اگست 2019

اگست 22 تا 28 اگست، 2019
زراعت
سندھ کابینہ نے ”سندھ وومن ایگری کلچر ایکٹ 2019“ منظور کرلیا ہے۔ اس قانون کا مقصد دیہات میں رہنے والی عورتوں کو بااختیار بنانا ہے۔ وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے اس حوالے سے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایکٹ ایک ہفتے کے اندر سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جس کی منظوری کے بعد زرعی مزدور عورتوں کے حقوق کو تحفظ ملے گا۔ اس ایکٹ کے تحت کاشتکاری، ماہی گیری، مرغبانی اور مال مویشی شعبہ میں کام کرنے والے زرعی مزدور تصور کیے جائیں گے جنہیں صنعتی مزدوروں جیسے حقوق حاصل ہونگے۔
(ڈان، 25 اگست، صفحہ15)
گندم
گارڈ ایگریکلچرل ریسرچ اینڈ سروسز کے سربراہ شہزاد علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں 2020 تک گندم کا ہائبرڈ بیج دستیاب ہوگا اور توقع ہے کہ یہ بیج ملک میں اس وقت کاشت کیے جانے والے روایتی بیجوں کے مقابلے 40 سے 45 فیصد پیداوار میں اضافے کے لیے معاون ہوگا۔ اس حوالے سے بیجنگ اکیڈمی آف ایگریکچرل سائنس کے تعاون سے کام جاری ہے اور گزشتہ پانچ سالوں کے دوران اس منصوبہ پر 2.5 ملین ڈالر خرچ کئے جاچکے ہیں۔ اس ہائبرڈ گندم کا ذائقہ روایتی گندم جیسا ہی ہوگا۔ ہائبرڈ بیج پر جانچ ابھی جاری ہے جس کے حوصلہ افزا نتائج مل رہے ہیں۔ اس سال کے آغاز میں محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی، ملتان کے سائنسدانوں نے دعوی کیا تھا کہ انھوں نے موسمی تبدیلی سے مطابقت رکھنے والا گندم کا ہائبرڈ بیج تیار کیا ہے جس سے عام طور پر دستیاب بیج کے مقابلہ 35 سے 40 فیصد پیداوار بڑھ جائیگی۔ اس ہائبرڈ گندم کا تجربہ کرتے ہوئے اسے دو شہروں ملتان اور فیصل آباد میں کاشت کیا گیا تھا۔ ملتان میں فی ایکڑ 66 من جبکہ فیصل آباد میں 60 من فی ایکڑ پیدوار حاصل ہوئی، گندم کی عام اقسام سے زیادہ سے زیادہ پیدوار 35 سے 40 من حاصل ہوتی ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 24 اگست، صفحہ20)
کھجور
خیرپور میں شہید بے نظیر بھٹو اوپن ائیر تھیٹر میں دسویں سالانہ کھجور میلہ کا آغاز کردیا گیا۔ میلہ میں کھجور کے کاشتکاروں، مختلف صوبائی محکموں اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے کھجور کے 60 سے زائد اسٹال لگائے گئے۔ میلہ کا افتتاح کرتے ہوئے سابق وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے کاشتکاروں کو مشورہ دیا کہ وہ صرف بھارت کو چھوہارے کی برآمد تک خود کو محدود نہ کریں بلکہ دیگر ممالک میں بھی کھجور کی برآمد بڑھانے کے مواقع تلاش کریں۔ اس حوالے سے کاشتکاروں کو وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مدد حاصل کرنی چاہیے۔
(ڈان، 25 اگست، صفحہ17)
کھاد
ایک خبر کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت نے مٹھی بھر صنعتکاروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے 208 بلین روپے معاف کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ سابقہ دونوں حکومتیں بھی گیس انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کی مد میں واجب الاد یہ رقم وصول کرنے میں ناکام رہی تھیں۔ صنعتکاروں کو دی جانے والی یہ چھوٹ عوام خصوصاً غریب کسانوں کے ساتھ ناانصافی ہے جو پہلے ہی رقم ادا کرچکے ہیں لیکن صنعتکاروں نے اسے قومی خزانہ میں جمع کروانے سے انکار کردیا اور عدالت سے رجوع کرلیا۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ایک زیلی کمیٹی کے اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل گیس کی جانب سے دئیے گئے ایک بیان کے مطابق حکومت ایک صدارتی آرڈیننس جاری کرنے کے عمل میں ہے۔ دسمبر 2018 کے اختتام تک جی آئی ڈی سی کی مد میں کل واجبات 416 بلین روپے تھے۔ مجوزہ آرڈیننس کے مطابق صرف چار صنعتی شعبہ جات کیمیائی کھاد، کپڑا، بجلی کی پیداوار اور مائع قدرتی گیس (سی این جی) کے حق میں کل واجبات کی نصف رقم معاف کردی جائیگی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 22 اگست، صفحہ13)
روغنی بیج
