فروری 2020

فروری 20 تا 26 فروری، 2020

زراعت

پنجاب میں ٹڈی دل حملے کے تناظر میں حکومت نے ٹڈی دلوں کے خلاف بہترین عالمی طریقوں اور کرم کش زہر کے محفوظ استعمال پر فاؤ سے تکنیکی مشورے اور رہنمائی طلب کی ہے۔ پاکستان میں فاؤ کی نمائندہ مینا ڈولاچی نے وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق خسروبختیارسے ملاقات میں پاکستان میں ٹڈی دل کی موجودہ صورتحال پر بات چیت کی ہے۔ گزشتہ ہفتے وزارت نے ملک میں ٹڈی دل کا مقابلہ کرنے کے لیے فاؤ کی تکنیکی مہارت کی مقامی ماہرین تک دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے 500,000 ڈالر کے ایک معاہدے پر دستخط بھی کیے ہیں۔
(ڈان، 26 فروری، صفحہ3)

ایک خبر کے مطابق کابینہ ارکان نے وفاقی زرعی کمیٹی (فیڈرل کمیٹی آن ایگری کلچر)کے مختلف فصلوں کی پیداوار کے حوالے سے پیش کیے گئے اعداد وشمار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قابل اعتماد اعداد وشمار پیش کرنے کے لیے کہا ہے۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے فصلوں کی پیداوار کے حوالے سے اعداد وشمار پیش کیے لیکن کچھ کابینہ ارکان نے 2018-19 اور 2019-20 کے ان اعداد وشمار اور اندازوں کی صداقت پر سوال اٹھایا ہے۔ 11 فروری کو کابینہ کے اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ حکومت نے کپاس کا پیداواری ہدف 2019-20 کے لیے 15 ملین گانٹھیں مقرر کیا ہے جبکہ اصل پیداوار 9.4 ملین گانٹھیں ہوگی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 26 فروری، صفحہ20)

پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ جنگ نے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پارک) کے چیئرمین ڈاکٹر محمد عظیم خان سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں سی پیک کے تحت زرعی شعبہ میں سرمایہ کاری پر تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔ چینی سفیر نے چاول، گندم، گنا، کپاس، سبزی اور مال مویشی شعبہ میں جدید تکنیک کے استعمال کے حوالے سے چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچر سائنس اور پارک کے درمیان مفاہمت کی ضرورت پر زوردیا ہے۔ ملاقات میں چینی و پاکستانی ماہرین نے زرعی اطلاعات کا تبادلہ کیا اور پاکستان میں زرعی شعبہ میں ترقی کو بڑھانے کے لیے بات چیت کی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 26 فروری، صفحہ7)

گندم
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کسانوں سے 8.25 ملین ٹن گندم خریدنے کی منظوری دیدی ہے۔ مقرر کردہ گندم کی مقدار گزشتہ سال وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے خریدے گئے گندم کے مقابلے دگنی ہے۔ گزشتہ سال کمیٹی نے 6.25 ملین ٹن گندم کی خریداری کا ہدف مقرر کیا تھا لیکن تمام حکومتوں نے مجموعی طور پر صرف چار ملین ٹن گندم کسانوں سے خریدا تھا۔ وزارت خزانہ کے مطابق (1,365 روپے فی من سرکاری قیمت کے حساب سے) کسانوں سے گندم کی خریداری کے لیے 112 بلین روپے درکار ہونگے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 20 فروری، صفحہ13)

حکومت نے کسانوں کو گندم کی فروخت میں سہولت فراہم کرنے اور گندم کے محفوظ ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے قبل از وقت گندم کی خریداری مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمشنر غذائی تحفظ ڈاکٹر امتیاز علی گوپانگ کا کہنا ہے کہ سندھ میں گندم کی خریداری مہم پانچ مارچ سے شروع ہوگی جبکہ زیریں سندھ میں گندم کی کٹائی شروع ہوچکی ہے۔ پنجاب میں گندم کی خریداری مہم پانچ اپریل سے شروع ہوگی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اپنے حالیہ اجلاس میں 8.25 ملین ٹن گندم خریدنے کی منظوری دی ہے۔ پنجاب حکومت کو 4.5 ملین ٹن گندم کی خریداری کا ہدف دیا گیا ہے جبکہ سندھ حکومت کو 1.4 ملین ٹن اور خیبر پختونخوا حکومت کو 0.1 ملین ٹن گندم خریدنے کا ہدف دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے پاسکو کو بھی 1.8 ملین ٹن گندم خریدنے کی ہدایت کی ہے۔ (دی ایکسپریس ٹریبیون، 24 فروری، صفحہ2)
ٓٓایک خبر کے مطابق فیڈرل بورڈآف ریونیو (ایف بی آر) نے 19 فروری 2019 سے گندم کی در آمد پر عائد 60 فیصد درآمدی محصول (ریگولیٹری ڈیوٹی) ختم کر دیا ہے۔ ایف بی آر نے محصول کے خاتمے کا اعلامیہ جاری کردیا ہے جس کے مطابق گندم کی درآمد پر 31 مارچ 2020 تک محصول وصول نہیں کیا جائے گا۔
(بزنس ریکارڈر، 25 فروری، صفحہ1)

