نومبر 2019

نومبر 28 تا 4 دسمبر، 2019
زراعت
پنجاب اسمبلی نے پنجاب ایگری کلچرل مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی (ترمیمی) آرڈننس 2019 کی معیاد میں اضافہ کردیا ہے ۔ اسمبلی نے 26 ستمبر 2019 کو نافذ ہونے والے اس آرڈننس کی مدت میں مزید 90 دن کی توسیع کی ہے جس کا آغاز 25 دسمبر 2019 سے ہوگا ۔
(بزنس ریکارڈر، 29 نومبر، صفحہ16)
لاڑکانہ سے 12 کلومیٹر دور آغانی گاؤں اور اس سے ملحقہ علاقوں میں امرود کے باغ 10 دنوں بعد ایک بار پھر ٹڈی دل کے حملہ کی لپیٹ میں آگئے ہیں ۔ مقامی زمیندار فرید آغانی اور دیگر کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل علاقے میں تیزی سے پھیل رہے ہیں ۔ علاقے میں گندم کی فصل اپنے ابتدائی مراحل میں تھی جسے ٹڈی دل نے شدید متاثر کیا ہے ۔ کاشتکاروں کا کہناتھا کہ اس دفعہ موسمی تبدیلی نے امرود کی تیاری میں تاخیر میں اہم کردار ادا کیا، پھر اس پر ٹڈی دل کا حملے سے امرود کے کاشتکاروں اور ٹھیکیداروں کو بھاری نقصان ہوگا ۔ ٹڈی دل کے حملے نے علاقے میں کھجور کے درختوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے ۔
(ڈان، 29 نومبر، صفحہ17)
ضلع میرپورخاص میں سندھڑی کے مقام پر جبکہ نوشہروفیروز میں تھارو شاہ کے نزدیک نہر میں شگاف پڑنے سے کئی دیہات اور سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیر آب آگئی ہیں ۔ میرپورخاص میں سندھڑی کے نزدیک پلی نہر میں 15 فٹ چوڑا شگاف پڑا جسے محکمہ آبپاشی کے حکام نے مقامی افراد کی مدد سے پر کردیا ہے ۔ نوشہروفیروز میں سہرا مائنر میں 30 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے لیموں کی فصل، حنا کے باغات اور حال ہی میں بوئی گئی گندم کی فصل زیر آب آگئی ۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایک ماہ پہلے بھی اس ہی مقام پر ایک شگاف پیدا ہوا تھا ۔ اس وقت سے وہ محکمہ آبپاشی کے حکام سے پشتوں کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ محکمہ کی غفلت سے نہر میں دوبارہ شگاف پڑا ۔
(ڈان، 29 نومبر، صفحہ17)
ایک خبر کے مطابق پنجاب حکومت کسانوں کے عظیم تر مفاد میں گندم اور گنے کی امدادی قیمت میں اضافہ کررہی ہے ۔ گندم کی قیمت 1,365 روپے فی من مقرر کی گئی ہے جبکہ گنے کی نئی قیمت 190 روپے فی من ہوگی ۔ وزیر تجارت و صنعت پنجاب میاں اسلم اقبال، وزیر زراعت ملک نعمان احمد لنگریال اور وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ چوہدری نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں دعوی کیا ہے کہ کسانوں کو امدادی قیمت میں اضافے سے 40 بلین روپے سے زیادہ کا فائدہ ہوگا ۔ وزیر زراعت کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ سالوں سے گندم اور گنے کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا ۔ گنا اور گندم کی پیداواری لاگت میں اضافے اور کسانوں کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے موجودہ حکومت نے امدادی قیمت میں اضافے کا فیصلہ کیا ۔
(بزنس ریکارڈر، 30 نومبر، صفحہ5)
کسانوں کی مدد کے لئے پنجاب حکومت کی جانب سے متعارف کئے جانے والا ’’کارپوریٹ فارمنگ پراجیکٹ‘‘ صوبائی حکومت کے خزانہ اور کوآپریٹو محکموں کے درمیان عدم اتفاق کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوگیا ہے ۔ منصوبہ بندی و ترقی بورڈ پنجاب کے سربراہ نے منصوبہ کی مشروط منظوری دیتے ہوئے دونوں محکموں کو اختلافات ایک طرف رکھ کر منصوبہ کا آغاز کرنے کے لئے محکمہ زراعت کی مدد کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ 400 ملین روپے لاگت کے اس منصوبہ کا مقصد رحیم یارخان، سرگودھا اور سیالکوٹ کے 137 دیہات میں زرعی مصنوعات و زرعی مشینری کی فروخت کے لئے دیہات کی سطح پر تنظی میں قائم کرکے فروخت کے مراکز (مارکیٹ) قائم کرنا ہے ۔ اس منصوبہ کے تحت بارانی علاقوں کی فصلیں خریدنے کے لئے مراکز بھی قائم کئے جائینگے اور کسانوں کو معمولی شرح سود پر دو ملین روپے کا گردشی سرمایہ (ریوالونگ فنڈ) فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ زرعی آلات خریدسکیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ پانچ ایکڑ تک زمین کاشت کرنے کے لیے آسان قرضوں تک رسائی دی جائیگی ۔ تفصیلات کے مطابق منتخب شدہ 137 دیہات کو چار حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ ہر گاؤں میں کوآپریٹو ڈپارٹمنٹ کے اشتراک سے دیہی تنظیم قائم کی جائیگی اور گاؤں کا 12 ایکڑ تک زمین رکھنے والا کوئی بھی کسان جو رکن بننے کا خواہش مند ہو ایک بار فی ایکڑ 500 روپے ادا کرکے کمیٹی کا رکن بن سکتا ہے ۔ دیہی تنظیم اپنے ارکان کی درخواست پر مطلوبہ زرعی مشینری خریدنے کے لیے اپنے بجٹ کے مطابق پانچ فیصد شرح سود پر کسانوں کو آسان قرضوں کی پیشکش کرے گی ۔ مزید یہ کہ محکمہ زراعت مختلف کمپنیوں کی شراکت سے ہر گاؤں میں رعایتی قیمت پر کھاد، بیج اور زرعی زہر فروخت کرنے کے لیے دکانیں قائم کرے گا ۔ یہ دکانیں بھی دیہی تنظیم کے زیر انتظام ہونگی اور ان سے حاصل ہونے والا منافع دیہی کونسل کے بینک کھاتے میں جمع ہوگا ۔ اس کے علاوہ ہر گاؤں میں خریداری مراکز قائم کئے جائینگے جہاں کسان اپنی فصل فروخت کرسکیں گے اور حکومت یہ یقینی بنائے گی کہ کسانوں کو فصل کی مناسب قیمت ملے ۔ دوسری طرف دیہی تنظیم پیداوار کو فروخت کے لئے لانے والے کسانوں سے (اپنی خدمات کے بدلے) معمولی رقم وصول کرے گی ۔ آزمائشی منصوبہ کے تحت 137 دیہات کے کسانوں کو قرضہ فراہم کرنے کے لئے دیہی تنظیم کو دو سال کے لئے 297 ملین روپے فراہم کئے جائینگے ۔ دو سال بعد دیہی تنظیم کو دی گئی نصف رقم معاف کردی جائیگی جبکہ بقیہ نصف رقم سالانہ اقساط میں اگلے پانچ سالوں میں واپس لی جائے گی تاکہ دیہی تنظی میں مرحلہ وار اپنے مالی وسائل میں اضافہ کرسکیں ۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 3 دسمبر، صفحہ11)
ٹڈی دل کے حملہ سے پیدا ہونیوالی صورتحال پر ہونے والے اجلاس میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ کے متاثرہ علاقوں میں کیڑے مار زہر کے جھڑکاوَ کے لیے وفاق کے زیر انتظام محکمہ تحفظ نباتات (ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن) کو 10 ملین روپے جاری کرنے کا حکم دیا ہے ۔ محکمہ اس رقم سے تین ہوائی جہاز، ایندھن اور کیڑے مار زہر کا بندوبست کرے گا ۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ٹڈی دل کے حملے سے11 اضلاع میں کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ وزیر اعلی نے چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ٹڈی دل کے خلاف اقدامات کی نگرانی کرتے رہیں اور ضلعی انتظامیہ، محکمہ تحفظ نباتات اور محکمہ زراعت سندھ سے رابطہ رکھیں ۔
(ڈان، 3 دسمبر، صفحہ17)
پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پارک) نے تھرپارکر میں تھر فاوَنڈیشن کے کھارے پانی سے زراعت کے آزمائشی منصوبہ کو بڑی کامیابی قرار دیا ہے ۔ تھر فاوَنڈیشن اور پارک نے تھر پارکر میں مقامی کسانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پائیدار آمدنی کے لئے اس منصوبہ کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تھر فاوَنڈیشن اور پارک نے کھارے پانی سے قطرہ قطرہ آبپاشی نظام کے زریعے 20 ایکڑ رقبے پر بیر، لیموں اور چیکو کی کاشت کا کامیاب تجربہ کیا ہے ۔ منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تھر فاوَنڈیشن اور پارک نے باہمی تعاون کے لئے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت نمکیات کے خلاف مدافعت رکھنے والے چارے و نقدآور فصلوں کی آزمائش، کسانوں کی تربیت، معلومات کا تبادلہ، آگاہی مہم اور آزمائشی بنیادوں پر کاشت کی جاچکی فصلوں کی قدر میں اضافے (اکنامک ویلیو چین) کا بندوبست کیا جائے گا ۔
(بزنس ریکارڈر، 4 دسمبر، صفحہ3)
گندم
کابینہ کی اقصادی رابطہ کمیٹی نے اپنے تین ارکان کی جانب سے گندم کی قیمت میں مزید اضافے کی تجویز مسترد کردی ہے ۔ زراءع کے مطابق نئے مقرر کیے گئے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق خسرو بختیار نے گندم کی قیمت بڑھاکر 1,400 روپے فی من کرنے کی تجویز دی تھی ۔ خسرو بختیار گندم کی قیمت میں 50 روپے فی من اضافے پر مطمئن نہیں ہیں کیونکہ متعلقہ حکام کے مطابق پنجاب میں گندم کی پیداواری لاگت 1,350 روپے فی من ہے ۔
(ڈان، 28 نومبر، صفحہ10)
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے گزشتہ دو ہفتوں میں گندم کی امدادی قیمت میں دوسری بار اضافہ کرکے 1,365 روپے فی من کردی ہے ۔ 13 نومبر کو گندم کی اگلی فصل کے لیے امدادی قیمت 1,300 روپے فی من سے بڑھاکر 1,350 روپے فی من کردی گئی تھی اور اب دوبارہ کمیٹی نے قیمت میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ان اطلاعات کے بعد کہ گندم کی پیداواری لاگت 1,349 روپے فی من تک پہنچ گئی ہے اور کسانوں بشمول سرکاری حلقوں ، کابینہ اور قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے زراعت کے مطالبے کے بعد گندم کی امدادی قیمت میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے ۔
(بزنس ریکارڈر، 29 نومبر، صفحہ1)
وزیر زراعت پنجاب نعمان احمد لنگریال نے کسانوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے نو بلین روپے کے منصوبے کا آغاز کردیا ہے ۔ یہ منصوبہ وزیر اعظم کی ہدایت پر شروع کیا گیا ہے ۔ صوبائی وزیر نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ گندم کی شاندار فصل کے لیے پنجاب سیڈ کارپوریشن کے تصدیق شدہ بیج استعمال کریں ۔
(بزنس ریکارڈر، 29 نومبر، صفحہ16)
ایک مضمون کے مطابق اس سال سندھ میں گنے کی کٹائی میں تاخیر کی وجہ سے گندم کی بوائی میں تاخیر کا امکان ہے ۔ گنے کی کٹائی اکتوبر تا نومبر ہوتی ہے لیکن کئی وجوہات کی وجہ سے اس سال بھی یہ تاخیر کا شکار ہے ۔ تقریباً 800,000 ایکڑ رقبے پر گنا کاشت کیا گیا ہے جس پر کٹائی کے بعد گندم کی بوائی ہوتی ہے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صوبہ سندھ سال 2014-15 سے چار ملین ٹن گندم کا پیداواری ہدف حاصل کرنے سے قاصر ہے ۔ ماہ نومبر گزر چکا ہے اور سندھ حکومت نے اب تک گنے کی قیمت اور کرشنگ کی تاریخ کا اعلامیہ جاری نہیں کیا ہے ۔ گنے کی کٹائی میں تاخیر کے نتیجے میں گندم کی فصل کے لیے دستیاب پانی بھی گنے کی فصل میں استعمال ہوتا ہے جسے بہت زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ صوبہ سندھ گزشتہ پانچ سالوں سے گندم کی پیداوار کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہے اور گزشتہ موسم میں ژالہ باری کی وجہ سے پیداواری ہدف حاصل نہیں ہوسکا جس نے گندم کی شاندار فصل کو بری طرح متاثر کیا ۔ حکومت نے اس سال 1,350 روپے فی من گندم کی امدادی قیمت کا اعلان کیا ہے ۔ تاہم کسان اس سرکاری قیمت سے خوش نہیں ہیں اور بلند پیداواری لاگت کی وجہ سے اس قیمت کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہیں ۔ گندم کے ایک کاشتکار سید ندیم شاہ کا کہنا ہے کہ مداخل بشمول کیمیائی کھاد، بجلی، بیج اور زرعی زہر کی موجودہ لاگت کے ساتھ گندم کی امدادی قیمت 1,500 روپے فی من مقرر ہونی چاہیے تھی ۔ حکومت کو مستقل مسائل جیسے کہ چاول کی فصل سے (اس میں موجود نمی کی بنیاد پر کی جانے والی) ناجائز کٹوتی، کپاس کی فی ایکڑ کم پیداوار، بروقت کرشنگ اور گندم کی مناسب قیمت کے معاملات کو حل کرنے کے لیے ہرسطح پر زرعی شعبہ کو ایک طریقہ کار کے ماتحت لانا ہوگا کیونکہ یہ تمام عوامل آپس میں جڑے ہوئے ہیں ۔
(محمد حسین خان، ڈان، 2 دسمبر، صفحہ2، بزنس اینڈ فنانس)
چینی
ایک خبر کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار حکومت سندھ اور کے پی کو چینی کی قیمت 70 روپے فی کلو مقرر کرنے کے لیے خط لکھے گی کیونکہ پنجاب حکومت چینی کی قیمت مقرر کرچکی ہے ۔ یہ فیصلہ وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالزاق داوَد کی سربراہی میں ہونے والے شوگر ایڈوائزری بورڈ کے اجلاس میں کیا گیا ۔ اجلاس میں مل سے خوردہ فروش تک کے مراحل میں چینی کی قیمت پر تفصیلی بات چیت کی گئی ۔ اجلاس میں آگاہ کیا گیا کہ گزشتہ ایک سال میں چینی کی تھوک قیمت 32 فیصد اضافے کے بعد 55;46;20 روپے فی کلوگرام سے 72;46;70 روپے فی کلوگرام ہوگئی ہے ۔ پنجاب حکومت نے چینی کی قیمت 70 روپے فی کلوگرام مقرر کردی ہے جبکہ دیگر صوبوں میں قیمت ابھی بھی زیادہ ہے ۔
(بزنس ریکارڈر، 28 نومبر، صفحہ12)
غربت
