دی تھی جس میں کھاد پر 37 بلین روپے (ڈی اے پی کی بوری پر 925 روپے اور یوریا کی بوری پر 243 روپے فی بوری) زرتلافی بھی شامل ہے۔ اس وقت 50 کلو گرام کی یوریا کی بوری کی قیمت 1,643 روپے جبکہ ڈی اے پی کی بوری کی قیمت 3,415 روپے ہے۔
(ڈان، 3 جون، صفحہ9)

کپاس

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے وفد سے ملاقات میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق فخر امام نے کہا ہے کہ فی ایکڑ کپاس کی پیداوار میں اضافے کے لیے جدید ٹیکنالوجی لازمی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی وزارت پیداوار میں اضافے کے لیے چینی بیج ٹیکنالوجی کی منتقلی پر کام کررہی ہے۔ وفاقی وزیر نے پی سی جی اے سے پاکستان میں معیاری کپاس کی تیاری کے لیے جننگ شعبہ میں جدت کے لیے تجاویز طلب کی ہیں۔ وفد نے آگاہ کیا کہ کپاس کے پیداواری علاقوں میں 1,300 سے زیادہ جننگ کے کارخانے ہیں جن کی جننگ کی صلاحیت 14 ملین گانٹھیں ہے، لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے پیداوار میں کمی کی وجہ سے گزشتہ سال صرف 800 کارخانے فعال تھے۔ وفاقی وزیر نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران کہا ہے کہ سیڈ ایکٹ اور پلانٹ بریڈرز ایکٹ دو سال پہلے قانون بن چکے ہیں لیکن اب تک ان پر باقائدہ عملدرآمد نہیں ہورہا۔
(ڈان، 28 جون، صفحہ9)

مال مویشی

ایک خبر کے مطابق پاکستان اقتصادی سروے 2019-20 کے مطابق کرونا وائرس نے کسانوں کے روزگار اور مال مویشی شعبہ سے منسلک افراد پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں اور انہیں اپنے قرضہ جات کی ادائیگی میں مسائل کا سامنا ہے۔ لاک ڈاؤن نے ناصرف مال مویشی شعبہ سے متعلق اشیاء کی طلب کو متاثر کیا ہے بلکہ برآمدات کے لیے طلب و رسد کے مسائل بھی پیدا کیے ہیں۔ ملک میں آٹھ ملین خاندان اس شعبہ سے وابستہ ہیں اور اپنی 35 سے 40 فیصد آمدنی اسی شعبہ سے حاصل کرتے ہیں۔ مال مویشی شعبہ کا زرعی پیداوار میں حصہ 60.6 فیصد جبکہ مجموعی قومی پیداوار میں 11.7 فیصد حصہ ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ تین سالوں سے مال مویشی آبادی بڑھ رہی ہے۔ 2019-20 میں گائیوں کی تعداد 49.6 ملین، بھینسوں کی 41.2 ملین، بھیڑوں کی 31.2 ملین، بکریوں کی 78.2 ملین، اونٹوں کی 1.1 ملین، گھوڑوں 0.4 ملین، گدھوں کی 5.5 ملین جبکہ خچروں کی 0.2 ملین تعداد کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ سال 2019-20 میں دودھ کی پیداوار 61,690,000 ٹن رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں گوشت کی پیداوار میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ جانوروں کی صحت و معیار کا محکمہ اینمل کورنٹین ڈپارٹمنٹ نے سال 2019-20 میں قرنطینہ خدمات فراہم کیں اور زندہ مویشیوں، بکرے کا گوشت، گائے کا گوشت، انڈے اور دیگر اشیاء کی برآمد کے لیے 36,853 اسناد جاری کیں۔ ان برآمدی اشیاء کی مالیت 337.162 ملین ڈالر تھی۔
(ڈان، 14 جون، صفحہ9)

ایتھوپیا کی حکومت نے پاکستان کو سرخ لوبیا کی برآمد کے لیے دی گئی چھوٹ میں توسیع مانگی ہے۔ پاکستان نے ایتھوپیا سے سرخ لوبیا کی درآمدپر تین ماہ کے لیے پابندی اٹھالی تھی جس کی معیاد اس سال مارچ میں ختم ہوگئی ہے۔ لیکن ایتھوپیا کی حکومت کرونا وائرس کی وجہ سے اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھاسکی۔ ایتھوپیا کی وزارت زراعت نے پاکستان سے چھ ماہ کے لیے پابندی ختم کرنے کی درخواست کی ہے۔ پاکستان نے ایتھوپیا سے سنگین اور تباہ کن بیماریوں کے خدشہ کے تحت سرخ لوبیا کی درآمد پر پابندی عائد کی تھی۔ تین ماہ کے لیے پابندی اٹھانے سے پہلے سے پاکستانی ماہرین نے ایتھوپیا کی وزارت زراعت کی جانب سے قائم کی گئی قرنطینہ سہولیات کا جائزہ لیا تھا۔
(ڈان، 1 جون، صفحہ5)

