2019 اکتوبر


اکتوبر 24 تا 30 اکتوبر، 2019

زراعت
اینگرو فرٹیلائزر کے چیف فنانشل افسر عمران احمد نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسمارٹ زرتلافی یعنی موثر طریقوں سے زرتلافی کی فراہمی جیسے اقدامات نہ صرف چھوٹے کسانوں کی آمدنی میں اضافے کا سبب ہونگے بلکہ اس سے پاکستان کا زرعی شعبہ بھی ترقی کرے گا۔ پاکستان میں زیادہ تر زمینی ملکیت 10 فیصد امیر ترین افراد کے ہاتھوں میں مرتکز ہے جو 50 فیصد زمین زرعی زمین کے مالک ہیں۔ جبکہ بقیہ 90 فیصد کسانوں کے پاس بہت کم زرعی زمین ہے۔ یہ اعداوشمار پاکستان میں چھوٹے کسانوں کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں حکومت کی طرف سے یوریا کی پیداوار پر درآمدی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے ذریعے دی جانے والی زرتلافی براہ راست اور بلاتفریق بڑے جاگیرداروں کو فائدہ پہنچارہی ہے جن کی زرعی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 24 اکتوبر، صفحہ20)
گندم
سیکریٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق ہاشم پوپلزئی نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف کیا ہے کہ سندھ اور کے پی کے میں آٹے کے حوالے سے جاری پریشان کن صورتحال میں وفاقی حکومت گندم درآمد کرنے کی تجویز کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب حکومت گندم 1,375 روپے فی من بمعہ باردانہ آٹا ملوں کو فراہم کررہی ہے جبکہ آٹے کی قیمت 1,650 روپے فی من ہے۔ تاہم سندھ اور کے پی کے میں آٹے کی قیمت 1,850 سے 1,950 روپے فی من ہے جو پنجاب سے 18 فیصد زیادہ ہے۔ سندھ میں بحران کی وجہ صوبائی حکومت کی گندم کی سرکاری خریداری میں ناکامی ہے۔ کے پی کے حکومت نے بھی مقرر کردہ ہدف کے مطابق گندم کی خریداری نہیں کی۔
(بزنس ریکارڈر، 24 اکتوبر، صفحہ1)
پنجاب حکومت کی جانب سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی نقل و حمل پر پابندی کے بعد خیبر پختونخوا میں آٹے کی قلت کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ یہ پابندی پشاور میں آٹے کی قیمت میں اچانک اضافے کی وجہ بنی ہے۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے چیئرمین حاجی محمد اقبال نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے بغیر کسی وجہ کے گندم کی ترسیل روک دی ہے۔ کے پی کے اپنی طلب کا 95 فیصد آٹا پنجاب سے خریدتا ہے، گندم کی ترسیل پر پابندی صوبے میں آٹے کے شدید بحران کی وجہ بنے گی۔ ”ہم نے کے پی کے حکومت کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا لیکن بدقسمتی سے کوئی بھی اس پر توجہ نہیں دینا چاہتا“۔
(ڈان، 26اکتوبر، صفحہ7)
سندھ حکومت کی جانب سے 100 کلو گرام گندم کی قیمت 3,250 سے بڑھا کر 3,450 روپے کیے جانے کے بعد ملوں نے آٹے قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ڈھائی نمبر 10 کلو گرام آٹے کی قیمت 485 روپے ہوگئی ہے جو پہلے 480 روپے تھی۔ ملوں کی جانب سے میدہ اور فائن آٹے کی پرانی کی قیمت 50.50 روپے فی کلو کے مقابلہ میں نئی قیمت 52.50 روپے فی کلو جاری کی گئی ہے۔ ماہ اپریل سے اب تک ڈھائی نمبر آٹے کی قیمت میں 14.50 روپے فی کلو، میدہ اور فائن آٹے کی قیمت میں 16 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے۔
(ڈان، 27 اکتوبر، صفحہ10)
گندم اور آٹے کی قلت اور اس کی قیمت میں اضافے پر قابو پانے کے لئے خیبر پختونخوا حکومت نے افغانستان اور دیگر صوبوں کو ان اشیاء کی برآمد پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے حطار خصوصی اقتصادی زون کے قیام کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ صوبہ میں گندم اور آٹے کی وافر مقدار دستیاب ہے۔ وفاقی حکومت نے بھی صوبے کو 300,000 ٹن اضافی گندم فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر اعلی نے قلت سے بچنے کے لئے ذخیرہ اندوزوں خلاف سخت کاروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹربیون، 29 اکتوبر، صفحہ6)
کپاس
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی صدارت کرتے ہوئے سینٹر مظفر حسین شاہ نے کہا ہے کہ گرمی کی لہر کی وجہ سے ملک میں اور خصوصاً زیریں سندھ میں ایک تہائی کپاس برباد ہوگئی ہے۔ انھوں گرمی اور کیڑے مکوڑوں کے خلاف مدافعت رکھنے والے اور زیادہ پیداوار دینے والے بیج تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال کپاس کی پیداوار 10 ملین گانٹھیں متوقع ہے جبکہ اس کا پیداواری ہدف 15 ملین گانٹھیں تھا۔ سینٹر مظفر حسین شاہ نے ملک بھر میں کپاس کے حوالے سے ہنگامی حالت (ایمرجنسی) نافذ کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 24 اکتوبر، صفحہ20)
کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے حکومت پر کپاس کی کم ہوتی ہوئی پیداوار پر قابو پانے کے لئے ہنگامی حالت کے اعلان پر زور دیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے اس کے علاوہ کپاس کے زیر کاشت علاقوں میں چاول و گنے کی کاشت پر اور شوگر ملوں کے قیام پر بھی پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ کپاس کی پیداوار میں کمی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ کپاس کے زیرکاشت رقبے میں اضافے کے لیے فوری طور پر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ کپاس کے علاقے میں گنے کی کاشت، غیر مصدقہ بیج اور جراثیم کش زہر کپاس کی فصل میں تیزی سے کمی کے اسباب ہیں۔
(ڈان، 30 اکتوبر، صفحہ10)
گنا
سندھ ہائی کورٹ نے گنے کے کاشتکاروں کے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی سیکریٹری زرعت کو 17 نومبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے اور سندھ کے گنا کمشنر کے متواتر تبادلے پر وضاحت طلب کی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ کاشتکاروں کے واجبات کی ادائیگی کے لئے عدالت کی جانب سے تشکیل کردہ کمیٹی کے ایک رکن (سیکریٹری زراعت) واضح ہدایت کے باوجود بھی ان کاشتکاروں کی فہرست اپنے ہمراہ نہیں لاسکے جنہیں اب تک ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔ عدالت کا مزید کہنا تھا کہ فہرست جمع ہونے کے بعد عدالت مل مالکان کے نمائندوں سے جواب طلب کرے گی کہ آیا کاشتکاروں کو واجبات ادا کیے گئے ہیں یا نہیں۔
(ڈان، 24 اکتوبر، صفحہ17)
موسمی تبدیلی
ایک اخباری رپورٹ کے مطابق کے پی کے سے تعلق رکھنے والے ایک کسان سعد اللہ خان کا کہنا ہے کہ ایک وقت تھا جب ان کی زمینوں سے بہت زیادہ پیداوار ہوتی تھی اور کسان کھلی منڈی میں زائد پیداوار فروخت کردیا کرتے تھے۔ تاہم اس سال ہونیوالی پیداوار سے صرف خاندان کی ضرورت کو ہی پورا کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پورے خیبر پختونخواہ میں موسمی تبدیلی کے اثرات کاشتکاروں پر ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں اور موسمی تبدیلی خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں غذائی تحفظ کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیات کے پروفیسر ڈاکٹر آصف خان کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو آبادی میں اضافے سے خوراک کی طلب بڑھتی جارہی ہے جبکہ دوسری طرف انسانوں کی پیدا کردہ ماحولیاتی تبدیلی زراعت کو واضح طور پر متاثر کررہی ہے۔ طویل ہوتے موسم گرما میں گندم کی کاشت میں تاخیر ہوتی ہے۔ فصل کو پھول بننے کے عمل میں مناسب ٹھنڈے موسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیجائی میں تاخیر سے پھول بننے کا یہ عمل خطرے سے دوچار ہوجاتا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 25 اکتوبر، صفحہ6)
صدر فارمرز بیورو آف پاکستان ڈاکٹر ظفر حیات نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ گرمی کی لہر سے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کرے۔ کپاس، مکئی اور چاول کی فصل کو ہونے والے نقصانات کا اندراج کرکے کسانوں کے لیے مراعات کا اعلان کرے تاکہ وہ اگلی فصلیں کاشت کرنے کے قابل ہوں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کپاس کی پیداوار میں کمی صرف کسانوں کو ہی نہیں بلکہ کپڑے کی صنعت اور برآمدات میں کمی کی صورت قومی معیشت کو بھی متاثر کررہی ہے۔ اسی طرح مکئی کی خراب فصل مرغبانی صنعت کو متاثر کرے گی جو مکئی کو بطور اہم خوراک استعمال کرتی ہے۔ چاول کی صورتحال بھی مختلف نہیں جس سے سالانہ دو سے ڈھائی بلین ڈالر زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ چاول کی ناقص فصل کی وجہ سے اس کی پیداوار میں 20 سے 35 فیصد کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
(ڈان، 26 اکتوبر، صفحہ2)
ماحول
کراچی یونیورسٹی میں پلاسٹک کی آلودگی کے حوالے سے منعقد ہونے والے ایک سیمنار میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں ممالک اور سمندروں کو پلاسٹک سے پاک کرنے کی مہمات مستحکم ہوتی جارہی ہیں جبکہ پاکستان میں پلاسٹک سازی کی صنعت سالانہ 15 فیصد ترقی کررہی ہے۔ پاکستان میں اندازاً سالانہ 624,200 ٹن پلاسٹک تیار کیا جارہا ہے اور ملک میں پلاسٹک کی مصنوعات بنانے والے تقریباً 6,000 کارخانے ہیں۔ دریائے سندھ کے ذریعے سالانہ 164,332 ٹن پلاسٹک سمندر میں جاگرتا ہے۔ ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر پاکستان کی نمائندہ شاہ زین پرویز کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ”دریائے سندھ دنیا میں دوسرا پلاسٹک سے سب سے زیادہ آلودہ دریا ہے جبکہ پہلا، تیسرا اور چوتھا سب سے زیادہ آلودہ دریا چین میں ہے۔ افریقہ کا دریائے نیل دریائی آلودگی میں پانچویں نمبر پر ہے۔
(ڈان، 24 اکتوبر، صفحہ16)
غذائی کمی
آغا خان یونیورسٹی میں ہونے والی تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس ”نیوٹریشن اینڈ ارلی ہیومن ڈیولپمنٹ“ میں ماہرین کا کہنا تھاکہ پاکستان میں بچوں میں حیاتین (وٹامن) اور معدنیات (منرل) کی تشویشناک کمی ترقی کے حصول کے لیے ممکنہ صلاحیت کو متاثر کررہی ہے۔ ماہرین نے حکومت پر زرو دیا ہے کہ وہ ابتدائی عمر میں نشونماکے لئے جامع حکمت عملی اپنائیں۔ اس کانفرنس کے اہم موضاعات میں قومی غذائی سروے 2018 سرفہرست تھا۔ سرو ے سے پتہ چلتا ہے کہ ملک بھر میں ہر دس میں سے چھ (62.7 فیصد) بچے وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے 53.7 فیصد بچے خون کی کمی اور 51.5 فیصد بچے وٹامن اے کی کمی کا شکار ہیں۔ کانفرنس کے دوران ماہرین نے پاکستان میں وزارت صحت برائے اطفال (منسٹری آف چائلڈ ہیلتھ) قائم کرنے کی تجویز بھی دی ہے جو ملک میں باہم جڑے ہوئے ترقیاتی مسائل کے لیے طویل المدت حکمت عملی بناسکے۔
(ڈان، 27 اکتوبر، صفحہ16)
کھاد کمپنیاں
ایک خبر کے مطابق 30 ستمبر 2019 تک نو ماہ میں فوجی فرٹیلائزر کمپنی نے 13.2 بلین روپے بعد از محصول منافع کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ سال اسی دورانیے میں کمپنی نے 10 بلین روپے منافع کا اعلان کیا تھا۔ نوماہ کے دورانیے میں کمپنی کی فروخت کا حجم 73.02 بلین روپے تھا۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 29 اکتوبر، صفحہ20)
نکتہ نظر
اس ہفتے کی خبریں بھی گزشتہ کئی ہفتوں کی طرح زرعی شعبہ میں کوئی قابل زکر پیش رفت کے بغیر ہی کہیں گندم کی قلت، تو کہیں موسمی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا احوال بیان کررہی ہیں۔ لیکن ہمیشہ کی طرح ایک شعبہ ہے جس میں بمشکل نقصان کی خبر سامنے آتی ہو اور وہ ہے زراعت میں استعمال ہونے والے مداخل تیار کرنے اور فروخت کرنے والا شعبہ۔ ہر حکومت میں چاہے وہ سیاسی ہو یا فوجی یہ سرمایہ دار طبقہ ٹیکسوں میں چھوٹ اور مراعات کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ جبکہ ملک کے 90 فیصد چھوٹے اور بے زمین کسان سرکاری زرتلافی اور مراعات سے محروم رہ جاتے ہیں جس کا اقرار خود مداخل تیار کرنے والی کمپنی کررہی ہے۔ بین الاقوامی تجارتی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے آزاد منڈی کے اصولوں پر کاربند حکومت گندم سے لے کر دودھ گوشت جیسی لازمی غذائی اشیاء تک تمام پیداوارکی تجارت اور اس پر اختیار منڈی کو سونپنے پر کمربستہ ہے۔ یہ حکمت عملی ایک طرف مداخل کی قیمت میں اضافے کی صورت چھوٹے کسانوں کو نقصان سے دوچار کررہی ہے جبکہ دوسری طرف عام صارف زیادہ قیمت دے کر یہ لازمی غذائی اشیاء خریدنے پر مجبور کردیا ہے گیا جو ملک میں مزید بھوک اور غذائی کمی میں اضافے کا سبب بنے گی جبکہ پہلے ہی بھوک اور غذائی کمی کے اشارے تشویشناک صورتحال بیان کررہے ہیں۔ آزاد تجارتی پالیسیاں اور غیرپائیدار طریقہ پیداوار ہی ملک میں چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں میں بھوک غربت، غذائی کمی، ماحول کی تباہی اور موسمی تبدیلی کی ذمہ دار ہیں جن سے نجات صرف اور صرف پائیدار طریقہ زراعت ہے۔ اور پائیدار طریقہ زراعت پر عمل پیرا ہونے کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ ملک کی 50 فیصد زرعی زمین جس پر صرف 10فیصد جاگیر دار سرمایہ دار قابض ہیں وہ بھی واپس لی جائے اور ملک کی تمام زرعی زمین چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں میں منصفانہ اور مساویانہ بنیادوں پر تقسیم کی جائے۔