ایک خبر کے مطابق حکومت نے یوٹیلٹی اسٹورز پر فروخت ہونے والی لازمی غذائی اشیاء پر زرتلافی دینے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے مختص کیے گئے چار بلین روپے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کو منتقل کردیے ہیں ۔ یو ایس سی بورڈ کے چیئرمین، مینجنگ ڈائریکٹر اور ایڈشنل سیکریٹری وزارت صنعت و پیداوار نے ایک اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کو لازمی غذائی اشیاء پر زرتلافی دینے میں مالی مشکلات سے آگاہ کیا تھا ۔ وزیر اعظم نے یو ایس سی کو زرتلافی دینے کے لیے چھ بلین روپے مختص کرنے کی منظوری دی تھی ۔ یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ بی آئی ایس پی اپنے زراءع سے چار بلین روپے فراہم کرے گا جبکہ فنانس ڈویژن بقیہ دو بلین روپے کے اجراء کا بندوبست کرے گا ۔ وزارت صنعت و پیداوار نے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں اس بات پر طرف توجہ دلائی کہ وزیر اعظم کی جانب سے اعلان کردہ رقم ملک کے غریب طبقہ کے لیے ہے تاہم یو ایس سی کے پاس ایسے مستحق صارفین کی شناخت کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے ۔ اس حوالے سے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ ایک کمیٹی بنائی جاسکتی ہے جو اس مقصد کے لیے شفاف اور قابل عمل طریقہ کار وضع کرے ۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 28 نومبر، صفحہ13)
پانی
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے وزارت آبی وسائل کو ہدایت کی ہے کہ وہ صوبوں کے درمیان چشمہ جہلم لنک کنال پر متنازع بجلی گھر کی تعمیر کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھائے ۔ محمد یوسف تالپور کی سربراہی میں کمیٹی نے اس معاملے پر پچھلے اجلاس کی کارروائی پر مبنی دستاویز کی تصدیق نہیں کی اور ہدایت کی پہلے یہ مسئلہ 11 دسمبر کو ہونے والے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پیش ہونا چاہیے ۔ محمد یوسف تالپور کا کہنا تھا کہ سندھ کو پنجاب حکومت کے اس 25 میگاواٹ کے منصوبے پر شدید اعتراضات ہیں جسے حال ہی میں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کی جانب سے اکثریتی ووٹ کی بنیاد پر منظور کیا گیا تھا ۔ اس سے پہلے وزیر اعلی سندھ نے بھی اس منصوبے پر اعتراض اٹھایا تھا ۔
(ڈان، 30 نومبر، صفحہ10)
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) کی جانب سے پانی کے تحفظ کے حوالے سے منعقد کردہ سمینار ’’واٹر کنزرویشن میتھڈ‘‘ میں مقررین نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں تقریباً 50 ملین افراد کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے ۔ مقررین نے سالانہ 40 فیصد اموات کا سبب آلودہ پانی کو قرار دیا ہے ۔ پاکستان میں کل پانی کا 90 فیصد زراعت میں ، سات فیصد صنعتوں میں جبکہ تین فیصد گھریلوں مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ انجینئر شمس الملک کا کہنا تھا کہ مون سون کے موسم میں پانی کے زیاں پر قابو پانے، بڑھتی ہوئی توانائی کی ضرورت پوری کرنے اور بڑھتی ہوئی آبادی کی توانائی اور زرعی ضروریات پوری کرنے کے لیے کالا باغ ڈیم سمیت نئے ڈیموں کی تعمیر لازمی ہے ۔
(بزنس ریکارڈر، 4 دسمبر، صفحہ7)
نکتہ نظر
زرعی خبروں میں شامل پنجاب میں ’’کارپوریٹ فارمنگ منصوبہ‘‘ خصوصاً قابل ذکر ہے ۔ زرعی شعبہ میں حکومتی سرپرستی اور قومی سرمائے سے کمپنیوں کے کاروبار اور منافع میں اضافے کی نیولبرل پالیسیاں چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں کے گرد شکنجہ مزید کس رہی ہیں ۔ بیج، زرعی مشینری، زہریلے مداخل اور قرضوں کی فراہمی کا یہ گورکھ دھندا عمدہ زرعی پیداوار کی صورت ملکی وسائل کو بین الاقوامی منڈیوں میں برآمد کرنے اور زرعی مداخل اور پیداوار کا کاروبار کرنے والی سرمایہ دار کمپنیوں کے لیے تیز ہوتا جارہا ہے ۔ دیہات کی سطح پر کمپنیوں کے تعاون سے کسانوں کو مخصوص بیج، زرعی زہر و مشینری کی فراہمی کے ساتھ ساتھ زرعی پیداوار کی خریداری مراکز کا قیام اورپنجاب ایگری کلچرل مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی جیسے قوانین کی توسیع ظاہر کرتی ہے کہ زرعی پیداوار میں چھوٹے کسانوں کو مسابقت سے باہر کرنے کا یہ عمل اب مقامی چھوٹے تاجروں اور صنعتوں تک آچکا ہے، جو مزید بیروزگاری اور بھوک و غربت کی وجہ بن سکتا ہے ۔ زرعی شعبہ میں منڈی سے لے کر پیداواری مراحل تک میں جدت یا ڈیجیٹلائزیشن کا عمل اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتی ہے ۔ بات چاہے جدید آبپاشی نظام کی تنصیب کی ہو یا زرعی مداخل کے استعمال کی، کسانوں کو ہر سطح پر منافع کے حصول کے لیے کمپنیوں کا محتاج بنانے کا عمل ہی ان میں بھوک غربت کی اہم وجہ ہے ۔ یقینا اس گورکھ دھندے سے نجات ممکن ہے، لیکن اس کے لیے لازم ہے کہ کسان شعوری طور بیدار ہوکر صاف اور پائیدار زراعت پر واپس آئیں جس میں کسی کمپنی کے بیج اور مداخل پر انحصار کی ضرورت نہیں ، کسان کا بیج اور دیگر پیداواری وسائل پر اختیار اسے ناصرف بلند پیداواری لاگت سے تحفظ فراہم کرے گا بلکہ صاف ماحول، صحت بخش غذائیت کا بھی ضامن ہوگا ۔
نومبر 21 تا 27 نومبر، 2019
زمین
سندھ کابینہ نے ٹھٹھہ، دادو اور جامشورو میں 10 نجی کمپنیوں اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کو قابل تجدید توانائی (رینیوبل انرجی) منصوبوں اور قومی گرڈ کے لیے 5,801 ایکڑ زمین 30 سالوں کے لیے پٹے پر دے دی ہے ۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنروں نے پٹے کی سالانہ رقم مختلف اقسام کی زمینیوں کے لیے 3,000، 5,000 اور 8,000 روپے فی ایکڑ تجویز کی تھی ۔ کابینہ نے حکام کو اس حوالے سے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے ۔
(ڈان، 27 نومبر، صفحہ15)
زراعت
سندھ آباد گار بورڈ نے حکومت پر ٹماٹر اور پیاز کی درآمد پر پابندی عائد کرنے پر زور دیا ہے ۔ دونوں اشیاء کی درآمد سے مقامی پیداوار کو ایسے وقت میں ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا کہ جب دونوں فصلیں اگلے کچھ دنوں میں کٹائی کے لیے تیار ہیں ۔ بورڈ کے صدر عبدالمجید نظامانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹھٹھہ، سجاول، بدین، ٹنڈو محمد خان، حیدرآباد، میرپورخاص اور سانگھڑ میں ٹماٹر اور پیاز کی فصل کٹائی کے لئے تیار ہے ۔ نصرپور میں پیاز کی فصل تیار ہونے والی ہے اور ٹماٹر بھی جلد منڈی میں دستیاب ہوگا ۔ لہذا اس وقت ٹماٹر اور پیاز کی درآمد سے زریں سندھ میں کسانوں کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑے گا ۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ اس سال ٹماٹر کی شاندار فصل متوقع ہے ۔ گزشتہ سال 21,000 ہیکٹر پر ٹماٹر کی کاشت سے 153,000 ٹن پیداوار ہوئی تھی ۔ تاہم اس سال ٹماٹر کا زیر کاشت رقبہ بڑھ کر 27,000 ہیکٹر ہوگیا ہے جس سے 210,000 ٹن ٹماٹر کی پیداوار متوقع ہے ۔
(ڈان، 21 نومبر، صفحہ17)
سیکریٹری وزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق ہاشم پوپلزئی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہا کہ سندھ اور بلوچستان میں ٹڈی دل پر قابو پانے کے لیے 500 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ اس مقصد کے لیے 100,000 ٹن کرم کش زہر (پیسٹی سائیڈ) درآمد کیا جائے گا ۔ اس زہر کے چھڑکاوَ کے لیے ہوائی جہاز استعمال کیے جارہے ہیں ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ٹڈی دل نے متاثرہ علاقوں میں انڈے دیے ہیں اور توقع ہے کہ ان کا لاروا اگلے دو سے تین سالوں تک وہیں موجود رہے گا ۔
(ڈان، 22 نومبر، صفحہ14)
وفاقی حکومت کے جانب دار رویہ پر تنقید کرتے ہوئے وزیر زراعت سندھ اسماعیل راہو نے سندھ اسمبلی کو بتایا ہے کہ وفاق ٹڈی دل سے نمٹنے کے لئے صوبائی حکومت کی مدد نہیں کررہا ہے ۔ حالانکہ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ماتحت محکمہ تحفظ نباتات (ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن) اس مسئلہ سے نمٹنے کا ذمہ دار ادارہ ہے، تاہم اس کے باوجود وفاقی حکومت صوبے کی مدد نہیں کررہی ہے ۔ محکمہ کے پاس ٹڈی دل پر قابو پانے کے لئے 20 ہوائی جہاز ہیں جن میں سے صرف تین فعال ہیں ۔ ان تین جہازوں میں سے دو پنجاب میں ٹڈی دل کے حملے سے پیشگی بچاوَ کے لیے تیار رکھے گئے ہیں جہاں اب تک ٹڈی دل پہنچے بھی نہیں ہیں ۔ کئی بار درخواستوں کے بعد ایک جہاز سندھ بھیجا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاق کا سندھ اورپنجاب کے لیے دہرا معیار ہے ۔ اس ایک جہاز نے نارو، تھرپارکر اور صالح پٹ، سکھر میں صرف 6,000 ایکڑ پر چھڑکاوَ کیا جبکہ کئی ملین ایکڑ رقبہ پر چھڑکاوَ باقی ہے ۔ وفاقی حکومت کو تینوں فعال ہوائی جہاز سندھ بھیجنے چاہیے تاکہ زیادہ تر صحرائی علاقے میں چھڑکاوَ کیا جاسکے ۔
(ڈان، 23 نومبر، صفحہ15)
نصیرآباد، بلوچستان کے کئی علاقوں میں ٹڈی دل نے حملہ کردیا ہے جس سے کئی فصلوں کو خطرہ ہے ۔ ادارہ ترقیات بلوچستان کے پارلیمانی سیکریٹری میر سکندر خان عمرانی نے صوبائی وزیر زراعت زرمک خان پیرالزئی سے ہنگامی بنیادوں پر فصلوں کو بچانے کے لیے اقدامات پر بات چیت کی ہے جس کے بعد وزیر زراعت نے محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر جنرل کو متاثرہ علاقوں میں بلاتاخیر عملہ بھیجنے کی ہدایت کردی ہے ۔ سکندر خان عمرانی نے مزید کہا ہے کہ نصیر آباد صوبہ کا زرعی مرکز ہے جہاں زیادہ تر آبادی زاعت سے وابستہ ہے ۔ نصیرآباد کے علاقوں میں ٹڈی دل کے حملے سے ٹماٹر، سبزیاں ، سرسوں اور دیگر فصلیں متاثر ہوئی ہیں ۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ہیلی کاپٹر کے ذریعے کرم کش چھڑکاوَ کیا جائے گا ۔
(ڈان، 24 نومبر، صفحہ5)
ایک خبر کے مطابق وزیر اعظم کے 277 بلین روپے کے زرعی ہنگامی پروگرام کے 13 منصوبوں میں سے صرف چار منصوبوں میں صوبہ سندھ شامل ہے ۔ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور باقی تینوں صوبے تمام 13 منصوبوں کا حصہ ہیں ۔ وزیر زراعت سندھ اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ سندھ حکومت گندم، چاول، گنا اور روغنی بیجوں کی پیداوار میں اضافے کے منصوبوں کا حصہ ہے جبکہ بارانی علاقوں میں چھوٹے اور درمیانے ڈیموں میں پانی محفوظ کرنے کی گنجائش میں اضافہ زیر غور ہے ۔ فصلوں کی پیداوار میں اضافے کے منصوبے کی لاگت کا 25 فیصد وفاقی حکومت جبکہ 75 فیصد سندھ حکومت کے ذمہ ہے ۔ روغنی بیجوں کی پیداوار کا قومی منصوبہ نیشنل آئل سیڈ انہانسمنٹ پروگرام کی کل لاگت میں سندھ حکومت کا حصہ 60 فیصد اور وفاق کا 40 فیصد ہے ۔
(بزنس ریکارڈر، 27 نومبر، صفحہ3)
گندم
قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے زرعی مصنوعات کی ذیلی کمیٹی نے حکومت سے 2019 کے لئے گندم کی امدادی قیمت 1,400 روپے فی من مقرر کرنے کی سفارش کی ہے ۔ کمیٹی ارکان کا کہنا ہے کہ امدادی قیمت زرعی مداخل خصوصاً کیمیائی کھاد، ڈیزل اور زرعی زہر کی قیمتوں میں اضافے کے تناسب سے مقرر ہونی چاہیے ۔ حکومت کی جانب سے مقرر کی جانے والی گندم کی امدادی قیمت 1,350 روپے فی من پر نظرثانی ہونی چاہیے ۔ کمیٹی کے سربراہ سید فخر امام کا کہنا ہے کہ گندم قومی غذائی تحفظ کے لیے انتہائی اہم فصل ہے اور قیمت کے تعین کا نظام قومی ضروریات کے مطابق فصلوں کو فروغ دینے کے لیے اہم ہے ۔
(بزنس ریکارڈر، 21 نومبر، صفحہ19)
ٹماٹر
ایران سے ٹماٹر کی درآمد تیز ہوگئی ہے ۔ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران 1,276 ٹن ٹماٹر درآمد کیا گیا ہے جبکہ حکومت نے ٹماٹر کی قیمت کم کرنے کے لئے مزید درآمد کی اجازت دیدی ہے ۔ حکومت کی جانب سے ایران سے ٹماٹر کی درآمد کی اجازت دینے کے بعد کراچی کی سبزی منڈی میں ٹماٹر سے لدے کل 19 کنٹینر لائے گئے ہیں ۔ ہر کنٹینر میں 22 ٹن ٹماٹر لدا ہوا تھا ۔ سپر ہائی وے پر قائم کراچی کی سبزی منڈی میں ٹماٹر کی قیمت 300 روپے فی کلوگرام سے کم ہوکر 180 سے 210 روپے فی کلو ہوگئی ہے ۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹز ایسوسی ایشن کے سربراہ وحید احمد کا کہنا ہے کہ میرپورخاص اور بدین سے بھی ٹماٹر آنا شروع ہوگیا ہے ۔ انھوں نے دعوی کیا ہے کہ کراچی پہنچ کر ایرانی ٹماٹر کی قیمت 125 روپے فی کلوگرام ہے ۔ تھوک و خوردہ فروشوں کو ناجائز منافع سے روکنے کی ذمہ داری شہری حکومت کی ہے ۔
(ڈان، 21 نومبر، صفحہ15)
وزیر زراعت سندھ اسماعیل راہو نے ایسے وقت میں کہ جب بدین، ٹھٹھہ، سجاول، ٹنڈو محمدخان، میرپورخاص اور دیگر اضلاع میں ٹماٹر کی فصل تیار ہے، اس کی درآمد کی اجازت دینے اور بنگلہ دیش کو پیاز برآمد کرنے پر وفاقی حکومت پر تنقید کی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران سے ٹماٹر کی درآمد پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ مقامی پیداوار کو بھاری نقصان پہنچائے گی ۔ ملک میں سبزی اور دیگر زرعی اشیاء کی قیمتوں کو توازن میں رکھنے کے لیے ایک طریقہ کار بنانے کی ضرورت ہے ۔