بلوچستان کابینہ نے اس سال کی گندم خریداری پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ محکمہ خوراک سے ایک ملین گندم کی بوریاں خریدی جائیں گی۔ صوبائی محکمہ خزانہ محکمہ خوراک کو گندم کی خریداری کے لیے بلاسود قرض فراہم کرے گا۔ محکمہ خوراک گندم فروخت ہونے کے بعد قرض محکمہ خزانہ کو واپس کرے گا۔ وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے محکمہ خوراک کو اپریل کے پہلے ہفتے میں گندم کے پیداواری علاقوں میں خریداری مراکز قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
(ڈان، 26 فروری، صفحہ5)

مال مویشی
ایک خبر کے مطابق بلوچستان میں مال مویشی شعبہ کو سرکاری نجی شراکت داری کے زریعے بڑے پیمانے پر ترقی ملے گی کیونکہ حکومت نے لسبیلہ اور کوئٹہ میں ”ڈیری ملک اینڈ میٹ سٹی“ نامی منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ سرکاری حکام کے مطابق بلوچستان حکومت نے منصوبہ بندی کرلی ہے جس کے تحت 3,000 ہیکٹر زمین لسبیلہ میں اور 1,000 ہیکٹر زمین کوئٹہ میں مختص کی گئی ہے۔ بین الاقوامی کمپنیوں نے اس منصوبے میں سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا ہے جس کا مقصد مال مویشی شعبہ میں انقلاب لانا ہے۔ منصوبے کے تحت حکومت مال مویشی شعبہ کی ترقی کے لیے عالمی معیار کے دودھ اور گوشت کی عملکاری (پروسیسنگ) کے کارخانے قائم کرے گی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 23 فروری، صفحہ7)

ڈیری
پنجاب فوڈ اتھارٹی نے صوبے میں ملاوٹ شدہ دودھ کی ترسیل روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر کی جانے والی کارروائی میں دو ڈیری یونٹ اور ایک برف کا کارخانہ سربمہر کرکے 15,000لیٹر دودھ ضائع کردیا ہے۔ سرگودھا اور منڈی بہاؤالدین میں مختلف مقامات پر 49,000 لیٹر دودھ کی جانچ کی گئی۔ اتھارٹی نے 10,000 لیٹر دودھ ڈیرہ غازی خان جبکہ 5,000 لیٹر دودھ سرگودھا میں ضائع کیا۔
(بزنس ریکارڈر، 24 فروری، صفحہ15)

ملاوٹ شدہ دودھ کے خلاف پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جاری کاروائیوں میں 4,600 لیٹر دودھ ضائع کردیا گیا ہے۔ اتھارٹی نے صوبے بھر میں 24 غذائی مراکز کو بھی بند کردیا جبکہ 200 مراکز کو اپنا میعار بہتر بنانے کے لیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عرفان میمن کے مطابق عملے نے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر ناکے لگا کر 17,500 لیٹر دودھ کا معائنہ کیا۔
(بزنس ریکارڈر، 22 فروری، صفحہ13)

کھاد
وزارت صنعت و پیداوار نے مقامی کھاد بنانے والوں کو دوبارہ طلب کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کیمیائی کھاد بنانے والوں پر یوریا کی قیمت میں 400 روپے فی بوری کمی کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے جون 2020 تک گیس کی قیمت میں اضافہ نہ کرنے کے فیصلے سے اس کی قیمت میں اضافہ کا خدشہ دم توڑچکا ہے۔ کھاد کی صنعت پہلے ہی گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس میں کمی کے بعد400 روپے فی بوری قیمت میں کمی نہ کرکے بھاری منافع کما چکی ہے۔ حکومت نے جنوری میں کیمیائی کھاد بنانے والے کارخانوں کے لیے جی آئی ڈی سی میں کمی کا اعلان کیا تھا تاکہ کسانوں کے لیے یوریا کی قیمت میں فی بوری 400 روپے کمی کی جاسکے۔ (بزنس ریکارڈر، 22 فروری، صفحہ1)
کارپوریٹ

ایک خبر کے مطابق اینگروکارپوریشن لمیٹڈ نے بعد از ٹیکس 30.2 بلین روپے منافع کا اعلان کیا ہے۔ منافع میں اس اضافہ کی شرح 27.12 فیصد ہے۔ گذشتہ سال کمپنی نے 23.6 بلین روپے منافع کمایا تھا۔ منافع میں اضافہ کی وجہ ذیلی اداروں کی بہتر کارکردگی اور کمپنی کی سرمایہ کاری پر بہتر منافع کا حصول بتائی گئی ہے۔
(ڈان، 22 فروری، صفحہ10)

پیاز
سندھ چیمبر آف ایگری کلچر (ایس سی اے) نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیاز کی برآمد پر پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایس سی اے کے ارکان کا کہنا ہے کہ مقامی ضرورت سے زیادہ پیاز کی پیداوار ہوئی ہے اور برآمد پر پابندی سے کسانوں کو معاشی نقصان کا سامنا ہوگا۔ ایس سی اے کے صدر سید میران محمد شاہ نے گندم اور ٹماٹر کی درآمد کو حکومت کی غلط پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ میرپورخاص میں گندم کی کٹائی شروع ہوچکی ہے جبکہ یوکرین سے درآمد کیا گیا گندم مارچ کے آخر تک پاکستان پہنچے گا۔ (دی ایکسپریس ٹریبیون، 24 فروری، صفحہ5)
غربت