اکتوبر 17 تا 23 اکتوبر، 2019
زراعت
ایک خبر کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو جینیاتی فصلوں کے فروغ کے لیے کام کرنے والی لابی ملک میں جینیاتی مکئی کے فوائد اجاگر کرنے کے لیے استعمال کررہی ہے جس کی کاشت پر پاکستان میں اس وقت پابندی ہے۔ زرائع کا کہنا ہے کہ قائمہ کمیٹی کے ساتویں اجلاس کے ایجنڈے میں پاکستان میں جینیاتی بیج کے تعارف پر بحث بھی شامل ہے جس پر کراپ لائف پاکستان کی جانب سے جینیاتی مکئی اور کپاس پر پیش کیا جانے والا مختصر جائزہ بھی شامل تھا۔ کراپ لائف پاکستان بین الاقوامی بیج کمپنیوں کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔ قائمہ کمیٹی کے کئی ارکان پہلے ہی ملک میں جینیاتی مکئی متعارف کرانے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔ موجودہ حکومت نے اس سال کے آغاز پر اس معاملے پر بحث کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ ملک میں جینیاتی مکئی کی کاشت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ غذائی فصلوں میں جینیاتی ٹیکنالوجی استعمال نہ کرنے کی واضح پالیسی کے باوجود جینیاتی مکئی کے نام نہاد فوائد پر کمیٹی میں ہونے والی بات چیت پر ارکان نے حیرانگی کا اظہار کیا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 17 اکتوبر، صفحہ20)
وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو جینیاتی فصلوں کے حوالے سے ایک مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ وزارت اور قائمہ کمیٹی میں ملک میں جینیاتی فصلوں کی کاشت متعارف کروانے پر اختلاف پایا جاتا ہے، جب سے وزارت نے ان بیجوں کے استعمال کی مخالفت کی ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ جینیاتی فصلوں میں انسانی زندگی کے لیے منفی طبی اور ماحولیاتی اثرات پائے جاتے ہیں۔ وزارت کے سیکریٹری محمد ہاشم پوپلزئی نے کمیٹی ارکان کو بتایا کہ جینیاتی فصلوں کی آزمائش پر بائیو سیفٹی کمیٹی نے پابندی عائد کی ہوئی ہے جبکہ وزارت تجارت نے بھی جینیاتی ٹیکنالوجی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملکی برآمدات متاثر ہونگی۔ وزارت صحت جینیاتی ٹیکنالوجی کی اس بنیاد پر مخالفت کرتی ہے کہ اس سے عوامی صحت متاثر ہوگی جبکہ وزارت موسمی تبدیلی کا موقف ہے کہ جینیاتی فصلوں کے ماحولیاتی اثرات ہونگے۔ کمیٹی کے سربراہ راؤ محمد خان اجمل اور ارکان کا کہنا تھا کہ وہ جینیاتی ٹیکنالوجی کی مخالفت کرنے والی وزارتوں کو قائل کرنے کی کوشش کرینگے۔ اس پر سیکریٹری زراعت نے آگاہ کیا کہ وزارت کپاس کی فصل کے لئے جینیاتی ٹیکنالوجی متعارف کراوانے کے لئے تیار ہے تاہم وہ مکئی کے لئے جینیاتی بیج کی حمایت نہیں کریگی۔
(ڈان، 18 اکتوبر، صفحہ10)
پاکستان کسان اتحاد نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر زراعت پنجاب نعمان احمد لنگریال کی سربراہی میں محکمہ زراعت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے صوبہ پنجاب میں کپاس، گندم، مکئی، اور چاول سمیت تمام بڑی اہم فصلوں کے پیداواری اہداف حاصل نہیں ہوئے۔ پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد کھوکھر کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کو لکھے گئے ایک خط میں انکا کہنا تھا کہ کپاس کی پیداوار اپنے ہدف 10.4 ملین گانٹھوں کے مقابلے 5.5 ملین گانٹھیں ہوئی ہے۔ پانچ ملین گانٹھوں میں کمی کا مطلب ہے پانچ بلین ڈالر کا نقصان۔ محکمہ کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے آلو کے کسانوں کو بھی بھاری نقصان ہوا ہے۔ کسانوں نے اپنی فصل تین روپے فی کلو فروخت کی جو اس کی پیداواری لاگت سے بھی کہیں کم ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ صوبائی وزیر نے اپنے عزیز احمد یوسف لنگریال کو پنجاب سیڈ کارپوریشن کے بورڈ کا ڈائریکٹر تعینات کیا جنہوں نے گندم کے بیج کے تھیلے کی قیمت 2,800 روپے کردی ہے جس سے پیداواری لاگت میں اضافے کے شکار کسانوں پر مزید بوجھ بڑھے گا۔
(بزنس ریکارڈر، 18 اکتوبر، صفحہ3)
گندم
وفاقی حکومت نے ملک بھر میں گندم کی پیداوار میں اضافے کے ذریعے آمدنی میں اضافے کا قومی منصوبہ (نیشنل پروگرام فار انہانسنگ پروفٹیبلیٹی)کی منظوری دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس پروگرام کے تحت پھپوندی کے خلاف مزاحمت رکھنے والے گندم کے تصدیق شدہ بیجوں کی فراہمی کے زریعے بیج کے تبادلے پر توجہ مرکوز ہوگی۔ محکمہ زراعت نے مستقبل میں غذائی مشکلات سے نمٹنے کے لیے زرعی ہنگامی پروگرام کے تحت یہ پانچ سالہ حکمت عملی مرتب کی ہے۔ اس پروگرام کا اہم حصہ تصدیق شدہ بیجوں کی رعایتی قیمت پر فراہمی کے ذریعے گندم کے بیجوں کا تبادلہ کرنا ہے۔ منصوبے کے تحت 12.5 ایکڑ تک زمین رکھنے والے کسانوں کو پانچ ایکڑ زمین کے لیے 50 فیصد زرتلافی کے حامل بیج فراہم کیے جائیں گے۔
(بزنس ریکارڈر، 23 اکتوبر، صفحہ16)
چاول
وزیر زراعت پنجاب ملک نعمان لنگریال نے مریدکے میں ایک سیمینار کے دوران کہا ہے کہ چاول کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے وزیر اعظم کے زرعی ہنگامی پروگرام (ایگریکلچرل ایمرجنسی پروگرام) کے تحت پنجاب میں چار بلین روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت پیداواری لاگت کم کرنے کے لئے کاشتکاروں کو منظور اور تصدیق شدہ اقسام کے بیج فراہم کئے جائیں گے اور زرعی مشینری کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔
(بزنس ریکارڈر، 18 اکتوبر، صفحہ15)
گنا
سال 2019-20 کے لئے سندھ میں گنے کی قیمت کے تعین کے لئے کراچی میں ہونے والا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا ہے کیونکہ شوگر ملیں گنے کے کاشتکاروں کی طلب کردہ قیمت ادا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ تاہم ملوں نے گنے کی کرشنگ 15 نومبر سے شروع کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ وزیر زراعت سندھ اسماعیل راہو کی زیر صدارت اجلاس میں سندھ آباد گار بورڈ کے صدر و جنرل سیکریٹری، ایوان زراعت سندھ کے صدر اور جنرل سیکریٹری سمیت دیگر کسان تنظیموں کے نمائندوں اور پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن، شوگر مل مالکان اور دیگر شراکت داروں نے شرکت کی۔ سندھ کے گنے کے کاشتکار فی من 250 روپے قیمت ادا کرنے کا مطالہ کررہے ہیں۔ اجلاس میں کاشتکار تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ کئی سالوں سے حکومت سندھ کی جانب سے گنے کی قیمت 182 روپے فی من مقرر کی جارہی ہے جبکہ چینی کی قیمت کافی حد تک بڑھ چکی ہے اس کے باوجود ملیں گنے کی مناسب قیمت ادا کرنے کا مطالبہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
(ڈان، 19 اکتوبر، صفحہ17)
وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے چینی کمپنی سائنو سندھ ریسورسس لمیٹڈ پر زور دیا ہے کہ وہ تھرپارکر میں خشک سالی کے خلاف مدافعت رکھنے والی، کم پانی سے زیادہ پیداوار دینے والی بیج کی اقسام متعارف کروائیں جو صحرائی زراعت میں انقلاب میں معاون ہو اور کمپنیوں کی سماجی زمہ داریوں (کارپوریٹ سوشل رسپانسبلیٹی) کے تحت خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو۔ سندھ ریسورسس لمیٹڈ کے نائب صدر نے وزیر اعلی سندھ کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ان کی کمپنی چین کے زرعی ماہرین کو کمپنی میں شامل کرے گی اور تھر میں بیج تقسیم کرے گی۔
(ڈان، 22 اکتوبر، صفحہ17)
کینو
آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایکسپورٹر، امپورٹرز اینڈ مرچنٹز ایسوسی ایشن کے سربراہ وحید احمد نے سرگودھا میں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے کینو کی قیمت مقرر کرنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس (قیمت) کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ کینو کی قیمت 1,000 روپے فی من مقرر کی گئی ہے جس پر کینو کے برآمد کنندگان کو سخت تشویش ہے اور اس فیصلے سے کینو کی برآمد کا شعبہ سخت متاثر ہوگا۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 17 اکتوبر، صفحہ20)
فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قائمہ کمیٹی برائے باغبانی کے سابق صدر احمد جواد نے امید ظاہر کی ہے کہ اس سال کینو کی برآمد 400,000 ٹن تک ہوسکتی ہے کیونکہ فصل مناسب حالت میں ہے اور وقت پر بارش پیداوار میں اضافے میں مددگار ہوئی ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومت کی کوششوں کے بعد کینو کی قیمت 1,000 روپے فی من مقرر کی گئی ہے جو کسانوں کے لئے نیک شگون ہے اور آنیوالے موسم میں کینو کی برآمدا بڑھانے میں معاون ہوگی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل اکیسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹز ایسوسی ایشن کی جانب سے مقرر کی گئی قیمت کو رد کرنا ناانصافی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 18 اکتوبر، صفحہ5)
پانی
سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) میں سندھ سے ایک اضافی رکن کی شمولیت کا تنازع ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ ایک اور تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ ارسا نے پنجاب کو چشمہ جہلم لنک کنال پر 25 میگاواٹ کا بجلی گھر تعمیر کے لیے سند عدم اعتراض (این او سی) جاری کردی ہے۔ ارسا نے 9 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں سند دینے سے انکار کردیا تھا۔ لیکن 17 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں اچانک تبدیلی دیکھی گئی اور تمام ارکان نے سندھ کے موقف سے اختلاف کیا جس پر ارسا نے منصوبے کے لیے سند عدم اعتراض جاری کردی۔
(ڈان، 23 نومبر، صفحہ17)
نکتہ نظر
ملک میں جینیاتی فصلوں کے حوالے سے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا موقف حقیقت پر مبنی اور اطمینان بخش ہے۔ لیکن دوسری طرف اس حوالے سے ملکی ایوانوں میں بیٹھے سرمایہ دار کمپنیوں کے ایجنٹوں کی ہٹ دھرمی یقینا قابل تشویش ہے جو غیرملکی بیج کمپنیوں کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ایوان اور کمیٹیوں کو استعمال کررہے ہیں۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکرایوانوں میں پہنچے والی یہ اشرافیہ ملکی ماحول، معیشت، اس کا غذائی تحفظ اور سب سے بڑھ کر اس ملک کے چھوٹے اور بے زمین کسان مزدووروں کو غیرملکی کمپنیوں کا محتاج بنانے پر تلی ہے۔ باوجود اس کے کہ ملک کی اہم ترین وزارتیں اس کی واضح مخالفت کرچکی ہیں۔ کپاس کے جینیاتی بیج کی بدولت چھوٹے اور بے زمین کسان شدید نقصان اٹھا کر قرض اور بیروزگاری کے چنگل میں پھنستے جارہے ہیں دوسری طرف ملکی صنعت کپاس کی کم پیداوار کی بدولت شدید دباؤ کا شکار ہے جس کا نتیجہ کپڑے کی صنعت سے مزدوروں کی بیدخلی کی صورت بھی نکلتا ہے۔ وزیر زراعت پنجاب گندم جیسی اہم غذائی فصل کو بھی اسی روش پر چلتے ہوئے بحران سے دوچار کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جس کا بنیادی مقصد بیج کمپنیوں کے منافع اور کاروبار میں اضافہ ہے۔ ملک میں سب سے زیادہ کاشت ہونیوالے گندم کے بیج کی منڈی بھی سب سے بڑی ہے جس کے لیے ایوانوں میں لابنگ کرنے والے کسان مزدور دشمن ہے۔ گندم کے بیج کا کمپنیوں کے بیج سے تبادلہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ملک کے چھوٹے کسان جان لیں کہ حال ہی میں سندھ میں چاول کی ہائبرڈ فصل کی ناکامی نے ہزاروں کسانوں کو شدید نقصان اور بھوک سے دوچار کیا ہے۔ ضروری ہے کہ چھوٹے کسان دیسی پائیدار طریقوں پر اپنے بیج کاشت کریں اور اسے محفوظ بنائیں یہی وہ راستہ ہے جس سے کمپنیوں کے زرعی مداخل کی محتاجی سے بچاجاسکتا ہے اور پیداواری لاگت کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔
اکتوبر 10 تا 16 اکتوبر، 2019
زراعت
صدر پاکستان چائنہ جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری زرک خان نے کہا ہے کہ چین پاکستان میں کپڑا، اس کی رنگائی اور کڑھائی کی صنعت کے علاوہ غذائی صنعت (فوڈ پروسیسنگ) میں سرمایہ کاری کرنے کا خواہشمند ہے۔ چین کی مدد سے منڈی میں پاکستانی خوراک اور کپڑے کی مسابقت میں بہتری اور اس کے پیداواری معیار میں اضافہ ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ غذائی پیداوار میں پنجاب، پاکستان دنیا کے 10 سرفہرست خطوں میں شامل ہے لیکن ٹیکنالوجی کا فقدان اور کاشت کے بعد کے نقصانات کی وجہ سے پنجاب سے غذائی اجناس کی برآمد میں اضافہ نہیں ہورہا۔ چین سے خوراک کی عمل کاری پر مبنی تکنیک (فوڈ پروسیسنگ ٹیکنالوجی) پاکستان منتقل کرنے سے لاگت کم ہونے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی بنا پر برآمدات میں اضافہ ہوگا۔