(ڈان، 25 نومبر، صفحہ15)
گنا
سندھ آباد گار اتحاد کی جانب سے سال 2019-20 کے لیے گنے کی قیمت مقرر کرنے میں تاخیر کے خلاف گنے کے کاشتکاروں کی بڑی تعداد نے حیدر آباد میں شہباز بلڈنگ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور شاہراہ فاطمہ جناح بند کردی ۔ کسان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت گنے کی سرکاری قیمت کا اعلامیہ جاری کرنے میں تاخیر کرکے کسانوں کا معاشی قتل کررہی ہے ۔ شوگر مل مالکان گٹھ جوڑ کرکے کسانوں کو مجبور کررہے ہیں کہ وہ 182 روپے فی من گنے کی قیمت قبول کریں ۔ یہ نا انصافی کسانوں کے بھاری نقصان کی وجہ ہے ۔ سندھ میں تقریباً 500,000 ایکڑ پر گنا کاشت کیا گیا ہے جو کٹائی کے لیے تیار ہے ۔ دو گھنٹے کے احتجاج کے بعد کمشنر حیدرآباد نے کسان رہنماؤں کو مزاکرات کے لیے اپنے دفتر طلب کیا اور چیف سیکریٹری سے مسئلہ حل کرنے کی درخواست کی ۔ چیف سیکریٹری نے کسانوں کو آگاہ کیا کہ ان کے مسائل کابینہ میں زیر غور ہیں اور جلد حل ہونگے ۔ اس یقین دہانی کے بعد کسانوں نے اپنا احتجاج ختم کردیا ۔
(ڈان، 22 نومبر، صفحہ17)
سندھ آباد گار اتحاد، میرپورخاص نے سرکاری قیمت کے اعلان تک گنے کی کٹائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چودھری سیف اللہ گل کی سربراہی میں ڈگری میں ہونے والے سندھ آباد گار اتحاد کے مقامی اجلاس میں کاشتکاروں کے واجبات ادا نہ کرنے والی ملوں کا بائیکاٹ کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔ اجلاس میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت گنے کی قیمت کا اعلامیہ جاری کرنے میں جان بوجھ کر تاخیر کررہی ہے، جس کا بالآخر فائدہ شوگر ملوں کو ہوگا اور کسانوں کے پاس کم قیمت پر گنا بیچنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا ۔ ضلع میرپورخاص میں چار میں سے تین ملوں نے گزشتہ سال کی قیمت 182 روپے فی من پر گنا خرید کر کرشنگ شروع کردی ہے ۔
(ڈان، 26 نومبر، صفحہ17)
زیتون
پاکستان رواں موسم میں 40,000 ٹن زیتون پیدا کرے گا جس سے 3,500 ٹن زیتون کا (ایکسٹرا ورجن) تیل تیار ہوگا ۔ اس پیداوار سے خوردنی تیل کی مقامی ضرورت پوری کرنے میں مدد ملے گی ۔ تجارتی پیمانے پر زیتون کی کاشت کے منصوبے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد طارق نے کہا ہے کہ 1;46;2 ملین زیتون کے پودے پنجاب میں پوٹھوہار کے علاقے میں لگائے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ خیبرپختونخوا میں ایک ملین جبکہ بلوچستان میں 500,000 زیتون کے پودے لگائے گئے ہیں ۔ سال 2019-20 کے لیے سرکاری ترقیاتی پروگرام میں حکومت نے زیتون کی تجارتی کاشت کے فروغ کے لیے 2;46;3 بلین روپے مختص کیے ہیں ۔ پاکستان سالانہ چار بلین ڈالر خوردنی تیل کی درآمد پر خرچ کرتا ہے ۔
(بزنس ریکارڈر، 25 نومبر، صفحہ11)
نکتہ نظر
تیسری دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی پیداواری وسائل اور منڈی پر عالمی کمپنیوں کے اختیار اور قبضے کا سلسلہ زور پکڑتا جارہا ہے ۔ صوبہ سندھ جہاں کسانوں کی اکثریت بے زمین ہے وہاں ہوائی اور شمسی توانائی کے لیے ہزاروں ایکڑ زمین دینا اور گنے کی پیداوار میں اضافے کے لیے سرکاری سطح پر منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنا اس کی کچھ مثالیں ہیں ۔ یاد رہے کہ ہوائی اور شمسی توانائی کے زیادہ تر منصوبے بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے ہیں جو اپنے کاروبار اور منافع کے لیے حکومتی مراعات حاصل کررہی ہیں ۔ سندھ و پنجاب میں کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی ناصرف اس فصل سے جڑے لاکھوں کسان مزدورں کے روزگار میں کمی کی وجہ ہے بلکہ ملکی معیشت و صنعت کو بھی شدید متاثر کررہی ہے جس کا نتیجہ صنعتی مزدوروں کی بیروزگاری کی صورت نکلتا ہے ۔ لیکن حکومت کی ترجیحات میں کپاس کے بجائے گنے کی پیداوار میں اضافہ شامل ہے کیونکہ گنا اتھنول یعنی نباتاتی ایندھن کی پیداوار کا ایک بنیادی جز ہے جو مغربی ممالک خصوصاً یورپی ممالک کی اولین ضرورت اور مقامی سرمایہ داروں کے لیے منافع بخش بھی ہے ۔ شوگر مل مالکان سرکاری مراعات سے فائدہ اٹھا کر اتھنول اور چینی برآمد کرکے بے تحاشہ منافع کمارہے ہیں اور گنا کاشت کرنے والے چھوٹے کسان جائز قیمت اور ملوں پر واجب الادا اپنے بقایاجات کے حصول کے لیے سڑکوں پر احتجاج پر مجبور ہیں ۔ ملک میں پانی کی قلت کے تناظر میں گنا اور چاول کی ضرورت سے زیادہ پیداوار کو فروغ دینا کسی طور پائیدار عمل نہیں ہے کیونکہ پاکستان پہلے ہی پانی کی شدید کمی کا شکار ہے اور اکثر چھوٹے کسان پانی کی کمی کی وجہ سے غذائی فصلوں کی کاشت سے بھی محروم رہ جاتے ہیں ۔ ملک میں زیتون کی کاشت کا فروغ بھی اسی سلسلے کی کڑی نظر آتی ہے ۔ یہ حیرت انگریز امر ہے کہ جس ملک کی تقریباً آدھی عوام غربت و بھوک کا شکار ہے، جس کے لیے مہنگا کنولا تیل خریدنا ہی ایک مسئلہ ہے، وہ کس طرح دگنی سے بھی زیادہ قیمت کا زیتون کا تیل استعمال کرسکتے ہیں ، زیتون کی پیداوار میں اضافے سے خوردنی تیل کی درآمد میں کمی کا یہ منصوبہ بظاہر ناقص اور عالمی و ملکی اشرافیہ کے لیے عمدہ غذائیت کے حصول کا ایک زریعہ معلوم ہوتا ہے جس سے خوردنی تیل کی درآمد میں کمی شاید ممکن نہیں ۔
نومبر 14 تا 20 نومبر، 2019
زمین
پشاور کے کئی دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے پشاور نادرن بائی پاس کی تعمیر کے لئے زمینوں سے کسانوں کو جبراً بے دخل کرنے کے خلاف تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ پشاور پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کسان نمائندوں نبی جان، اسماعیل خان، سکندر خان و دیگر کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 80 سالوں سے اس زمین پر کاشتکاری کررہے ہیں جو ان کا واحد ذریعہ روزگار ہے۔ حکومت پشاور نادرن بائی پاس کی تعمیر کے لیے معاوضہ اور متبادل زمین دیے بغیر ان کی زمینوں پر قبضہ کررہی ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت نا صرف ان کا روزگار چھین رہی ہے بلکہ انہیں گھروں سے بھی محروم کررہی ہے اور معاوضہ دینے سے گریزاں ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ شاملات کی زمین تھی جسے ان کے بزرگوں نے 80 سال پہلے زرعی زمین میں تبدیل کیا اور اب انہیں جبراً ان زمینوں سے بے دخل کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ کسان رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں حراساں کرنا بند کیا جائے، ان کے خلاف مقدمات واپس لیے جائیں، زراعت اور رہائش کے لیے متبادل زمین دی جائے اور معاوضہ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔
(ڈان، 20 نومبر، صفحہ7)
زراعت
خیبرپختونخوا حکومت نے صارفین کے لیے پھل اور سبزیوں کی طلب پوری کرنے کے لیے ہر تحصیل میں دو کسان منڈیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلی خیبرپختونخوا نے ہدایت کی ہے کہ کسانوں کو مفت جگہ اور خدمات مہیا کی جائیں۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 14 نومبر، صفحہ6)
اقوام متحدہ کا ادارہ برائے خوراک و زراعت (فاؤ) نے خیبر پختونخوا میں حال ہی میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں میں تقریباً 8,000 گھرانوں کو ربیع پیکج کی تقسیم شروع کردی ہے۔ ان گھرانوں میں 410 وہ گھرانے بھی شامل ہیں جن کی سربراہ عورتیں ہیں۔ یہ پیکج برطانوی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ) کے تعاون سے چلنے والے منصوبے ”کے پی مرجڈ ڈسٹرکٹ پروگرام“ کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت فاؤ ہر گھرانے کو 50 کلوگرام گندم کے، 25 کلو گرام مٹر کے بیج اور چارے کے لئے استعمال ہونے والی گھاس (روڈس گراس) کے بیج فراہم کررہا ہے۔ اس کے علاوہ مزید 1,000 گھرانوں کو یہ پیکج جاپان انٹرنیشنل کارپوریشن ایجنسی (جائیکا) کے تعاون سے فراہم کیے جارہے ہیں۔ موسمی تبدیلی سے مطابقت رکھنے والے فصلوں کے بیج فصلوں کی پیداوار بحال کرنے، غذائی تحفظ، اور کسانوں کی معیاری بیج کے حوالے سے خو دانحصاری میں اضافے کے لیے فراہم کیے گئے ہیں۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 15 نومبر، صفحہ6)
پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کا کہنا ہے کہ زرعی شعبے کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف کسان لاہور میں 27 نومبر کو ”کسان کشکول جلوس“ نکالیں گے۔ کسان مال روڈ پر گزرنے والی گاڑیوں سے فصلوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھیک مانگیں گے۔ یہی احتجاج اگلے دن 28 نومبر کو اسلام آباد مارکیٹ پر ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانچ روپے فی یونٹ رعایتی قیمت پر بجلی فراہم نہ کرنے کے خلاف کسان اپنے ٹیوب ویلوں کے بل بھی ادا نہیں کریں گے۔ کسانوں کے مطالبات میں گندم کی امدادی قیمت میں 300 روپے فی من اضافہ، کپاس اور مکئی کے کاشتکاروں کو فی ایکڑ 25,000 روپے کی فراہمی جن کی پیداوار موسمی تبدیلی اور غیرمعیاری بیج کی وجہ سے 40 فیصد کم ہوئی ہے، کھاد کی قیمت پچھلے سال کے برابر کرنے، منڈی سے آدھے نرخ پر ڈیزل کی فراہمی اور گنے کی قیمت فی من 250 روپے مقرر کرنا شامل ہیں۔
(ڈان، 16 نومبر، صفحہ2)
ایوان زراعت سندھ نے صوبائی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ اگلے سال گندم اور آٹے کی قلت سے تحفظ کے لیے اس موسم میں گندم کی شفاف خریداری کو یقینی بنائے۔ ایوان زراعت سندھ کے نومنتخب صدر میران محمد شاہ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ابھی درست اقدامات نہیں کیے تو اگلے سال کوئی خوراک کے بحران کو روک نہیں سکے گا۔ انھوں نے مزید مطالبہ کیا کہ سندھ کے کسانوں کے تحفظ کے لیے ٹماٹر کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے کیونکہ سندھ کے ٹماٹر 25 نومبر سے منڈی میں آنا شروع ہوجائینگے۔ اگر ٹماٹر کی درآمد نہیں روکی گئی تو کسانوں کو بہت زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گنے کی فصل کٹائی کے لیے تیار ہے لیکن شوگر مل مالکان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے گنے کی قیمت اور اس کی کرشنگ کی تاریخ اب تک مقرر نہیں کی گئی ہے۔ کسانوں کو خدشہ ہے کہ سندھ حکومت گنے کی قیمت 192 روپے فی من مقرر کرے گی جیسے کہ پنجاب حکومت نے 190 روپے فی من مقرر کی ہے، لیکن ایوان زراعت سندھ اس سال 250 روپے فی من سے کم کوئی قیمت قبول نہیں کرے گا۔
(ڈان، 18نومبر، صفحہ15)
ضلع لاڑکانہ کے مختلف علاقوں میں ٹڈی دلوں کے حملہ سے امرود کے باغ، حال ہی میں کاشت کیا جانا ولا گندم اور دھان کی کچھ اقسام کو نقصان پہنچا ہے۔ ایوان زراعت سندھ کے ضلعی صدر سراج الاولیاء کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل آغانی، چھوہوپور، پارو جو ڈیرو اور دیگر علاقوں میں امرود کے باغوں کو کھارہے ہیں وہ بھی ایسے وقت میں جب فصل تیار ہونے والی ہے۔ ٹڈی دلوں نے چارے کے علاوہ موسمی سبزیوں خصوصاً ٹماٹر اور بھنڈی کی فصل بھی ہڑپ کرلی ہے۔
(ڈان، 20 نومبر، صفحہ17)
گندم
مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کسانوں کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے گندم کی امدادی قیمت میں 50 روپے اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے بعد گندم کی امدادی قیمت 1,350 روپے فی من ہوگئی ہے۔ یہ اضافہ پانچ سال کے وقفے کے بعد کیا گیا ہے۔ 2014 میں حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 100 روپے بڑھا کر 1,300 روپے فی من کردی تھی۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے حکام کا دعوی ہے کہ قیمت میں اضافہ ملک میں گندم کی پیداوار میں اضافے کو فروغ دے گا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گندم کی عالمی صورتحال، پیداواری لاگت اور درآمد و برآمد جیسے دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ گندم کی پیداواری لاگت 2019-20 میں پنجاب میں 1349.57 روپے اور سندھ میں 1315.72 روپے فی من ہوگئی تھی۔
(ڈان، 14 نومبر، صفحہ10)
وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان نے سندھ میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا الزام سندھ حکومت پر عائد کیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ تاریخ میں پہلی بار سندھ حکومت نے گزشتہ موسم میں کسانوں سے گندم نہیں خریدی۔ سندھ حکومت نے وفاقی وزارت کو آگاہ کیا تھا کہ وہ 1.6 ملین ٹن گندم خریدے گی لیکن وہ ناکام رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ میں پہلی بار چیف سیکریٹری اور سیکریٹری خوراک سندھ نے وفاقی حکومت سے 400,000 ٹن گندم ترسیل کرنے کی درخواست کی تھی، اور ان کے مطابق یہ مقدار صوبے کے لیے کافی ہوگی۔
