اپریل 2020

اپریل 23 تا 29 اپریل، 2020
زراعت
ایک خبر کے مطابق عالمی ادارہ خوراک و زراعت (فاؤ) نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران تھرپارکر، سندھ کے کسانوں کی مدد کے لئے اقدامات کیے ہیں۔ تھرپارکر میں فاؤ نے عالمی بینک کی مدد سے قطرہ قطرہ آبپاشی نظام (ڈرپ اریگیشن) اور سبزیوں کے بیج (کٹس) کی تقسیم میں مدد فراہم کی ہے تاکہ تھرپارکر کے کسان اس مشکل وقت سے باہر آسکیں۔ پانی کی 25 اسکیمیں جو بطور پانی کے چھوٹے آبی زخائر استعمال ہورہی ہیں تھرپارکر کے 25 دیہات میں تعمیر کی گئی ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے روزگار پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے ان دیہات میں مویشیوں کے لیے پانی کی ڈونگی اور گھریلو باغبانی کے لیے قطرہ قطرہ آبپاشی کا نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔ موجودہ حالات میں مال مویشی پالنے والے کسان مرد و عورت دونوں کو درپیش مسائل کے تناظر میں ضلع عمرکوٹ، سندھ میں ایک گشتی اسکول کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔
(ڈان، 23 اپریل، صفحہ3)

بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے پھلوں کو پکانے کے لیے کیمیائی مواد ایسی ٹلین (کیلشیم کاربائیڈ) کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔ یہ کیمیائی مواد صحت کے لیے انتہائی نقصاندہ سمجھا جاتا ہے۔ جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ایسی ٹلین گیس سرطان، آنتوں میں زخم، یاداشت سے محرومی اور دیگر مہلک بیماریوں کی وجہ ہے۔ کیلشیم کاربائڈ استعمال کرنے والے کسانوں کو بلوچستان فوڈ ایکٹ 2014 کے تحت سزا دی جائے گی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 23 اپریل، صفحہ7)

کورونا وباء کے دوران سرکاری اور نجی شعبہ کی کی جانب سے امدادی اقدامات کے لیے توجہ کا مرکز شہری آبادیاں ہیں جبکہ کورونا وائرس کے نتیجے میں صوبے کی دیہی آبادیوں میں غربت بڑھ رہی ہے۔ پنجاب کی دیہی آبادی خصوصاً بے زمین کسان اور مال مویشی شعبہ سے منسلک کسان زرعی پیداوار کی قیمت کم ہونے کی وجہ سے بدحالی کا شکار ہورہے ہیں۔ یہ زرعی پیداوار ہوٹل اور سیاحت کے شعبہ میں استعمال ہوتی ہیں اور دونوں شعبہ جات کورونا وائرس کی وجہ سے بندش کا شکار ہیں جس کی وجہ سے کسان آمدنی سے محروم ہوگئے ہیں۔ دیہی آبادیوں میں غربت میں اضافے کی دوسری اہم وجہ صنعتوں کی بندش ہے جہاں دیہی آبادی کا بڑا حصہ کام کرتا ہے۔ سیکریٹری جنرل پاکستان کسان رابطہ کمیٹی فاروق طارق کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے لاکھوں لیٹر دودھ شہری منڈیوں میں نہیں پہنچ رہا۔ دودھ کی فروخت کے اوقات کم ہونے اور ہوٹلیں بند ہونے کی وجہ سے اس کی کھپت کم ہورہی ہے۔ ان حالات میں کسان دودھ انتہائی کم قیمت 30 فی لیٹر پر فروخت کررہے ہیں۔
(ڈان، 24 اپریل، صفحہ2)

ایک اجلاس کے دوران متعلقہ حکام نے سندھ میں ٹڈی دل کے حملے میں اضافے کے حوالے سے چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کو آگاہ کیا ہے کہ 15 مئی تک سندھ کے کئی علاقوں میں ٹڈی دل کا حملہ متوقع ہے۔ اجلاس میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق صوبے کے 30 مقامات پر ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے عارضی مراکز (کیمپ) قائم کیے جائیں گے اور محکمہ زراعت سندھ اور وفاقی محکمہ تحفظ نباتات کے 180 اہلکاروں پر مشتمل 57 ٹیمیں بھی اس مقصد کے لیے تیار کرلی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ حکومت نے 100,000 لیٹر فضائی چھڑکاؤ اور گاڑیوں کے زریعے مزید 25,000 لیٹر کیڑے مار زہر کا چھڑکاؤ کرنے کی تیاری کرلی ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 26 اپریل، صفحہ5)

ایک خبر کے مطابق پاکستان اور چین کی وزارت زراعت نے مشترکہ طور پر زرعی شعبہ میں باہمی تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپ کا دوسرا اجلاس منعقد کیا ہے۔ اس مواصلاتی (آن لائن) اجلاس میں چین پاکستان نباتاتی امراض اور کیڑے مکوڑوں کے خاتمے کے لیے تعاون کے طریقہ کار اور دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون پر مبنی لائحہ عمل کا مسودہ بھی زیر بحث آیا۔ اجلاس میں تعمیرات، سرمایہ کاری و تجارت میں تعاون کو مستحکم کرنے، مشترکہ طور پر نباتاتی امرض اور کیڑے مکوڑوں سے تحفظ و خاتمے، پاکستان میں ”پلانٹ پیسٹ کنٹرول سینٹر“ کی تعمیر کے لیے مفاہمت کی یاداشت پر عملدرآمد میں تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ مفاہمت کی اس یاداشت پر صدر عارف علوی کے حالیہ دورہ چین کے دوران دستخط کیے گئے تھے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 28 اپریل، صفحہ3)

وزیر تعلیم بلوچستان یار محمدرند نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے اپیل کی ہے کہ صوبے سے ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر چھڑکاؤ کا بندوبست کیا جائے۔ مقامی طور پر کیے گئے چھڑکاؤ ٹڈی دل کے خاتمے اور فصلوں کے تحفظ ناکام رہے ہیں۔ صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ٹڈی دل نے کچھی کے علاقے تک پھیل کر فصلوں کو تباہ کرنا شروع کردیا ہے۔ کچھی، نصیرآباد اور سبی میں ٹڈی دل کی وجہ سے فصلوں کو شدید نقصان ہوا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 28 اپریل، صفحہ7)

آم
ایک خبر کے مطابق ضلع حیدرآباد میں آم کے کاشتکاروں اور ٹھیکیداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کو کام پر نہ رکھیں کیونکہ وہ کورونا وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں اور اسے دیگر لوگوں میں منتقل کرسکتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر فواد غفار سومرو نے ریونیو حکام، آم کے کاشتکاروں، ٹھیکیداروں کے ساتھ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”مقامی کسان مزدوروں کو کام پر رکھا جائے تاکہ انتظامیہ موثر طریقے سے وائرس کے پھیلاؤ کی جانچ کرسکے“۔ دوسری طرف صدر سندھ آباد گار اتحاد نواب زبیر تالپور نے جاری کردہ ایک بیان میں طویل لاک ڈاؤن کی وجہ سے آم کے کاشتکاروں کو بھاری نقصان کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ آم کی چنائی میں ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے اور چنائی کرنے والے کسان مزدور آمد و رفت کے لیے گاڑیوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے کام کرنے سے قاصر ہیں جبکہ منڈیوں میں خریدار بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔ انہوں نے آم کے پیداواری علاقوں میں دیگر محصولات کے ساتھ ڈھل اور آبیانہ معاف کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
(ڈان، 27 اپریل، صفحہ15)