وزیر اعظم عمران خان نے ”احساس آمدن“ پروگرام کا آغاز کردیا ہے۔ 15 بلین روپے سے شروع کیے گئے اس منصوبے کے تحت حکومت خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کو غربت سے نکلنے اور روزگار کی فراہمی کے لیے سرمایہ فراہم کرے گی۔ فراہم کیے جانے والے سرمائے میں مال مویشی (بکریاں، گائے، بھینسیں، مرغیاں)، زرعی مداخل، رکشہ، اور چھوٹے کاروبار کے لیے مختلف اشیاء شامل ہیں۔ پاکستان کے 23 اضلاع کی 375 دیہی یونین کونسلوں میں مستحق گھرانوں کو 200,000سے زائد تعداد میں سرمایہ فراہم کیا جائے گا۔ منصوبے سے فائدہ اٹھانے والوں میں 60 فیصد تعداد عورتوں کی اور 30 فیصد تعداد نوجوانوں کی ہوگی۔
(بزنس ریکارڈر، 22 فروری، صفحہ1)

وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بوزدار نے لیہ میں احساس پروگرام کے تحت ”میراکاروبار میری آمدنی“ کی افتتاحی تقریب میں کہا ہے کہ پنجاب میں 12 بلین روپے کے احساس پروگرام سے براہ راست 1.8 ملین افراد کو فائدہ ہوگا جبکہ 6.4 ملین افراد بلواسطہ مستفید ہونگے۔ 260 مستحق افراد کو سرمائے کی فراہمی سے لیہ کی 22 دیہی یونین کونسلوں میں سرمائے کی فراہمی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ روزگار کے لیے مستحق افراد کو خوردہ فروش دکانوں کے لیے سامان، رکشہ اور ٹھیلے بھی فراہم کیے جائیں گے۔ (بزنس ریکارڈر، 22 فروری، صفحہ13)
پانی
بدین بچاؤ ایکشن کمیٹی نے سندھ ہائی کورٹ میں پانی کا بہاؤ موڑنے کے لیے نہروں میں رکاوٹیں تعمیر کرنے کے خلاف اپنی دائر کی گئی درخواست میں عالمی بینک کے حکام کو نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی کے رہنماؤں کاکہنا تھا کہ انہوں نے عالمی بینک کے حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ عوام دشمن منصوبوں لیے حکومت سندھ کو قرض دینا بند کرے اور اپنے اگلے دورہ سندھ میں کسان نمائندوں سے ملاقات کریں تاکہ انہیں بینک کے تعاون سے چلنے والے آبی منصوبوں کے درست نتائج براہ راست معلوم ہوسکیں۔
(ڈان، 25 فروری، صفحہ17)

چینی
کسٹم حکام نے طورخم سرحد کے ذریعے افغانستان جانے والے 100سے زائد چینی سے لدے ٹرکوں کو منظوری دینے سے انکار کردیاہے۔ مقامی کسٹم ایجنٹ کا کہنا ہے کہ چینی سے لدے 102 ٹرک نیشنل لوجسٹک سیل (این ایل سی) کے جمرود ٹرمینل پر واپس بھیج دیے گئے ہیں۔ چینی کے برآمد کنندگان کاکہناہے کہ انہوں نے اسٹیٹ بینک کی شاخ میں تمام واجبات ادا کیے ہیں مگر طورخم سرحد پر موجود کسٹم اہلکاروں نے ٹرکوں کو سرحد پر روکے رکھا ہے۔
(ڈان، 21 فروری، صفحہ7)