(ڈان، 15 نومبر، صفحہ10)
وفاقی حکومت نے باضابطہ طور پر سندھ کو گندم کی فراہمی شروع کردی ہے۔ وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان نے حیدرآباد میں پاسکو کے گودام سے گندم کے اجراء کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سندھ کو گندم کی فراہمی پاسکو کے رانی پور اور خیرپور کے گوداموں سے بھی شروع ہوگئی ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 16 نومبر، صفحہ4)
پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلکچول فورم (پی بی آئی ایف) کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ حکومت گندم کی قیمت کو مستحکم رکھنے کی کوشش کررہی ہے جس میں میابی نہیں ملی۔ گندم کی قیمت میں استحکام کے لیے حکومت کو اس کی بلا محصول درآمد کی اجازت دینی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے کیونکہ حکومت کا دعوی ہے کہ اس کے پاس 4.5 ملین ٹن گندم موجود ہے جبکہ نجی شعبہ 300,000 ٹن گندم برآمد کرنے کی اجازت مانگ رہا ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں گندم کے ذخائر دباؤ کا شکار ہیں اور زیر گردش افواہیں قیمت میں اضافے کی وجہ بن رہی ہیں جبکہ گندم کی افغانستان غیرقانونی ترسیل بھی بلاروک ٹوک جاری ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 17 نومبر، صفحہ3)
کپاس
ایک خبر کے مطابق آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے وزارت تجارت پر موزمبیق، مالی اور تاجکستان سے کپاس کی درآمد پر پابندی اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل محکمہ تحفظ نباتات ڈاکٹر فلک ناز سے بات کرتے ہوئے اپٹما کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شاہد ستار کا کہنا تھا کہ ملوں کو موزمبیق، مالی اور تاجکستان سے سے کپاس کی درآمد کے لیے اجازت نامے کے حصول میں مشکلات درپیش ہیں جبکہ ان ممالک سے ماضی میں کپاس کی درآمد کی اجازت تھی۔ حال ہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے رکن رضا نصراللہ نے وسط ایشیائی ریاستوں سے کپاس کی درآمد پر عائد بھاری محصول کا معاملہ اٹھایا تھا، ان کا کہنا تھا کہ درآمدی محصولات امریکی کپاس کی قیمت سے زیادہ ہیں۔
(بزنس ریکارڈر، 15 نومبر، صفحہ5)
وفاقی حکومت نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی سفارش پر کپاس کے بیج کو پانچ فیصد سیلز ٹیکس سے مستثنی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے جو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی حتمی منظوری سے مشروط ہے۔ وزارت کی سمری کے مطابق اس وقت تقریباً 1,200 جننگ کے کارخانے پھٹی سے کپاس الگ کرنے کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ کپاس سے الگ کیا گیا بیج خوردنی تیل کے 6,000 کارخانے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کی کپاس کی سالانہ پیداوار تقریباً 40 ملین ٹن ہے جس سے 400,000 ٹن کھانے کا تیل پیدا ہوتا ہے۔ یہ مقدار ملک میں خوردنی تیل کی کل پیداوار کا 60 سے 70 فیصد کے برابر ہے۔ حکومت نے کپاس سے حاصل ہونے والے بیج پر پانچ فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا تھا جبکہ دوسری طرف اس بیج سے حاصل ہونے والا کھل (کاٹن سیڈ کیک) مال مویشی شعبہ میں استعمال ہوتا ہے اور ٹیکس سے مستثنی ہے۔ ٹیکس میں اس چھوٹ کی وجہ سے کسان اور ڈیری فارمرز کی جانب سے اس بیج کا بطور مویشیوں کی خوراک استعمال بڑھ رہا ہے بجائے اس کے کہ اس بیج سے تیل حاصل کیا جائے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 20 نومبر، صفحہ20)
گنا
مختلف کسان تنظیموں اور کسانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملوں نے گنے کی کرشنگ شروع نہیں کی اور سندھ حکومت نے گنے کی قیمت 250 روپے فی من مقرر نہیں کی تو کسان صوبے بھر میں احتجاجی مہم چلانے پر مجبور ہونگے۔ میرپورخاص میں مقامی کسان رہنماؤں مقصود راجپوت، ندیم بھرگڑی، خالد آرائیں اور دیگر کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے کسانوں کے خلاف سازش کے تحت اب تک گنے کی قیمت کا اعلامیہ جاری نہیں کیا ہے۔ گنا کمشنر نے بھی اب تک ملوں پر گنے کی کرشنگ شروع کرنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملوں کو اس سال چینی کی پیداوار کے لیے ضلع سے باہر سے گنا خریدنا پڑے گا کیونکہ کئی کسانوں نے نقصان اٹھانے کے بعد گنے کا زیر کاشت رقبہ کم کردیا ہے۔
(ڈان، 18 نومبر، صفحہ15)
ایک خبر کے مطابق سال 2019-20 میں گنے کی پیداوار 67.17 ملین ٹن سے 3.8 فیصد کم ہوکر 64.77 ملین ٹن ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق 2019-20 میں گنے کا کل زیر کاشت رقبہ 1.06 ملین ہیکٹر ہے جو گزشتہ سال 1.1 ملین ہیکٹر تھا۔ تاہم اس کمی کے نتیجے میں کپاس کے زیرکاشت رقبے میں اضافہ نہیں ہوا۔ پاکستان گزشتہ کئی سالوں سے ہر سال پانچ بلین ڈالر مالیت کی اوسطاً چار ملین کپاس کی گانٹھیں درآمد کررہا ہے۔ حکومت نے کپاس کے شعبے کو وزیر اعظم کے 309 بلین روپے کے زرعی ہنگامی پروگرام میں شامل نہیں کیا ہے۔ اس شعبہ کا مجموعی قومی پیداوار میں 0.8 فیصد حصہ ہے۔ اسی منصوبے کے تحت گنے کے پیداواری شعبہ میں 3.9 بلین روپے خرچ ہونگے۔ گنے کے زیر کاشت رقبے اور پیداوار میں کمی کی بنیادی وجہ چاول اور مکئی کے زیر کاشت رقبے اور پیداوار میں اضافہ ہے۔ اس سال 3,036,000 ہیکٹر پر چاول کاشت کیا گیا ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے 8.05 فیصد زیادہ ہے۔ اسی سال 1,386,460 ہیکٹر رقبے پر 6.93 ملین ٹن مکئی کاشت کیا گیا۔ مکئی کی پیداوار میں ہونے والا یہ اضافہ 1.53 فیصد ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 19نومبر، صفحہ2)
ٹماٹر
حکومت نے ٹماٹر کی بڑھتی ہوئی قیمت کم کرنے کی غرض سے محدود مدت کے لیے ایران سے ٹماٹر درآمد کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ مقامی منڈی میں ٹماٹر کی قیمت 300 روپے فی کلو تک پہنچ گئی تھی۔ ایران سے ٹماٹر کی کھیپ اگلے چار دنوں میں پہنچنا شروع ہوجائے گی۔ وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان کا کہنا ہے کہ یہ ٹماٹر کی موسمی قلت ہے کیونکہ اس موسم میں بلوچستان سے ٹماٹر کی ترسیل بند ہوجاتی ہے جبکہ سندھ کی پیداوار منڈی میں آنے میں کچھ ہفتے باقی ہوتے ہیں۔ ایران سے کوئٹہ پہنچ کر ٹماٹر کی قیمت 53 روپے فی کلو گرام ہوگی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 15 نومبر، صفحہ13)
مال مویشی
وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ 18 تا 20 نومبر کو ہونے والی مال مویشی نمائش کے انعقاد کے ذریعے ان کی حکومت صوبے میں سرمایہ کاری میں اضافے کی کوشش کررہی ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی میں ہونے والی یہ تین روزہ نمائش صوبے میں اب تک کی سب سے بڑی نمائش ہوگی۔ وزیر اعلی کے مشیر برائے مال مویشی مٹھاخان کاکڑ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس نمائش کا مقصد صوبے میں گائے کے فارموں کو فروغ دینا اور ملک میں گوشت کی پیداوار کو بڑھانا ہے۔
(ڈان، 13 نومبر، صفحہ5)
زرعی قرضہ جات
گزشتہ سال زرعی شعبہ کو ایک ٹریلین روپے کے قرضہ جات کی فراہمی کا ہدف حاصل کرنے کے بعد اسٹیٹ بینک نے اگلے سال کے لیے 1.35 ٹریلین روپے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار زرعی شعبہ کے لئے قرض کی فراہمی ایک ٹریلین روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔
(ڈان، 20 نومبر، صفحہ10)
آبپاشی
شہید بے نظیر آباد اور میرپورخاص میں دو آبپاشی نہروں میں شگاف پڑنے سے کئی دیہات اور سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیر آب آگئی ہیں۔ میرپورخاص کے متاثرین کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے کہ وہ بھرائی کا کام شروع کرتے شگاف 20 فٹ تک بڑھ گیا تھا۔ کئی گھنٹوں بعد محکمہ آبپاشی کے حکام مطلوبہ مواد اور مزدورں کے ساتھ شگاف پر کرنے کے لئے ان کے ساتھ شامل ہوئے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ تقریباً 500 ایکڑ پر کھڑی فصل تباہ ہوگئی اور دیہاتوں میں گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا ہوگیا ہے۔ ضلع شہید بینظیر آباد میں بھی دوڑ ٹاؤن میں جیمز مائنر میں 60 فٹ چوڑا شگاف پڑا۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ سیلاب سے سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بہہ گئیں۔ کسانوں نے محکمہ آبپاشی کے مقامی حکام کو اطلاع دی لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ اپنی مدد آپ کے تحت مقامی افراد شگاف پرکرنے میں شام تک مصروف تھے۔
(ڈان، 17 نومبر، صفحہ17)
جنگلات
سندھ حکومت حال ہی میں واگزار کروائی گئی جنگلات کی ہزاروں ایکڑ زمین کو قبضہ مافیا سے محفوظ رکھنے اور موسمی تبدیلی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے نئی جنگلات پالیسی مرتب کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ ”سسٹین ایبل فاریسٹ مینجمنٹ پالیسی“ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ہوگی جس میں واگزار کروائی گئی زمین کو موسمی تبدیلی کے تناظر میں جنگلات میں تبدیل کیا جائے گی۔ پالیسی کے مطابق خالی کرائی گئی زمین جلد ازجلد جنگلات میں تبدیل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ سندھ میں جنگلات کی کل زمین 888,206 ایکڑ ہے اور عدالت کے حکم پر 218,000 ایکڑ زمین واپس لی گئی ہے۔
(ڈان، 18 نومبر، صفحہ13)
غذائی کمی
وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہو نے سندھ اسمبلی کو آگاہ کیا ہے کہ غذائی کمی کی وجہ سے صوبے کے پانچ سال سے کم عمر تقریباً آدھے بچے نشونما میں کمی کا شکار (اسٹنٹڈ) ہیں جبکہ 41 فیصد بچے وزن میں کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 10 سے 19 سال عمر کی 16.6 فیصد لڑکیاں اور 30.6 فیصد لڑکے وزن کی کمی کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ 61.2 فیصد بالغ لڑکیاں اور 45.3 فیصد تولیدی عمر کی عورتیں (وومن آف ریپروڈکٹو ایج) خون کی کمی کا شکار ہیں۔
(ڈان، 14 نومبر، صفحہ16)
اس ہفتے کی زرعی خبروں میں سرفہرست خبر زمین سے متعلق ہے۔ ملک بھر میں شاہراؤں کی تعمیر سے لے کر ڈیم و خصوصی اقتصادی زون کی تعمیر تک ہر سطح پر اس ملک کے کسانوں نے سب سے زیاد زمین سے بیدخلی، قبضہ اور اپنے روزگار سے محرومی کی صورت قیمت چکائی ہے۔ نادرن بائی پاس پشاور منصوبہ بھی اس کی ایک مثال ہے جہاں حکومت دہائیوں سے آباد کسانوں کو ناصرف معاوضہ ادا کرنے سے انکاری ہے بلکہ انہیں جبراً بیدخل کرنے کے لیے جھوٹے مقدمے اور ان کے خاندانوں کو حراساں کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ یہ صورتحال ملک میں شدید ہوتی ہوئی دو طبقاتی تفریق کو واضح کرتی ہے کہ کہیں عدالتیں اور سرکاری مشینری ہزاروں ایکڑ پر قبضہ کرنے والے سرمایہ داروں کے قبضہ کو پیسے کے بدلے جائز قرار دیتی ہیں اورکہیں زمینی قبضے کی شکار ہونی والی آبادیوں کو ان کے جائز معاوضے اور روزگار سے محروم کرنے کے لیے پوری سرکاری مشینری استعمال ہوتی ہے۔ ایک طرف غریبوں کے گھر مسمار کرکے ان کی زرعی زمینیں بلامعاوضہ چھین کر انہیں بھوک اور بیروزگاری میں مبتلا کیا جاتا ہے اور دوسری طرف یہی سرمایہ داری نظام غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کا جھانسہ دے کر تجارتی کمپنیوں کے لیے منافع اور کاروبار کی راہ ہموار کررہاہے۔ فاٹا کے قبائلی علاقوں میں بیجوں کی تقسیم ان علاقوں میں غیرپائیدار زراعت کو فروغ دینے کی ایک مزموم کوشش نظر آتی ہے جس کا انجام ماحولیاتی آلودگی، زہریلی خوراک اور کمپنیوں کی محتاجی کے سوا کچھ نہیں۔ اس غیرپائیدار زہریلی زراعت کے اثرات آج ملک کی ہر اہم فصل پر واضح ہیں۔ چاول اور مکئی کی فصل کمپنیوں کے فراہم کردہ زہریلے بیجوں کی وجہ سے کسانوں کو شدید نقصان سے دوچار کرنے کا سبب بنی ہے جبکہ کپاس کے شعبہ کی تباہی نے ناصرف کسانوں بلکہ ملکی معیشت، کارخانوں اور مزدوروں کو بھی بدحالی سے دوچار کردیا ہے۔
یہ نیولبرل یا آزد تجارتی پالیسیوں کا ہی اثر ہے کہ گندم کی اضافی پیداوار کرنے والا ملک آج گندم کی پیدا کی گئی مصنوعی قلت کی بدولت ناصرف اسے برآمد کرنے پر غور کررہا ہے بلکہ عوام انتہائی مہنگا گندم و آٹا اور دیگر غذائی اشیاء خریدنے پر مجبو کردیے گئے ہیں۔ ان سفاک پالیسیوں کا ہی اثر ہے کہ ملک میں خوراک اگانے والے چھوٹے کسان مزدور اور عوام دونوں ہی بھوک اور غذائی کمی سے دوچار ہیں جبکہ اس تمام پیداواری اور تجارتی مرحلوں سے جڑی کمپنیاں اور کاروباری اشرافیہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کررہی۔