ایک خبر کے مطابق تقریباً 100 بلین روپے کی آم کی صنعت کو لاک ڈاؤن اور مزدوروں کی عدم دستیابی کی وجہ سے شدید خطرات کا سامنا ہے، کیونکہ سندھ میں آم کی فصل تیار ہے لیکن اس کی چنائی کے لیے مزدور دستیاب نہیں ہیں۔ آل پاکستان فروٹ، ویجی ٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی ایف وی اے) نے حکومت سندھ سے آم کے موسم کے لیے لاک ڈاؤن کے دوران پنجاب سے سندھ مزدوروں کی آمدرفت کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کہا ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعلی پنجاب اور سندھ کو خط بھی لکھا گیا ہے۔ سندھ میں آم کی فصل مئی کے پہلے ہفتے میں چنائی کے لیے تیار ہوتی ہے جبکہ پنجاب میں ایک مہینے کے وقفے کے بعد شروع ہوتی ہے۔ سندھ میں آم کی چنائی کے لیے مزدور زیادہ تر پنجاب (بھاولپور، ملتان، مظفر گڑھ) سے آتے ہیں۔ حکومت پہلے ہی کھیتوں اور باغات میں کام کرنے کے لیے مزدوروں کو شرائط و ضوابط (ایس او پیز) کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دے چکی ہے لیکن ریل گاڑی اور آمدورفت کے عوامی زرائع ملک بھر میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند ہیں۔
(بزنس ریکارڈر، 28 اپریل، صفحہ5)

ماہی گیری
حکومت نے یورپی یونین کے معیار کے مطابق مچھلی کی خرید وفروخت اور ذخیرے کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے کورنگی فش ہاربر کے لیے دو منصوبوں کی منظوری دیدی ہے۔ یہ منصوبے سرد خانوں کے قیام اور نیلام گھر کی تعمیر و بحالی سے متعلق ہیں۔ پہلے مرحلے میں 170 ملین روپے کی لاگت سے 700 مربع میٹر رقبے پر سرد خانے کی تعمیر اور 1,200 مربع میٹر پر برف کے کارخانے کا قیام شامل ہے۔ 94.50 ملین روپے لاگت کے دوسرے منصوبے کے زریعے نیلام گھر میں کم درجہ حرارت پر مچھلی کی نقل و حمل اور معیاری مچھلی کی برآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت تین ٹن وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھنے والی ایک گشتی کرین بھی خریدی جائے گی۔
(بزنس ریکارڈر، 23 اپریل، صفحہ19)

حکومت سندھ نے ماہی گیروں کو 12 بحری میل (ناٹیکل مائل) تک کی سمندری حدود میں مچھلیاں پکڑنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس سے قبل ایک حکم نامے کے زریعے حکومت نے فش ہاربر پر سمندری خوراک کی تجارت و برآمد کے لیے ضابطوں (ایس او پیز) کا اجراء کیا تھا لیکن اس میں ماہی گیروں کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم اب حکومت سندھ نے پچھلے حکم نامے میں ترمیم کرکے ہر قسم کی ماہی گیر کشتیوں کو شرائط و ضوابط کے ساتھ شکار کی اجازت دے دی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 26 اپریل، صفحہ2)

چاول
چاول کی پیداوار میں اضافے کے زریعے آمدنی میں اضافے کے پانچ سالہ ہنگامی زرعی پروگرام کا پنجاب کے 15 اضلاع میں آغاز کردیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی لاگت 6.63 بلین روپے ہے۔ اس منصوبے کے تحت حکومت ان اضلاع کے چاول کاشت کرنے والے کسانوں کو مصدقہ بیج کے حصول کے لیے زرتلافی فراہم کی جائے گی۔ خواہشمند کسانوں کو اس منصوبے میں اندراج کے لئے مقامی محکمہ زراعت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ زراعت کے ذرائع کے مطابق اس پروگرام کے تحت ان اضلاع میں مشینی زراعت کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے گی۔
(بزنس ریکارڈر، 27 اپریل، صفحہ4)

چینی
ایک خبر کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ نے تحقیقاتی کمیشن کو چینی کے حالیہ بحران کے حوالے سے رپورٹ پیش کرنے کے لیے مزید تین ہفتے کا وقت دے دیا ہے۔ تحقیقاتی کمیشن نے رپورٹ مکمل کرنے کے لیے حکومت سے مزید مہلت دینے کی درخواست کی تھی۔ تاہم حکومت نے زور دیا ہے کہ یہ رپورٹ ناصرف مکمل ہوگی بلکہ پہلی رپورٹ کی طرح عام بھی کی جائے گی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 29 اپریل، صفحہ1)

غربت
پسماندہ اور کمزور طبقہ کی فلاح وبہود کو فروغ دینے کے لیے اینگرو کارپوریشن کے ادارے اینگرو فاؤنڈیشن نے بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے ساتھ تین سالہ تعاون پر مبنی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے کے تحت کورونا وباء کے دوران غریب خاندانوں کے روزگار پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے سرکاری اقدامات اور منصوبوں کو مختلف مواقعوں پر مدد فراہم کی جائے گی۔ دونوں ادارے باہمی دلچسپی کے مختلف شعبہ جات جیسے غذائیت، زرعی ترقی، مالیاتی شمولیت، عورتوں کو بااختیار بنانے اور ماں بچے کی صحت کے شعبہ جات کا تجزیہ کریں گے۔
(ڈان، 25 اپریل، صفحہ5)

ایک خبر کے مطابق وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کا تیسرا مرحلہ اگلے ہفتے شروع ہوگا۔ ابتدائی دو مرحلوں میں امداد 2010 کے سروے کے مطابق تقسیم کی گئی ہے۔ یہ سروے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظرنہیں کیا گیا تھا۔ احساس کیش پروگرام کے تحت تیسرے مرحلے میں ان دونوں علاقوں کا حصہ ان کی آبادی کے مطابق ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 27 اپریل، صفحہ2)

نکتہ نظر
گزشتہ ہفتے کی طرح اس ہفتے بھی زیادہ تر خبریں ملک بھر میں کورونا کی وبائی صورتحال میں کسان مزدور عوام کو درپیش سنگین معاشی حالات کی عکاسی کررہی ہیں۔ ان حالات میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تمام تر امدادی اقدامات اور پالیسی میں دیہی عوام کے مسائل کم کرنے کے لیے اقدامات کا فقدان نظر آتا ہے۔ کسان مزدور عوامی زرائع آمد و رفت کی بندش کی وجہ سے کھیتوں اور باغات میں کام کرنے سے قاصر ہیں۔ اس وبائی صورتحال کے دوران سندھ میں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے دیگر صوبوں سے آنے والے کسان مزدوروں کو آم کی چنائی اور روزگار سے محروم کرنے کا عمل شرمناک اور ان مزدوروں کی معاشی مشکلات میں اضافے کا باعث ہے۔ موجودہ وبائی حالات اور لاک ڈاؤن کی پابندیوں کی وجہ سے پنجاب بھر میں مال مویشی پالنے والے چھوٹے کسان اپنی پیداوار منڈی تک لے جانے اور مناسب قیمت پر فروخت سے محروم ہوگئے ہیں جس سے چھوٹے کسان شدید معاشی نقصان کا شکار ہورہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ڈبہ بند دودھ فروخت کرنے والی کمپنیاں کسانوں سے اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے 30 روپے فی لیٹر تک دودھ خرید رہی ہیں جسے یہی کمپنیاں پیک کرکے تقریباً 150 روپے فی لیٹر فروخت کرتی ہیں۔ چھوٹے اور بے زمین کسان مزدورں کے استحصال کا یہ سلسلہ نیولبرل پالیسی سازی کے بدترین اثرات کی ایک جھلک ہے۔ زہریلی کیمیائی کھاد، ڈبہ بند دودھ، کوئلے سے بجلی بنانے اور دیگر کئی صنعتوں کے زریعے چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں کو مداخل کی منڈی کا محتاج بنانے، دودھ کی پیداوار کرنے والے چھوٹے کسانوں کا استحصال کرنے اور تھرپارکر کے مقامی وسائل پر قابض ہوکر غریب عوام کو بے گھر اور ماحول کو برباد کرنے والے ہی ملک میں غربت کے خاتمے، تھر کے کسانوں کی مشکلات کم کرنے کا ڈھونگ رچارہے ہیں۔ عالمی امدادی اداروں سے ان استحصالی سرمایہ داروں کے گٹھ جوڑ کا مقصد صرف اور صرف سامراجی ممالک کی کمپنیوں کی ٹیکنالوجی کو منافع کی خاطر فروغ دینا ہے چاہے وہ چاول کی پیداوار کے لیے ہو یا آبپاشی نظام کے لیے۔ موجودہ وبائی بحران پہلے سے کہیں زیادہ تقاضہ کرتا ہے کہ زمین و دیگر پیداواری وسائل اور پالیسی سازی پر اختیار ان چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں کا ہو، یہی اختیار خوراک کی خودمختاری اور پائیدار پیداوار کو ممکن بناتا ہے جو وبائی صورتحال میں قوموں کی بقاء کے لیے لازم ہے