(بزنس ریکارڈر، 10 اکتوبر، صفحہ15)
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان کی زیر صدارت وفاقی زرعی کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں ربیع 2019-20کے لیے 9.2 ملین ہیکٹر رقبے پر 27 ملین ٹن گندم کا پیداواری ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اجلاس میں گندم کے علاوہ ربیع کے موسم کی دیگر فصلوں کا بھی پیداواری ہدف مقرر کیا گیا۔ چنا 1,012,000 ہیکٹر پر 603,000 ٹن، دالیں 18,300 ہیکٹر پر 10,700 ٹن، آلو 196,300 ہیکٹر پر 4,816,000 ٹن، پیاز 155,000 ہیکٹر پر 2,192,000 ٹن اور ٹماٹر کا پیداواری ہدف 45,600 ہیکٹر زمین پر 545,000 ٹن مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے خریف 2019-20 کی گنا، چاول، مکئی، مرچ اور مونگ کی فصلوں کا بھی جائزہ لیا۔ حکام کے مطابق 1,060,000 ہیکٹر رقبے پر 64.77 ملین ٹن گنے کی پیداوار متوقع ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے 3.58 فیصد کم ہے۔ چاول کی 3.036,000 ہیکٹر رقبے پر 7.7 ملین ٹن پیداوار کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ چاول کے زیر کاشت رقبے اور اس کی پیداوار میں بلترتیب 5.5 فیصد اور 3.6 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ چاول کے زیر کاشت رقبے میں اضافے کی وجہ اس کی مقامی منڈی میں زیادہ قیمت اور رعایتی قیمت پر مداخل کی دستیابی ہے۔ اسی طرح 1,386,460 ہیکٹر رقبے پر 6.9 ملین ٹن مکئی کی پیداوار کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ مکئی کے زیر کاشت رقبے اور اس کی پیداوار میں بلترتیب 4.95 اور 10.05 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اجلاس میں زرعی مداخل جیسے کھاد، پانی، بیج، کیمیائی اسپرے کی قیمتوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
(بزنس ریکارڈر، 11 اکتوبر، صفحہ1)
محکمہ زراعت پنجاب نے نجی و سرکاری اداروں کے تعاون سے گندم کی کاشت میں مصدقہ بیجوں کے موجودہ استعمال کی شرح 17 سے بڑھاکر 40 سے 50 فیصد تک کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ وزیر زراعت پنجاب نعمان احمد لنگریال کا کہنا ہے کہ حکومت کسانوں کے بیج کے مختلف سرکاری اور نجی اداروں کے مصدقہ بیجوں سے تبادلے کی پالیسی اپناسکتی ہے جس سے حکومت کو 750 روپے فی بوری (50 کلو) بیج کی لاگت کا فرق برداشت کرنا پڑے گا۔ اسی طرح کی پالیسی دیگر اہم نقد آور فصلوں جیسے کپاس، چاول، گنا اور روغنی بیجوں کے لیے بھی متعارف کروائی جارہی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 16 اکتوبر، صفحہ16)
چاول
ایوان زراعت سندھ، لاڑکانہ ڈویژن کے صدر سراج اولیا راشدی نے کہا ہے کہ غیر معیاری اور پرانے بیجوں کی وجہ سے چاول کے کاشتکاروں کو پیداوار میں تقریبا 50 فیصد نقصان کا سامنا ہے۔ اس وقت دھان کی قیمت 700 روپے فی من ہے لیکن اس کے باجود تاجر فصل خریدنے سے انکار کررہے ہیں کیونکہ فصل مکمل طور پر خراب ہوچکی ہے اور اس میں چاول کے دانے نہیں ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ غیر منظور شدہ پچھلے سال کا بچا ہوا بیج کسانوں کو فراہم کیا گیا ہے جو بڑے پیمانے پر نقصان کا سبب بنا ہے۔
(ایکسپریس ٹریبیون، 13 اکتوبر، صفحہ13)
دھان کے کاشتکاروں نے کاریو گھنور، بدین میں چاول ملوں کے خلاف اپنا احتجاج دوبارہ شروع کردیا ہے اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملوں پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ کسانوں کو چاول کی مناسب قیمت ادا کریں۔ احتجاج کرنے والے کسانوں کا کہنا ہے کہ ملیں 1,500 روپے فی من قیمت ادا کرنے سے انکار کرکے کسانوں کو لوٹ رہی ہیں اور انہیں اپنی پیداوار 1,200 روپے فی من فروخت کرنے پر مجبور کررہی ہیں، جبکہ فصل میں موجود نمی کے بہانے تین سے پانچ کلو فی من اضافی چاول وصول کیا جارہا ہے۔ کسانوں نے ضلع بدین میں ملوں کی جانب سے چاول کے کاشتکاروں کے استحصال کے خلاف گولارچی میں پر امن مارچ کا اعلان کیا ہے۔
(ڈان، 14 اکتوبر، صفحہ15)
پھل سبزی
ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان کی معیشت کو فروغ دینے اور اسے تحفظ دینے کے لیے پھلوں اور سبزیوں خصوصا سیب اور ٹماٹر کی تجارت کے لیے واضح پالیسی مرتب کی جائے۔ ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ کے 16 رکنی وفد نے چیرمین سینٹ صادق سنجرانی سے ملاقات کے دوران شکایت کی ہے کہ انہیں اشیاء کی درآمد اور برآمد میں مشکلات کا سامنا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے وفد کو یقین دہانی کروائی ہے کہ تاجروں کے مسائل فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور دیگر اداروں کے سامنے اٹھائے جائیں گے۔
(ڈان، 10 اکتوبر، صفحہ10)
مرغبانی
پاکستان میں فی کس سالانہ 88 انڈوں کے استعمال کے ساتھ ملکی مرغبانی کی صنعت سالانہ 17,500 ملین انڈوں کی پیداوار کرتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں فی کس انڈوں کا استعمال 300 انڈے سالانہ ہے۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے شمالی علاقے کے نومنتخب صدر چوہدری محمد فرغان کا کہنا ہے کہ حالیہ غذائی سروے کے نتائج کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں (44 فیصد) بچے غذائی کمی کی وجہ سے نشونما میں کمی (اسٹنٹڈ) کا شکار ہیں۔ یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ انڈوں کے استعمال میں اضافہ اس صورتحال پر قابو پانے میں مددگار ہوسکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گوشت کی کل کھپت میں مرغبانی شعبہ کا حصہ 40 فیصد ہے اور اس شعبہ سے 1.5 ملین افراد کا روزگار وابستہ ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 12 اکتوبر، صفحہ13)
وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے تحت عوام کی مدد کے لیے مرغیوں اور انڈوں کے زریعے نچلی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے محکمہ مال مویشی راولپنڈی نے ”وزیر اعظم کا مرغی پال پروگرام“ کا آغاز کردیا ہے۔ محکمے نے 250 خاندانوں میں پانچ مرغیاں اور ایک مرغا تقسیم کیا ہے۔ تاہم صحت مند گوشت کے حصول کے لیے ادارہ 16 اکتوبر کو عوام میں 12 مرغوں پر مشتمل جھنڈ (سیٹ) تقسیم کرے گا۔ حکومت ان نامیاتی مرغیوں پر 30 فیصد زرتلافی فراہم کررہی ہے۔ پانچ مرغیوں اور ایک مرغے کی قیمت خریدار سے 1,050 روپے وصول کی جارہی ہے۔ حکام کے مطابق تمام مرغیاں دیسی نسل کی ہیں اور یہ مرغیاں 45 دنوں میں انڈے دینا شروع کریں گی۔ ایک مرغی سال میں 250 انڈے دے گی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 15 اکتوبر، صفحہ10)
غربت
ایشیائی ترقیاتی بینک نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ادارہ جاتی سطح پر مزید مستحکم کرنے میں مدد کے لیے پاکستان کو 200 ملین ڈالر اضافی قرض کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ بینک کی مالی امداد کا یہ منصوبہ اکتوبر 2013 میں منظور ہوا تھا جس کے ذریعے 855,000 سے زائد مستحق عورتوں کا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اندراج ممکن ہوا۔ یہ اضافی قرض اس منصوبہ کے لئے بینک کی مسلسل مدد کو یقینی بنائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ بی آئی ایس پی کو مستحکم کرنے کے اقدامات اور ان پر عملدرآمد کے لیے مددگار ہوگا۔
(ڈان، 12 اکتوبر، صفحہ5)
نکتہ نظر
سرفہرست خبر پاکستان کو دنیا میں بڑے پیمانے پر خوراک پیدا کرنے والے ممالک میں شمار قرار دے رہی ہے اور اگلی ہی خبر اس کی تائید کرتی ہے کہ جس میں زرعی پیداواری ا ہدف کے اعداوشمار صاف بتاتے ہیں کہ ملک میں خوراک کی پیداوار کم از کم اہم غذائی اجناس کی حد تک تو ضرورت سے کہیں زیادہ ہی ہے۔ایسے میں حکومت پنجاب کی یہ کوششیں کہ کسان گندم کا اپنا بیج چھوڑ کر مخصوص بیج منڈی سے خرید کر کاشت کرنا شروع کردیں تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو، ہرگز اس لیے نہیں ہیں کہ اس سے ملک میں موجود بھوک اور غربت ختم ہوجائے بلکہ اس لیے کہ کپاس، چاول، روغنی بیج کی فصلوں کے ہائبرڈ اور جینیاتی بیجوں کی طرح کمپنیوں کا گندم کا بیج بھی منڈی میں فروخت ہو اور کسان بیان کردہ ان نقد آور فصلوں کی طرح گندم کے بیج کے لیے کمپنیوں کا محتاج ہو کر رہ جائے۔

2019
زراعت
اینگرو فرٹیلائزر کے چیف فنانشل افسر عمران احمد نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسمارٹ زرتلافی یعنی موثر طریقوں سے زرتلافی کی فراہمی جیسے اقدامات نہ صرف چھوٹے کسانوں کی آمدنی میں اضافے کا سبب ہونگے بلکہ اس سے پاکستان کا زرعی شعبہ بھی ترقی کرے گا۔ پاکستان میں زیادہ تر زمینی ملکیت 10 فیصد امیر ترین افراد کے ہاتھوں میں مرتکز ہے جو 50 فیصد زمین زرعی زمین کے مالک ہیں۔ جبکہ بقیہ 90 فیصد کسانوں کے پاس بہت کم زرعی زمین ہے۔ یہ اعداوشمار پاکستان میں چھوٹے کسانوں کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں حکومت کی طرف سے یوریا کی پیداوار پر درآمدی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے ذریعے دی جانے والی زرتلافی براہ راست اور بلاتفریق بڑے جاگیرداروں کو فائدہ پہنچارہی ہے جن کی زرعی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 24 اکتوبر، صفحہ20)
گندم
سیکریٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق ہاشم پوپلزئی نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف کیا ہے کہ سندھ اور کے پی کے میں آٹے کے حوالے سے جاری پریشان کن صورتحال میں وفاقی حکومت گندم درآمد کرنے کی تجویز کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب حکومت گندم 1,375 روپے فی من بمعہ باردانہ آٹا ملوں کو فراہم کررہی ہے جبکہ آٹے کی قیمت 1,650 روپے فی من ہے۔ تاہم سندھ اور کے پی کے میں آٹے کی قیمت 1,850 سے 1,950 روپے فی من ہے جو پنجاب سے 18 فیصد زیادہ ہے۔ سندھ میں بحران کی وجہ صوبائی حکومت کی گندم کی سرکاری خریداری میں ناکامی ہے۔ کے پی کے حکومت نے بھی مقرر کردہ ہدف کے مطابق گندم کی خریداری نہیں کی۔
(بزنس ریکارڈر، 24 اکتوبر، صفحہ1)
پنجاب حکومت کی جانب سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی نقل و حمل پر پابندی کے بعد خیبر پختونخوا میں آٹے کی قلت کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ یہ پابندی پشاور میں آٹے کی قیمت میں اچانک اضافے کی وجہ بنی ہے۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے چیئرمین حاجی محمد اقبال نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے بغیر کسی وجہ کے گندم کی ترسیل روک دی ہے۔ کے پی کے اپنی طلب کا 95 فیصد آٹا پنجاب سے خریدتا ہے، گندم کی ترسیل پر پابندی صوبے میں آٹے کے شدید بحران کی وجہ بنے گی۔ ”ہم نے کے پی کے حکومت کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا لیکن بدقسمتی سے کوئی بھی اس پر توجہ نہیں دینا چاہتا“۔
(ڈان، 26اکتوبر، صفحہ7)
سندھ حکومت کی جانب سے 100 کلو گرام گندم کی قیمت 3,250 سے بڑھا کر 3,450 روپے کیے جانے کے بعد ملوں نے آٹے قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ڈھائی نمبر 10 کلو گرام آٹے کی قیمت 485 روپے ہوگئی ہے جو پہلے 480 روپے تھی۔ ملوں کی جانب سے میدہ اور فائن آٹے کی پرانی کی قیمت 50.50 روپے فی کلو کے مقابلہ میں نئی قیمت 52.50 روپے فی کلو جاری کی گئی ہے۔ ماہ اپریل سے اب تک ڈھائی نمبر آٹے کی قیمت میں 14.50 روپے فی کلو، میدہ اور فائن آٹے کی قیمت میں 16 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے۔
(ڈان، 27 اکتوبر، صفحہ10)
گندم اور آٹے کی قلت اور اس کی قیمت میں اضافے پر قابو پانے کے لئے خیبر پختونخوا حکومت نے افغانستان اور دیگر صوبوں کو ان اشیاء کی برآمد پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے حطار خصوصی اقتصادی زون کے قیام کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ صوبہ میں گندم اور آٹے کی وافر مقدار دستیاب ہے۔ وفاقی حکومت نے بھی صوبے کو 300,000 ٹن اضافی گندم فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر اعلی نے قلت سے بچنے کے لئے ذخیرہ اندوزوں خلاف سخت کاروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹربیون، 29 اکتوبر، صفحہ6)
کپاس