نکتہ نظر
اس ہفتے کی زرعی خبروں میں بھی گزشتہ کئی ہفتوں کی طرح گندم، چینی اور مال مویشی شعبہ ہی حاوی ہے۔ ایک نئی خبر یہ ضرور ہے کہ اب کابینہ کے ارکان کو وفاقی کمیٹی کے اعداد وشمار خصوصا کپاس کے حوالے سے پیش کیے گئے اعداوشمار پر بھروسہ نہیں۔ ممکن ہے کہ پیداواری اندازوں اور اعداد وشمار میں نقائص ہوں بھی، لیکن یہاں بظاہر یہ لگتا ہے کہ کابینہ ارکان اس کو بھی اپنی حکومت کے خلاف ایک سازش کی صورت دیکھتے ہیں۔ یقینا اگر یہ ان کا خیال ہے تو مضحکہ خیز ہے۔ وفاقی کابینہ کو اگر توجہ ہی دینی ہو تو یہ کیا کم تھا کہ ملک میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دوران، حکام چینی کے ذخیروں پر چھاپے ماررہے ہیں لیکن سرحد سے چینی برآمد کرنے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں، اور ناکامی کی صورت میں انہیں بحفاظت ”محفوظ مقام“ پر منتقل کردیا گیا۔ حالانکہ یہی کابینہ چینی کی برآمد پر پابندی عائد کرچکی ہے۔ ملک میں غربت، بھوک، پسماندگی کی بنیادی وجہ دو طبقاتی نظام ہے جس میں تمام تر وسائل اور حکومتی مراعات سرمایہ دار جاگیردار طبقے کے لیے مختص کی جارہی ہیں جو لسبیلہ یا کوئٹہ میں ہزاروں ہیکٹر مفت زمین بھی حاصل کرسکتا ہے جبکہ اسی صوبے کے غریب عوام خصوصا ماہی گیر اپنی آبائی زمینوں سے بیدردی سے بیدخل کیے جاتے ہیں۔ مقامی زمین، پانی اور دیگر وسائل استعمال کرکے بین الاقوامی کمپنیاں کیا بلوچستان کی عوام کو غربت سے نکال سکتی ہیں؟ اگر ہاں تو وہاں سونے اور دیگر قیمتی دھاتوں کے اخراج کے باوجود کیوں آدھی سے زیادہ عوام بھوک، غربت، ناخواندگی کا شکار ہے؟ یقینا ملک کے قدرتی و پیداواری وسائل پر مٹھی بھر مفاد پرست سرمایہ دار، جاگیردار قابض ہیں جو عالمی سرمایہ داروں اور کمپنیوں سے سے گٹھ جوڑ کرکے چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور عوام کو بھوک اور غربت میں دکھیل رہے ہیں۔ سرمایہ دار کو کھاد کے کارخانوں سے منافع بنانے کے لیے جی آئی ڈی سی میں پچاس فیصد تک بھی رعایت دی جاتی ہے لیکن بات جب غریب کسان مزدوروں کی ہو تو یہی حکومت انہیں چند مرغیاں، ٹھیلے اور خوردہ فروش دکانیں کھول کر دینے کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔ ملک بھر کے غریب کسان مزدور طبقہ کو اس تفریق کو سمجھتے ہوئے اس نظام کو بدلنے کے لیے خود اٹھنا ہوگا کیونکہ یہ نام نہاد ”احساس“ آپ کے لیے نہیں طبقہ اشرافیہ کے لیے ہے۔
فروری 13 تا 19 فروری، 2020

زراعت
وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق خسروبختیار نے کہا ہے کہ ٹڈی دل کے حملوں سے نمٹنے کےلیے حکومت نے قومی سطح پر ہنگامی حالت کا اعلان کردیا ہے ۔ اس سلسلے میں تمام متعلقہ ادارے اور فوج فصلوں کی حفاظت کےلیے تمام ضروری اقدامات کرے گی ۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 27 سال بعد ٹڈی دل نے پاکستان کا رخ کیا ہے اور اس وقت دنیا کے 30 ممالک کو ٹڈی دل کے حملوں کا سامنا ہے ۔ حکومت ٹڈی دل سے متاثر ہونے والے کسانوں کے نقصانات کی تلافی کے لیے حکمت عملی وضع کررہی ہے ۔ حکومت مرغیوں کی خوراک میں استعمال کرنے کے لیے کسانوں سے 20 روپے فی کلوگرام مردہ ٹڈیاں خرید رہی ہے ۔ صوبائی سیکرٹری زراعت کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پنجاب میں 62,000 ایکڑ علاقہ ٹڈی دل سے متاثر ہے ۔ ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے تقریباً 50,000 لیٹر کیڑے مار زہر چھڑکا گیا ہے ۔
(ڈان،18 فروری، صفحہ6)

ایک خبر کے مطابق حکومت پاکستان اور عالمی ادارہ خوراک و زراعت (فاوَ) کے درمیان دو معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں ۔ معاہدوں کا مقصد ٹڈی دل کے حملوں سے تحفظ اور دریائے سندھ کے کنارے زراعت کو پانی کے انتظام اور موسمی تبدیلی سے مطابقت رکھنے والے زرعی طریقوں کے زریعے تبدیل کرنا ہے ۔ معاہدے کے تحت فاوَ ٹڈی دل سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کے لیے 700,000 ڈالر کی دستیابی ممکن بنائے گا ۔ محکمہ زراعت سندھ و بلوچستان کے تحت کیے گئے ابتدائی سروے کے مطابق جنگلات اور چراگاہوں کے علاوہ تقریباً 80,000 ہیکٹر رقبے پر ٹڈی دل کی وجہ سے فصلیں متاثر ہوئی ہیں ۔ محکمہ زراعت بلوچستان کے فراہم کردہ تخمینے کے مطابق صرف بلوچستان میں 4627;46;79 ملین روپے کا زرعی نقصان ہوا ہے ۔ دوسرا منصوبہ پاکستان میں موسمی تبدیلی سے مطابقت سے متعلق ہے جس کے لیے گرین کلائمٹ فنڈ نے 47 ملین ڈالر کی منظوری دی ہے ۔ اس منصوبے سے 1;46;3 ملین افراد کو فائدہ ہوگا ۔ یہ منصوبہ دریائے سندھ کے ساتھ کے علاقوں میں زرعی اور پانی کے انتظام کو بہتر بنا کر اس خطے میں موسمی تبدیلی سے مزید مطابقت پیدا کرے گا ۔
(ڈان، 16 فروری، صفحہ3)