لاڑکانہ سے 12 کلومیٹر دور آغانی گاؤں اور اس سے ملحقہ علاقوں میں امرود کے باغ 10 دنوں بعد ایک بار پھر ٹڈی دل کے حملہ کی لپیٹ میں آگئے ہیں ۔ مقامی زمیندار فرید آغانی اور دیگر کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل علاقے میں تیزی سے پھیل رہے ہیں ۔ علاقے میں گندم کی فصل اپنے ابتدائی مراحل میں تھی جسے ٹڈی دل نے شدید متاثر کیا ہے ۔ کاشتکاروں کا کہناتھا کہ اس دفعہ موسمی تبدیلی نے امرود کی تیاری میں تاخیر میں اہم کردار ادا کیا، پھر اس پر ٹڈی دل کا حملے سے امرود کے کاشتکاروں اور ٹھیکیداروں کو بھاری نقصان ہوگا ۔ ٹڈی دل کے حملے نے علاقے میں کھجور کے درختوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے ۔
(ڈان، 29 نومبر، صفحہ17)
ضلع میرپورخاص میں سندھڑی کے مقام پر جبکہ نوشہروفیروز میں تھارو شاہ کے نزدیک نہر میں شگاف پڑنے سے کئی دیہات اور سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیر آب آگئی ہیں ۔ میرپورخاص میں سندھڑی کے نزدیک پلی نہر میں 15 فٹ چوڑا شگاف پڑا جسے محکمہ آبپاشی کے حکام نے مقامی افراد کی مدد سے پر کردیا ہے ۔ نوشہروفیروز میں سہرا مائنر میں 30 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے لیموں کی فصل، حنا کے باغات اور حال ہی میں بوئی گئی گندم کی فصل زیر آب آگئی ۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایک ماہ پہلے بھی اس ہی مقام پر ایک شگاف پیدا ہوا تھا ۔ اس وقت سے وہ محکمہ آبپاشی کے حکام سے پشتوں کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ محکمہ کی غفلت سے نہر میں دوبارہ شگاف پڑا ۔
(ڈان، 29 نومبر، صفحہ17)
ایک خبر کے مطابق پنجاب حکومت کسانوں کے عظیم تر مفاد میں گندم اور گنے کی امدادی قیمت میں اضافہ کررہی ہے ۔ گندم کی قیمت 1,365 روپے فی من مقرر کی گئی ہے جبکہ گنے کی نئی قیمت 190 روپے فی من ہوگی ۔ وزیر تجارت و صنعت پنجاب میاں اسلم اقبال، وزیر زراعت ملک نعمان احمد لنگریال اور وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ چوہدری نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں دعوی کیا ہے کہ کسانوں کو امدادی قیمت میں اضافے سے 40 بلین روپے سے زیادہ کا فائدہ ہوگا ۔ وزیر زراعت کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ سالوں سے گندم اور گنے کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا ۔ گنا اور گندم کی پیداواری لاگت میں اضافے اور کسانوں کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے موجودہ حکومت نے امدادی قیمت میں اضافے کا فیصلہ کیا ۔
(بزنس ریکارڈر، 30 نومبر، صفحہ5)
کسانوں کی مدد کے لئے پنجاب حکومت کی جانب سے متعارف کئے جانے والا ’’کارپوریٹ فارمنگ پراجیکٹ‘‘ صوبائی حکومت کے خزانہ اور کوآپریٹو محکموں کے درمیان عدم اتفاق کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوگیا ہے ۔ منصوبہ بندی و ترقی بورڈ پنجاب کے سربراہ نے منصوبہ کی مشروط منظوری دیتے ہوئے دونوں محکموں کو اختلافات ایک طرف رکھ کر منصوبہ کا آغاز کرنے کے لئے محکمہ زراعت کی مدد کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ 400 ملین روپے لاگت کے اس منصوبہ کا مقصد رحیم یارخان، سرگودھا اور سیالکوٹ کے 137 دیہات میں زرعی مصنوعات و زرعی مشینری کی فروخت کے لئے دیہات کی سطح پر تنظی میں قائم کرکے فروخت کے مراکز (مارکیٹ) قائم کرنا ہے ۔ اس منصوبہ کے تحت بارانی علاقوں کی فصلیں خریدنے کے لئے مراکز بھی قائم کئے جائینگے اور کسانوں کو معمولی شرح سود پر دو ملین روپے کا گردشی سرمایہ (ریوالونگ فنڈ) فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ زرعی آلات خریدسکیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ پانچ ایکڑ تک زمین کاشت کرنے کے لیے آسان قرضوں تک رسائی دی جائیگی ۔ تفصیلات کے مطابق منتخب شدہ 137 دیہات کو چار حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ ہر گاؤں میں کوآپریٹو ڈپارٹمنٹ کے اشتراک سے دیہی تنظیم قائم کی جائیگی اور گاؤں کا 12 ایکڑ تک زمین رکھنے والا کوئی بھی کسان جو رکن بننے کا خواہش مند ہو ایک بار فی ایکڑ 500 روپے ادا کرکے کمیٹی کا رکن بن سکتا ہے ۔ دیہی تنظیم اپنے ارکان کی درخواست پر مطلوبہ زرعی مشینری خریدنے کے لیے اپنے بجٹ کے مطابق پانچ فیصد شرح سود پر کسانوں کو آسان قرضوں کی پیشکش کرے گی ۔ مزید یہ کہ محکمہ زراعت مختلف کمپنیوں کی شراکت سے ہر گاؤں میں رعایتی قیمت پر کھاد، بیج اور زرعی زہر فروخت کرنے کے لیے دکانیں قائم کرے گا ۔ یہ دکانیں بھی دیہی تنظیم کے زیر انتظام ہونگی اور ان سے حاصل ہونے والا منافع دیہی کونسل کے بینک کھاتے میں جمع ہوگا ۔ اس کے علاوہ ہر گاؤں میں خریداری مراکز قائم کئے جائینگے جہاں کسان اپنی فصل فروخت کرسکیں گے اور حکومت یہ یقینی بنائے گی کہ کسانوں کو فصل کی مناسب قیمت ملے ۔ دوسری طرف دیہی تنظیم پیداوار کو فروخت کے لئے لانے والے کسانوں سے (اپنی خدمات کے بدلے) معمولی رقم وصول کرے گی ۔ آزمائشی منصوبہ کے تحت 137 دیہات کے کسانوں کو قرضہ فراہم کرنے کے لئے دیہی تنظیم کو دو سال کے لئے 297 ملین روپے فراہم کئے جائینگے ۔ دو سال بعد دیہی تنظیم کو دی گئی نصف رقم معاف کردی جائیگی جبکہ بقیہ نصف رقم سالانہ اقساط میں اگلے پانچ سالوں میں واپس لی جائے گی تاکہ دیہی تنظی میں مرحلہ وار اپنے مالی وسائل میں اضافہ کرسکیں ۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 3 دسمبر، صفحہ11)
ٹڈی دل کے حملہ سے پیدا ہونیوالی صورتحال پر ہونے والے اجلاس میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ کے متاثرہ علاقوں میں کیڑے مار زہر کے جھڑکاوَ کے لیے وفاق کے زیر انتظام محکمہ تحفظ نباتات (ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن) کو 10 ملین روپے جاری کرنے کا حکم دیا ہے ۔ محکمہ اس رقم سے تین ہوائی جہاز، ایندھن اور کیڑے مار زہر کا بندوبست کرے گا ۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ٹڈی دل کے حملے سے11 اضلاع میں کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ وزیر اعلی نے چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ٹڈی دل کے خلاف اقدامات کی نگرانی کرتے رہیں اور ضلعی انتظامیہ، محکمہ تحفظ نباتات اور محکمہ زراعت سندھ سے رابطہ رکھیں ۔
(ڈان، 3 دسمبر، صفحہ17)
پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پارک) نے تھرپارکر میں تھر فاوَنڈیشن کے کھارے پانی سے زراعت کے آزمائشی منصوبہ کو بڑی کامیابی قرار دیا ہے ۔ تھر فاوَنڈیشن اور پارک نے تھر پارکر میں مقامی کسانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پائیدار آمدنی کے لئے اس منصوبہ کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تھر فاوَنڈیشن اور پارک نے کھارے پانی سے قطرہ قطرہ آبپاشی نظام کے زریعے 20 ایکڑ رقبے پر بیر، لیموں اور چیکو کی کاشت کا کامیاب تجربہ کیا ہے ۔ منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تھر فاوَنڈیشن اور پارک نے باہمی تعاون کے لئے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت نمکیات کے خلاف مدافعت رکھنے والے چارے و نقدآور فصلوں کی آزمائش، کسانوں کی تربیت، معلومات کا تبادلہ، آگاہی مہم اور آزمائشی بنیادوں پر کاشت کی جاچکی فصلوں کی قدر میں اضافے (اکنامک ویلیو چین) کا بندوبست کیا جائے گا ۔
(بزنس ریکارڈر، 4 دسمبر، صفحہ3)
گندم
کابینہ کی اقصادی رابطہ کمیٹی نے اپنے تین ارکان کی جانب سے گندم کی قیمت میں مزید اضافے کی تجویز مسترد کردی ہے ۔ زراءع کے مطابق نئے مقرر کیے گئے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق خسرو بختیار نے گندم کی قیمت بڑھاکر 1,400 روپے فی من کرنے کی تجویز دی تھی ۔ خسرو بختیار گندم کی قیمت میں 50 روپے فی من اضافے پر مطمئن نہیں ہیں کیونکہ متعلقہ حکام کے مطابق پنجاب میں گندم کی پیداواری لاگت 1,350 روپے فی من ہے ۔
(ڈان، 28 نومبر، صفحہ10)
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے گزشتہ دو ہفتوں میں گندم کی امدادی قیمت میں دوسری بار اضافہ کرکے 1,365 روپے فی من کردی ہے ۔ 13 نومبر کو گندم کی اگلی فصل کے لیے امدادی قیمت 1,300 روپے فی من سے بڑھاکر 1,350 روپے فی من کردی گئی تھی اور اب دوبارہ کمیٹی نے قیمت میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ان اطلاعات کے بعد کہ گندم کی پیداواری لاگت 1,349 روپے فی من تک پہنچ گئی ہے اور کسانوں بشمول سرکاری حلقوں ، کابینہ اور قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے زراعت کے مطالبے کے بعد گندم کی امدادی قیمت میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے ۔
(بزنس ریکارڈر، 29 نومبر، صفحہ1)
وزیر زراعت پنجاب نعمان احمد لنگریال نے کسانوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے نو بلین روپے کے منصوبے کا آغاز کردیا ہے ۔ یہ منصوبہ وزیر اعظم کی ہدایت پر شروع کیا گیا ہے ۔ صوبائی وزیر نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ گندم کی شاندار فصل کے لیے پنجاب سیڈ کارپوریشن کے تصدیق شدہ بیج استعمال کریں ۔
(بزنس ریکارڈر، 29 نومبر، صفحہ16)
ایک مضمون کے مطابق اس سال سندھ میں گنے کی کٹائی میں تاخیر کی وجہ سے گندم کی بوائی میں تاخیر کا امکان ہے ۔ گنے کی کٹائی اکتوبر تا نومبر ہوتی ہے لیکن کئی وجوہات کی وجہ سے اس سال بھی یہ تاخیر کا شکار ہے ۔ تقریباً 800,000 ایکڑ رقبے پر گنا کاشت کیا گیا ہے جس پر کٹائی کے بعد گندم کی بوائی ہوتی ہے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صوبہ سندھ سال 2014-15 سے چار ملین ٹن گندم کا پیداواری ہدف حاصل کرنے سے قاصر ہے ۔ ماہ نومبر گزر چکا ہے اور سندھ حکومت نے اب تک گنے کی قیمت اور کرشنگ کی تاریخ کا اعلامیہ جاری نہیں کیا ہے ۔ گنے کی کٹائی میں تاخیر کے نتیجے میں گندم کی فصل کے لیے دستیاب پانی بھی گنے کی فصل میں استعمال ہوتا ہے جسے بہت زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ صوبہ سندھ گزشتہ پانچ سالوں سے گندم کی پیداوار کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہے اور گزشتہ موسم میں ژالہ باری کی وجہ سے پیداواری ہدف حاصل نہیں ہوسکا جس نے گندم کی شاندار فصل کو بری طرح متاثر کیا ۔ حکومت نے اس سال 1,350 روپے فی من گندم کی امدادی قیمت کا اعلان کیا ہے ۔ تاہم کسان اس سرکاری قیمت سے خوش نہیں ہیں اور بلند پیداواری لاگت کی وجہ سے اس قیمت کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہیں ۔ گندم کے ایک کاشتکار سید ندیم شاہ کا کہنا ہے کہ مداخل بشمول کیمیائی کھاد، بجلی، بیج اور زرعی زہر کی موجودہ لاگت کے ساتھ گندم کی امدادی قیمت 1,500 روپے فی من مقرر ہونی چاہیے تھی ۔ حکومت کو مستقل مسائل جیسے کہ چاول کی فصل سے (اس میں موجود نمی کی بنیاد پر کی جانے والی) ناجائز کٹوتی، کپاس کی فی ایکڑ کم پیداوار، بروقت کرشنگ اور گندم کی مناسب قیمت کے معاملات کو حل کرنے کے لیے ہرسطح پر زرعی شعبہ کو ایک طریقہ کار کے ماتحت لانا ہوگا کیونکہ یہ تمام عوامل آپس میں جڑے ہوئے ہیں ۔
(محمد حسین خان، ڈان، 2 دسمبر، صفحہ2، بزنس اینڈ فنانس)
چینی
ایک خبر کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار حکومت سندھ اور کے پی کو چینی کی قیمت 70 روپے فی کلو مقرر کرنے کے لیے خط لکھے گی کیونکہ پنجاب حکومت چینی کی قیمت مقرر کرچکی ہے ۔ یہ فیصلہ وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالزاق داوَد کی سربراہی میں ہونے والے شوگر ایڈوائزری بورڈ کے اجلاس میں کیا گیا ۔ اجلاس میں مل سے خوردہ فروش تک کے مراحل میں چینی کی قیمت پر تفصیلی بات چیت کی گئی ۔ اجلاس میں آگاہ کیا گیا کہ گزشتہ ایک سال میں چینی کی تھوک قیمت 32 فیصد اضافے کے بعد 55;46;20 روپے فی کلوگرام سے 72;46;70 روپے فی کلوگرام ہوگئی ہے ۔ پنجاب حکومت نے چینی کی قیمت 70 روپے فی کلوگرام مقرر کردی ہے جبکہ دیگر صوبوں میں قیمت ابھی بھی زیادہ ہے ۔
(بزنس ریکارڈر، 28 نومبر، صفحہ12)
غربت