چینی

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چینی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔ درخواست میں شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ”کردار کشی پر مبنی غیر قانونی اور غیرضروری مہم اور انہیں آئین کے تحت حاصل تحفظ سے انکار کے خلاف عدالت سے تحفظ طلب کیا ہے“۔
(بزنس ریکارڈر، 11 جون، صفحہ16)

جنگلات

وزیراعظم کے مشیر برائے موسمی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ اٹک کے قریب فتح جنگ کے علاقہ سے ملحقہ جنگلات کو محفوظ قومی پارک میں تبدیل کردیا جائے گا۔ کالا چٹا پہاڑی سلسلے کے ساتھ موجود کھیری مرات نامی یہ جنگل 8,740 ایکڑ پر محیط ہے۔ یہ پارک تفریحی سرگرمیاں فراہم کرے گا جبکہ مقامی افراد کو روزگار فراہم کرے گا۔ پارک کے قیام کے بعد ان جنگلات میں جنگلی حیات کا شکار غیرقانونی اور قابل سزا و جرمانہ تصور کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک نیا محکمہ ”نیشنل پارک سروس فار پاکستان“ قائم کیا جائے گا اور تمام چھ قومی پارک ان خدمات کی فراہمی کے آغاز کے لیے استعمال ہونگے۔ یہ پارک کے پی، سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں قائم ہونگے۔ یہ پارک بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت بنائے جائیں گے۔
(ڈان، 30 جون، صفحہ4)

قدرتی آفات

ضلع سوات کے مختلف علاقوں میں شدید طوفانی بارش کی وجہ سے فصلوں و باغات کو نقصان پہنچا ہے اور کئی اضلاع میں درخت اکھڑ گئے ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ چار ماہ میں یہ دوسری بار ہوا ہے کہ طوفان و بارش نے کھڑی فصلوں اور باغات کو تباہ کیا ہے جس سے انہیں بھاری نقصان ہورہا ہے۔ زرعی ماہر فضل مولا کے مطابق اپریل اور مئی میں ہونے والی بارشوں نے خوبانی، آلو بخارا، آڑو اور سیب سمیت پھلوں کے باغات کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ طوفان گزشتہ طوفان سے زیادہ شدید تھا۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں مٹہ، خواز خیلہ اور بحرین شامل ہیں۔
(ڈان، 29 جون، صفحہ9)

غربت

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے ساتھ کورونا وائرس کے اثرات کو کم کرنے میں مدد کے لیے 300 ملین ڈالر کا ہنگامی قرض فراہم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ قرضہ پاکستان کے سماجی تحفظ کے منصوبے احساس پروگرام کے ذریعے غریب خاندانوں اور عورتوں کو نقد رقم کی فراہمی جاری رکھنے میں معاون ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ قرض طبی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنانے اور ہسپتالوں کے لیے ضروری سامان کی خریداری میں بھی مددگار ہوگا۔
(ڈان، 6 جون، صفحہ5)

پاکستان اقتصادی سروے 2019-20 کے مطابق کرونا وائرس کے پاکستانی معیشت پر منفی اثرات متوقع ہیں اور خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد 50 ملین سے بڑھ کر 60 ملین ہوسکتی ہے۔ منصوبہ بندی کمیشن غربت کا اندازہ لگانے کے لیے کوسٹ آف بیسک نیڈز (سی بی این) یعنی بنیادی ضروریات پر آنے والی لاگت کا طریقہ استعمال کرتی ہے جو فی بالغ فرد 3,250.3 روپے ماہانہ بنتی ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت 24.3 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے رہتی ہے۔ کرونا وائرس کے بعد کی صورتحال میں اگر فی خاندان بنیادی ضروریات کا استعمال پانچ فیصد کم ہوتا ہے تو غریب آبادی 24.3 فیصد سے 29 فیصد ہوجائے گی جو تقریباً 10 فیصد آبادی کے خط غربت سے نیچے جانے کا سبب ہوگی۔ دوسری صورت میں اگر فی خاندان بنیادی ضروریات کا استعمال 10 فیصد کم ہوتا ہے تو اس صورتحال میں غربت کی شرح 33.5 فیصد ہوسکتی ہے۔
(ڈان، 12 جون، صفحہ3)