ایک خبر کے مطابق ٹڈی دل ضلع لکی مروت پہنچ گئے ہیں ۔ مقامی افراد اور محکمہ زراعت کے نگراں عملے نے ان کی موجودگی پر متعلقہ اداروں کو آگاہ کیا جس کے بعد عملے کو متاثرہ علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے ۔ ٹڈی دل کی موجودگی ڈیرہ اسماعیل خان سے جڑے دیہی علاقوں میں دیکھی گئی ہے ۔ محکمہ زراعت کے افسر کے مطابق انہوں نے متاثرہ علاقے میں صبح سویرے ہی چھڑکاوَ کیا ہے اور ان کی بڑی تعداد پہاڑی علاقوں میں مسلسل چھڑکاوَ کی وجہ سے ختم ہوگئی ہے ۔
(ڈان، 17 فروری، صفحہ9)

سیکریٹری جنرل بزنس مین پینل احمد جواد نے حکومت سے فوری طور پر کپاس اور دالوں کی امدادی قیمت مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کسانوں کو رعایت حاصل ہو ۔ اسی طرح ڈیزل پر بھی ٹیکس میں کمی کی جائے کیونکہ ڈیزل کی موجودہ قیمت عوام کو شدید متاثر کررہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے سخت اقدامات اور ڈیزل کی قیمت میں کمی بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کم کرنے میں معاون ہوسکتی ہے ۔
(بزنس ریکارڈر، 18 فروری، صفحہ5)
کھاد
پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمور کھوکھر نے حکومت کی جانب سے زرعی مداخل پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) میں اضافے کی خبر پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ٹیکس بڑھائے گئے تو یہ کسانوں لیے تباہ کن ہوگا ۔ بیج اور زرعی زہر پر صفر جی ایس ٹی برقرار رکھا جائے جبکہ کھاد پر عائد دو فیصد جی ایس ٹی کو بھی صفر کیا جائے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کھاد پر عائد جی ایس ٹی کو 17 فیصد تک بڑھانے سے کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا ۔ یوریا کی فی بوری قیمت 300 روپے، ڈی اے پی 530 روپے، پوٹاش (ایس او پی) 630 روپے اور پوٹاش (ایم اوپی) کی قیمت میں 220 روپے فی بوری اضافہ ہوگا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جی ایس ٹی میں اضافہ پاکستان میں فی ایکڑ پیداوار میں کمی کا باعث ہوگا ۔
(بزنس ریکارڈر، 14 فروری، صفحہ18)

تھوک فروش منڈی میں دستیاب مختلف کمپنیوں کے یوریا کی قیمتوں کے فرق کے نتیجے میں پائی جانے والی الجھن کا فائدہ اٹھارہے ہیں جس کے نتیجے میں گیس انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کی مد میں ہونے والی کمی کا فائدہ کسانوں تک نہیں پہنچ پارہا ۔ حکومت نے پانچ جنوری کو کھاد بنانے والے کارخانوں پر عائد جی آئی ڈی سی میں 400 روپے فی بوری کمی کا فیصلہ کیا تھا ۔ فوجی فرٹیلائزر نے یوریا کی قیمت میں 300 روپے فی بوری (50 کلو گرام) اور اینگرو فرٹیلائزر نے 160 روپے فی بوری کمی کی ۔ تاہم اس کمی کا فائدہ کسانوں کو نہیں پہنچا کیونکہ ربیع کی فصلوں کے لیے یوریا کی ضرورت تقریباً ختم ہوچکی ہے جبکہ تھوک فروش و ڈیلروں نے قیمت میں کمی کا فائدہ اٹھانے کے لیے یوریا ذخیرہ کرنا شروع کردیا ہے ۔ یوریا کی بڑے پیمانے پر طلب اب خریف کے آغاز میں ہوگی ۔ ملک بھر میں 3,500 کھاد کے ڈیلر ہیں جن میں سے 65 فیصد پنجاب میں باقی زیادہ تر سندھ میں ہیں ۔
(ڈان، 15 فروری، صفحہ10)

کپاس
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے مطابق اس سال 15 جنوری تک کپاس کی پیداوار 20;46;12 فیصد کمی کے بعد 8;46;6 ملین گانٹھوں تک محدود ہوگئی ہے جو پچھلے سال اسی دورانیہ میں 10;46;7 ملین گانٹھیں تھی ۔ اس سال ملک میں 9;46;5 ملین گانٹھوں کی پیداوار کا ہدف حاصل نہ ہونے کا خدشہ ہے ۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے اعداد وشمار کے مطابق 15 فروری تک پنجاب میں کپاس کی پیداوار میں 22;46;7 فیصد جبکہ سندھ میں 16;46;3 فیصد کمی ہوئی ہے ۔
(ڈان، 19 فروری، صفحہ10)

پھل سبزی
برآمد کنندگان کے مطابق ٹھنڈے (ریفریجریٹڈ) کنٹینرز کی شدید کمی اور ترسیلی اخراجات میں اضافہ سے پھل اور سبزیوں کی برآمد کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔ یہ کینو، آلو اور پیاز کی بھرپور برآمد کا موسم ہے لیکن خالی ٹھنڈے کنٹینر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے برآمد بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ ماہانہ 1,500کنٹینروں کی طلب کے مقابلے اس وقت بمشکل 1,000 ٹھنڈے کنٹینر دستیاب ہیں ۔ خبر کے مطابق کنٹینروں کی کمی کی وجہ چین سے درآمدی حجم میں کمی ہوسکتی ہے ۔
(بزنس ریکارڈر، 18 فروری، صفحہ5)