ایک خبر کے مطابق حکومت نے یوٹیلٹی اسٹورز پر فروخت ہونے والی لازمی غذائی اشیاء پر زرتلافی دینے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے مختص کیے گئے چار بلین روپے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کو منتقل کردیے ہیں ۔ یو ایس سی بورڈ کے چیئرمین، مینجنگ ڈائریکٹر اور ایڈشنل سیکریٹری وزارت صنعت و پیداوار نے ایک اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کو لازمی غذائی اشیاء پر زرتلافی دینے میں مالی مشکلات سے آگاہ کیا تھا ۔ وزیر اعظم نے یو ایس سی کو زرتلافی دینے کے لیے چھ بلین روپے مختص کرنے کی منظوری دی تھی ۔ یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ بی آئی ایس پی اپنے زراءع سے چار بلین روپے فراہم کرے گا جبکہ فنانس ڈویژن بقیہ دو بلین روپے کے اجراء کا بندوبست کرے گا ۔ وزارت صنعت و پیداوار نے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں اس بات پر طرف توجہ دلائی کہ وزیر اعظم کی جانب سے اعلان کردہ رقم ملک کے غریب طبقہ کے لیے ہے تاہم یو ایس سی کے پاس ایسے مستحق صارفین کی شناخت کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے ۔ اس حوالے سے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ ایک کمیٹی بنائی جاسکتی ہے جو اس مقصد کے لیے شفاف اور قابل عمل طریقہ کار وضع کرے ۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 28 نومبر، صفحہ13)
پانی
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے وزارت آبی وسائل کو ہدایت کی ہے کہ وہ صوبوں کے درمیان چشمہ جہلم لنک کنال پر متنازع بجلی گھر کی تعمیر کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھائے ۔ محمد یوسف تالپور کی سربراہی میں کمیٹی نے اس معاملے پر پچھلے اجلاس کی کارروائی پر مبنی دستاویز کی تصدیق نہیں کی اور ہدایت کی پہلے یہ مسئلہ 11 دسمبر کو ہونے والے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پیش ہونا چاہیے ۔ محمد یوسف تالپور کا کہنا تھا کہ سندھ کو پنجاب حکومت کے اس 25 میگاواٹ کے منصوبے پر شدید اعتراضات ہیں جسے حال ہی میں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کی جانب سے اکثریتی ووٹ کی بنیاد پر منظور کیا گیا تھا ۔ اس سے پہلے وزیر اعلی سندھ نے بھی اس منصوبے پر اعتراض اٹھایا تھا ۔
(ڈان، 30 نومبر، صفحہ10)
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) کی جانب سے پانی کے تحفظ کے حوالے سے منعقد کردہ سمینار ’’واٹر کنزرویشن میتھڈ‘‘ میں مقررین نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں تقریباً 50 ملین افراد کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے ۔ مقررین نے سالانہ 40 فیصد اموات کا سبب آلودہ پانی کو قرار دیا ہے ۔ پاکستان میں کل پانی کا 90 فیصد زراعت میں ، سات فیصد صنعتوں میں جبکہ تین فیصد گھریلوں مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ انجینئر شمس الملک کا کہنا تھا کہ مون سون کے موسم میں پانی کے زیاں پر قابو پانے، بڑھتی ہوئی توانائی کی ضرورت پوری کرنے اور بڑھتی ہوئی آبادی کی توانائی اور زرعی ضروریات پوری کرنے کے لیے کالا باغ ڈیم سمیت نئے ڈیموں کی تعمیر لازمی ہے ۔
(بزنس ریکارڈر، 4 دسمبر، صفحہ7)
نکتہ نظر
زرعی خبروں میں شامل پنجاب میں ’’کارپوریٹ فارمنگ منصوبہ‘‘ خصوصاً قابل ذکر ہے ۔ زرعی شعبہ میں حکومتی سرپرستی اور قومی سرمائے سے کمپنیوں کے کاروبار اور منافع میں اضافے کی نیولبرل پالیسیاں چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں کے گرد شکنجہ مزید کس رہی ہیں ۔ بیج، زرعی مشینری، زہریلے مداخل اور قرضوں کی فراہمی کا یہ گورکھ دھندا عمدہ زرعی پیداوار کی صورت ملکی وسائل کو بین الاقوامی منڈیوں میں برآمد کرنے اور زرعی مداخل اور پیداوار کا کاروبار کرنے والی سرمایہ دار کمپنیوں کے لیے تیز ہوتا جارہا ہے ۔ دیہات کی سطح پر کمپنیوں کے تعاون سے کسانوں کو مخصوص بیج، زرعی زہر و مشینری کی فراہمی کے ساتھ ساتھ زرعی پیداوار کی خریداری مراکز کا قیام اورپنجاب ایگری کلچرل مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی جیسے قوانین کی توسیع ظاہر کرتی ہے کہ زرعی پیداوار میں چھوٹے کسانوں کو مسابقت سے باہر کرنے کا یہ عمل اب مقامی چھوٹے تاجروں اور صنعتوں تک آچکا ہے، جو مزید بیروزگاری اور بھوک و غربت کی وجہ بن سکتا ہے ۔ زرعی شعبہ میں منڈی سے لے کر پیداواری مراحل تک میں جدت یا ڈیجیٹلائزیشن کا عمل اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتی ہے ۔ بات چاہے جدید آبپاشی نظام کی تنصیب کی ہو یا زرعی مداخل کے استعمال کی، کسانوں کو ہر سطح پر منافع کے حصول کے لیے کمپنیوں کا محتاج بنانے کا عمل ہی ان میں بھوک غربت کی اہم وجہ ہے ۔ یقینا اس گورکھ دھندے سے نجات ممکن ہے، لیکن اس کے لیے لازم ہے کہ کسان شعوری طور بیدار ہوکر صاف اور پائیدار زراعت پر واپس آئیں جس میں کسی کمپنی کے بیج اور مداخل پر انحصار کی ضرورت نہیں ، کسان کا بیج اور دیگر پیداواری وسائل پر اختیار اسے ناصرف بلند پیداواری لاگت سے تحفظ فراہم کرے گا بلکہ صاف ماحول، صحت بخش غذائیت کا بھی ضامن ہوگا ۔
نومبر 21 تا 27 نومبر، 2019
زمین
سندھ کابینہ نے ٹھٹھہ، دادو اور جامشورو میں 10 نجی کمپنیوں اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کو قابل تجدید توانائی (رینیوبل انرجی) منصوبوں اور قومی گرڈ کے لیے 5,801 ایکڑ زمین 30 سالوں کے لیے پٹے پر دے دی ہے ۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنروں نے پٹے کی سالانہ رقم مختلف اقسام کی زمینیوں کے لیے 3,000، 5,000 اور 8,000 روپے فی ایکڑ تجویز کی تھی ۔ کابینہ نے حکام کو اس حوالے سے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے ۔
(ڈان، 27 نومبر، صفحہ15)
زراعت
سندھ آباد گار بورڈ نے حکومت پر ٹماٹر اور پیاز کی درآمد پر پابندی عائد کرنے پر زور دیا ہے ۔ دونوں اشیاء کی درآمد سے مقامی پیداوار کو ایسے وقت میں ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا کہ جب دونوں فصلیں اگلے کچھ دنوں میں کٹائی کے لیے تیار ہیں ۔ بورڈ کے صدر عبدالمجید نظامانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹھٹھہ، سجاول، بدین، ٹنڈو محمد خان، حیدرآباد، میرپورخاص اور سانگھڑ میں ٹماٹر اور پیاز کی فصل کٹائی کے لئے تیار ہے ۔ نصرپور میں پیاز کی فصل تیار ہونے والی ہے اور ٹماٹر بھی جلد منڈی میں دستیاب ہوگا ۔ لہذا اس وقت ٹماٹر اور پیاز کی درآمد سے زریں سندھ میں کسانوں کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑے گا ۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ اس سال ٹماٹر کی شاندار فصل متوقع ہے ۔ گزشتہ سال 21,000 ہیکٹر پر ٹماٹر کی کاشت سے 153,000 ٹن پیداوار ہوئی تھی ۔ تاہم اس سال ٹماٹر کا زیر کاشت رقبہ بڑھ کر 27,000 ہیکٹر ہوگیا ہے جس سے 210,000 ٹن ٹماٹر کی پیداوار متوقع ہے ۔
(ڈان، 21 نومبر، صفحہ17)
سیکریٹری وزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق ہاشم پوپلزئی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہا کہ سندھ اور بلوچستان میں ٹڈی دل پر قابو پانے کے لیے 500 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ اس مقصد کے لیے 100,000 ٹن کرم کش زہر (پیسٹی سائیڈ) درآمد کیا جائے گا ۔ اس زہر کے چھڑکاوَ کے لیے ہوائی جہاز استعمال کیے جارہے ہیں ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ٹڈی دل نے متاثرہ علاقوں میں انڈے دیے ہیں اور توقع ہے کہ ان کا لاروا اگلے دو سے تین سالوں تک وہیں موجود رہے گا ۔
(ڈان، 22 نومبر، صفحہ14)
وفاقی حکومت کے جانب دار رویہ پر تنقید کرتے ہوئے وزیر زراعت سندھ اسماعیل راہو نے سندھ اسمبلی کو بتایا ہے کہ وفاق ٹڈی دل سے نمٹنے کے لئے صوبائی حکومت کی مدد نہیں کررہا ہے ۔ حالانکہ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ماتحت محکمہ تحفظ نباتات (ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن) اس مسئلہ سے نمٹنے کا ذمہ دار ادارہ ہے، تاہم اس کے باوجود وفاقی حکومت صوبے کی مدد نہیں کررہی ہے ۔ محکمہ کے پاس ٹڈی دل پر قابو پانے کے لئے 20 ہوائی جہاز ہیں جن میں سے صرف تین فعال ہیں ۔ ان تین جہازوں میں سے دو پنجاب میں ٹڈی دل کے حملے سے پیشگی بچاوَ کے لیے تیار رکھے گئے ہیں جہاں اب تک ٹڈی دل پہنچے بھی نہیں ہیں ۔ کئی بار درخواستوں کے بعد ایک جہاز سندھ بھیجا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاق کا سندھ اورپنجاب کے لیے دہرا معیار ہے ۔ اس ایک جہاز نے نارو، تھرپارکر اور صالح پٹ، سکھر میں صرف 6,000 ایکڑ پر چھڑکاوَ کیا جبکہ کئی ملین ایکڑ رقبہ پر چھڑکاوَ باقی ہے ۔ وفاقی حکومت کو تینوں فعال ہوائی جہاز سندھ بھیجنے چاہیے تاکہ زیادہ تر صحرائی علاقے میں چھڑکاوَ کیا جاسکے ۔
(ڈان، 23 نومبر، صفحہ15)
نصیرآباد، بلوچستان کے کئی علاقوں میں ٹڈی دل نے حملہ کردیا ہے جس سے کئی فصلوں کو خطرہ ہے ۔ ادارہ ترقیات بلوچستان کے پارلیمانی سیکریٹری میر سکندر خان عمرانی نے صوبائی وزیر زراعت زرمک خان پیرالزئی سے ہنگامی بنیادوں پر فصلوں کو بچانے کے لیے اقدامات پر بات چیت کی ہے جس کے بعد وزیر زراعت نے محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر جنرل کو متاثرہ علاقوں میں بلاتاخیر عملہ بھیجنے کی ہدایت کردی ہے ۔ سکندر خان عمرانی نے مزید کہا ہے کہ نصیر آباد صوبہ کا زرعی مرکز ہے جہاں زیادہ تر آبادی زاعت سے وابستہ ہے ۔ نصیرآباد کے علاقوں میں ٹڈی دل کے حملے سے ٹماٹر، سبزیاں ، سرسوں اور دیگر فصلیں متاثر ہوئی ہیں ۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ہیلی کاپٹر کے ذریعے کرم کش چھڑکاوَ کیا جائے گا ۔
(ڈان، 24 نومبر، صفحہ5)
ایک خبر کے مطابق وزیر اعظم کے 277 بلین روپے کے زرعی ہنگامی پروگرام کے 13 منصوبوں میں سے صرف چار منصوبوں میں صوبہ سندھ شامل ہے ۔ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور باقی تینوں صوبے تمام 13 منصوبوں کا حصہ ہیں ۔ وزیر زراعت سندھ اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ سندھ حکومت گندم، چاول، گنا اور روغنی بیجوں کی پیداوار میں اضافے کے منصوبوں کا حصہ ہے جبکہ بارانی علاقوں میں چھوٹے اور درمیانے ڈیموں میں پانی محفوظ کرنے کی گنجائش میں اضافہ زیر غور ہے ۔ فصلوں کی پیداوار میں اضافے کے منصوبے کی لاگت کا 25 فیصد وفاقی حکومت جبکہ 75 فیصد سندھ حکومت کے ذمہ ہے ۔ روغنی بیجوں کی پیداوار کا قومی منصوبہ نیشنل آئل سیڈ انہانسمنٹ پروگرام کی کل لاگت میں سندھ حکومت کا حصہ 60 فیصد اور وفاق کا 40 فیصد ہے ۔
(بزنس ریکارڈر، 27 نومبر، صفحہ3)
گندم
قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے زرعی مصنوعات کی ذیلی کمیٹی نے حکومت سے 2019 کے لئے گندم کی امدادی قیمت 1,400 روپے فی من مقرر کرنے کی سفارش کی ہے ۔ کمیٹی ارکان کا کہنا ہے کہ امدادی قیمت زرعی مداخل خصوصاً کیمیائی کھاد، ڈیزل اور زرعی زہر کی قیمتوں میں اضافے کے تناسب سے مقرر ہونی چاہیے ۔ حکومت کی جانب سے مقرر کی جانے والی گندم کی امدادی قیمت 1,350 روپے فی من پر نظرثانی ہونی چاہیے ۔ کمیٹی کے سربراہ سید فخر امام کا کہنا ہے کہ گندم قومی غذائی تحفظ کے لیے انتہائی اہم فصل ہے اور قیمت کے تعین کا نظام قومی ضروریات کے مطابق فصلوں کو فروغ دینے کے لیے اہم ہے ۔
(بزنس ریکارڈر، 21 نومبر، صفحہ19)
ٹماٹر
ایران سے ٹماٹر کی درآمد تیز ہوگئی ہے ۔ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران 1,276 ٹن ٹماٹر درآمد کیا گیا ہے جبکہ حکومت نے ٹماٹر کی قیمت کم کرنے کے لئے مزید درآمد کی اجازت دیدی ہے ۔ حکومت کی جانب سے ایران سے ٹماٹر کی درآمد کی اجازت دینے کے بعد کراچی کی سبزی منڈی میں ٹماٹر سے لدے کل 19 کنٹینر لائے گئے ہیں ۔ ہر کنٹینر میں 22 ٹن ٹماٹر لدا ہوا تھا ۔ سپر ہائی وے پر قائم کراچی کی سبزی منڈی میں ٹماٹر کی قیمت 300 روپے فی کلوگرام سے کم ہوکر 180 سے 210 روپے فی کلو ہوگئی ہے ۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹز ایسوسی ایشن کے سربراہ وحید احمد کا کہنا ہے کہ میرپورخاص اور بدین سے بھی ٹماٹر آنا شروع ہوگیا ہے ۔ انھوں نے دعوی کیا ہے کہ کراچی پہنچ کر ایرانی ٹماٹر کی قیمت 125 روپے فی کلوگرام ہے ۔ تھوک و خوردہ فروشوں کو ناجائز منافع سے روکنے کی ذمہ داری شہری حکومت کی ہے ۔
(ڈان، 21 نومبر، صفحہ15)
وزیر زراعت سندھ اسماعیل راہو نے ایسے وقت میں کہ جب بدین، ٹھٹھہ، سجاول، ٹنڈو محمدخان، میرپورخاص اور دیگر اضلاع میں ٹماٹر کی فصل تیار ہے، اس کی درآمد کی اجازت دینے اور بنگلہ دیش کو پیاز برآمد کرنے پر وفاقی حکومت پر تنقید کی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران سے ٹماٹر کی درآمد پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ مقامی پیداوار کو بھاری نقصان پہنچائے گی ۔ ملک میں سبزی اور دیگر زرعی اشیاء کی قیمتوں کو توازن میں رکھنے کے لیے ایک طریقہ کار بنانے کی ضرورت ہے ۔
(ڈان، 25 نومبر، صفحہ15)
گنا