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی صدارت کرتے ہوئے سینٹر مظفر حسین شاہ نے کہا ہے کہ گرمی کی لہر کی وجہ سے ملک میں اور خصوصاً زیریں سندھ میں ایک تہائی کپاس برباد ہوگئی ہے۔ انھوں گرمی اور کیڑے مکوڑوں کے خلاف مدافعت رکھنے والے اور زیادہ پیداوار دینے والے بیج تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال کپاس کی پیداوار 10 ملین گانٹھیں متوقع ہے جبکہ اس کا پیداواری ہدف 15 ملین گانٹھیں تھا۔ سینٹر مظفر حسین شاہ نے ملک بھر میں کپاس کے حوالے سے ہنگامی حالت (ایمرجنسی) نافذ کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 24 اکتوبر، صفحہ20)
کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے حکومت پر کپاس کی کم ہوتی ہوئی پیداوار پر قابو پانے کے لئے ہنگامی حالت کے اعلان پر زور دیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے اس کے علاوہ کپاس کے زیر کاشت علاقوں میں چاول و گنے کی کاشت پر اور شوگر ملوں کے قیام پر بھی پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ کپاس کی پیداوار میں کمی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ کپاس کے زیرکاشت رقبے میں اضافے کے لیے فوری طور پر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ کپاس کے علاقے میں گنے کی کاشت، غیر مصدقہ بیج اور جراثیم کش زہر کپاس کی فصل میں تیزی سے کمی کے اسباب ہیں۔
(ڈان، 30 اکتوبر، صفحہ10)
گنا
سندھ ہائی کورٹ نے گنے کے کاشتکاروں کے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی سیکریٹری زرعت کو 17 نومبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے اور سندھ کے گنا کمشنر کے متواتر تبادلے پر وضاحت طلب کی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ کاشتکاروں کے واجبات کی ادائیگی کے لئے عدالت کی جانب سے تشکیل کردہ کمیٹی کے ایک رکن (سیکریٹری زراعت) واضح ہدایت کے باوجود بھی ان کاشتکاروں کی فہرست اپنے ہمراہ نہیں لاسکے جنہیں اب تک ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔ عدالت کا مزید کہنا تھا کہ فہرست جمع ہونے کے بعد عدالت مل مالکان کے نمائندوں سے جواب طلب کرے گی کہ آیا کاشتکاروں کو واجبات ادا کیے گئے ہیں یا نہیں۔
(ڈان، 24 اکتوبر، صفحہ17)
موسمی تبدیلی
ایک اخباری رپورٹ کے مطابق کے پی کے سے تعلق رکھنے والے ایک کسان سعد اللہ خان کا کہنا ہے کہ ایک وقت تھا جب ان کی زمینوں سے بہت زیادہ پیداوار ہوتی تھی اور کسان کھلی منڈی میں زائد پیداوار فروخت کردیا کرتے تھے۔ تاہم اس سال ہونیوالی پیداوار سے صرف خاندان کی ضرورت کو ہی پورا کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پورے خیبر پختونخواہ میں موسمی تبدیلی کے اثرات کاشتکاروں پر ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں اور موسمی تبدیلی خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں غذائی تحفظ کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیات کے پروفیسر ڈاکٹر آصف خان کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو آبادی میں اضافے سے خوراک کی طلب بڑھتی جارہی ہے جبکہ دوسری طرف انسانوں کی پیدا کردہ ماحولیاتی تبدیلی زراعت کو واضح طور پر متاثر کررہی ہے۔ طویل ہوتے موسم گرما میں گندم کی کاشت میں تاخیر ہوتی ہے۔ فصل کو پھول بننے کے عمل میں مناسب ٹھنڈے موسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیجائی میں تاخیر سے پھول بننے کا یہ عمل خطرے سے دوچار ہوجاتا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 25 اکتوبر، صفحہ6)
صدر فارمرز بیورو آف پاکستان ڈاکٹر ظفر حیات نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ گرمی کی لہر سے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کرے۔ کپاس، مکئی اور چاول کی فصل کو ہونے والے نقصانات کا اندراج کرکے کسانوں کے لیے مراعات کا اعلان کرے تاکہ وہ اگلی فصلیں کاشت کرنے کے قابل ہوں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کپاس کی پیداوار میں کمی صرف کسانوں کو ہی نہیں بلکہ کپڑے کی صنعت اور برآمدات میں کمی کی صورت قومی معیشت کو بھی متاثر کررہی ہے۔ اسی طرح مکئی کی خراب فصل مرغبانی صنعت کو متاثر کرے گی جو مکئی کو بطور اہم خوراک استعمال کرتی ہے۔ چاول کی صورتحال بھی مختلف نہیں جس سے سالانہ دو سے ڈھائی بلین ڈالر زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ چاول کی ناقص فصل کی وجہ سے اس کی پیداوار میں 20 سے 35 فیصد کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
(ڈان، 26 اکتوبر، صفحہ2)
ماحول
کراچی یونیورسٹی میں پلاسٹک کی آلودگی کے حوالے سے منعقد ہونے والے ایک سیمنار میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں ممالک اور سمندروں کو پلاسٹک سے پاک کرنے کی مہمات مستحکم ہوتی جارہی ہیں جبکہ پاکستان میں پلاسٹک سازی کی صنعت سالانہ 15 فیصد ترقی کررہی ہے۔ پاکستان میں اندازاً سالانہ 624,200 ٹن پلاسٹک تیار کیا جارہا ہے اور ملک میں پلاسٹک کی مصنوعات بنانے والے تقریباً 6,000 کارخانے ہیں۔ دریائے سندھ کے ذریعے سالانہ 164,332 ٹن پلاسٹک سمندر میں جاگرتا ہے۔ ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر پاکستان کی نمائندہ شاہ زین پرویز کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ”دریائے سندھ دنیا میں دوسرا پلاسٹک سے سب سے زیادہ آلودہ دریا ہے جبکہ پہلا، تیسرا اور چوتھا سب سے زیادہ آلودہ دریا چین میں ہے۔ افریقہ کا دریائے نیل دریائی آلودگی میں پانچویں نمبر پر ہے۔
(ڈان، 24 اکتوبر، صفحہ16)
غذائی کمی
آغا خان یونیورسٹی میں ہونے والی تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس ”نیوٹریشن اینڈ ارلی ہیومن ڈیولپمنٹ“ میں ماہرین کا کہنا تھاکہ پاکستان میں بچوں میں حیاتین (وٹامن) اور معدنیات (منرل) کی تشویشناک کمی ترقی کے حصول کے لیے ممکنہ صلاحیت کو متاثر کررہی ہے۔ ماہرین نے حکومت پر زرو دیا ہے کہ وہ ابتدائی عمر میں نشونماکے لئے جامع حکمت عملی اپنائیں۔ اس کانفرنس کے اہم موضاعات میں قومی غذائی سروے 2018 سرفہرست تھا۔ سرو ے سے پتہ چلتا ہے کہ ملک بھر میں ہر دس میں سے چھ (62.7 فیصد) بچے وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے 53.7 فیصد بچے خون کی کمی اور 51.5 فیصد بچے وٹامن اے کی کمی کا شکار ہیں۔ کانفرنس کے دوران ماہرین نے پاکستان میں وزارت صحت برائے اطفال (منسٹری آف چائلڈ ہیلتھ) قائم کرنے کی تجویز بھی دی ہے جو ملک میں باہم جڑے ہوئے ترقیاتی مسائل کے لیے طویل المدت حکمت عملی بناسکے۔
(ڈان، 27 اکتوبر، صفحہ16)
کھاد کمپنیاں
ایک خبر کے مطابق 30 ستمبر 2019 تک نو ماہ میں فوجی فرٹیلائزر کمپنی نے 13.2 بلین روپے بعد از محصول منافع کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ سال اسی دورانیے میں کمپنی نے 10 بلین روپے منافع کا اعلان کیا تھا۔ نوماہ کے دورانیے میں کمپنی کی فروخت کا حجم 73.02 بلین روپے تھا۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 29 اکتوبر، صفحہ20)
نکتہ نظر
اس ہفتے کی خبریں بھی گزشتہ کئی ہفتوں کی طرح زرعی شعبہ میں کوئی قابل زکر پیش رفت کے بغیر ہی کہیں گندم کی قلت، تو کہیں موسمی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا احوال بیان کررہی ہیں۔ لیکن ہمیشہ کی طرح ایک شعبہ ہے جس میں بمشکل نقصان کی خبر سامنے آتی ہو اور وہ ہے زراعت میں استعمال ہونے والے مداخل تیار کرنے اور فروخت کرنے والا شعبہ۔ ہر حکومت میں چاہے وہ سیاسی ہو یا فوجی یہ سرمایہ دار طبقہ ٹیکسوں میں چھوٹ اور مراعات کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ جبکہ ملک کے 90 فیصد چھوٹے اور بے زمین کسان سرکاری زرتلافی اور مراعات سے محروم رہ جاتے ہیں جس کا اقرار خود مداخل تیار کرنے والی کمپنی کررہی ہے۔ بین الاقوامی تجارتی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے آزاد منڈی کے اصولوں پر کاربند حکومت گندم سے لے کر دودھ گوشت جیسی لازمی غذائی اشیاء تک تمام پیداوارکی تجارت اور اس پر اختیار منڈی کو سونپنے پر کمربستہ ہے۔ یہ حکمت عملی ایک طرف مداخل کی قیمت میں اضافے کی صورت چھوٹے کسانوں کو نقصان سے دوچار کررہی ہے جبکہ دوسری طرف عام صارف زیادہ قیمت دے کر یہ لازمی غذائی اشیاء خریدنے پر مجبور کردیا ہے گیا جو ملک میں مزید بھوک اور غذائی کمی میں اضافے کا سبب بنے گی جبکہ پہلے ہی بھوک اور غذائی کمی کے اشارے تشویشناک صورتحال بیان کررہے ہیں۔ آزاد تجارتی پالیسیاں اور غیرپائیدار طریقہ پیداوار ہی ملک میں چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں میں بھوک غربت، غذائی کمی، ماحول کی تباہی اور موسمی تبدیلی کی ذمہ دار ہیں جن سے نجات صرف اور صرف پائیدار طریقہ زراعت ہے۔ اور پائیدار طریقہ زراعت پر عمل پیرا ہونے کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ ملک کی 50 فیصد زرعی زمین جس پر صرف 10فیصد جاگیر دار سرمایہ دار قابض ہیں وہ بھی واپس لی جائے اور ملک کی تمام زرعی زمین چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں میں منصفانہ اور مساویانہ بنیادوں پر تقسیم کی جائے۔
اکتوبر 17 تا 23 اکتوبر، 2019
زراعت
ایک خبر کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو جینیاتی فصلوں کے فروغ کے لیے کام کرنے والی لابی ملک میں جینیاتی مکئی کے فوائد اجاگر کرنے کے لیے استعمال کررہی ہے جس کی کاشت پر پاکستان میں اس وقت پابندی ہے۔ زرائع کا کہنا ہے کہ قائمہ کمیٹی کے ساتویں اجلاس کے ایجنڈے میں پاکستان میں جینیاتی بیج کے تعارف پر بحث بھی شامل ہے جس پر کراپ لائف پاکستان کی جانب سے جینیاتی مکئی اور کپاس پر پیش کیا جانے والا مختصر جائزہ بھی شامل تھا۔ کراپ لائف پاکستان بین الاقوامی بیج کمپنیوں کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔ قائمہ کمیٹی کے کئی ارکان پہلے ہی ملک میں جینیاتی مکئی متعارف کرانے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔ موجودہ حکومت نے اس سال کے آغاز پر اس معاملے پر بحث کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ ملک میں جینیاتی مکئی کی کاشت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ غذائی فصلوں میں جینیاتی ٹیکنالوجی استعمال نہ کرنے کی واضح پالیسی کے باوجود جینیاتی مکئی کے نام نہاد فوائد پر کمیٹی میں ہونے والی بات چیت پر ارکان نے حیرانگی کا اظہار کیا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 17 اکتوبر، صفحہ20)
وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو جینیاتی فصلوں کے حوالے سے ایک مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ وزارت اور قائمہ کمیٹی میں ملک میں جینیاتی فصلوں کی کاشت متعارف کروانے پر اختلاف پایا جاتا ہے، جب سے وزارت نے ان بیجوں کے استعمال کی مخالفت کی ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ جینیاتی فصلوں میں انسانی زندگی کے لیے منفی طبی اور ماحولیاتی اثرات پائے جاتے ہیں۔ وزارت کے سیکریٹری محمد ہاشم پوپلزئی نے کمیٹی ارکان کو بتایا کہ جینیاتی فصلوں کی آزمائش پر بائیو سیفٹی کمیٹی نے پابندی عائد کی ہوئی ہے جبکہ وزارت تجارت نے بھی جینیاتی ٹیکنالوجی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملکی برآمدات متاثر ہونگی۔ وزارت صحت جینیاتی ٹیکنالوجی کی اس بنیاد پر مخالفت کرتی ہے کہ اس سے عوامی صحت متاثر ہوگی جبکہ وزارت موسمی تبدیلی کا موقف ہے کہ جینیاتی فصلوں کے ماحولیاتی اثرات ہونگے۔ کمیٹی کے سربراہ راؤ محمد خان اجمل اور ارکان کا کہنا تھا کہ وہ جینیاتی ٹیکنالوجی کی مخالفت کرنے والی وزارتوں کو قائل کرنے کی کوشش کرینگے۔ اس پر سیکریٹری زراعت نے آگاہ کیا کہ وزارت کپاس کی فصل کے لئے جینیاتی ٹیکنالوجی متعارف کراوانے کے لئے تیار ہے تاہم وہ مکئی کے لئے جینیاتی بیج کی حمایت نہیں کریگی۔
(ڈان، 18 اکتوبر، صفحہ10)
پاکستان کسان اتحاد نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر زراعت پنجاب نعمان احمد لنگریال کی سربراہی میں محکمہ زراعت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے صوبہ پنجاب میں کپاس، گندم، مکئی، اور چاول سمیت تمام بڑی اہم فصلوں کے پیداواری اہداف حاصل نہیں ہوئے۔ پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد کھوکھر کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کو لکھے گئے ایک خط میں انکا کہنا تھا کہ کپاس کی پیداوار اپنے ہدف 10.4 ملین گانٹھوں کے مقابلے 5.5 ملین گانٹھیں ہوئی ہے۔ پانچ ملین گانٹھوں میں کمی کا مطلب ہے پانچ بلین ڈالر کا نقصان۔ محکمہ کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے آلو کے کسانوں کو بھی بھاری نقصان ہوا ہے۔ کسانوں نے اپنی فصل تین روپے فی کلو فروخت کی جو اس کی پیداواری لاگت سے بھی کہیں کم ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ صوبائی وزیر نے اپنے عزیز احمد یوسف لنگریال کو پنجاب سیڈ کارپوریشن کے بورڈ کا ڈائریکٹر تعینات کیا جنہوں نے گندم کے بیج کے تھیلے کی قیمت 2,800 روپے کردی ہے جس سے پیداواری لاگت میں اضافے کے شکار کسانوں پر مزید بوجھ بڑھے گا۔