اپریل 16 تا 22 اپریل، 2020
زراعت
ایک خبر کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ زرعی شعبہ کی بحالی کا ایک موقع ثابت ہوسکتا ہے۔ پاکستان کے زرعی شعبہ کو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنانے کے لیے کسان دوست پالیسیوں پر مبنی ماحول انتہائی اہم ہے۔ زرعی شعبہ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری مراعات (پیکجز) کی ضرورت ہے کیونکہ یہ شعبہ پاکستان کے قومی غذائی تحفظ، غربت کے خاتمے اور مستقبل میں ممکنہ پائیدار روزگار کے لیے اہم ہے اور رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے زراعت کسانوں اور زرعی شعبہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کرے گی جو آئندہ بجٹ میں نمایاں ہونگے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 17 اپریل، صفحہ3)

پاکستان میں مارچ اور اپریل میں بے موسم بارشوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی ادارہ خوراک و زراعت (فاؤ) نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک میں ٹڈی دل کا حملہ بدتر ہوجائے گا جس سے گندم کی فصل کو نقصان ہوگا۔ مارچ اور اپریل کے دوران بارشوں سے پودوں کی افزائش میں بہتری ہوئی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپریل میں گرم موسم ٹڈیوں کی افزائش میں بھی مددگار ہوسکتا ہے۔
(ڈان، 19 اپریل، صفحہ9)

خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں تباہی مچانے کے بعد ٹڈی دل نے پشاور کا رخ کر لیا ہے۔ محکمہ تحفظ نباتات، پشاور کے ڈپٹی ڈائریکٹر ساجد خان کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل پشاور کے قریب بارانی علاقے مٹانی تک پہنچ گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے متاثرہ علاقے میں چھڑکاؤ کے لیے عملہ تعینات کردیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹڈیوں کا حملہ شدید نہیں ہے اور اس پر باآسانی قابو پایا جاسکتا ہے۔ زرعی ماہرین کو امید ہے کہ اگر ٹڈی دل کو محدود کرکے ان کا خاتمہ کردیا جائے تو صوبہ میں ٹڈی دل کا 90 فیصد مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 19 اپریل، صفحہ7)

برطانیہ کا محکمہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈیفڈ) اور اقوام متحدہ کا ادارہ خوراک و زراعت (فاؤ) کے درمیان مواصلاتی رابطے (ورچوئل) کے زریعے ایک ترمیمی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ ”بلڈنگ ڈیزاسٹر ریزیلنس ان پاکستان“ منصوبہ کے تحت ملک بھر میں ٹڈی دل کے خاتمے کی کوششوں کو جاری رکھنے کے لیے اضافی ایک ملین پاؤنڈ کی رقم مختص کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ برطانوی حکومت نے امداد کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت فاؤ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، محکمہ تحفظ نباتات، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیوں کے ساتھ متعلقہ سرکاری اداروں اور مقامی کسان آبادیوں کے اشتراک متاثرہ علاقوں میں کام کرے گا۔
(ڈان، 20 اپریل، صفحہ5)

حکومت کی جانب سے گندم اور چینی کے بحران پر ایف آئی اے کی رپورٹ موصول ہونے اور اس کی تفتیش قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے کیے جانے کے بعد نیب نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ زرائع کے مطابق کیس موصول ہونے کے بعد نیب نے زمہ داروں کو نامزد کرنے کے لیے تحقیقات شروع کردی ہے۔ نیب نے آٹا اور چینی بحران کے تمام قانونی پہلوں پر نظرثانی کے بعد قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 21 اپریل، صفحہ1)

سینٹر فار گلوبل اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز کے زیر اہتمام منعقد کیے گئے (آن لائن) سیشن میں محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر ڈاکٹر آصف علی نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے دوران پابندیوں سے پاکستان کی عالمی تجارت متاثر ہورہی ہے اور اگر باقائدہ پالیسی سازی نہ کی گئی تو پھل و سبزیوں کی تجارت پر منفی اثرارت مرتب ہونگے۔ اس موقع پر پارک کے سابق چیئرمین ڈاکٹر یوسف ظفر کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس طبی بحران کے ساتھ ایک بڑا سماجی اور معاشی مسئلہ بھی ہے۔ انہوں نے ملک میں تحقیق و ترقی کے شعبہ میں استحکام کے لیے سرکاری شعبہ میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے پر زور دیا۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 22 اپریل، صفحہ11)

گندم
ایک خبر کے مطابق گندم کے بحران سے متعلق ایف آئی اے کی جانب سے وزیر اعظم کے دفتر میں جمع کروائی گئی ضمنی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاسکو، محکمہ خوراک پنجاب اور سندھ کی جانب سے سال 2018 کی دوسری ششماہی میں اضافی گندم برآمد کرنے کی سفارشات منصفانہ تھیں۔ ایف آئی اے نے یہ ضمنی رپورٹ وزیر اعظم آفس کی جانب سے پہلے جمع کروائی گئی رپورٹ پر اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں تیار کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ضرورت سے زیادہ گندم کے ذخائر، بیماریوں سے متاثرہ پرانا گندم کا ذخیرہ، سرکاری ذخائر سے گندم کی کم ترسیل، نئی فصل کے لیے گوداموں کی ضرورت اور بینک کے قرضہ جات پر بھاری سود نے صوبائی حکومتوں اور پاسکو کو گندم برآمد کرنے کی تجاویز پیش کرنے پر آمادہ کیا۔
(ڈان، 16 اپریل، صفحہ12)

ایک خبر کے مطابق سندھ میں چھوٹے کسان باردانے کے حصول میں مشکلات کی شکایت کررہے ہیں۔ سابق نائب صدر سندھ ہاری آبادگار بورڈ گاڈا حسین مہیسر کا کہنا ہے کہ ناصرف چھوٹے کسان بلکہ ہاری بھی بڑے تاجروں اور محکمہ خوراک کے درمیان پس رہے ہیں۔ چھوٹے کسانوں کو گندم 1,250 روپے فی من قیمت پر کھلی منڈی میں فروخت کرنے پر مجبور کردیا گیا ہے جبکہ گندم کے خریدار فی من ایک کلو کٹوتی کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بڑے جاگیردار اور بااثر افراد کو باآسانی باردانے تک رسائی حاصل ہے جبکہ چھوٹے کسان اس سے محروم ہیں۔
(ڈان، 17 اپریل، صفحہ15)

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے اگلے سال کے لئے گندم کے معیاری بیج تیار کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرلی ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اشرف نے کہا ہے کہ یونیورسٹی کی گندم کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے بڑھ جانے کی توقع ہے۔ انہوں نے سائنسدانوں پر زور دیا کہ وہ ملک کے غذائی تحفظ کے لیے چھوٹے قد کی بڑے گندم کے دانوں کی حامل اقسام تیار کریں جو فی ایکڑ پیداوار اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے مددگار ہونگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”اناج“ نامی گندم کی قسم تین سے پانچ پانی کے بجائے صرف ایک بار پانی دے کر یونیورسٹی کے فارم میں کاشت کی گئی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 17 اپریل، صفحہ20)