ڈیری
بین الاقوامی ڈیری کمپنی فرائز لینڈ کمپینا کے سربراہ (کنزیومر پروڈکٹ، یورپ) روئل ایف وین نیربوز نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ دودھ استعمال کرنے والے ممالک میں شامل ہے ۔ اس حوالے سے پاکستانی منڈی میں بہت مواقع موجود ہیں کیونکہ ملک میں استعمال ہونے والا صرف دس فیصد دودھ صنعتی پیمانے پر پیک (پروسسڈ) ہوتا ہے جبکہ گائے اور بھینسوں کا 90 فیصد خام دودھ براہ راست منڈی میں آتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک ابھرتی ہوئی معیشت بھی ہے اور اس کی جغرافیائی حیثیت خطے میں برآمدات کے لیے مواقع فراہم کرتی ہے ۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 16 فروری، صفحہ20)

مال مویشی
سیکریٹری وزارت مال مویشی بلوچستان دوستین جمالدینی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کوءٹہ اور لسبیلہ میں بڑے ڈیری فارموں کے قیام کی خواہشمند ہے اور اس مقصد کے تحت ایک نجی غذائی کمپنی سے بات چیت جاری ہے جو ڈیر شعبہ میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہے ۔ ایک ڈیری فارم ضلع لسبیلہ میں 3,000 ایکڑ پر قائم کیا جارہا ہے اور اسی طرز کا ایک ڈیری فارم کوءٹہ میں ایک 1,000 ایکڑ پر قائم ہوگا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حب میں ایک مذبح خانہ اور پنجاب سے ملحقہ سرحد پر ایک مویشی منڈی کاقیام بھی عمل میں لایا جائے گا ۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 19 فروری، صفحہ7)

ماہی گیری
پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے سر کریک کے قریب 10 سے 15 بحری میل پاکستانی حدود کے اندر چار بھارتی ماہی گیر کشتیوں کو ضبط کر کے 23 ماہی گیروں کو گرفتار کر لیا ہے ۔ اس کارروائی کے نگراں کمانڈر فاروق نے پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ متعلقہ حفاظتی اداروں کے زریعے تفتیش کی جائے گی جس سے ان گرفتار ماہی گیروں کی حقیقی شناخت اور پاکستانی سمندر میں موجودگی کے مقصد کا تعین ہوگا ۔ تفتیش کے بعد انہیں مزید قانونی کارروائی کے لیے ڈاکس پولیس کے حوالے کیا جائے گا ۔
(ڈان، 15 فروری، صفحہ15)

چینی، آٹا
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ چینی اور آٹے کے بحران سے متعلق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی رپورٹ ایوان کے سامنے پیش کرے ۔ سینیٹ اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر مشاہد اللہ خان نے الزام عائد کیا ہے کہ آٹا اور چینی کی قلت سے متعلق رپورٹ شاءع نہیں کی جارہی کیونکہ حکومت میں بیٹھے لوگ اس میں ملوث ہیں ۔ گندم کی پہلے برآمد کیا گیا اور اب درآمد کیا جارہا ہے جس کے پیچھے ایک ہی شخص کا ہاتھ ہے ۔
(ڈان ،15 فروری، صفحہ1)