(بزنس ریکارڈر، 18 اکتوبر، صفحہ3)
گندم
وفاقی حکومت نے ملک بھر میں گندم کی پیداوار میں اضافے کے ذریعے آمدنی میں اضافے کا قومی منصوبہ (نیشنل پروگرام فار انہانسنگ پروفٹیبلیٹی)کی منظوری دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس پروگرام کے تحت پھپوندی کے خلاف مزاحمت رکھنے والے گندم کے تصدیق شدہ بیجوں کی فراہمی کے زریعے بیج کے تبادلے پر توجہ مرکوز ہوگی۔ محکمہ زراعت نے مستقبل میں غذائی مشکلات سے نمٹنے کے لیے زرعی ہنگامی پروگرام کے تحت یہ پانچ سالہ حکمت عملی مرتب کی ہے۔ اس پروگرام کا اہم حصہ تصدیق شدہ بیجوں کی رعایتی قیمت پر فراہمی کے ذریعے گندم کے بیجوں کا تبادلہ کرنا ہے۔ منصوبے کے تحت 12.5 ایکڑ تک زمین رکھنے والے کسانوں کو پانچ ایکڑ زمین کے لیے 50 فیصد زرتلافی کے حامل بیج فراہم کیے جائیں گے۔
(بزنس ریکارڈر، 23 اکتوبر، صفحہ16)
چاول
وزیر زراعت پنجاب ملک نعمان لنگریال نے مریدکے میں ایک سیمینار کے دوران کہا ہے کہ چاول کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے وزیر اعظم کے زرعی ہنگامی پروگرام (ایگریکلچرل ایمرجنسی پروگرام) کے تحت پنجاب میں چار بلین روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت پیداواری لاگت کم کرنے کے لئے کاشتکاروں کو منظور اور تصدیق شدہ اقسام کے بیج فراہم کئے جائیں گے اور زرعی مشینری کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔
(بزنس ریکارڈر، 18 اکتوبر، صفحہ15)
گنا
سال 2019-20 کے لئے سندھ میں گنے کی قیمت کے تعین کے لئے کراچی میں ہونے والا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا ہے کیونکہ شوگر ملیں گنے کے کاشتکاروں کی طلب کردہ قیمت ادا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ تاہم ملوں نے گنے کی کرشنگ 15 نومبر سے شروع کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ وزیر زراعت سندھ اسماعیل راہو کی زیر صدارت اجلاس میں سندھ آباد گار بورڈ کے صدر و جنرل سیکریٹری، ایوان زراعت سندھ کے صدر اور جنرل سیکریٹری سمیت دیگر کسان تنظیموں کے نمائندوں اور پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن، شوگر مل مالکان اور دیگر شراکت داروں نے شرکت کی۔ سندھ کے گنے کے کاشتکار فی من 250 روپے قیمت ادا کرنے کا مطالہ کررہے ہیں۔ اجلاس میں کاشتکار تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ کئی سالوں سے حکومت سندھ کی جانب سے گنے کی قیمت 182 روپے فی من مقرر کی جارہی ہے جبکہ چینی کی قیمت کافی حد تک بڑھ چکی ہے اس کے باوجود ملیں گنے کی مناسب قیمت ادا کرنے کا مطالبہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
(ڈان، 19 اکتوبر، صفحہ17)
وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے چینی کمپنی سائنو سندھ ریسورسس لمیٹڈ پر زور دیا ہے کہ وہ تھرپارکر میں خشک سالی کے خلاف مدافعت رکھنے والی، کم پانی سے زیادہ پیداوار دینے والی بیج کی اقسام متعارف کروائیں جو صحرائی زراعت میں انقلاب میں معاون ہو اور کمپنیوں کی سماجی زمہ داریوں (کارپوریٹ سوشل رسپانسبلیٹی) کے تحت خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو۔ سندھ ریسورسس لمیٹڈ کے نائب صدر نے وزیر اعلی سندھ کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ان کی کمپنی چین کے زرعی ماہرین کو کمپنی میں شامل کرے گی اور تھر میں بیج تقسیم کرے گی۔
(ڈان، 22 اکتوبر، صفحہ17)
کینو
آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایکسپورٹر، امپورٹرز اینڈ مرچنٹز ایسوسی ایشن کے سربراہ وحید احمد نے سرگودھا میں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے کینو کی قیمت مقرر کرنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس (قیمت) کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ کینو کی قیمت 1,000 روپے فی من مقرر کی گئی ہے جس پر کینو کے برآمد کنندگان کو سخت تشویش ہے اور اس فیصلے سے کینو کی برآمد کا شعبہ سخت متاثر ہوگا۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 17 اکتوبر، صفحہ20)
فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قائمہ کمیٹی برائے باغبانی کے سابق صدر احمد جواد نے امید ظاہر کی ہے کہ اس سال کینو کی برآمد 400,000 ٹن تک ہوسکتی ہے کیونکہ فصل مناسب حالت میں ہے اور وقت پر بارش پیداوار میں اضافے میں مددگار ہوئی ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومت کی کوششوں کے بعد کینو کی قیمت 1,000 روپے فی من مقرر کی گئی ہے جو کسانوں کے لئے نیک شگون ہے اور آنیوالے موسم میں کینو کی برآمدا بڑھانے میں معاون ہوگی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل اکیسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹز ایسوسی ایشن کی جانب سے مقرر کی گئی قیمت کو رد کرنا ناانصافی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 18 اکتوبر، صفحہ5)
پانی
سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) میں سندھ سے ایک اضافی رکن کی شمولیت کا تنازع ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ ایک اور تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ ارسا نے پنجاب کو چشمہ جہلم لنک کنال پر 25 میگاواٹ کا بجلی گھر تعمیر کے لیے سند عدم اعتراض (این او سی) جاری کردی ہے۔ ارسا نے 9 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں سند دینے سے انکار کردیا تھا۔ لیکن 17 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں اچانک تبدیلی دیکھی گئی اور تمام ارکان نے سندھ کے موقف سے اختلاف کیا جس پر ارسا نے منصوبے کے لیے سند عدم اعتراض جاری کردی۔
(ڈان، 23 نومبر، صفحہ17)
نکتہ نظر
ملک میں جینیاتی فصلوں کے حوالے سے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا موقف حقیقت پر مبنی اور اطمینان بخش ہے۔ لیکن دوسری طرف اس حوالے سے ملکی ایوانوں میں بیٹھے سرمایہ دار کمپنیوں کے ایجنٹوں کی ہٹ دھرمی یقینا قابل تشویش ہے جو غیرملکی بیج کمپنیوں کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ایوان اور کمیٹیوں کو استعمال کررہے ہیں۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکرایوانوں میں پہنچے والی یہ اشرافیہ ملکی ماحول، معیشت، اس کا غذائی تحفظ اور سب سے بڑھ کر اس ملک کے چھوٹے اور بے زمین کسان مزدووروں کو غیرملکی کمپنیوں کا محتاج بنانے پر تلی ہے۔ باوجود اس کے کہ ملک کی اہم ترین وزارتیں اس کی واضح مخالفت کرچکی ہیں۔ کپاس کے جینیاتی بیج کی بدولت چھوٹے اور بے زمین کسان شدید نقصان اٹھا کر قرض اور بیروزگاری کے چنگل میں پھنستے جارہے ہیں دوسری طرف ملکی صنعت کپاس کی کم پیداوار کی بدولت شدید دباؤ کا شکار ہے جس کا نتیجہ کپڑے کی صنعت سے مزدوروں کی بیدخلی کی صورت بھی نکلتا ہے۔ وزیر زراعت پنجاب گندم جیسی اہم غذائی فصل کو بھی اسی روش پر چلتے ہوئے بحران سے دوچار کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جس کا بنیادی مقصد بیج کمپنیوں کے منافع اور کاروبار میں اضافہ ہے۔ ملک میں سب سے زیادہ کاشت ہونیوالے گندم کے بیج کی منڈی بھی سب سے بڑی ہے جس کے لیے ایوانوں میں لابنگ کرنے والے کسان مزدور دشمن ہے۔ گندم کے بیج کا کمپنیوں کے بیج سے تبادلہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ملک کے چھوٹے کسان جان لیں کہ حال ہی میں سندھ میں چاول کی ہائبرڈ فصل کی ناکامی نے ہزاروں کسانوں کو شدید نقصان اور بھوک سے دوچار کیا ہے۔ ضروری ہے کہ چھوٹے کسان دیسی پائیدار طریقوں پر اپنے بیج کاشت کریں اور اسے محفوظ بنائیں یہی وہ راستہ ہے جس سے کمپنیوں کے زرعی مداخل کی محتاجی سے بچاجاسکتا ہے اور پیداواری لاگت کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔
اکتوبر 10 تا 16 اکتوبر، 2019
زراعت
صدر پاکستان چائنہ جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری زرک خان نے کہا ہے کہ چین پاکستان میں کپڑا، اس کی رنگائی اور کڑھائی کی صنعت کے علاوہ غذائی صنعت (فوڈ پروسیسنگ) میں سرمایہ کاری کرنے کا خواہشمند ہے۔ چین کی مدد سے منڈی میں پاکستانی خوراک اور کپڑے کی مسابقت میں بہتری اور اس کے پیداواری معیار میں اضافہ ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ غذائی پیداوار میں پنجاب، پاکستان دنیا کے 10 سرفہرست خطوں میں شامل ہے لیکن ٹیکنالوجی کا فقدان اور کاشت کے بعد کے نقصانات کی وجہ سے پنجاب سے غذائی اجناس کی برآمد میں اضافہ نہیں ہورہا۔ چین سے خوراک کی عمل کاری پر مبنی تکنیک (فوڈ پروسیسنگ ٹیکنالوجی) پاکستان منتقل کرنے سے لاگت کم ہونے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی بنا پر برآمدات میں اضافہ ہوگا۔
(بزنس ریکارڈر، 10 اکتوبر، صفحہ15)
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان کی زیر صدارت وفاقی زرعی کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں ربیع 2019-20کے لیے 9.2 ملین ہیکٹر رقبے پر 27 ملین ٹن گندم کا پیداواری ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اجلاس میں گندم کے علاوہ ربیع کے موسم کی دیگر فصلوں کا بھی پیداواری ہدف مقرر کیا گیا۔ چنا 1,012,000 ہیکٹر پر 603,000 ٹن، دالیں 18,300 ہیکٹر پر 10,700 ٹن، آلو 196,300 ہیکٹر پر 4,816,000 ٹن، پیاز 155,000 ہیکٹر پر 2,192,000 ٹن اور ٹماٹر کا پیداواری ہدف 45,600 ہیکٹر زمین پر 545,000 ٹن مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے خریف 2019-20 کی گنا، چاول، مکئی، مرچ اور مونگ کی فصلوں کا بھی جائزہ لیا۔ حکام کے مطابق 1,060,000 ہیکٹر رقبے پر 64.77 ملین ٹن گنے کی پیداوار متوقع ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے 3.58 فیصد کم ہے۔ چاول کی 3.036,000 ہیکٹر رقبے پر 7.7 ملین ٹن پیداوار کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ چاول کے زیر کاشت رقبے اور اس کی پیداوار میں بلترتیب 5.5 فیصد اور 3.6 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ چاول کے زیر کاشت رقبے میں اضافے کی وجہ اس کی مقامی منڈی میں زیادہ قیمت اور رعایتی قیمت پر مداخل کی دستیابی ہے۔ اسی طرح 1,386,460 ہیکٹر رقبے پر 6.9 ملین ٹن مکئی کی پیداوار کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ مکئی کے زیر کاشت رقبے اور اس کی پیداوار میں بلترتیب 4.95 اور 10.05 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اجلاس میں زرعی مداخل جیسے کھاد، پانی، بیج، کیمیائی اسپرے کی قیمتوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
(بزنس ریکارڈر، 11 اکتوبر، صفحہ1)
محکمہ زراعت پنجاب نے نجی و سرکاری اداروں کے تعاون سے گندم کی کاشت میں مصدقہ بیجوں کے موجودہ استعمال کی شرح 17 سے بڑھاکر 40 سے 50 فیصد تک کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ وزیر زراعت پنجاب نعمان احمد لنگریال کا کہنا ہے کہ حکومت کسانوں کے بیج کے مختلف سرکاری اور نجی اداروں کے مصدقہ بیجوں سے تبادلے کی پالیسی اپناسکتی ہے جس سے حکومت کو 750 روپے فی بوری (50 کلو) بیج کی لاگت کا فرق برداشت کرنا پڑے گا۔ اسی طرح کی پالیسی دیگر اہم نقد آور فصلوں جیسے کپاس، چاول، گنا اور روغنی بیجوں کے لیے بھی متعارف کروائی جارہی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 16 اکتوبر، صفحہ16)
چاول
ایوان زراعت سندھ، لاڑکانہ ڈویژن کے صدر سراج اولیا راشدی نے کہا ہے کہ غیر معیاری اور پرانے بیجوں کی وجہ سے چاول کے کاشتکاروں کو پیداوار میں تقریبا 50 فیصد نقصان کا سامنا ہے۔ اس وقت دھان کی قیمت 700 روپے فی من ہے لیکن اس کے باجود تاجر فصل خریدنے سے انکار کررہے ہیں کیونکہ فصل مکمل طور پر خراب ہوچکی ہے اور اس میں چاول کے دانے نہیں ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ غیر منظور شدہ پچھلے سال کا بچا ہوا بیج کسانوں کو فراہم کیا گیا ہے جو بڑے پیمانے پر نقصان کا سبب بنا ہے۔
(ایکسپریس ٹریبیون، 13 اکتوبر، صفحہ13)
دھان کے کاشتکاروں نے کاریو گھنور، بدین میں چاول ملوں کے خلاف اپنا احتجاج دوبارہ شروع کردیا ہے اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملوں پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ کسانوں کو چاول کی مناسب قیمت ادا کریں۔ احتجاج کرنے والے کسانوں کا کہنا ہے کہ ملیں 1,500 روپے فی من قیمت ادا کرنے سے انکار کرکے کسانوں کو لوٹ رہی ہیں اور انہیں اپنی پیداوار 1,200 روپے فی من فروخت کرنے پر مجبور کررہی ہیں، جبکہ فصل میں موجود نمی کے بہانے تین سے پانچ کلو فی من اضافی چاول وصول کیا جارہا ہے۔ کسانوں نے ضلع بدین میں ملوں کی جانب سے چاول کے کاشتکاروں کے استحصال کے خلاف گولارچی میں پر امن مارچ کا اعلان کیا ہے۔