غربت
ایک خبر کے مطابق وفاقی حکومت 3.134 ملین مستحق خاندانوں میں اب تک احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت 37.608 بلین روپے تقسیم کرچکی ہے۔ جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق یہ پروگرام 15 اپریل کو دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جس میں دوسرے زمرے (کیٹگری) میں آنے والے مستحق افراد کو رقم کا اجراء شروع ہوگیا ہے۔ ان مستحق افراد کو نادرا کے کوائف کی جانچ کے بعد اہل قرار دیا گیا ہے۔ رقم کی تقسیم کے دوران بھڑ سے بچنے کے لیے حکومت کی جانب سے تقسیم کے مراکز میں اضافہ کیا جارہا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 16 اپریل، صفحہ3)

ادارہ شماریات پاکستان کی جانب سے کیے گئے پاکستان سوشل اینڈ لیونگ اسٹینڈرڈ میجرمنٹ سروے رپورٹ 2018-19 کے مطابق پاکستان میں 84 فیصد گھرانوں کو غذائی تحفظ حاصل ہے جبکہ 16 فیصد گھرانے کم یا شدید غذائی کمی کا شکار ہیں۔ اس سروے میں دیہی اور شہری آبادی کے 2,5940گھرانوں سے تعلیم، صحت اور غذائی تحفظ پر مبنی معلومات حاصل کی گئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں کی نسبت دیہی علاقوں میں غذائی عدم تحفظ زیادہ ہے۔
(ڈان، 21 اپریل، صفحہ12)

پانی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پانی کی دستیابی بڑھانے اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے 8.32 ملین ڈالر قرض کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ رقم پنجاب حکومت کی جانب سے منتخب کیے گئے پانچ بڑے آبی منصوبوں کی ابتدائی تجزیاتی رپورٹ و نقشہ جات کی تیاری پر خرچ ہوگی۔ یہ قرض زرعی شعبہ کی ترقی کے لیے مستقبل کے اہم آبپاشی منصوبوں کے بہتر آغاز کو یقینی بنائے گا۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 16 اپریل، صفحہ18)

نکتہ نظر
اس ہفتے کی زرعی خبریں پالیسی سازی، اقدامات اور موجودہ صورتحال کے تناظر میں حکومتی تضادات کی عکاسی کرتی ہیں۔ ملک بھر میں کرونا وائرس کے دوران جو بحران درپیش ہے اس میں ٹڈی دل کے زبردست حملوں کے امکانات پر مبنی خبریں قومی غذائی تحفظ کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں جس کا نتیجہ موجودہ عالمی وبائی بحران میں مزید بھوک و غربت کی صورت سامنے آسکتا ہے۔ ٹڈی دل حملوں پر عالمی سامراجی اداروں کی پریشانیاں اور امداد کا مقصد کسی طور اس ملک کے غریب کسان مزدور عوام کی خوراک کی خودمختاری کا تحفظ نہیں بلکہ عالمی زرعی پیداواری منڈی پر ان آفات کی صورت پڑنے والے اثرات سے اپنی سرمایہ دار کمپنیوں اور معیشت کو محفوظ رکھنے اور ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہے۔ چاہے پانی کی دستیابی کے لیے دیے جانے والے قرض ہوں یا آلات و ٹیکنالوجی، تمام تر منصوبے سرمایہ کاری کے زمرے میں آتے ہیں جن کا مقصد منافع کے حصول کے اس استحصالی نظام کو مزید مستحکم بنانا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ملک کے زرعی اداروں کے ارباب اختیار بھی سامراجی آلہ کار بن کر ان حالات میں بھی زرعی برآمدت میں کمی کا رونا رورہے ہیں جبکہ موجودہ وبائی حالات خوراک کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے ہر طرح کی غذائی برآمدات پر پابندی کا تقاضہ کرتے ہیں۔ سرکاری سطح پر مجموعی طور پر بات چاہے گندم و چینی بحران کے ذمہ دار سرمایہ داروں کو گرفت میں لینے کی ہو یا ملک میں سامراجی اداروں کی مالی امداد سے کیے گئے بھوک و غربت کے سروے ہوں ہر سطح پر حکومت اور سرکاری ادارے تضادات اور ابہام کا شکار نظر آتے ہیں جس سے واضح پیغام ملتا ہے کہ چور اور انہیں پکڑنے والے ساہو کار چاہے وہ گندم کی خریداری کا معاملہ ہو، یا اس کی اسمگلنگ کا، چینی کی برآمد اور اس سے منافع خوری ہی کیوں نہ ہو، یا پھر انہیں پکڑنے کے لیے سرکاری تحقیقاتی تفتیشی ادارے سب جاگیردار، سرمایہ دار طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں جو کسی طور استحصال کے شکار کسان مزدور طبقات میں بھوک، غربت، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور قبضے کا خاتمہ نہیں کریں گے۔ اس کے لیے چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور، ماہی گیر طبقے کو ہی متحد ہوکر جدوجہد کے لیے میدان میں اترنا ہوگا اور اس استحصالی نظام کو ہی جڑ سے اکھاڑ پھیکنا ہوگا۔

اپریل 9 تا 15 اپریل، 2020
زراعت

وزیر زراعت سندھ، محمد اسماعیل راہو نے ٹڈی دل کا کرونا وائرس سے موازنہ کرتے ہوئے سندھ میں ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے فضائی چھڑکاؤ نہ کرنے پر وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ٹڈی دل کرونا وائرس کی طرح ہی خطرناک ہوسکتا ہے۔ ٹڈی دل گھوٹکی میں پہلے ہی حملہ آور ہوچکے ہیں جن کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت نے انتہائی معمولی اقدامات کیے جس کے نتیجے میں صوبائی محکمہ خوراک کو فضائی چھڑکاؤ کے انتظامات کرنے پڑے۔ صوبائی وزیر نے محکمہ تحفظ نباتات (پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ) کی کاہلی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر یہ ادارہ باقاعدہ کام نہیں کرسکتا تو اسے بند کردینا چاہیے“۔ ٹڈی دل کا خاتمہ صرف فضائی چھڑکاؤ سے ہی کیا جاسکتا ہے جو وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 13 اپریل، صفحہ5)

مواصلاتی رابطے (ویڈیو لنک) کے زریعے وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک نئے بحران سے بچنے کے لیے غذائی تحفظ پالیسی کے تحت گندم، چاول اور دالوں جیسی اشیاء کی برآمد پر پابندی عائد کرنے پر زور دیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت گندم کی کٹائی جاری ہے اور ہوسکتا ہے کہ گندم کے ذخائر ضرورت سے زیادہ ہوں، لیکن کسی بھی فیصلے سے پہلے رواں سال اور اگلی فصل تک مقامی کھپت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اگر ان اشیاء کی برآمد کی اجازت دی گئی تو غذائی اجناس کی کمی کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ ان حالات میں درآمد پر آنے والی لاگت برآمد سے ہونے والے فوائد سے کہیں زیادہ ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہمیں ان مشکل حالات میں اپنے ہی وسائل پر بھروسہ کرنا ہوگا اور اپنی خوراک کی خودمختاری کو یقینی بنانا پڑے گا“۔
(ڈان، 14 اپریل، صفحہ13)