نکتہ نظر

ملک میں گزشتہ کم از کم ایک سال سے پیداواری لاگت میں اضافے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ اب تقریبا ہر شعبہ کو متاثر کررہا ہے ۔ آئی ایم ایف اور اس جیسے سرمایہ دار مالیاتی اداروں سے بڑے پیمانے پر قرض کے معاہدوں اور ان کے بدلے عائد کی جانے شرائط کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں اور ٹیکسوں میں اضافہ براہ راست چھوٹے کسانوں کو متاثر کر ہی رہا تھا کہ اب یہی کسان ٹڈی دل جیسی آفت کا شکار ہوکر شدید نقصان سے دوچار ہورہے ہیں ۔ یہ خدشہ یقینا موجود ہے کہ بلوچستان اور سندھ میں اربوں روپے کی زرعی پیداوار کو نقصان پہنچانے کے بعد اب پنجاب میں ٹڈی دل کا حملہ ملک کو کہیں بڑے پیمانے پر خوراک درآمد کرنے پر مجبور نہ کردے خاص کر ایسی صورتحال میں کہ جب عوام پہلے ہی آٹا اور چینی مافیا کے ہاتھوں مہنگی خوراک خریدنے پر مجبور کردیے گئے ہیں ۔ ملک میں زرعی پیداوار اور اس کے لیے درکار مداخل پر سرکاری اختیار پر ڈھیلی گرفت یقینا آئی ایم ایف جیسے اداروں کی نیولبرل پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے جس کا خمیازہ براہ راست خوراک پیدا کرنے والے چھوٹے کسان اور اسے استعمال کرنے والے عوام بھگت رہے ہیں جبکہ کھاد کی صنعت کو ٹیکسوں میں چھوٹ دی جاتی ہے جس کا فائدہ بھی چھوٹے کسان کے بجائے ذخیرہ اندوزوں کو ہی ہوگا جیسے کہ خبر میں نشاندہی کی گئی ۔ اس پالیسی سازی کا ایک شاہکار یہ بھی ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار حکومت پاکستان کی دریا دلی کے قصیدے بیان کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ وہ دودھ کے شعبہ کو بھی ان ہی اشیاء کی فہرست میں لاکھڑا کرنے کی تیاری کررہی ہے جن سے سرمایہ دار بھرپور منافع کمارہے ہیں اور اس کی قیمت مقامی منڈی میں بڑھتی چلی جارہی ہے ۔ فرائس لینڈ کمپینا پاکستان سے ڈیری مصنوعات کی برآمد کو منافع بخش قرار دے رہی ہے ۔ ماضی کو دیکھیں تو یہی کچھ ملک میں دیگر زرعی پیداوار کے ساتھ ہوچکا ہے ۔ زیادہ پیدوار کے لیے سرمایہ دار کمپنیوں نے اپنے بیج فروخت کرکے کسانوں کو محتاج بنایا اور اب ان بیجوں اور مخصوص مداخل سے پیداواری لاگت اتنی بڑھ چکی ہے کہ ملکی پیداوار عالمی منڈی کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے لیکن بیج اور دیگر مداخل فروخت کرنے والی کمپنیوں کا منافع بڑھتا ہی جارہا ہے ۔ اب مویشیوں کی افزاش نسل اور دودھ کی پیداوار میں اضافے کے لیے جدت کے نام پر یہ کمپنیاں اپنا کاروبار یہاں بڑھا رہی ہیں اور زیادہ پیداوار کا جھانسہ دے رہی ہیں ۔ ماضی گواہ ہے کہ زیادہ پیداوار اور زیادہ برآمد سے فائدہ جاگیرداروں ، سرمایہ داروں اور ان کی کمپنیوں کو ہی ہوا ہے چھوٹا کسان آج پہلے سے بھی بدتر حالات کا سامنا کررہا ہے ۔
فروری, 6 تا 12 فروری، 2020

زمین
سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ صوبے میں زیر قبضہ تمام زمین واگزار کروائے اور فوری طور پر جنگلات کی زمین کی تمام غیر قانونی الاٹمنٹ کی منسوخی کو یقینی بنائے ۔ درخواست گزار قاضی اطہر نے 2012 میں جنگلات کی زمین کی حیثیت تبدیل کرکے اسے بورڈ آف ریونیو کے سپرد کرنے پر سوال اٹھایا ہے ۔ درخواست گزار نے 2015 میں وزیر اعلی سندھ کی جانب سے فوج کے شہدا میں ملکیت کی بنیاد پر زمین تقسیم کرنے کے لیے 9,552 ایکڑ زمین کی تقسیم کا بھی حوالہ دیا ہے جس کے لیے وزیر اعلی سندھ نے چیف سیکرٹری اور محکمہ جنگلات سے شکارپور میں جنگلات کی اس زمین کی حیثیت تبدیل کرنے کی سمری طلب کی تھی تاکہ اسے منظوری دی جاسکے ۔ اس کے علاوہ کراچی میں کاٹھور کی ہزاروں ایکڑ محفوظ جنگلات کی زمین بحریہ ٹاوَن کو منتقل کردی گئی ۔ درخواست گزار نے عدالت سے جنگلات کی اس منظم تباہی کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے اور مستقل بنیادوں پر محکمہ موسمی تبدیلی کے ماتحت قومی جنگلات کمیشن بنانے کی اپیل کی ہے ۔
(ڈان، 6 فروری، صفحہ3)

زراعت
محکمہ زراعت کے پی نے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے متاثرہ علاقوں میں ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے ڈرون کے ذریعے چھڑکاوَ شروع کردیا ہے ۔ محکمہ کے ترجمان کے مطابق روایتی چھڑکاوَ کے مقابلے ڈرون ٹیکنالوجی سے درختوں کے اوپر بھی ہر جگہ رسائی ممکن ہے ۔ یہ اقدام ڈیرہ اسماعیل خان میں کھڑی فصلوں پر ٹڈی دل حملے کے بعد کیا گیا ۔
(ڈان، 7 فروری، صفحہ7)

گندم
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو آگاہ کیا گیا ہے کہ پنجاب میں گندم کی کوئی کمی نہیں اور 2;46;1 ملین ٹن کا ذخیرہ گندم کی کٹائی تک کے لیے کافی ہے جو 15 اپریل سے شروع ہوگی ۔ کمیٹی کو جمع کروائی گئی رپورٹ میں پنجاب حکومت نے کہا ہے کہ پیداوار میں کمی اور گزشتہ سال مارچ کے آخر اور اپریل کے آغاز میں موسمی اثرات کے باوجود پنجاب نے کسانوں سے 3;46;3 ملین ٹن گندم خریدی تھی اور 1;46;5 ملین ٹن گندم کا ذخیرہ پہلے سے موجود تھا ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مقامی اور عالمی منڈی میں گندم کی موجودہ قیمت کے تناظر میں گندم کی امدادی قیمت پر نظرثانی ہونی چاہیے ۔ سیکریٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق ہاشم پوپلزئی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وزارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اگلے اجلاس میں گندم کی امدادی قیمت 1,400 روپے فی من تک بڑھانے کی تجویز پیش کررہی ہے ۔ یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ گندم کی خریداری 15 دن پہلے شروع ہو ۔
(ڈان، 7 فروری، صفحہ5)