نکتہ نظر

ملک کے پالیسی ساز حلقے اور شماریات کے ادارے زرعی شعبہ بشمول مال مویشی شعبہ میں مثبت بڑھوتری کے اعداد و شمار پیش کررہے ہیں۔ سوائے کپاس اور گنے کے تقریباً تمام فصلوں کی پیداوار میں مثبت اشارے پیش کیے گئے ہیں، ساتھ ہی مویشیوں کی افزائش اور دودھ کی پیداوار میں اضافے کی نوید دی گئی ہے۔ یہی نہیں حکومت بظاہر ملک کے غریب چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں کے لیے ”انتھک کوششیں“ کررہی ہے۔ جیسے کہ کیمیائی کھاد کی فروخت پر اربوں روپے زرتلافی کی فراہمی، زرعی زہر، کمپنیوں کے بیجوں پر زرتلافی، ٹریکٹر بنانے والی کمپنیوں کو بحران سے نکالنے اور ٹریکٹروں کی فروخت یقینی بنانے کے لیے مراعات کی فراہمی وغیرہ۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ تمام تر مراعات اور پیداوار میں ہونے والا اضافہ ملک بھر کے چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں کو بھوک اور غربت سے نجات دے سکتا ہے؟ کیا ماضی میں کپاس اور گنے کی زیادہ پیداوار نے ملک بھر کے چھوٹے کسانوں کو خوشحال کیا؟ کیا گندم کی ضرورت کے مطابق پیداوار بے زمین کسان مزدوروں کی غذائی ضروریات پوری کرسکی؟ کیا عوام کے لیے آٹا اور چینی کی قیمت میں پیداوار میں اضافے سے کوئی استحکام آیا؟ ہر گز نہیں! گندم کی حالیہ پیداوار بھی مثبت رہی اور 25 ملین ٹن کی پیداوار ملکی ضروریات کے لیے کافی بھی ہے، تو کیا وجہ ہے کہ حکومت اس کی لامحدود درآمد کی اجازت دے رہی ہے، جبکہ یہ درآمدی گندم ملکی گندم سے کہیں زیادہ مہنگی بھی ہوگی۔ اسی طرح سرکاری سطح پر گندم کی خریداری کی نئی پالیسی زیر غور ہے جس میں حکومت کو خریداری کے عمل میں مالی دباؤ سے نجات دینے کے لیے تجاویز زیر غور ہیں۔ ساتھ ہی آٹا ملوں کا بھی حکومت پر انحصار ختم کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں جن سے صاف ظاہر ہے کہ حکومت اس سارے عمل کو منڈی پر چھوڑنے (ڈی ریگولیشن) کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ یاد رہے کہ جاگیر دار اور زرعی شعبہ سے وابستہ سرمایہ دار طبقہ بشمول چینی، آٹا، کھاد، بیج، زرعی زہر کے کاروبار سے وابستہ کمپنیاں اور ملیں نام نہاد کسان تنظیموں کے بھیس میں زرعی اشیاء کی درآمد و برآمد پر سے حکومتی اختیار کے خاتمے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں جن کا بنیادی مقصد عوامی استحصال کرکے لامحدود منافع کا حصول ہے ناکہ بھوک و غربت کا خاتمہ اور غذائی خودمختاری کا حصول۔ خود حکومتی اعداد وشمار اس صورتحال کی کسی حد تک ترجمانی کرتے ہوئے کہہ رہے کہ اس وقت ملک کی 50 ملین آبادی بھوک و غربت کا شکار ہے اور موجودہ کورونا وائرس کی صورتحال میں یہ تعداد 60 ملین تک بڑھ سکتی ہے۔ کسان مزدور عوام کی خوشحالی کے دعوے حکومتی بیانات اور پالیسی میں یہ واضح تضاد سرمایہ دارانہ نظام کی خاصیت ہے جس میں چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں کا استحصال ہی سرمایہ دار کمپنیوں اور پیداواری وسائل پر قابض افراد کی دولت اور منافع میں اضافے کی بنیاد ہے۔ تمام تر پالیسی سازی میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آخر کار ان تمام تر اقدامات چاہے وہ پیداوار میں اضافہ ہو، کھاد پر زرتلافی ہو یا ٹریکٹر، بیج اورزرعی زہر پر دی گئی مراعات، ان سب کا تعلق براہ راست یہ تمام مداخل بنانے والی کمپنیوں کے کاروبار اور پیداوار کی درآمد و برآمد سے جڑے سرمایہ داروں کے منافع میں اضافے سے ہے۔ ملک بھرکے چھوٹے اور بے زمین کسان مزدورو عوام کی خوراک کی خودمختاری کے حصول، بھوک و غربت کے خاتمے اور خوشحالی کے لیے لازم ہے کہ اس استحصال پر مبنی نظام کو ہی جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