ایک خبر کے مطابق پنجاب میں تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کو سینئر وزیر برائے خوراک کے عہدے پر بحال کر دیا گیا ہے۔ اندرونی زرائع کے مطابق علیم خان کا بنیادی مطالبہ سینئر وزیر کے عہدے پر بحالی کا تھا جو انہیں وزیر اعلی سیکرٹریٹ پنجاب تک رسائی فراہم کرتا ہے، جبکہ مزید حکومتی ذمہ داریاں بھی جلد ان کے حوالے کی جانے کا امکان ہے۔ محکمہ خوراک کے حوالے سے مختصر جائزے کے دوران انہوں نے ہدایت کی ہے کہ پنجاب میں 4.5 ملین ٹن گندم کی خریداری کا ہدف ہرحال میں پورا ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اضلاع سے باہر گندم کی نقل و حمل پر کوئی پابندی نہیں ہوگی جبکہ پنجاب کی سرحدوں کو بند کرکے ہر قیمت پر گندم کی غیر قانونی برآمد (اسمگلنگ) کو روکا جائے گا۔
(ڈان، 15 اپریل، صفحہ2)

گندم
وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے ضلع راجن پور کی تحصیل روجھان میں گندم کی کٹائی مہم 2020 کا افتتاح کردیا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعلی پنجاب کا کہنا تھا کہ اس سال پنجاب میں گندم کا پیداواری ہدف 4.5 ملین ٹن مقرر کیا گیا ہے اور کسانوں سے 1,400 روپے فی من کے حساب سے گندم خریدا جائے گا۔ اس مہم کے دوران صوبے کے 15 خارجی اور داخلی مقامات کی نگرانی کی جائے گی۔
(بزنس ریکارڈر، 10 اپریل، صفحہ12)

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی گندم اور آٹے کے بحران پر رپورٹ میں ”مافیا“ قرار دیے جانے پر بے چینی کے شکار کچھ آٹا ملوں نے وزیر اعظم کو کھلا خط لکھا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ تمام تر حالات کا جائزہ لیا جائے اور چند لوگوں پر ذمہ داری ڈالنے کے بجائے تمام ملوث افراد پر ذمہ داری عائد کی جائے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ نام نہاد آٹا مافیا کا کوئی وجود نہیں ہے۔ خط میں گندم کی برآمد پر زرتلافی کا دفاع کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے ناصرف زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے بلکہ سرکاری گوداموں میں سالوں سے موجود گندم کا ذخیرہ بھی فروخت ہوتا ہے جس کی غذائیت کم ہوتی رہتی ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت گندم کی صرف اشیاء (ویلیو ایڈڈ پروڈکٹ) برآمد کرنے کی اجازت دے چاہے وہ درآمدی گندم سے تیار شدہ ہی ہوں۔
(ڈان، 13 اپریل، صفحہ8)

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سرکاری ذخائر سے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کے لیے 8.7 بلین روپے مالیت کا 200,000 ٹن اضافی گندم فراہم کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ اضافی گندم کی فراہمی کا فیصلہ کورونا وائرس کی صورتحال میں عوام کو غذائی اشیاء پر 50 بلین روپے زرتلافی دینے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ کمیٹی نے گندم کی فراہمی پاسکو کے ذخائر سے اقساط میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلی قسط 50,000 ٹن گندم پر مشتمل ہوگی اور فوری طور پر جاری ہوگی جبکہ بقیہ گندم یو ایس سی کی جانب سے مطالبہ پر ترسیل کی جائے گی۔
(ڈان، 14 اپریل، صفحہ12)

کپاس
منڈی کے زرائع کے مطابق ملک بھر میں کسان اس امید کے ساتھ کپاس کی کاشت میں مصروف ہیں کہ اس سال انہیں کپاس کی بہتر پیداوار حاصل ہوگی۔ تاہم کپاس کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ سندھ میں کم معیار کی پھٹی کی قیمت 2,800 روپے جبکہ اعلی معیار کی پھٹی کی قیمت 4,100 روپے فی من ہے۔ اسی طرح پنجاب میں کم معیار کی پھٹی 2,800 روپے جبکہ اعلی معیار کی پھٹی کی قیمت 4,600 روپے فی من ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 10 اپریل، صفحہ8)

گنا
ایک مضمون کے مطابق چینی کی قیمت سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ نے پاکستان کے اعلیٰ پالیسی ساز حلقوں میں ایک بحث چھیڑ دی ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس رپورٹ میں ایسا کچھ نہیں جس سے کم از کم معاشی پالیسی سے جڑے حلقے آگاہ نہ ہوں۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ چینی کا شعبہ وہ واحد شعبہ نہیں ہے جو ریاست سے اضافی مراعات حاصل کرتا ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی نے جو بھی انکشاف کیے وہ پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے ہوتا آرہا ہے۔ یہاں ایسے کئی حربے اور زرائع کی بہتات ہے جس کے زریعے حکومت اس ملک میں سرمایہ داری کو فروغ دے رہی ہے۔ حکومت کو فوری طور پر چینی کے شعبہ پر اختیار ختم کرنے (ڈی ریگولیشن) کے لیے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ ہمیں گنے کی قیمت مقرر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کئی وجوہات کی بنا پر ہمیں گنے کی کاشت اور چینی کی پیداوار کم کرنے کی ضرورت ہے۔ گنا زیادہ پانی سے کاشت ہونے والی فصل ہے اور ملک میں کپاس کی پیداوار میں کمی کی وجہ ہے۔ چینی کا شعبہ اپنے مفاد میں کئی طرح کے قوانین کے نفاذ میں کامیاب رہا ہے جیسے کہ گڑ بنانے پر پابندی اور چھوٹے پیمانے پر چینی کی مل لگانے پر پابندی کا قانون۔
(نوید افتخار، دی ایکسپریس ٹریبیون، 13 اپریل، صفحہ18)

چینی
خبر کے مطابق پنجاب کے ایک سابق صوبائی وزیر اور پنجاب حکومت کے عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی کی برآمد پر متنازع زرتلافی کے لیے مل مالکان کی جانب سے پنجاب حکومت پر دباؤ ڈالا گیا تھا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کی دستاویز ظاہر کرتی ہیں کہ اگر صوبہ زرتلافی سے متعلق فیصلہ کرتا ہے تو وفاقی حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا اور حکومت پنجاب کو اس فیصلے سے آگاہ کردیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وفاق اپنے گزشتہ فیصلے کی مخالفت نہیں کررہا اور تمام توجہ زرتلافی کے غلط استعمال پر مرکوز ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اس فیصلے کے تقریباً اسی وقت لاہور میں گنے کے کاشتکار احتجاج کررہے تھے اور مل مالکان کی جانب سے گنے کی کرشنگ روکنے پر زور دیا جارہا تھا۔ پنجاب حکومت کے زرائع کے مطابق نامور شوگر مل مالکان نے سرکاری حکام پر زرتلافی کے حصول کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے اس احتجاج کی بلواسطہ حمایت کی۔ سابق وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری کا کہنا ہے کہ ”میں نے وزیر اعلی پنجاب پر زور دیا کہ مل مالکان کے دباؤ میں نہ آئیں، یہاں تک کہ میں نے انہیں تجویز دی کہ وہ مل مالکان کے خلاف ملیں دوبارہ کھولنے کے لیے سرکاری طاقت کا استعمال کریں“۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 12 اپریل، صفحہ3)

ماہی گیری
سمندری خوراک کے برآمد کنندگان نے سندھ حکومت کی جانب سے بندرگاہ پر ماہی گیر سرگرمیوں کی بندش کو سمندری خوراک کی برآمد پر پابندی قرار دیا ہے۔ برآمد کنندگان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے سمندری خوراک کی صنعت (پروسسنگ یونٹس) کو مالی نقصان ہوگا۔ سندھ حکومت نے صوبہ میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے بعد 12 اپریل کو ایک حکم نامے کے ذریعے فش ہاربر پر ماہی گیری سے متعلق تمام سرگرمیاں معطل کردی تھیں۔
(بزنس ریکارڈر، 15 اپریل، صفحہ12)