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے) نے گندم کے ترسیل نظام میں خامیوں کو ملک میں آٹے کی قیمت میں حالیہ اضافے کی وجہ قرار دیا ہے ۔ چیئرمین پی ایف ایم اے عاصم رضا نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق میں ایسے طریقہ کار پر زور دیا ہے جس میں آٹا ملیں براہ راست پاکستان ایگری کلچرل اسٹوریج اینڈ سروسس کارپوریشن (پاسکو) سے گندم خرید سکیں ۔ مستقبل میں اس بحران سے بچاوَ کے لیے یہ ضروری ہے کہ آبادی کی مجموعی طلب کا 50 فیصد گندم ہر وقت ذخیرے میں موجود ہو ۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 7 فروری، صفحہ3)
آٹا
مسابقتی کمیشن نے پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے) کے لاہور میں واقع دفاتر پر چھاپہ مار کر دفتری دستاویزات ضبط کرلی ہیں ۔ کمیشن کو شبہ ہے کہ پی ایف ایم اے نے آٹے کی پیداوار محدود کرنے اور اس کی قیمت مقرر کرنے جیسے غیرمسابقتی اقدامات کیے ہیں ۔ سات رکنی عملے نے ڈائریکٹر جنرل اکرام الحق کی سربراہی میں ان اطلاعات پر تفتیش کی کہ پی ایف ایم اے احکامات کی خلاف ورزی کررہی ہے جو اسے قیمت اور آٹے کی ترسیل سے متعلق ایسے فیصلے کرنے سے روکتا ہے جس سے منڈی میں مسابقت کی حوصلہ شکنی ہو ۔ مسابقتی کمیشن نے اپنے 13 دسمبر 2019 کے حکم نامے میں غیرمسابقتی سرگرمیوں کی وجہ سے پی ایف ایم اے پر 75 ملین روپے جرمانہ عائد کیا تھا ۔
(ڈان، 12 فروری، صفحہ2)
چینی
مسابقتی کمیشن (کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان) پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پر 75 ملےن روپے جرمانہ عائد کرنے کے بعد چینی کے شعبے کے اعداد وشمار کا تجزیہ کررہا ہے کہ آیا شوگر ملیں چینی کی قیمت کے حوالے سے گٹھ جوڑ (کارٹلائزیشن) میں ملوث ہیں یا نہیں ۔ خوردہ منڈی میں چینی کی قیمت 10 روپے اضافے کے بعد 80 روپے فی کلو گرام ہوچکی ہے ۔ کمیشن نے ماضی میں بھی اس طرح کی کارروائی کی تھی اور پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کے دفتر پر چھاپہ مارا اور تفتیش کی گئی تھی ۔ تفتیش کے بعد کمیشن نے پی ایس ایم اے کو کارٹلائزیشن میں ملوث قرار دیا تھا اور قوانین کی خلاف ورزی پر زیادہ سے زیادہ جرمانے عائد کیا تھا ۔ تاہم اس سارے عمل کو سندھ ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا جہاں پی ایس ایم اے نے مسابقتی کمیشن کی تفتیش کے خلاف درخواست دائر کی تھی ۔
(بزنس ریکارڈر، 10 فروری، صفحہ1)

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے چینی درآمد کرنے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے اس کی برآمد پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی ہے ۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف انتظامی اقدامات کرکے منڈی میں چینی کی ترسیل یقینی بنائیں ۔ وفاقی وزارت صنعت و پیداوار کے مطابق اس وقت تقریبا 1;46;72 ملین ٹن چینی کا ذخیرہ ملوں کے پاس موجود ہے اور گنے کی کرشنگ اب بھی جاری ہے ۔ ملک کی ماہانہ چینی کی کھپت 450,000 سے 480,000 ٹن ہے ۔
(ڈان، 11 فروری، صفحہ10)

گوشت
ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملائیشیا کے محکمہ ویٹنری سروسز اور ڈپارٹمنٹ آف اسلامک ڈیولپمنٹ ملائیشیا نے آگاہ کیا ہے کہ انہوں نے دو پاکستانی کمپنیوں زینتھ ایسوسی ایٹس اور لینیئر پاک جیلٹن لمیٹیڈ، لاہور کو گوشت اور اس کی مصنوعات ملائیشیا برآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے ۔ ٹی ڈی اے پی نے ملائیشیا کے ان اداروں کو 13 تا 28 جولائی، 2019 کو گوشت کی عمل کاری (پروسیسنگ) کے مراکز کا معائنہ کرنے کی دعوت دی تھی ۔ ملائیشیا کے چار رکنی وفد نے کراچی کے تین اور لاہور کے چار مراکز کا دورہ کیا تھا اور وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور دیگر اداروں کے حکام سے ملاقاتیں بھی کی تھیں ۔
(بزنس ریکارڈر، 8 فروری، صفحہ3)