سندھ آباد گار اتحاد کی جانب سے سال 2019-20 کے لیے گنے کی قیمت مقرر کرنے میں تاخیر کے خلاف گنے کے کاشتکاروں کی بڑی تعداد نے حیدر آباد میں شہباز بلڈنگ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور شاہراہ فاطمہ جناح بند کردی ۔ کسان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت گنے کی سرکاری قیمت کا اعلامیہ جاری کرنے میں تاخیر کرکے کسانوں کا معاشی قتل کررہی ہے ۔ شوگر مل مالکان گٹھ جوڑ کرکے کسانوں کو مجبور کررہے ہیں کہ وہ 182 روپے فی من گنے کی قیمت قبول کریں ۔ یہ نا انصافی کسانوں کے بھاری نقصان کی وجہ ہے ۔ سندھ میں تقریباً 500,000 ایکڑ پر گنا کاشت کیا گیا ہے جو کٹائی کے لیے تیار ہے ۔ دو گھنٹے کے احتجاج کے بعد کمشنر حیدرآباد نے کسان رہنماؤں کو مزاکرات کے لیے اپنے دفتر طلب کیا اور چیف سیکریٹری سے مسئلہ حل کرنے کی درخواست کی ۔ چیف سیکریٹری نے کسانوں کو آگاہ کیا کہ ان کے مسائل کابینہ میں زیر غور ہیں اور جلد حل ہونگے ۔ اس یقین دہانی کے بعد کسانوں نے اپنا احتجاج ختم کردیا ۔
(ڈان، 22 نومبر، صفحہ17)
سندھ آباد گار اتحاد، میرپورخاص نے سرکاری قیمت کے اعلان تک گنے کی کٹائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چودھری سیف اللہ گل کی سربراہی میں ڈگری میں ہونے والے سندھ آباد گار اتحاد کے مقامی اجلاس میں کاشتکاروں کے واجبات ادا نہ کرنے والی ملوں کا بائیکاٹ کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔ اجلاس میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت گنے کی قیمت کا اعلامیہ جاری کرنے میں جان بوجھ کر تاخیر کررہی ہے، جس کا بالآخر فائدہ شوگر ملوں کو ہوگا اور کسانوں کے پاس کم قیمت پر گنا بیچنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا ۔ ضلع میرپورخاص میں چار میں سے تین ملوں نے گزشتہ سال کی قیمت 182 روپے فی من پر گنا خرید کر کرشنگ شروع کردی ہے ۔
(ڈان، 26 نومبر، صفحہ17)
زیتون
پاکستان رواں موسم میں 40,000 ٹن زیتون پیدا کرے گا جس سے 3,500 ٹن زیتون کا (ایکسٹرا ورجن) تیل تیار ہوگا ۔ اس پیداوار سے خوردنی تیل کی مقامی ضرورت پوری کرنے میں مدد ملے گی ۔ تجارتی پیمانے پر زیتون کی کاشت کے منصوبے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد طارق نے کہا ہے کہ 1;46;2 ملین زیتون کے پودے پنجاب میں پوٹھوہار کے علاقے میں لگائے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ خیبرپختونخوا میں ایک ملین جبکہ بلوچستان میں 500,000 زیتون کے پودے لگائے گئے ہیں ۔ سال 2019-20 کے لیے سرکاری ترقیاتی پروگرام میں حکومت نے زیتون کی تجارتی کاشت کے فروغ کے لیے 2;46;3 بلین روپے مختص کیے ہیں ۔ پاکستان سالانہ چار بلین ڈالر خوردنی تیل کی درآمد پر خرچ کرتا ہے ۔
(بزنس ریکارڈر، 25 نومبر، صفحہ11)
نکتہ نظر
تیسری دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی پیداواری وسائل اور منڈی پر عالمی کمپنیوں کے اختیار اور قبضے کا سلسلہ زور پکڑتا جارہا ہے ۔ صوبہ سندھ جہاں کسانوں کی اکثریت بے زمین ہے وہاں ہوائی اور شمسی توانائی کے لیے ہزاروں ایکڑ زمین دینا اور گنے کی پیداوار میں اضافے کے لیے سرکاری سطح پر منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنا اس کی کچھ مثالیں ہیں ۔ یاد رہے کہ ہوائی اور شمسی توانائی کے زیادہ تر منصوبے بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے ہیں جو اپنے کاروبار اور منافع کے لیے حکومتی مراعات حاصل کررہی ہیں ۔ سندھ و پنجاب میں کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی ناصرف اس فصل سے جڑے لاکھوں کسان مزدورں کے روزگار میں کمی کی وجہ ہے بلکہ ملکی معیشت و صنعت کو بھی شدید متاثر کررہی ہے جس کا نتیجہ صنعتی مزدوروں کی بیروزگاری کی صورت نکلتا ہے ۔ لیکن حکومت کی ترجیحات میں کپاس کے بجائے گنے کی پیداوار میں اضافہ شامل ہے کیونکہ گنا اتھنول یعنی نباتاتی ایندھن کی پیداوار کا ایک بنیادی جز ہے جو مغربی ممالک خصوصاً یورپی ممالک کی اولین ضرورت اور مقامی سرمایہ داروں کے لیے منافع بخش بھی ہے ۔ شوگر مل مالکان سرکاری مراعات سے فائدہ اٹھا کر اتھنول اور چینی برآمد کرکے بے تحاشہ منافع کمارہے ہیں اور گنا کاشت کرنے والے چھوٹے کسان جائز قیمت اور ملوں پر واجب الادا اپنے بقایاجات کے حصول کے لیے سڑکوں پر احتجاج پر مجبور ہیں ۔ ملک میں پانی کی قلت کے تناظر میں گنا اور چاول کی ضرورت سے زیادہ پیداوار کو فروغ دینا کسی طور پائیدار عمل نہیں ہے کیونکہ پاکستان پہلے ہی پانی کی شدید کمی کا شکار ہے اور اکثر چھوٹے کسان پانی کی کمی کی وجہ سے غذائی فصلوں کی کاشت سے بھی محروم رہ جاتے ہیں ۔ ملک میں زیتون کی کاشت کا فروغ بھی اسی سلسلے کی کڑی نظر آتی ہے ۔ یہ حیرت انگریز امر ہے کہ جس ملک کی تقریباً آدھی عوام غربت و بھوک کا شکار ہے، جس کے لیے مہنگا کنولا تیل خریدنا ہی ایک مسئلہ ہے، وہ کس طرح دگنی سے بھی زیادہ قیمت کا زیتون کا تیل استعمال کرسکتے ہیں ، زیتون کی پیداوار میں اضافے سے خوردنی تیل کی درآمد میں کمی کا یہ منصوبہ بظاہر ناقص اور عالمی و ملکی اشرافیہ کے لیے عمدہ غذائیت کے حصول کا ایک زریعہ معلوم ہوتا ہے جس سے خوردنی تیل کی درآمد میں کمی شاید ممکن نہیں ۔
نومبر 14 تا 20 نومبر، 2019
زمین
پشاور کے کئی دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے پشاور نادرن بائی پاس کی تعمیر کے لئے زمینوں سے کسانوں کو جبراً بے دخل کرنے کے خلاف تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ پشاور پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کسان نمائندوں نبی جان، اسماعیل خان، سکندر خان و دیگر کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 80 سالوں سے اس زمین پر کاشتکاری کررہے ہیں جو ان کا واحد ذریعہ روزگار ہے۔ حکومت پشاور نادرن بائی پاس کی تعمیر کے لیے معاوضہ اور متبادل زمین دیے بغیر ان کی زمینوں پر قبضہ کررہی ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت نا صرف ان کا روزگار چھین رہی ہے بلکہ انہیں گھروں سے بھی محروم کررہی ہے اور معاوضہ دینے سے گریزاں ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ شاملات کی زمین تھی جسے ان کے بزرگوں نے 80 سال پہلے زرعی زمین میں تبدیل کیا اور اب انہیں جبراً ان زمینوں سے بے دخل کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ کسان رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں حراساں کرنا بند کیا جائے، ان کے خلاف مقدمات واپس لیے جائیں، زراعت اور رہائش کے لیے متبادل زمین دی جائے اور معاوضہ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔
(ڈان، 20 نومبر، صفحہ7)
زراعت
خیبرپختونخوا حکومت نے صارفین کے لیے پھل اور سبزیوں کی طلب پوری کرنے کے لیے ہر تحصیل میں دو کسان منڈیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلی خیبرپختونخوا نے ہدایت کی ہے کہ کسانوں کو مفت جگہ اور خدمات مہیا کی جائیں۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 14 نومبر، صفحہ6)
اقوام متحدہ کا ادارہ برائے خوراک و زراعت (فاؤ) نے خیبر پختونخوا میں حال ہی میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں میں تقریباً 8,000 گھرانوں کو ربیع پیکج کی تقسیم شروع کردی ہے۔ ان گھرانوں میں 410 وہ گھرانے بھی شامل ہیں جن کی سربراہ عورتیں ہیں۔ یہ پیکج برطانوی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ) کے تعاون سے چلنے والے منصوبے ”کے پی مرجڈ ڈسٹرکٹ پروگرام“ کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت فاؤ ہر گھرانے کو 50 کلوگرام گندم کے، 25 کلو گرام مٹر کے بیج اور چارے کے لئے استعمال ہونے والی گھاس (روڈس گراس) کے بیج فراہم کررہا ہے۔ اس کے علاوہ مزید 1,000 گھرانوں کو یہ پیکج جاپان انٹرنیشنل کارپوریشن ایجنسی (جائیکا) کے تعاون سے فراہم کیے جارہے ہیں۔ موسمی تبدیلی سے مطابقت رکھنے والے فصلوں کے بیج فصلوں کی پیداوار بحال کرنے، غذائی تحفظ، اور کسانوں کی معیاری بیج کے حوالے سے خو دانحصاری میں اضافے کے لیے فراہم کیے گئے ہیں۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 15 نومبر، صفحہ6)
پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کا کہنا ہے کہ زرعی شعبے کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف کسان لاہور میں 27 نومبر کو ”کسان کشکول جلوس“ نکالیں گے۔ کسان مال روڈ پر گزرنے والی گاڑیوں سے فصلوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھیک مانگیں گے۔ یہی احتجاج اگلے دن 28 نومبر کو اسلام آباد مارکیٹ پر ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانچ روپے فی یونٹ رعایتی قیمت پر بجلی فراہم نہ کرنے کے خلاف کسان اپنے ٹیوب ویلوں کے بل بھی ادا نہیں کریں گے۔ کسانوں کے مطالبات میں گندم کی امدادی قیمت میں 300 روپے فی من اضافہ، کپاس اور مکئی کے کاشتکاروں کو فی ایکڑ 25,000 روپے کی فراہمی جن کی پیداوار موسمی تبدیلی اور غیرمعیاری بیج کی وجہ سے 40 فیصد کم ہوئی ہے، کھاد کی قیمت پچھلے سال کے برابر کرنے، منڈی سے آدھے نرخ پر ڈیزل کی فراہمی اور گنے کی قیمت فی من 250 روپے مقرر کرنا شامل ہیں۔
(ڈان، 16 نومبر، صفحہ2)
ایوان زراعت سندھ نے صوبائی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ اگلے سال گندم اور آٹے کی قلت سے تحفظ کے لیے اس موسم میں گندم کی شفاف خریداری کو یقینی بنائے۔ ایوان زراعت سندھ کے نومنتخب صدر میران محمد شاہ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ابھی درست اقدامات نہیں کیے تو اگلے سال کوئی خوراک کے بحران کو روک نہیں سکے گا۔ انھوں نے مزید مطالبہ کیا کہ سندھ کے کسانوں کے تحفظ کے لیے ٹماٹر کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے کیونکہ سندھ کے ٹماٹر 25 نومبر سے منڈی میں آنا شروع ہوجائینگے۔ اگر ٹماٹر کی درآمد نہیں روکی گئی تو کسانوں کو بہت زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گنے کی فصل کٹائی کے لیے تیار ہے لیکن شوگر مل مالکان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے گنے کی قیمت اور اس کی کرشنگ کی تاریخ اب تک مقرر نہیں کی گئی ہے۔ کسانوں کو خدشہ ہے کہ سندھ حکومت گنے کی قیمت 192 روپے فی من مقرر کرے گی جیسے کہ پنجاب حکومت نے 190 روپے فی من مقرر کی ہے، لیکن ایوان زراعت سندھ اس سال 250 روپے فی من سے کم کوئی قیمت قبول نہیں کرے گا۔
(ڈان، 18نومبر، صفحہ15)
ضلع لاڑکانہ کے مختلف علاقوں میں ٹڈی دلوں کے حملہ سے امرود کے باغ، حال ہی میں کاشت کیا جانا ولا گندم اور دھان کی کچھ اقسام کو نقصان پہنچا ہے۔ ایوان زراعت سندھ کے ضلعی صدر سراج الاولیاء کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل آغانی، چھوہوپور، پارو جو ڈیرو اور دیگر علاقوں میں امرود کے باغوں کو کھارہے ہیں وہ بھی ایسے وقت میں جب فصل تیار ہونے والی ہے۔ ٹڈی دلوں نے چارے کے علاوہ موسمی سبزیوں خصوصاً ٹماٹر اور بھنڈی کی فصل بھی ہڑپ کرلی ہے۔
(ڈان، 20 نومبر، صفحہ17)
گندم
مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کسانوں کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے گندم کی امدادی قیمت میں 50 روپے اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے بعد گندم کی امدادی قیمت 1,350 روپے فی من ہوگئی ہے۔ یہ اضافہ پانچ سال کے وقفے کے بعد کیا گیا ہے۔ 2014 میں حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 100 روپے بڑھا کر 1,300 روپے فی من کردی تھی۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے حکام کا دعوی ہے کہ قیمت میں اضافہ ملک میں گندم کی پیداوار میں اضافے کو فروغ دے گا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گندم کی عالمی صورتحال، پیداواری لاگت اور درآمد و برآمد جیسے دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ گندم کی پیداواری لاگت 2019-20 میں پنجاب میں 1349.57 روپے اور سندھ میں 1315.72 روپے فی من ہوگئی تھی۔
(ڈان، 14 نومبر، صفحہ10)
وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان نے سندھ میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا الزام سندھ حکومت پر عائد کیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ تاریخ میں پہلی بار سندھ حکومت نے گزشتہ موسم میں کسانوں سے گندم نہیں خریدی۔ سندھ حکومت نے وفاقی وزارت کو آگاہ کیا تھا کہ وہ 1.6 ملین ٹن گندم خریدے گی لیکن وہ ناکام رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ میں پہلی بار چیف سیکریٹری اور سیکریٹری خوراک سندھ نے وفاقی حکومت سے 400,000 ٹن گندم ترسیل کرنے کی درخواست کی تھی، اور ان کے مطابق یہ مقدار صوبے کے لیے کافی ہوگی۔