غربت
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایک اجلاس میں 2.5 بلین روپے کے رمضان پیکج کی منظوری دیدی ہے۔ حکومت اس پیکچ کے تحت یوٹیلیٹی اسٹور پر فروخت ہونے والی پانچ غذائی اشیاء کی موجودہ قیمت پر فراہمی کو یقینی بنائے گی۔ اس پیکج کا آغاز رمضان سے ایک ہفتے قبل 17 اپریل سے ہوگا۔
(ڈان، 9 اپریل، صفحہ12)

ملک میں کورونا وائرس کے باعث کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کے لیے 50 بلین روپے منظور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک سرکاری افسر کے مطابق اس رقم میں رمضان پیکچ کے 2.5 بلین روپے بھی شامل ہیں۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی ہونے والے کابینہ کی اقتصادی کمیٹی کے اجلاس میں مینجنگ ڈائریکٹر یو ایس سی کو ہدایت کی گئی ہے کہ کرونا وائرس کے دوران اور ماہ رمضان کی آمد کے موقع لازمی غذائی اشیاء کی قیمت میں کمی کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں آگاہ کیا گیا کہ دسمبر 2019 سے یو ایس سی کو لازمی غذائی اشیاء کی خریداری کے لیے 21 بلین روپے فراہم کیے جاچکے ہیں۔
(بزنس ریکارڈر، 9 اپریل، صفحہ1)

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ 2.5 بلین روپے کے امدادی (رمضان) پیکج کا اعلان کیا گیا تھا جسے بڑھا کر سات بلین روپے تک کردیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم نے یو ایس سی کے ذریعے زرتلافی کی حامل ضروری اشیاء کی متواتر فراہمی کے لیے 10 بلین روپے منظور کیے ہیں۔ حکومت نے یوٹیلٹی اسٹوروں پر یہ امدادی پیکچ عید تک بڑھادیا ہے۔ اس سے پہلے پانچ اشیاء پر زرتلافی فراہم کی جارہی تھی لیکن اب 19 اشیاء رعایتی قیمت پر دستیاب ہونگی۔
(بزنس ریکارڈر، 10 اپریل، صفحہ1)

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے انسداد غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ حکومت اب تک احساس ایمر جنسی کیش پروگرام کے تحت 1.77 ملین افراد میں 22.466 بلین روپے تقسیم کرچکی ہے۔ 12,000 روپے فی خاندان رقم کی فراہمی میں درپیش مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ ارکان نے اس نقد رقم میں سے کٹوتی کی ہے جو برداشت نہیں کی جائے گی اور زمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ایسے 40 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 13 اپریل، صفحہ1)

نکتہ نظر
اس ہفتے کی تقریباً تمام خبریں ملک میں عوام خصوصاًچھوٹے اور بے زمین کسان مزدروں اور ملک کے طبقہ اشرافیہ بشمول جاگیردار، سرمایہ دار و افسر شاہی کے درمیان واضح تفریق اور ان کے لیے پالیسی سازی اور حکمت عملی و مراعات کی غیر منصفانہ تفریق کو واضح کرتی ہیں۔ پیداواری وسائل بشمول زمین پانی اور دیگر قدرتی وسائل تو ایک طرف گندم، آٹا اور چینی جیسی لازمی غذائی ضروریات کے لیے سرمایہ دار چاہے و شوگر مل مالکان ہوں یا آٹا مل مالکان، حکومتی وزارء ہوں یا افسر شاہی سب غریب کسان مزدور عوام کا استحصال کرکے، انہیں محتاج بنا کر ملک کو مزید بھوک و غربت میں دھکیل دینے پر کمربستہ ہیں۔ قابل افسوس اور قابل گرفت بات یہ ہے کہ خود حکومتی شخصیات آٹا چینی کے بحران سے اربوں روپے غریب عوام کی جیب سے لوٹنے میں ملوث پائے گئے اور حکومت اس ڈاکے کو تسلیم کرتے ہوئے بھی ان سرمایہ داروں اور ان کے سیاسی رفقاء کے آگے اتنی بے بس ہے کہ کم از کم ان شیاء کی پرانی قیمتیں بحال کرنے سے بھی قاصر ہے، جو ان سرمایہ داروں کے لیے بے حساب منافع کا سبب بنی ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے سرمائے اور اقتدار کا یہ گٹھ جوڑ ہی آج ملک میں غذائی عدم تحفظ اور بھوک کی وجہ ہے۔ گنا اور چینی کی صنعت منافع کے لیے حصول کے لیے قوانین بنوانے اور پیداوار و قیمت کو اپنے اختیار میں کرسکتی ہے تو یہ اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں کہ عالمی سرمایہ دار کمپنیوں اور ممالک نے قرض کے بدلے ملکی وسائل اور چھوٹے و بے زمین کسان مزدوروں کے استحصال کے لیے زمین سے لے کر بیج و پانی پر قبضے کے لیے کس سطح پر ظلم و بدعنوانی کا بازار گرم کیا ہوگا۔ کرونا کے وبائی حالات میں کروڑوں غریب کسان مزدور عوام اس ہی طبقہ حکمران سے امید لگائے بیٹھے ہیں جو انہیں مناسب طبی سہولیات دینا تو دور ”احساس“ کے نام پر صرف اتنی رقم فراہم کررہے ہیں جس سے چار ماہ کے لیے شاید آٹا، چینی اور دالوں جیسی لازمی غذائی اشیاء کا حصول بھی ممکن نہیں۔ یقینا استحصال کے شکار چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور، ماہی گیر، محنت کش طبقات کو اپنے وسائل پر اختیار اور خوشحالی کے لیے اس ظالم، بدعنوان طبقے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا جس کے لیے متحد ہوکر جدوجہد لازم ہے۔

اپریل 2 تا 8 اپریل، 2020
زراعت

پنجاب میں کسانوں کو گندم کی کٹائی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پنجاب حکومت نے صوبے میں زرعی مشینری کی نقل وحمل کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف سیکریٹری پنجاب اعظم سلیمان خان نے صوبے میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے عائد کی گئی دفعہ 144کے دوران زرعی مشینری کو مستثنی قرار دینے کا حکم دیا ہے۔ زرائع کے مطابق زرعی شعبہ سے متعلق مشینری کی نقل و حمل کی اجازت دی گئی ہے لیکن کٹائی کرنے والے کسان مزدوروں کو عائد کیے گئے ضوابط (ایس او پیز) پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔
(بزنس ریکارڈر، 3 اپریل، صفحہ12)

سندھ آباد گار بورڈ کے نائب صدر محمود نواز شاہ نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے بعد زرعی شعبہ کہیں زیادہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ یہ شعبہ پاکستان میں ناصرف غذائی تحفظ کو یقینی بناتا ہے بلکہ اب بھی ملک میں روزگار فراہم کرنے والا سب سے بڑا شعبہ ہے۔ تاہم حکومت نے اس وبائی صورتحال میں اس کی اہمیت کے باوجود زرعی شعبہ کی پائیداری کے لیے بہت کم اقدامات کیے ہیں۔ حکومت نے گندم کی خریداری کے لیے 280 ارب روپے مختص کیے ہیں جبکہ صنعتوں کے تحفظ کے لیے اربوں روپے مالیت کے امدادی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت گندم کی خریداری کے لیے ہر سال ہی رقم مختص کرتی ہے، زرعی شعبہ کے لیے کوئی پیکج نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”اس مشکل وقت میں حکومت کی جانب سے کونسی انوکھی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے؟ نہ ہونے کے برابر“۔ جب سے کرونا وائرس کی وباء پھیلی ہے کسان اور ان کی پیداوار، خصوصا جلد خراب ہونے والی سبزیاں اور پھل، بری طرح متاثر ہوئے ہے۔ کسان گندم کی سرکاری قیمت 1,400 روپے فی من سے کم پر گندم فروخت کررہے ہیں۔ حکومت نے باضابط طور پر اب تک گندم کی خریداری شروع نہیں کی ہے جبکہ فصل کٹائی کے لیے تیار ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 4 اپریل، صفحہ11)