(ڈان، 14 اکتوبر، صفحہ15)
پھل سبزی
ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان کی معیشت کو فروغ دینے اور اسے تحفظ دینے کے لیے پھلوں اور سبزیوں خصوصا سیب اور ٹماٹر کی تجارت کے لیے واضح پالیسی مرتب کی جائے۔ ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ کے 16 رکنی وفد نے چیرمین سینٹ صادق سنجرانی سے ملاقات کے دوران شکایت کی ہے کہ انہیں اشیاء کی درآمد اور برآمد میں مشکلات کا سامنا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے وفد کو یقین دہانی کروائی ہے کہ تاجروں کے مسائل فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور دیگر اداروں کے سامنے اٹھائے جائیں گے۔
(ڈان، 10 اکتوبر، صفحہ10)
مرغبانی
پاکستان میں فی کس سالانہ 88 انڈوں کے استعمال کے ساتھ ملکی مرغبانی کی صنعت سالانہ 17,500 ملین انڈوں کی پیداوار کرتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں فی کس انڈوں کا استعمال 300 انڈے سالانہ ہے۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے شمالی علاقے کے نومنتخب صدر چوہدری محمد فرغان کا کہنا ہے کہ حالیہ غذائی سروے کے نتائج کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں (44 فیصد) بچے غذائی کمی کی وجہ سے نشونما میں کمی (اسٹنٹڈ) کا شکار ہیں۔ یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ انڈوں کے استعمال میں اضافہ اس صورتحال پر قابو پانے میں مددگار ہوسکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گوشت کی کل کھپت میں مرغبانی شعبہ کا حصہ 40 فیصد ہے اور اس شعبہ سے 1.5 ملین افراد کا روزگار وابستہ ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 12 اکتوبر، صفحہ13)
وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے تحت عوام کی مدد کے لیے مرغیوں اور انڈوں کے زریعے نچلی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے محکمہ مال مویشی راولپنڈی نے ”وزیر اعظم کا مرغی پال پروگرام“ کا آغاز کردیا ہے۔ محکمے نے 250 خاندانوں میں پانچ مرغیاں اور ایک مرغا تقسیم کیا ہے۔ تاہم صحت مند گوشت کے حصول کے لیے ادارہ 16 اکتوبر کو عوام میں 12 مرغوں پر مشتمل جھنڈ (سیٹ) تقسیم کرے گا۔ حکومت ان نامیاتی مرغیوں پر 30 فیصد زرتلافی فراہم کررہی ہے۔ پانچ مرغیوں اور ایک مرغے کی قیمت خریدار سے 1,050 روپے وصول کی جارہی ہے۔ حکام کے مطابق تمام مرغیاں دیسی نسل کی ہیں اور یہ مرغیاں 45 دنوں میں انڈے دینا شروع کریں گی۔ ایک مرغی سال میں 250 انڈے دے گی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 15 اکتوبر، صفحہ10)
غربت
ایشیائی ترقیاتی بینک نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ادارہ جاتی سطح پر مزید مستحکم کرنے میں مدد کے لیے پاکستان کو 200 ملین ڈالر اضافی قرض کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ بینک کی مالی امداد کا یہ منصوبہ اکتوبر 2013 میں منظور ہوا تھا جس کے ذریعے 855,000 سے زائد مستحق عورتوں کا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اندراج ممکن ہوا۔ یہ اضافی قرض اس منصوبہ کے لئے بینک کی مسلسل مدد کو یقینی بنائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ بی آئی ایس پی کو مستحکم کرنے کے اقدامات اور ان پر عملدرآمد کے لیے مددگار ہوگا۔
(ڈان، 12 اکتوبر، صفحہ5)
نکتہ نظر
سرفہرست خبر پاکستان کو دنیا میں بڑے پیمانے پر خوراک پیدا کرنے والے ممالک میں شمار قرار دے رہی ہے اور اگلی ہی خبر اس کی تائید کرتی ہے کہ جس میں زرعی پیداواری ا ہدف کے اعداوشمار صاف بتاتے ہیں کہ ملک میں خوراک کی پیداوار کم از کم اہم غذائی اجناس کی حد تک تو ضرورت سے کہیں زیادہ ہی ہے۔ایسے میں حکومت پنجاب کی یہ کوششیں کہ کسان گندم کا اپنا بیج چھوڑ کر مخصوص بیج منڈی سے خرید کر کاشت کرنا شروع کردیں تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو، ہرگز اس لیے نہیں ہیں کہ اس سے ملک میں موجود بھوک اور غربت ختم ہوجائے بلکہ اس لیے کہ کپاس، چاول، روغنی بیج کی فصلوں کے ہائبرڈ اور جینیاتی بیجوں کی طرح کمپنیوں کا گندم کا بیج بھی منڈی میں فروخت ہو اور کسان بیان کردہ ان نقد آور فصلوں کی طرح گندم کے بیج کے لیے کمپنیوں کا محتاج ہو کر رہ جائے۔


اینگرو فرٹیلائزر کے چیف فنانشل افسر عمران احمد نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسمارٹ زرتلافی یعنی موثر طریقوں سے زرتلافی کی فراہمی جیسے اقدامات نہ صرف چھوٹے کسانوں کی آمدنی میں اضافے کا سبب ہونگے بلکہ اس سے پاکستان کا زرعی شعبہ بھی ترقی کرے گا۔ پاکستان میں زیادہ تر زمینی ملکیت 10 فیصد امیر ترین افراد کے ہاتھوں میں مرتکز ہے جو 50 فیصد زمین زرعی زمین کے مالک ہیں۔ جبکہ بقیہ 90 فیصد کسانوں کے پاس بہت کم زرعی زمین ہے۔ یہ اعداوشمار پاکستان میں چھوٹے کسانوں کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں حکومت کی طرف سے یوریا کی پیداوار پر درآمدی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے ذریعے دی جانے والی زرتلافی براہ راست اور بلاتفریق بڑے جاگیرداروں کو فائدہ پہنچارہی ہے جن کی زرعی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 24 اکتوبر، صفحہ20)
گندم
سیکریٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق ہاشم پوپلزئی نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف کیا ہے کہ سندھ اور کے پی کے میں آٹے کے حوالے سے جاری پریشان کن صورتحال میں وفاقی حکومت گندم درآمد کرنے کی تجویز کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب حکومت گندم 1,375 روپے فی من بمعہ باردانہ آٹا ملوں کو فراہم کررہی ہے جبکہ آٹے کی قیمت 1,650 روپے فی من ہے۔ تاہم سندھ اور کے پی کے میں آٹے کی قیمت 1,850 سے 1,950 روپے فی من ہے جو پنجاب سے 18 فیصد زیادہ ہے۔ سندھ میں بحران کی وجہ صوبائی حکومت کی گندم کی سرکاری خریداری میں ناکامی ہے۔ کے پی کے حکومت نے بھی مقرر کردہ ہدف کے مطابق گندم کی خریداری نہیں کی۔
(بزنس ریکارڈر، 24 اکتوبر، صفحہ1)
پنجاب حکومت کی جانب سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی نقل و حمل پر پابندی کے بعد خیبر پختونخوا میں آٹے کی قلت کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ یہ پابندی پشاور میں آٹے کی قیمت میں اچانک اضافے کی وجہ بنی ہے۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے چیئرمین حاجی محمد اقبال نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے بغیر کسی وجہ کے گندم کی ترسیل روک دی ہے۔ کے پی کے اپنی طلب کا 95 فیصد آٹا پنجاب سے خریدتا ہے، گندم کی ترسیل پر پابندی صوبے میں آٹے کے شدید بحران کی وجہ بنے گی۔ ”ہم نے کے پی کے حکومت کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا لیکن بدقسمتی سے کوئی بھی اس پر توجہ نہیں دینا چاہتا“۔
(ڈان، 26اکتوبر، صفحہ7)
سندھ حکومت کی جانب سے 100 کلو گرام گندم کی قیمت 3,250 سے بڑھا کر 3,450 روپے کیے جانے کے بعد ملوں نے آٹے قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ڈھائی نمبر 10 کلو گرام آٹے کی قیمت 485 روپے ہوگئی ہے جو پہلے 480 روپے تھی۔ ملوں کی جانب سے میدہ اور فائن آٹے کی پرانی کی قیمت 50.50 روپے فی کلو کے مقابلہ میں نئی قیمت 52.50 روپے فی کلو جاری کی گئی ہے۔ ماہ اپریل سے اب تک ڈھائی نمبر آٹے کی قیمت میں 14.50 روپے فی کلو، میدہ اور فائن آٹے کی قیمت میں 16 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے۔
(ڈان، 27 اکتوبر، صفحہ10)
گندم اور آٹے کی قلت اور اس کی قیمت میں اضافے پر قابو پانے کے لئے خیبر پختونخوا حکومت نے افغانستان اور دیگر صوبوں کو ان اشیاء کی برآمد پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے حطار خصوصی اقتصادی زون کے قیام کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ صوبہ میں گندم اور آٹے کی وافر مقدار دستیاب ہے۔ وفاقی حکومت نے بھی صوبے کو 300,000 ٹن اضافی گندم فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر اعلی نے قلت سے بچنے کے لئے ذخیرہ اندوزوں خلاف سخت کاروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹربیون، 29 اکتوبر، صفحہ6)
کپاس
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی صدارت کرتے ہوئے سینٹر مظفر حسین شاہ نے کہا ہے کہ گرمی کی لہر کی وجہ سے ملک میں اور خصوصاً زیریں سندھ میں ایک تہائی کپاس برباد ہوگئی ہے۔ انھوں گرمی اور کیڑے مکوڑوں کے خلاف مدافعت رکھنے والے اور زیادہ پیداوار دینے والے بیج تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال کپاس کی پیداوار 10 ملین گانٹھیں متوقع ہے جبکہ اس کا پیداواری ہدف 15 ملین گانٹھیں تھا۔ سینٹر مظفر حسین شاہ نے ملک بھر میں کپاس کے حوالے سے ہنگامی حالت (ایمرجنسی) نافذ کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 24 اکتوبر، صفحہ20)
کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے حکومت پر کپاس کی کم ہوتی ہوئی پیداوار پر قابو پانے کے لئے ہنگامی حالت کے اعلان پر زور دیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے اس کے علاوہ کپاس کے زیر کاشت علاقوں میں چاول و گنے کی کاشت پر اور شوگر ملوں کے قیام پر بھی پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ کپاس کی پیداوار میں کمی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ کپاس کے زیرکاشت رقبے میں اضافے کے لیے فوری طور پر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ کپاس کے علاقے میں گنے کی کاشت، غیر مصدقہ بیج اور جراثیم کش زہر کپاس کی فصل میں تیزی سے کمی کے اسباب ہیں۔
(ڈان، 30 اکتوبر، صفحہ10)
گنا
سندھ ہائی کورٹ نے گنے کے کاشتکاروں کے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی سیکریٹری زرعت کو 17 نومبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے اور سندھ کے گنا کمشنر کے متواتر تبادلے پر وضاحت طلب کی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ کاشتکاروں کے واجبات کی ادائیگی کے لئے عدالت کی جانب سے تشکیل کردہ کمیٹی کے ایک رکن (سیکریٹری زراعت) واضح ہدایت کے باوجود بھی ان کاشتکاروں کی فہرست اپنے ہمراہ نہیں لاسکے جنہیں اب تک ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔ عدالت کا مزید کہنا تھا کہ فہرست جمع ہونے کے بعد عدالت مل مالکان کے نمائندوں سے جواب طلب کرے گی کہ آیا کاشتکاروں کو واجبات ادا کیے گئے ہیں یا نہیں۔
(ڈان، 24 اکتوبر، صفحہ17)
موسمی تبدیلی
ایک اخباری رپورٹ کے مطابق کے پی کے سے تعلق رکھنے والے ایک کسان سعد اللہ خان کا کہنا ہے کہ ایک وقت تھا جب ان کی زمینوں سے بہت زیادہ پیداوار ہوتی تھی اور کسان کھلی منڈی میں زائد پیداوار فروخت کردیا کرتے تھے۔ تاہم اس سال ہونیوالی پیداوار سے صرف خاندان کی ضرورت کو ہی پورا کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پورے خیبر پختونخواہ میں موسمی تبدیلی کے اثرات کاشتکاروں پر ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں اور موسمی تبدیلی خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں غذائی تحفظ کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیات کے پروفیسر ڈاکٹر آصف خان کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو آبادی میں اضافے سے خوراک کی طلب بڑھتی جارہی ہے جبکہ دوسری طرف انسانوں کی پیدا کردہ ماحولیاتی تبدیلی زراعت کو واضح طور پر متاثر کررہی ہے۔ طویل ہوتے موسم گرما میں گندم کی کاشت میں تاخیر ہوتی ہے۔ فصل کو پھول بننے کے عمل میں مناسب ٹھنڈے موسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیجائی میں تاخیر سے پھول بننے کا یہ عمل خطرے سے دوچار ہوجاتا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 25 اکتوبر، صفحہ6)
صدر فارمرز بیورو آف پاکستان ڈاکٹر ظفر حیات نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ گرمی کی لہر سے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کرے۔ کپاس، مکئی اور چاول کی فصل کو ہونے والے نقصانات کا اندراج کرکے کسانوں کے لیے مراعات کا اعلان کرے تاکہ وہ اگلی فصلیں کاشت کرنے کے قابل ہوں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کپاس کی پیداوار میں کمی صرف کسانوں کو ہی نہیں بلکہ کپڑے کی صنعت اور برآمدات میں کمی کی صورت قومی معیشت کو بھی متاثر کررہی ہے۔ اسی طرح مکئی کی خراب فصل مرغبانی صنعت کو متاثر کرے گی جو مکئی کو بطور اہم خوراک استعمال کرتی ہے۔ چاول کی صورتحال بھی مختلف نہیں جس سے سالانہ دو سے ڈھائی بلین ڈالر زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ چاول کی ناقص فصل کی وجہ سے اس کی پیداوار میں 20 سے 35 فیصد کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