(ڈان، 15 نومبر، صفحہ10)
وفاقی حکومت نے باضابطہ طور پر سندھ کو گندم کی فراہمی شروع کردی ہے۔ وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان نے حیدرآباد میں پاسکو کے گودام سے گندم کے اجراء کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سندھ کو گندم کی فراہمی پاسکو کے رانی پور اور خیرپور کے گوداموں سے بھی شروع ہوگئی ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 16 نومبر، صفحہ4)
پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلکچول فورم (پی بی آئی ایف) کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ حکومت گندم کی قیمت کو مستحکم رکھنے کی کوشش کررہی ہے جس میں میابی نہیں ملی۔ گندم کی قیمت میں استحکام کے لیے حکومت کو اس کی بلا محصول درآمد کی اجازت دینی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے کیونکہ حکومت کا دعوی ہے کہ اس کے پاس 4.5 ملین ٹن گندم موجود ہے جبکہ نجی شعبہ 300,000 ٹن گندم برآمد کرنے کی اجازت مانگ رہا ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں گندم کے ذخائر دباؤ کا شکار ہیں اور زیر گردش افواہیں قیمت میں اضافے کی وجہ بن رہی ہیں جبکہ گندم کی افغانستان غیرقانونی ترسیل بھی بلاروک ٹوک جاری ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 17 نومبر، صفحہ3)
کپاس
ایک خبر کے مطابق آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے وزارت تجارت پر موزمبیق، مالی اور تاجکستان سے کپاس کی درآمد پر پابندی اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل محکمہ تحفظ نباتات ڈاکٹر فلک ناز سے بات کرتے ہوئے اپٹما کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شاہد ستار کا کہنا تھا کہ ملوں کو موزمبیق، مالی اور تاجکستان سے سے کپاس کی درآمد کے لیے اجازت نامے کے حصول میں مشکلات درپیش ہیں جبکہ ان ممالک سے ماضی میں کپاس کی درآمد کی اجازت تھی۔ حال ہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے رکن رضا نصراللہ نے وسط ایشیائی ریاستوں سے کپاس کی درآمد پر عائد بھاری محصول کا معاملہ اٹھایا تھا، ان کا کہنا تھا کہ درآمدی محصولات امریکی کپاس کی قیمت سے زیادہ ہیں۔
(بزنس ریکارڈر، 15 نومبر، صفحہ5)
وفاقی حکومت نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی سفارش پر کپاس کے بیج کو پانچ فیصد سیلز ٹیکس سے مستثنی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے جو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی حتمی منظوری سے مشروط ہے۔ وزارت کی سمری کے مطابق اس وقت تقریباً 1,200 جننگ کے کارخانے پھٹی سے کپاس الگ کرنے کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ کپاس سے الگ کیا گیا بیج خوردنی تیل کے 6,000 کارخانے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کی کپاس کی سالانہ پیداوار تقریباً 40 ملین ٹن ہے جس سے 400,000 ٹن کھانے کا تیل پیدا ہوتا ہے۔ یہ مقدار ملک میں خوردنی تیل کی کل پیداوار کا 60 سے 70 فیصد کے برابر ہے۔ حکومت نے کپاس سے حاصل ہونے والے بیج پر پانچ فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا تھا جبکہ دوسری طرف اس بیج سے حاصل ہونے والا کھل (کاٹن سیڈ کیک) مال مویشی شعبہ میں استعمال ہوتا ہے اور ٹیکس سے مستثنی ہے۔ ٹیکس میں اس چھوٹ کی وجہ سے کسان اور ڈیری فارمرز کی جانب سے اس بیج کا بطور مویشیوں کی خوراک استعمال بڑھ رہا ہے بجائے اس کے کہ اس بیج سے تیل حاصل کیا جائے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 20 نومبر، صفحہ20)
گنا
مختلف کسان تنظیموں اور کسانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملوں نے گنے کی کرشنگ شروع نہیں کی اور سندھ حکومت نے گنے کی قیمت 250 روپے فی من مقرر نہیں کی تو کسان صوبے بھر میں احتجاجی مہم چلانے پر مجبور ہونگے۔ میرپورخاص میں مقامی کسان رہنماؤں مقصود راجپوت، ندیم بھرگڑی، خالد آرائیں اور دیگر کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے کسانوں کے خلاف سازش کے تحت اب تک گنے کی قیمت کا اعلامیہ جاری نہیں کیا ہے۔ گنا کمشنر نے بھی اب تک ملوں پر گنے کی کرشنگ شروع کرنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملوں کو اس سال چینی کی پیداوار کے لیے ضلع سے باہر سے گنا خریدنا پڑے گا کیونکہ کئی کسانوں نے نقصان اٹھانے کے بعد گنے کا زیر کاشت رقبہ کم کردیا ہے۔
(ڈان، 18 نومبر، صفحہ15)
ایک خبر کے مطابق سال 2019-20 میں گنے کی پیداوار 67.17 ملین ٹن سے 3.8 فیصد کم ہوکر 64.77 ملین ٹن ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق 2019-20 میں گنے کا کل زیر کاشت رقبہ 1.06 ملین ہیکٹر ہے جو گزشتہ سال 1.1 ملین ہیکٹر تھا۔ تاہم اس کمی کے نتیجے میں کپاس کے زیرکاشت رقبے میں اضافہ نہیں ہوا۔ پاکستان گزشتہ کئی سالوں سے ہر سال پانچ بلین ڈالر مالیت کی اوسطاً چار ملین کپاس کی گانٹھیں درآمد کررہا ہے۔ حکومت نے کپاس کے شعبے کو وزیر اعظم کے 309 بلین روپے کے زرعی ہنگامی پروگرام میں شامل نہیں کیا ہے۔ اس شعبہ کا مجموعی قومی پیداوار میں 0.8 فیصد حصہ ہے۔ اسی منصوبے کے تحت گنے کے پیداواری شعبہ میں 3.9 بلین روپے خرچ ہونگے۔ گنے کے زیر کاشت رقبے اور پیداوار میں کمی کی بنیادی وجہ چاول اور مکئی کے زیر کاشت رقبے اور پیداوار میں اضافہ ہے۔ اس سال 3,036,000 ہیکٹر پر چاول کاشت کیا گیا ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے 8.05 فیصد زیادہ ہے۔ اسی سال 1,386,460 ہیکٹر رقبے پر 6.93 ملین ٹن مکئی کاشت کیا گیا۔ مکئی کی پیداوار میں ہونے والا یہ اضافہ 1.53 فیصد ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 19نومبر، صفحہ2)
ٹماٹر
حکومت نے ٹماٹر کی بڑھتی ہوئی قیمت کم کرنے کی غرض سے محدود مدت کے لیے ایران سے ٹماٹر درآمد کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ مقامی منڈی میں ٹماٹر کی قیمت 300 روپے فی کلو تک پہنچ گئی تھی۔ ایران سے ٹماٹر کی کھیپ اگلے چار دنوں میں پہنچنا شروع ہوجائے گی۔ وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان کا کہنا ہے کہ یہ ٹماٹر کی موسمی قلت ہے کیونکہ اس موسم میں بلوچستان سے ٹماٹر کی ترسیل بند ہوجاتی ہے جبکہ سندھ کی پیداوار منڈی میں آنے میں کچھ ہفتے باقی ہوتے ہیں۔ ایران سے کوئٹہ پہنچ کر ٹماٹر کی قیمت 53 روپے فی کلو گرام ہوگی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 15 نومبر، صفحہ13)
مال مویشی
وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ 18 تا 20 نومبر کو ہونے والی مال مویشی نمائش کے انعقاد کے ذریعے ان کی حکومت صوبے میں سرمایہ کاری میں اضافے کی کوشش کررہی ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی میں ہونے والی یہ تین روزہ نمائش صوبے میں اب تک کی سب سے بڑی نمائش ہوگی۔ وزیر اعلی کے مشیر برائے مال مویشی مٹھاخان کاکڑ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس نمائش کا مقصد صوبے میں گائے کے فارموں کو فروغ دینا اور ملک میں گوشت کی پیداوار کو بڑھانا ہے۔
(ڈان، 13 نومبر، صفحہ5)
زرعی قرضہ جات
گزشتہ سال زرعی شعبہ کو ایک ٹریلین روپے کے قرضہ جات کی فراہمی کا ہدف حاصل کرنے کے بعد اسٹیٹ بینک نے اگلے سال کے لیے 1.35 ٹریلین روپے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار زرعی شعبہ کے لئے قرض کی فراہمی ایک ٹریلین روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔
(ڈان، 20 نومبر، صفحہ10)
آبپاشی
شہید بے نظیر آباد اور میرپورخاص میں دو آبپاشی نہروں میں شگاف پڑنے سے کئی دیہات اور سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیر آب آگئی ہیں۔ میرپورخاص کے متاثرین کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے کہ وہ بھرائی کا کام شروع کرتے شگاف 20 فٹ تک بڑھ گیا تھا۔ کئی گھنٹوں بعد محکمہ آبپاشی کے حکام مطلوبہ مواد اور مزدورں کے ساتھ شگاف پر کرنے کے لئے ان کے ساتھ شامل ہوئے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ تقریباً 500 ایکڑ پر کھڑی فصل تباہ ہوگئی اور دیہاتوں میں گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا ہوگیا ہے۔ ضلع شہید بینظیر آباد میں بھی دوڑ ٹاؤن میں جیمز مائنر میں 60 فٹ چوڑا شگاف پڑا۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ سیلاب سے سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بہہ گئیں۔ کسانوں نے محکمہ آبپاشی کے مقامی حکام کو اطلاع دی لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ اپنی مدد آپ کے تحت مقامی افراد شگاف پرکرنے میں شام تک مصروف تھے۔
(ڈان، 17 نومبر، صفحہ17)
جنگلات
سندھ حکومت حال ہی میں واگزار کروائی گئی جنگلات کی ہزاروں ایکڑ زمین کو قبضہ مافیا سے محفوظ رکھنے اور موسمی تبدیلی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے نئی جنگلات پالیسی مرتب کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ ”سسٹین ایبل فاریسٹ مینجمنٹ پالیسی“ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ہوگی جس میں واگزار کروائی گئی زمین کو موسمی تبدیلی کے تناظر میں جنگلات میں تبدیل کیا جائے گی۔ پالیسی کے مطابق خالی کرائی گئی زمین جلد ازجلد جنگلات میں تبدیل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ سندھ میں جنگلات کی کل زمین 888,206 ایکڑ ہے اور عدالت کے حکم پر 218,000 ایکڑ زمین واپس لی گئی ہے۔
(ڈان، 18 نومبر، صفحہ13)
غذائی کمی
وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہو نے سندھ اسمبلی کو آگاہ کیا ہے کہ غذائی کمی کی وجہ سے صوبے کے پانچ سال سے کم عمر تقریباً آدھے بچے نشونما میں کمی کا شکار (اسٹنٹڈ) ہیں جبکہ 41 فیصد بچے وزن میں کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 10 سے 19 سال عمر کی 16.6 فیصد لڑکیاں اور 30.6 فیصد لڑکے وزن کی کمی کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ 61.2 فیصد بالغ لڑکیاں اور 45.3 فیصد تولیدی عمر کی عورتیں (وومن آف ریپروڈکٹو ایج) خون کی کمی کا شکار ہیں۔
(ڈان، 14 نومبر، صفحہ16)
اس ہفتے کی زرعی خبروں میں سرفہرست خبر زمین سے متعلق ہے۔ ملک بھر میں شاہراؤں کی تعمیر سے لے کر ڈیم و خصوصی اقتصادی زون کی تعمیر تک ہر سطح پر اس ملک کے کسانوں نے سب سے زیاد زمین سے بیدخلی، قبضہ اور اپنے روزگار سے محرومی کی صورت قیمت چکائی ہے۔ نادرن بائی پاس پشاور منصوبہ بھی اس کی ایک مثال ہے جہاں حکومت دہائیوں سے آباد کسانوں کو ناصرف معاوضہ ادا کرنے سے انکاری ہے بلکہ انہیں جبراً بیدخل کرنے کے لیے جھوٹے مقدمے اور ان کے خاندانوں کو حراساں کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ یہ صورتحال ملک میں شدید ہوتی ہوئی دو طبقاتی تفریق کو واضح کرتی ہے کہ کہیں عدالتیں اور سرکاری مشینری ہزاروں ایکڑ پر قبضہ کرنے والے سرمایہ داروں کے قبضہ کو پیسے کے بدلے جائز قرار دیتی ہیں اورکہیں زمینی قبضے کی شکار ہونی والی آبادیوں کو ان کے جائز معاوضے اور روزگار سے محروم کرنے کے لیے پوری سرکاری مشینری استعمال ہوتی ہے۔ ایک طرف غریبوں کے گھر مسمار کرکے ان کی زرعی زمینیں بلامعاوضہ چھین کر انہیں بھوک اور بیروزگاری میں مبتلا کیا جاتا ہے اور دوسری طرف یہی سرمایہ داری نظام غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کا جھانسہ دے کر تجارتی کمپنیوں کے لیے منافع اور کاروبار کی راہ ہموار کررہاہے۔ فاٹا کے قبائلی علاقوں میں بیجوں کی تقسیم ان علاقوں میں غیرپائیدار زراعت کو فروغ دینے کی ایک مزموم کوشش نظر آتی ہے جس کا انجام ماحولیاتی آلودگی، زہریلی خوراک اور کمپنیوں کی محتاجی کے سوا کچھ نہیں۔ اس غیرپائیدار زہریلی زراعت کے اثرات آج ملک کی ہر اہم فصل پر واضح ہیں۔ چاول اور مکئی کی فصل کمپنیوں کے فراہم کردہ زہریلے بیجوں کی وجہ سے کسانوں کو شدید نقصان سے دوچار کرنے کا سبب بنی ہے جبکہ کپاس کے شعبہ کی تباہی نے ناصرف کسانوں بلکہ ملکی معیشت، کارخانوں اور مزدوروں کو بھی بدحالی سے دوچار کردیا ہے۔
یہ نیولبرل یا آزد تجارتی پالیسیوں کا ہی اثر ہے کہ گندم کی اضافی پیداوار کرنے والا ملک آج گندم کی پیدا کی گئی مصنوعی قلت کی بدولت ناصرف اسے برآمد کرنے پر غور کررہا ہے بلکہ عوام انتہائی مہنگا گندم و آٹا اور دیگر غذائی اشیاء خریدنے پر مجبو کردیے گئے ہیں۔ ان سفاک پالیسیوں کا ہی اثر ہے کہ ملک میں خوراک اگانے والے چھوٹے کسان مزدور اور عوام دونوں ہی بھوک اور غذائی کمی سے دوچار ہیں جبکہ اس تمام پیداواری اور تجارتی مرحلوں سے جڑی کمپنیاں اور کاروباری اشرافیہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کررہی۔