سندھ آباد گار بورڈ نے دعوی کیا ہے کہ سندھ میں جاری لاک ڈاؤن سے زرعی معیشت متاثر ہوئی ہے اور کئی فصلوں کی قیمت میں 70 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔ زرعی معیشت دودھ، ٹماٹر، کیلا، گوبھی، ہری مرچ اور دیگر فصلوں کی پیداوار میں شدید نقصان سے دوچار ہے۔ ان اشیاء کی قیمت میں لاک ڈاؤن کے بعد 40 سے 70 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ سورج مکھی کی کٹائی اس وقت عروج پر ہے لیکن کسانوں کو وعدے کے مطابق 2,700 روپے قیمت نہیں دی جارہی اور قیمت کم ہوکر 2,300 روپے ہوگئی ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 5اپریل، صفحہ4)

سندھ آباد گار بورڈ نے محمود نواز شاہ کی صدارت میں مواصلاتی رابطے کے زریعے ہونے والے اجلاس (آن لائن میٹنگ) میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجناس کی نقل و حمل کو بلا روک ٹوک جاری رکھنے اور پھل و سبزیوں کی افغانستان, ایران اور دیگر ممالک کو برآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس کے علاوہ گندم کی خریداری کے مراکز بغیر کسی تاخیر کے کھولے جائیں۔ سندھ آبادگار بورڈ کا مزید کہنا تھا کہ لاڑکانہ اور شکارپور میں مزدوروں کی آمد و رفت پر پابندی سے پہلے ہی ٹماٹر کی چنائی متاثر ہورہی ہے اور جلد ہی آم کی چنائی کے لیے بھی مزدور درکار ہونگے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مزدوروں کی صحت پر سمجھوتہ کیے بغیر ان کی آمد و رفت کی اجازت ہونی چاہیے۔
(ڈان، 6اپریل، صفحہ15)

گندم
حکومت کی جانب سے گندم کے بحران پر فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سربراہ کی قیادت میں بنائی گئی تفتیشی ٹیم نے تحقیقات کے بعد وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، صوبائی حکومتوں اور فلور ملز ایسوسی ایشن کو ملک میں پیدا ہونے والے حالیہ گندم اور آٹے کے بحران کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاسکو نے پیداواری ہدف سے 0.42 ملین ٹن کم گندم خریدا۔ اس ناکامی کے ذمہ دار سیکریٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور پاسکو کے موجودہ منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ وزارت کی جانب سے سات اگست 2019کو گندم کی اشیاء جیسے میدہ اور سوجی کی برآمد کی اجازت دینے کا عمل سمجھ سے بالاتر تھا اور سیکریٹری بھی اس پابندی کو ختم کرنے پر کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دے سکے۔ وزارت وفاقی حکومت کو بروقت گندم درآمد کرنے کی سفارش کرنے میں ناکام رہی۔ گندم درآمد کرنے کی پالیسی افواہوں کے سدباب اور ذخیرہ اندوزی و منافع خوری کی موثر طریقے سے حوصلہ شکنی کرسکتی تھی جو گندم کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کی وجہ بنی۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے گندم کی خریداری میں 20 سے 22 دن تاخیر کی جس کے وجہ سے مقرر کیے گئے ہدف سے 0.67 ملین ٹن کم گندم خریدا گیا جبکہ گندم کا محفوظ ذخیرہ پچھلے پانچ سالوں کی کم ترین سطح پر تھا۔ محکمہ خوراک پنجاب فلور ملوں کو قابو کرنے میں ناکام رہا جس کی وجہ سے ملوں نے بے تحاشہ منافع کمایا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان حالات میں حکومت گندم کی طلب و رسد قابو کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی تھی۔ اس کے علاوہ محکمہ خوراک پنجاب نے مرغیوں کا چارہ بنانے والی ملوں کو منڈی سے بھاری مقدار میں گندم خریدنے کی اجازت دی۔
(بزنس ریکارڈر، 5 اپریل، صفحہ1)

پودوں میں پھپوندی کی بیماریوں (رسٹ پلانٹ ڈیزیز) کے تباہ کن اثرات کی وجہ سے ایوب ایگری کلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اری) کے سائنسدانوں نے گندم کی نو اقسام کو فہرست سے نکالنے کی سفارش کی ہے اور کسانوں پر مستقبل میں کم پیداوار دینے والی ان اقسام کی کاشت نہ کرنے پر زور دیا ہے۔ ان اقسام میں ٹی ڈی۔1، سحر۔06، گلیکسی۔13، گلیکسی۔2، گندم1، اے اے آر آئی۔12، اے ایس۔ 2002، چکوال۔50 اور پاکستان۔13 شامل ہیں جن میں دوسری اقسام کے مقابلے ذیادہ پھپوندی کے امکانات دیکھے گئے ہیں۔ ڈائریکٹر اری ڈاکٹر جاوید احمد کا کہنا ہے کہ ”ہم نے گزشتہ سال بھی ان اقسام کو فہرست سے نکالنے کی تجویز دی تھی تاہم پنجاب سیڈ کونسل نے یہ یقینی بنانے کے لیے کہ وقت کے ساتھ ان اقسام میں پھپوندی کے خلاف مدافعت نہیں پیدا ہورہی ہے، انہیں مزید ایک سال کا وقت دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسانوں کو مصدقہ بیج کی فراہمی کے لیے تمام تر اقدامات کیے جانے چاہیے اور گھروں میں محفوظ کردہ بیجوں کی کاشت کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ ادارے نے اکبر۔19، اناج۔17، اجالا۔16، فیصل آباد۔08، بارانی۔17، فتح جنگ۔16، فخر بھکر، زنکول، گولڈ۔16 اور نارک۔11 جیسی اقسام کو نقصان سے بچنے اور بہتر پیداوار کے حصول کے لیے کاشت کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 7 اپریل، صفحہ9)

چینی
ملک میں چینی کے بحران پر قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ جاری کردی ہے۔ 32 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کمیٹی نے تحریک انصاف حکومت کے چینی برآمد کرنے کے فیصلے کو بلاجواز قرار دیا جس کی وجہ سے چینی کی قیمت میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔ چینی کے برآمد کنندگان نے دو طرح سے فائدہ اٹھایا۔ ایک انہوں نے چینی کی برآمد پر زرتلافی حاصل کی اور دوسری طرف مقامی منڈی میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمت سے منافع بنایا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے سابق جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین اور وفاقی وزیر خسرو بختیار اس صورتحال سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے عوام کے ٹیکس کے پیسے سے چینی کی برآمد پر 1.03 بلین روپے زرتلافی حاصل کی جو پنجاب حکومت کی جانب سے شوگر مل مالکان کو دی جانے والی کل زرتلافی کا 41 فیصد ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ شوگر مل مالکان جنہوں نے زیادہ تر زرتلافی حاصل کی ان کا سیاسی پس منظر ہے اور فیصلہ سازی میں اثرورسوخ تھا اور انہوں نے محدود وقت میں زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 5 اپریل، صفحہ1)

دالیں
ایک خبر کے مطابق دالوں کے درآمد کنندگان اور خوردنی تیل کی صنعت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ وہ اب تک بندرگاہ سے اپنا مال وصول کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ اب تک محصولات (ٹیکس اور ڈیوٹی) میں چھوٹ سے متعلق اعلامیہ (ایس آر او) جاری نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت نے 30 مارچ کو دالوں کی درآمد پر دو فیصد پیشگی ٹیکس اور روغنی بیج و پام آئل پر دو فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ حکومت نے کورونا وائرس کی وباء سے نمٹنے کے لیے مختلف غذائی اجناس کی درآمد پر ٹیکس اور ڈیوٹی میں کمی کی ہے۔ کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے سربراہ انیس مجید کا کہنا ہے کہ ان کے ارکان دالوں پر دی جانے والی چھوٹ کے حصول کے انتظار میں ہے۔
(ڈان، 7 اپریل، صفحہ9)