(ڈان، 26 اکتوبر، صفحہ2)
ماحول
کراچی یونیورسٹی میں پلاسٹک کی آلودگی کے حوالے سے منعقد ہونے والے ایک سیمنار میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں ممالک اور سمندروں کو پلاسٹک سے پاک کرنے کی مہمات مستحکم ہوتی جارہی ہیں جبکہ پاکستان میں پلاسٹک سازی کی صنعت سالانہ 15 فیصد ترقی کررہی ہے۔ پاکستان میں اندازاً سالانہ 624,200 ٹن پلاسٹک تیار کیا جارہا ہے اور ملک میں پلاسٹک کی مصنوعات بنانے والے تقریباً 6,000 کارخانے ہیں۔ دریائے سندھ کے ذریعے سالانہ 164,332 ٹن پلاسٹک سمندر میں جاگرتا ہے۔ ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر پاکستان کی نمائندہ شاہ زین پرویز کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ”دریائے سندھ دنیا میں دوسرا پلاسٹک سے سب سے زیادہ آلودہ دریا ہے جبکہ پہلا، تیسرا اور چوتھا سب سے زیادہ آلودہ دریا چین میں ہے۔ افریقہ کا دریائے نیل دریائی آلودگی میں پانچویں نمبر پر ہے۔
(ڈان، 24 اکتوبر، صفحہ16)
غذائی کمی
آغا خان یونیورسٹی میں ہونے والی تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس ”نیوٹریشن اینڈ ارلی ہیومن ڈیولپمنٹ“ میں ماہرین کا کہنا تھاکہ پاکستان میں بچوں میں حیاتین (وٹامن) اور معدنیات (منرل) کی تشویشناک کمی ترقی کے حصول کے لیے ممکنہ صلاحیت کو متاثر کررہی ہے۔ ماہرین نے حکومت پر زرو دیا ہے کہ وہ ابتدائی عمر میں نشونماکے لئے جامع حکمت عملی اپنائیں۔ اس کانفرنس کے اہم موضاعات میں قومی غذائی سروے 2018 سرفہرست تھا۔ سرو ے سے پتہ چلتا ہے کہ ملک بھر میں ہر دس میں سے چھ (62.7 فیصد) بچے وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے 53.7 فیصد بچے خون کی کمی اور 51.5 فیصد بچے وٹامن اے کی کمی کا شکار ہیں۔ کانفرنس کے دوران ماہرین نے پاکستان میں وزارت صحت برائے اطفال (منسٹری آف چائلڈ ہیلتھ) قائم کرنے کی تجویز بھی دی ہے جو ملک میں باہم جڑے ہوئے ترقیاتی مسائل کے لیے طویل المدت حکمت عملی بناسکے۔
(ڈان، 27 اکتوبر، صفحہ16)
کھاد کمپنیاں
ایک خبر کے مطابق 30 ستمبر 2019 تک نو ماہ میں فوجی فرٹیلائزر کمپنی نے 13.2 بلین روپے بعد از محصول منافع کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ سال اسی دورانیے میں کمپنی نے 10 بلین روپے منافع کا اعلان کیا تھا۔ نوماہ کے دورانیے میں کمپنی کی فروخت کا حجم 73.02 بلین روپے تھا۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 29 اکتوبر، صفحہ20)
نکتہ نظر
اس ہفتے کی خبریں بھی گزشتہ کئی ہفتوں کی طرح زرعی شعبہ میں کوئی قابل زکر پیش رفت کے بغیر ہی کہیں گندم کی قلت، تو کہیں موسمی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا احوال بیان کررہی ہیں۔ لیکن ہمیشہ کی طرح ایک شعبہ ہے جس میں بمشکل نقصان کی خبر سامنے آتی ہو اور وہ ہے زراعت میں استعمال ہونے والے مداخل تیار کرنے اور فروخت کرنے والا شعبہ۔ ہر حکومت میں چاہے وہ سیاسی ہو یا فوجی یہ سرمایہ دار طبقہ ٹیکسوں میں چھوٹ اور مراعات کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ جبکہ ملک کے 90 فیصد چھوٹے اور بے زمین کسان سرکاری زرتلافی اور مراعات سے محروم رہ جاتے ہیں جس کا اقرار خود مداخل تیار کرنے والی کمپنی کررہی ہے۔ بین الاقوامی تجارتی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے آزاد منڈی کے اصولوں پر کاربند حکومت گندم سے لے کر دودھ گوشت جیسی لازمی غذائی اشیاء تک تمام پیداوارکی تجارت اور اس پر اختیار منڈی کو سونپنے پر کمربستہ ہے۔ یہ حکمت عملی ایک طرف مداخل کی قیمت میں اضافے کی صورت چھوٹے کسانوں کو نقصان سے دوچار کررہی ہے جبکہ دوسری طرف عام صارف زیادہ قیمت دے کر یہ لازمی غذائی اشیاء خریدنے پر مجبور کردیا ہے گیا جو ملک میں مزید بھوک اور غذائی کمی میں اضافے کا سبب بنے گی جبکہ پہلے ہی بھوک اور غذائی کمی کے اشارے تشویشناک صورتحال بیان کررہے ہیں۔ آزاد تجارتی پالیسیاں اور غیرپائیدار طریقہ پیداوار ہی ملک میں چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں میں بھوک غربت، غذائی کمی، ماحول کی تباہی اور موسمی تبدیلی کی ذمہ دار ہیں جن سے نجات صرف اور صرف پائیدار طریقہ زراعت ہے۔ اور پائیدار طریقہ زراعت پر عمل پیرا ہونے کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ ملک کی 50 فیصد زرعی زمین جس پر صرف 10فیصد جاگیر دار سرمایہ دار قابض ہیں وہ بھی واپس لی جائے اور ملک کی تمام زرعی زمین چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں میں منصفانہ اور مساویانہ بنیادوں پر تقسیم کی جائے۔
اکتوبر 17 تا 23 اکتوبر، 2019
زراعت
ایک خبر کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو جینیاتی فصلوں کے فروغ کے لیے کام کرنے والی لابی ملک میں جینیاتی مکئی کے فوائد اجاگر کرنے کے لیے استعمال کررہی ہے جس کی کاشت پر پاکستان میں اس وقت پابندی ہے۔ زرائع کا کہنا ہے کہ قائمہ کمیٹی کے ساتویں اجلاس کے ایجنڈے میں پاکستان میں جینیاتی بیج کے تعارف پر بحث بھی شامل ہے جس پر کراپ لائف پاکستان کی جانب سے جینیاتی مکئی اور کپاس پر پیش کیا جانے والا مختصر جائزہ بھی شامل تھا۔ کراپ لائف پاکستان بین الاقوامی بیج کمپنیوں کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔ قائمہ کمیٹی کے کئی ارکان پہلے ہی ملک میں جینیاتی مکئی متعارف کرانے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔ موجودہ حکومت نے اس سال کے آغاز پر اس معاملے پر بحث کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ ملک میں جینیاتی مکئی کی کاشت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ غذائی فصلوں میں جینیاتی ٹیکنالوجی استعمال نہ کرنے کی واضح پالیسی کے باوجود جینیاتی مکئی کے نام نہاد فوائد پر کمیٹی میں ہونے والی بات چیت پر ارکان نے حیرانگی کا اظہار کیا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 17 اکتوبر، صفحہ20)
وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو جینیاتی فصلوں کے حوالے سے ایک مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ وزارت اور قائمہ کمیٹی میں ملک میں جینیاتی فصلوں کی کاشت متعارف کروانے پر اختلاف پایا جاتا ہے، جب سے وزارت نے ان بیجوں کے استعمال کی مخالفت کی ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ جینیاتی فصلوں میں انسانی زندگی کے لیے منفی طبی اور ماحولیاتی اثرات پائے جاتے ہیں۔ وزارت کے سیکریٹری محمد ہاشم پوپلزئی نے کمیٹی ارکان کو بتایا کہ جینیاتی فصلوں کی آزمائش پر بائیو سیفٹی کمیٹی نے پابندی عائد کی ہوئی ہے جبکہ وزارت تجارت نے بھی جینیاتی ٹیکنالوجی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملکی برآمدات متاثر ہونگی۔ وزارت صحت جینیاتی ٹیکنالوجی کی اس بنیاد پر مخالفت کرتی ہے کہ اس سے عوامی صحت متاثر ہوگی جبکہ وزارت موسمی تبدیلی کا موقف ہے کہ جینیاتی فصلوں کے ماحولیاتی اثرات ہونگے۔ کمیٹی کے سربراہ راؤ محمد خان اجمل اور ارکان کا کہنا تھا کہ وہ جینیاتی ٹیکنالوجی کی مخالفت کرنے والی وزارتوں کو قائل کرنے کی کوشش کرینگے۔ اس پر سیکریٹری زراعت نے آگاہ کیا کہ وزارت کپاس کی فصل کے لئے جینیاتی ٹیکنالوجی متعارف کراوانے کے لئے تیار ہے تاہم وہ مکئی کے لئے جینیاتی بیج کی حمایت نہیں کریگی۔
(ڈان، 18 اکتوبر، صفحہ10)
پاکستان کسان اتحاد نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر زراعت پنجاب نعمان احمد لنگریال کی سربراہی میں محکمہ زراعت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے صوبہ پنجاب میں کپاس، گندم، مکئی، اور چاول سمیت تمام بڑی اہم فصلوں کے پیداواری اہداف حاصل نہیں ہوئے۔ پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد کھوکھر کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کو لکھے گئے ایک خط میں انکا کہنا تھا کہ کپاس کی پیداوار اپنے ہدف 10.4 ملین گانٹھوں کے مقابلے 5.5 ملین گانٹھیں ہوئی ہے۔ پانچ ملین گانٹھوں میں کمی کا مطلب ہے پانچ بلین ڈالر کا نقصان۔ محکمہ کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے آلو کے کسانوں کو بھی بھاری نقصان ہوا ہے۔ کسانوں نے اپنی فصل تین روپے فی کلو فروخت کی جو اس کی پیداواری لاگت سے بھی کہیں کم ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ صوبائی وزیر نے اپنے عزیز احمد یوسف لنگریال کو پنجاب سیڈ کارپوریشن کے بورڈ کا ڈائریکٹر تعینات کیا جنہوں نے گندم کے بیج کے تھیلے کی قیمت 2,800 روپے کردی ہے جس سے پیداواری لاگت میں اضافے کے شکار کسانوں پر مزید بوجھ بڑھے گا۔
(بزنس ریکارڈر، 18 اکتوبر، صفحہ3)
گندم
وفاقی حکومت نے ملک بھر میں گندم کی پیداوار میں اضافے کے ذریعے آمدنی میں اضافے کا قومی منصوبہ (نیشنل پروگرام فار انہانسنگ پروفٹیبلیٹی)کی منظوری دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس پروگرام کے تحت پھپوندی کے خلاف مزاحمت رکھنے والے گندم کے تصدیق شدہ بیجوں کی فراہمی کے زریعے بیج کے تبادلے پر توجہ مرکوز ہوگی۔ محکمہ زراعت نے مستقبل میں غذائی مشکلات سے نمٹنے کے لیے زرعی ہنگامی پروگرام کے تحت یہ پانچ سالہ حکمت عملی مرتب کی ہے۔ اس پروگرام کا اہم حصہ تصدیق شدہ بیجوں کی رعایتی قیمت پر فراہمی کے ذریعے گندم کے بیجوں کا تبادلہ کرنا ہے۔ منصوبے کے تحت 12.5 ایکڑ تک زمین رکھنے والے کسانوں کو پانچ ایکڑ زمین کے لیے 50 فیصد زرتلافی کے حامل بیج فراہم کیے جائیں گے۔
(بزنس ریکارڈر، 23 اکتوبر، صفحہ16)
چاول
وزیر زراعت پنجاب ملک نعمان لنگریال نے مریدکے میں ایک سیمینار کے دوران کہا ہے کہ چاول کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے وزیر اعظم کے زرعی ہنگامی پروگرام (ایگریکلچرل ایمرجنسی پروگرام) کے تحت پنجاب میں چار بلین روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت پیداواری لاگت کم کرنے کے لئے کاشتکاروں کو منظور اور تصدیق شدہ اقسام کے بیج فراہم کئے جائیں گے اور زرعی مشینری کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔
(بزنس ریکارڈر، 18 اکتوبر، صفحہ15)
گنا
سال 2019-20 کے لئے سندھ میں گنے کی قیمت کے تعین کے لئے کراچی میں ہونے والا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا ہے کیونکہ شوگر ملیں گنے کے کاشتکاروں کی طلب کردہ قیمت ادا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ تاہم ملوں نے گنے کی کرشنگ 15 نومبر سے شروع کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ وزیر زراعت سندھ اسماعیل راہو کی زیر صدارت اجلاس میں سندھ آباد گار بورڈ کے صدر و جنرل سیکریٹری، ایوان زراعت سندھ کے صدر اور جنرل سیکریٹری سمیت دیگر کسان تنظیموں کے نمائندوں اور پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن، شوگر مل مالکان اور دیگر شراکت داروں نے شرکت کی۔ سندھ کے گنے کے کاشتکار فی من 250 روپے قیمت ادا کرنے کا مطالہ کررہے ہیں۔ اجلاس میں کاشتکار تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ کئی سالوں سے حکومت سندھ کی جانب سے گنے کی قیمت 182 روپے فی من مقرر کی جارہی ہے جبکہ چینی کی قیمت کافی حد تک بڑھ چکی ہے اس کے باوجود ملیں گنے کی مناسب قیمت ادا کرنے کا مطالبہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
(ڈان، 19 اکتوبر، صفحہ17)
وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے چینی کمپنی سائنو سندھ ریسورسس لمیٹڈ پر زور دیا ہے کہ وہ تھرپارکر میں خشک سالی کے خلاف مدافعت رکھنے والی، کم پانی سے زیادہ پیداوار دینے والی بیج کی اقسام متعارف کروائیں جو صحرائی زراعت میں انقلاب میں معاون ہو اور کمپنیوں کی سماجی زمہ داریوں (کارپوریٹ سوشل رسپانسبلیٹی) کے تحت خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو۔ سندھ ریسورسس لمیٹڈ کے نائب صدر نے وزیر اعلی سندھ کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ان کی کمپنی چین کے زرعی ماہرین کو کمپنی میں شامل کرے گی اور تھر میں بیج تقسیم کرے گی۔
(ڈان، 22 اکتوبر، صفحہ17)
کینو
آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایکسپورٹر، امپورٹرز اینڈ مرچنٹز ایسوسی ایشن کے سربراہ وحید احمد نے سرگودھا میں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے کینو کی قیمت مقرر کرنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس (قیمت) کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ کینو کی قیمت 1,000 روپے فی من مقرر کی گئی ہے جس پر کینو کے برآمد کنندگان کو سخت تشویش ہے اور اس فیصلے سے کینو کی برآمد کا شعبہ سخت متاثر ہوگا۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 17 اکتوبر، صفحہ20)
فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قائمہ کمیٹی برائے باغبانی کے سابق صدر احمد جواد نے امید ظاہر کی ہے کہ اس سال کینو کی برآمد 400,000 ٹن تک ہوسکتی ہے کیونکہ فصل مناسب حالت میں ہے اور وقت پر بارش پیداوار میں اضافے میں مددگار ہوئی ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومت کی کوششوں کے بعد کینو کی قیمت 1,000 روپے فی من مقرر کی گئی ہے جو کسانوں کے لئے نیک شگون ہے اور آنیوالے موسم میں کینو کی برآمدا بڑھانے میں معاون ہوگی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل اکیسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹز ایسوسی ایشن کی جانب سے مقرر کی گئی قیمت کو رد کرنا ناانصافی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 18 اکتوبر، صفحہ5)
پانی
سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) میں سندھ سے ایک اضافی رکن کی شمولیت کا تنازع ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ ایک اور تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ ارسا نے پنجاب کو چشمہ جہلم لنک کنال پر 25 میگاواٹ کا بجلی گھر تعمیر کے لیے سند عدم اعتراض (این او سی) جاری کردی ہے۔ ارسا نے 9 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں سند دینے سے انکار کردیا تھا۔ لیکن 17 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں اچانک تبدیلی دیکھی گئی اور تمام ارکان نے سندھ کے موقف سے اختلاف کیا جس پر ارسا نے منصوبے کے لیے سند عدم اعتراض جاری کردی۔
(ڈان، 23 نومبر، صفحہ17)
نکتہ نظر
ملک میں جینیاتی فصلوں کے حوالے سے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا موقف حقیقت پر مبنی اور اطمینان بخش ہے۔ لیکن دوسری طرف اس حوالے سے ملکی ایوانوں میں بیٹھے سرمایہ دار کمپنیوں کے ایجنٹوں کی ہٹ دھرمی یقینا قابل تشویش ہے جو غیرملکی بیج کمپنیوں کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ایوان اور کمیٹیوں کو استعمال کررہے ہیں۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکرایوانوں میں پہنچے والی یہ اشرافیہ ملکی ماحول، معیشت، اس کا غذائی تحفظ اور سب سے بڑھ کر اس ملک کے چھوٹے اور بے زمین کسان مزدووروں کو غیرملکی کمپنیوں کا محتاج بنانے پر تلی ہے۔ باوجود اس کے کہ ملک کی اہم ترین وزارتیں اس کی واضح مخالفت کرچکی ہیں۔ کپاس کے جینیاتی بیج کی بدولت چھوٹے اور بے زمین کسان شدید نقصان اٹھا کر قرض اور بیروزگاری کے چنگل میں پھنستے جارہے ہیں دوسری طرف ملکی صنعت کپاس کی کم پیداوار کی بدولت شدید دباؤ کا شکار ہے جس کا نتیجہ کپڑے کی صنعت سے مزدوروں کی بیدخلی کی صورت بھی نکلتا ہے۔ وزیر زراعت پنجاب گندم جیسی اہم غذائی فصل کو بھی اسی روش پر چلتے ہوئے بحران سے دوچار کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جس کا بنیادی مقصد بیج کمپنیوں کے منافع اور کاروبار میں اضافہ ہے۔ ملک میں سب سے زیادہ کاشت ہونیوالے گندم کے بیج کی منڈی بھی سب سے بڑی ہے جس کے لیے ایوانوں میں لابنگ کرنے والے کسان مزدور دشمن ہے۔ گندم کے بیج کا کمپنیوں کے بیج سے تبادلہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ملک کے چھوٹے کسان جان لیں کہ حال ہی میں سندھ میں چاول کی ہائبرڈ فصل کی ناکامی نے ہزاروں کسانوں کو شدید نقصان اور بھوک سے دوچار کیا ہے۔ ضروری ہے کہ چھوٹے کسان دیسی پائیدار طریقوں پر اپنے بیج کاشت کریں اور اسے محفوظ بنائیں یہی وہ راستہ ہے جس سے کمپنیوں کے زرعی مداخل کی محتاجی سے بچاجاسکتا ہے اور پیداواری لاگت کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔
اکتوبر 10 تا 16 اکتوبر، 2019
زراعت
صدر پاکستان چائنہ جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری زرک خان نے کہا ہے کہ چین پاکستان میں کپڑا، اس کی رنگائی اور کڑھائی کی صنعت کے علاوہ غذائی صنعت (فوڈ پروسیسنگ) میں سرمایہ کاری کرنے کا خواہشمند ہے۔ چین کی مدد سے منڈی میں پاکستانی خوراک اور کپڑے کی مسابقت میں بہتری اور اس کے پیداواری معیار میں اضافہ ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ غذائی پیداوار میں پنجاب، پاکستان دنیا کے 10 سرفہرست خطوں میں شامل ہے لیکن ٹیکنالوجی کا فقدان اور کاشت کے بعد کے نقصانات کی وجہ سے پنجاب سے غذائی اجناس کی برآمد میں اضافہ نہیں ہورہا۔ چین سے خوراک کی عمل کاری پر مبنی تکنیک (فوڈ پروسیسنگ ٹیکنالوجی) پاکستان منتقل کرنے سے لاگت کم ہونے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی بنا پر برآمدات میں اضافہ ہوگا۔
(بزنس ریکارڈر، 10 اکتوبر، صفحہ15)
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان کی زیر صدارت وفاقی زرعی کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں ربیع 2019-20کے لیے 9.2 ملین ہیکٹر رقبے پر 27 ملین ٹن گندم کا پیداواری ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اجلاس میں گندم کے علاوہ ربیع کے موسم کی دیگر فصلوں کا بھی پیداواری ہدف مقرر کیا گیا۔ چنا 1,012,000 ہیکٹر پر 603,000 ٹن، دالیں 18,300 ہیکٹر پر 10,700 ٹن، آلو 196,300 ہیکٹر پر 4,816,000 ٹن، پیاز 155,000 ہیکٹر پر 2,192,000 ٹن اور ٹماٹر کا پیداواری ہدف 45,600 ہیکٹر زمین پر 545,000 ٹن مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے خریف 2019-20 کی گنا، چاول، مکئی، مرچ اور مونگ کی فصلوں کا بھی جائزہ لیا۔ حکام کے مطابق 1,060,000 ہیکٹر رقبے پر 64.77 ملین ٹن گنے کی پیداوار متوقع ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے 3.58 فیصد کم ہے۔ چاول کی 3.036,000 ہیکٹر رقبے پر 7.7 ملین ٹن پیداوار کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ چاول کے زیر کاشت رقبے اور اس کی پیداوار میں بلترتیب 5.5 فیصد اور 3.6 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ چاول کے زیر کاشت رقبے میں اضافے کی وجہ اس کی مقامی منڈی میں زیادہ قیمت اور رعایتی قیمت پر مداخل کی دستیابی ہے۔ اسی طرح 1,386,460 ہیکٹر رقبے پر 6.9 ملین ٹن مکئی کی پیداوار کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ مکئی کے زیر کاشت رقبے اور اس کی پیداوار میں بلترتیب 4.95 اور 10.05 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اجلاس میں زرعی مداخل جیسے کھاد، پانی، بیج، کیمیائی اسپرے کی قیمتوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
(بزنس ریکارڈر، 11 اکتوبر، صفحہ1)
محکمہ زراعت پنجاب نے نجی و سرکاری اداروں کے تعاون سے گندم کی کاشت میں مصدقہ بیجوں کے موجودہ استعمال کی شرح 17 سے بڑھاکر 40 سے 50 فیصد تک کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ وزیر زراعت پنجاب نعمان احمد لنگریال کا کہنا ہے کہ حکومت کسانوں کے بیج کے مختلف سرکاری اور نجی اداروں کے مصدقہ بیجوں سے تبادلے کی پالیسی اپناسکتی ہے جس سے حکومت کو 750 روپے فی بوری (50 کلو) بیج کی لاگت کا فرق برداشت کرنا پڑے گا۔ اسی طرح کی پالیسی دیگر اہم نقد آور فصلوں جیسے کپاس، چاول، گنا اور روغنی بیجوں کے لیے بھی متعارف کروائی جارہی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 16 اکتوبر، صفحہ16)
چاول
ایوان زراعت سندھ، لاڑکانہ ڈویژن کے صدر سراج اولیا راشدی نے کہا ہے کہ غیر معیاری اور پرانے بیجوں کی وجہ سے چاول کے کاشتکاروں کو پیداوار میں تقریبا 50 فیصد نقصان کا سامنا ہے۔ اس وقت دھان کی قیمت 700 روپے فی من ہے لیکن اس کے باجود تاجر فصل خریدنے سے انکار کررہے ہیں کیونکہ فصل مکمل طور پر خراب ہوچکی ہے اور اس میں چاول کے دانے نہیں ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ غیر منظور شدہ پچھلے سال کا بچا ہوا بیج کسانوں کو فراہم کیا گیا ہے جو بڑے پیمانے پر نقصان کا سبب بنا ہے۔
(ایکسپریس ٹریبیون، 13 اکتوبر، صفحہ13)
دھان کے کاشتکاروں نے کاریو گھنور، بدین میں چاول ملوں کے خلاف اپنا احتجاج دوبارہ شروع کردیا ہے اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملوں پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ کسانوں کو چاول کی مناسب قیمت ادا کریں۔ احتجاج کرنے والے کسانوں کا کہنا ہے کہ ملیں 1,500 روپے فی من قیمت ادا کرنے سے انکار کرکے کسانوں کو لوٹ رہی ہیں اور انہیں اپنی پیداوار 1,200 روپے فی من فروخت کرنے پر مجبور کررہی ہیں، جبکہ فصل میں موجود نمی کے بہانے تین سے پانچ کلو فی من اضافی چاول وصول کیا جارہا ہے۔ کسانوں نے ضلع بدین میں ملوں کی جانب سے چاول کے کاشتکاروں کے استحصال کے خلاف گولارچی میں پر امن مارچ کا اعلان کیا ہے۔
(ڈان، 14 اکتوبر، صفحہ15)
پھل سبزی
ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان کی معیشت کو فروغ دینے اور اسے تحفظ دینے کے لیے پھلوں اور سبزیوں خصوصا سیب اور ٹماٹر کی تجارت کے لیے واضح پالیسی مرتب کی جائے۔ ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ کے 16 رکنی وفد نے چیرمین سینٹ صادق سنجرانی سے ملاقات کے دوران شکایت کی ہے کہ انہیں اشیاء کی درآمد اور برآمد میں مشکلات کا سامنا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے وفد کو یقین دہانی کروائی ہے کہ تاجروں کے مسائل فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور دیگر اداروں کے سامنے اٹھائے جائیں گے۔
(ڈان، 10 اکتوبر، صفحہ10)
مرغبانی
پاکستان میں فی کس سالانہ 88 انڈوں کے استعمال کے ساتھ ملکی مرغبانی کی صنعت سالانہ 17,500 ملین انڈوں کی پیداوار کرتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں فی کس انڈوں کا استعمال 300 انڈے سالانہ ہے۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے شمالی علاقے کے نومنتخب صدر چوہدری محمد فرغان کا کہنا ہے کہ حالیہ غذائی سروے کے نتائج کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں (44 فیصد) بچے غذائی کمی کی وجہ سے نشونما میں کمی (اسٹنٹڈ) کا شکار ہیں۔ یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ انڈوں کے استعمال میں اضافہ اس صورتحال پر قابو پانے میں مددگار ہوسکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گوشت کی کل کھپت میں مرغبانی شعبہ کا حصہ 40 فیصد ہے اور اس شعبہ سے 1.5 ملین افراد کا روزگار وابستہ ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 12 اکتوبر، صفحہ13)
وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے تحت عوام کی مدد کے لیے مرغیوں اور انڈوں کے زریعے نچلی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے محکمہ مال مویشی راولپنڈی نے ”وزیر اعظم کا مرغی پال پروگرام“ کا آغاز کردیا ہے۔ محکمے نے 250 خاندانوں میں پانچ مرغیاں اور ایک مرغا تقسیم کیا ہے۔ تاہم صحت مند گوشت کے حصول کے لیے ادارہ 16 اکتوبر کو عوام میں 12 مرغوں پر مشتمل جھنڈ (سیٹ) تقسیم کرے گا۔ حکومت ان نامیاتی مرغیوں پر 30 فیصد زرتلافی فراہم کررہی ہے۔ پانچ مرغیوں اور ایک مرغے کی قیمت خریدار سے 1,050 روپے وصول کی جارہی ہے۔ حکام کے مطابق تمام مرغیاں دیسی نسل کی ہیں اور یہ مرغیاں 45 دنوں میں انڈے دینا شروع کریں گی۔ ایک مرغی سال میں 250 انڈے دے گی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 15 اکتوبر، صفحہ10)
غربت
ایشیائی ترقیاتی بینک نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ادارہ جاتی سطح پر مزید مستحکم کرنے میں مدد کے لیے پاکستان کو 200 ملین ڈالر اضافی قرض کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ بینک کی مالی امداد کا یہ منصوبہ اکتوبر 2013 میں منظور ہوا تھا جس کے ذریعے 855,000 سے زائد مستحق عورتوں کا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اندراج ممکن ہوا۔ یہ اضافی قرض اس منصوبہ کے لئے بینک کی مسلسل مدد کو یقینی بنائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ بی آئی ایس پی کو مستحکم کرنے کے اقدامات اور ان پر عملدرآمد کے لیے مددگار ہوگا۔
(ڈان، 12 اکتوبر، صفحہ5)
نکتہ نظر
سرفہرست خبر پاکستان کو دنیا میں بڑے پیمانے پر خوراک پیدا کرنے والے ممالک میں شمار قرار دے رہی ہے اور اگلی ہی خبر اس کی تائید کرتی ہے کہ جس میں زرعی پیداواری ا ہدف کے اعداوشمار صاف بتاتے ہیں کہ ملک میں خوراک کی پیداوار کم از کم اہم غذائی اجناس کی حد تک تو ضرورت سے کہیں زیادہ ہی ہے۔ایسے میں حکومت پنجاب کی یہ کوششیں کہ کسان گندم کا اپنا بیج چھوڑ کر مخصوص بیج منڈی سے خرید کر کاشت کرنا شروع کردیں تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو، ہرگز اس لیے نہیں ہیں کہ اس سے ملک میں موجود بھوک اور غربت ختم ہوجائے بلکہ اس لیے کہ کپاس، چاول، روغنی بیج کی فصلوں کے ہائبرڈ اور جینیاتی بیجوں کی طرح کمپنیوں کا گندم کا بیج بھی منڈی میں فروخت ہو اور کسان بیان کردہ ان نقد آور فصلوں کی طرح گندم کے بیج کے لیے کمپنیوں کا محتاج ہو کر رہ جائے۔