مرغبانی
پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن شمالی زون کے چیئرمین چوہدری فرغام نے کہا ہے کہ طلب میں کمی اور قیمت گرجانے کے باعث برائلر مرغی کے فارمروں نے ایک دن کے چوزوں کی افزائش میں کمی کردی ہے جس کے نتیجے میں سینالوں (ہیچریوں) نے مرغیوں کی پیداوار کے لیے انڈوں کی تیاری تقریباً روک دی ہے۔ گزشتہ ہفتے تک ایک چوزہ دو سے تین روپے میں فروخت ہورہا تھا جبکہ ایک چوزے کی پیداواری لاگت 38 سے 40 روپے ہے۔ اس وقت مرغبانی شعبہ کو شادی ہال اور ہوٹلیں بند ہونے کی وجہ سے طلب میں 30 فیصد کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے پولٹری فارموں نے چوزوں کی افزائش روک دی ہے اور وہ وقت سے پہلے اپنی مرغیاں فروخت کررہے ہیں۔ انہوں نے خدشہ کا اظہار کیا کہ کاروباری حالات معمول پر آنے کے بعد مرغیوں کی طلب بڑھ جائے گی اور مرغیوں کی دستیابی میں کمی کے نتیجے میں اس کی قیمت بہت بڑھ جائے گی۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ مرغیوں کی دکانوں کے کھلنے کے اوقات میں اضافہ کیا جاسکتا ہے بجائے اس کے کہ وہ شام پانچ بجے تک کھلیں۔ مرغی کی دکانوں کو رات آٹھ بجے تک کھولنے کی اجازت دی جائے۔
(بزنس ریکارڈر، 7 اپریل، صفحہ12)

ماہی گیری
ایک خبرکے مطابق ٹھٹھہ، بدین، سجاول، کراچی، شاہ بندر، جاتی، کھاروچن اور گولارچی کے ماہی گیر صوبے میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران مچھلی منڈی بند ہونے اور خریداروں کی عدم موجودگی میں مچھلی خراب ہونے کی وجہ سے فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ کوسٹل کمیونٹی آرگنائزیشن کے چیئرمین امیر بخش جٹ کا کہنا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ماہی گیروں کے حالات بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ حکومت کو ماہی گیروں کو اس مشکل وقت میں گزارے کے لیے مناسب امداد فراہم کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے مختلف جالوں پر پابندی، غیرملکی مچھلی پکڑنے والی کشتیوں کے لیے بڑھتی ہوئی سہولیات کی وجہ سے پہلے ہی مچھلی کا شکار بہت کم ہوگیا ہے جبکہ کوٹری بیراج سے نیچے دریائی بہاؤ میں کمی ہوگئی ہے جو مینگروز کے جنگلات کی بڑھوتری کے لیے ضروری ہیں، یہ جنگلات مچھلیوں اور جھینگوں کی افزائش کے مسکن ہوتے ہیں۔
(ڈان، 3 اپریل، صفحہ15)

سندھ کے ساحلی علاقوں میں مقیم ماہی گیروں کو فشرمین کو آپریٹیو سوسائٹی (ایف سی ایس) کے چیئرمین حفیظ عبد البار کی ہدایت پر راشن اور مالی مدد فراہم کی گئی ہے۔ چیئرمین کا کہنا تھا کہ وہ دور دراز ساحلی علاقوں میں بھی ماہی گیروں تک امداد ی سامان پہنچانے کے لیے کوشش کررہے ہیں۔ انہوں ڈائیریکٹر ایف سی ایس کو جزائر بابا، بھٹ، شمس پیر، مبارک ولیج اور یونس آباد میں امداد تقسیم کرنے کی نگرانی کرنے اور تمام مستحق افراد کی مدد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 6 اپریل، صفحہ5)

غربت
وفاقی حکومت کے احساس ایمرجنسی پروگرام کے تحت ملک بھر میں 12 ملین مستحق خاندانوں میں 12,000 ہزار روپے فی خاندان مالی معاونت کا آغاز نو اپریل سے کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اس پروگرام کے تحت امداد کے لیے مختص کردہ نمبروں پر 40 ملین سے زائد پیغامات (میسجز) موصول ہوئے ہیں۔ مستحق افراد کی مدد یقینی بنانے کے لیے درخواستوں کی نادرہ کے زریعے جانچ کی جارہی ہے۔ یہ نقدرقم بائیو میٹرک تصدیق کے بعد وصول کی جاسکے گی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے رقم کی وصولی کے لیے دونجی بینکوں کی شراکت سے چیک کے زریعے اور خوردہ فروش دکانوں سے نقد ترسیل کے لیے مراکز کی تعداد 18,065کردی گئی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 8 اپریل، صفحہ16)

نکتہ نظر
اس ہفتے کی خبریں ملک بھر میں کرونا وائرس سے شدید متاثر ہونے والے چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور اور ماہی گیروں کی مشکلات کا واضح اظہار کرتی نظر آتی ہیں ساتھ ہی خوراک کی پیداوار و ترسیل کے حوالے سے خدشات کو بھی جنم دے رہی ہیں۔ ٹماٹر، ہری مرچ جیسی سبزیوں، دودھ اور پھلوں کی پیداوار سے منسلک ناصرف چھوٹے کسان قیمت میں کمی کی وجہ سے براہ راست متاثر ہورہے ہیں بلکہ زرعی شعبہ میں کام کرنے والے مزدور لاک ڈاؤن کی پابندیوں کی وجہ سے شدید مسائل سے دوچار ہیں جو ملک میں مزید غربت اور بھوک کی وجہ بن سکتاہے۔ اس صورتحال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حکومت نے زرعی شعبہ کے لیے اب تک کسی امدادی پیکچ کا اعلان نہیں کیا اور صرف گندم کی سالانہ خریداری کے لیے مختص کیے گئے 280 بلین روپے تک ہی محدود رہی جبکہ دیگر صنعتوں بشمول تعمیراتی صنعت کے لیے اربوں روپے کی مراعات کا اعلان کیا جارہا ہے۔ حکومت کا یہ اقدام توقع کے عین مطابق ہے کیونکہ جس ملک میں سرمایہ دار جاگیردار چینی سے لیکر آٹا و گندم تک کی تجارت و برآمد اور ان کے پیداواری وسائل پر قابض ہوں وہاں چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور و ماہی گیروں کا ان حالات سے دوچار ہونا انہونی بات نہیں۔ ملک بھر کے کسان مزدور عوام کا استحصال کرکے اربوں روپے کا منافع سمیٹنے والا یہ طبقہ اشرافیہ ہر گز کسان مزدوروں کے لیے خوشحالی اور خوراک کی خودمختاری کا زریعہ نہیں بن سکتا۔ بیج کی شکل میں کسانوں کی صدیوں پر مشتمل میراث کو غیرملکی کمپنیوں اور سرمایہ داروں کے ہاتھوں فروخت کردینے والے پالیسی ساز اب کسانوں کے گھروں میں محفوظ کردہ گندم کے بیج کو ناقص قرار دے کر انہیں دو وقت کی روٹی سے بھی محروم کرنے پر تلے ہیں۔ ملک بھر کے چھوٹے اور بے زمین کسان مزدورں پر لازم ہے کہ وہ پنے ان کھلے دشمنوں کا مقابلہ اپنے محفوظ کردہ بیج، پائیدار طریقہ زراعت اور پیداوار وسائل پر اختیار حاصل کرکے کریں۔ پیداواری وسائل بشمول بیج، زمین، پانی پر استحصال کے شکار کسان مزدوروں طبقے کا اختیار ہی خوراک کی خودمختاری کی ضمانت سے جو موجودہ وبائی صورتحال میں بقاء کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ لازم ہے کہ اب چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور و ماہی گیر ان وسائل پر اختیار کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور اپنا غذا تحفظ یقینی بنائیں۔