وفاقی حکومت پنجاب میں 5,115 ملین روپے کی لاگت کا روغنی بیجوں کی پیداوار میں اضافے کا منصوبہ ”نیشنل آئل سیڈ انہاسمنٹ پروگرام“ شروع کرنے جارہی ہے۔ اس منصوبہ پر پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں عملدرآمد کیا جائے گا۔ منصوبے پر پنجاب حکومت 3,069 ملین روپے جبکہ 2,046 ملین روپے وفاقی حکومت خرچ کرے گی۔ محکمہ زراعت پنجاب کے حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد روغنی بیج کی فصلوں کو نقد آور فصلوں کے برابر لانا، کم پیداوار کے مسائل حل کرنا، روغنی بیج کی پیداوار کے بعد ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے زرعی مشینری کو فروغ دینا اور اچھی پیداوار حاصل کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت وفاقی حکومت کے اشتراک سے پنجاب کے کسانوں کو اعلی معیار کے روغنی بیج فراہم کیے جائیں گے اور ہر سال روغنی بیجوں کی درآمد پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر کی بچت ہوگی۔ حکومت روغنی بیج کاشت کرنے والے کسانوں کو فی ایکڑ 5,000 روپے زرتلافی بھی ادا کرے گی۔
(بزنس ریکارڈر، 28 اگست، صفحہ16)
ماہی گیری
بدین میں ماہی گیروں نے سندھ حکومت کی جانب سے ساحلی علاقوں اور میٹھے پانی کے وسائل میں ماہی گیری کے لیے ٹھیکیداری نظام دوبارہ نافذ کیے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین ڈپٹی کمشنر چوک پر جمع ہوئے اور بدین پریس کلب تک جلوس کی شکل میں پہنچ کر کئی گھنٹوں تک احتجاج کیا۔ ماہی گیروں کی ایک غیر سرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ محکمہ ماہی گیری سندھ کے ڈائریکٹر جنرل نے کچھ ماہ پہلے وزیراعلی کو ایک خط میں تجویز دی تھی کہ ماہی گیروں سے مچھلی کے شکار کی اجازت واپس لے لی جائے۔ اب افسران صوبہ کے تمام 1,209 آبی وسائل پر قبضے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ 500 آبی وسائل پہلے ہی زیر قبضہ ہیں۔ ماہی گیروں کی اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے تاریخی جدوجہد کے بعد سندھ اسمبلی نے 2011 میں صوبہ کے آبی وسائل پر ان کا حق کو تسلیم کرتے ہوئے ایک بل منظور کیا تھا۔ دو سال پہلے سندھ ہائی کورٹ نے بھی دائر کردہ ایک درخواست پر صوبائی حکومت کو جھیلوں اور دیگر آبی وسائل پر سے قبضہ ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ تنظیم نے فوری طور پر حقیقی ماہی گیروں کو لائسنس جاری کرنے، بدین اور دیگر اضلاع میں آبی وسائل پر قابض افراد کو گرفتار کرنے اور مقامی ماہی گیروں کو دوبارہ مچھلی پکڑنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
(ڈان، 23 اگست، صفحہ17)
آبپاشی
بدین میں کادھان ٹاؤن کے قریب آر۔ڈی 45 کے مقام پر سانہی گونی نہر میں 30 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے وسیع رقبے پر کھڑی فصلیں اور قریبی دیہات زیر آب آگئے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انھوں نے فوری طور محکمہ آبپاشی کو اطلاع کردی تھی تاہم کوئی بھی شگاف پر کرنے کے لیے نہیں آیا، شگاف بڑھتا گیا اور آس پاس کے دیہات تیزی سے ڈوبتے چلے گئے۔ مقامی افراد نے محکمہ آبپاشی کے کم سطح کے عملے کی مدد سے خود شگاف بھرنا شروع کیا جس میں انہیں سخت مشکلات پیش آئیں۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کئی نہروں میں شگاف پڑے ہیں جس سے کسانوں کو بہت نقصان ہوا لیکن متعلقہ محکمہ تاحال کمزور پشتوں کی مرمت کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کررہا۔
(ڈان، 24 اگست، صفحہ17)
قدرتی بحران
کسان بورڈ پاکستان (کے بی پی) نے حکومت پر زور دیا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا جائے۔ نئی فصلوں کے لئے مالی مدد کے ساتھ ساتھ کسانوں پر واجب الادا قرضے بھی معاف کیے جائیں۔ کے بی پی کے مرکزی صدر چودہری نثار احمد کا کہنا ہے کہ صرف ضلع قصور کے ہی 50 دیہات میں ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصل متاثر ہونے خدشہ ہے جس سے اربوں روپے کا نقصان ہوسکتا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ گھروں کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے ہزاروں خاندان کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ انسانوں اور مویشیوں کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے اور ان میں مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ اس ہی طرح کی سیلابی صورتحال کا سامنا اوکاڑہ اور پاک پتن کے دیہات میں بھی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 24 اگست، صفحہ5)
نکتہ نظر
اس ہفتے کی خبروں کے مطابق سندھ میں زرعی مزدور عورتوں کے حوالے سے ایکٹ کی کابینہ سے منظوری، حکومت سندھ کا ایک اچھا قدم ہے جس سے زراعت میں کام کرنے والی عورتوں خصوصاً کپاس کی چنائی سے وابستہ عورتوں کی تکالیف کو کسی حد تک کم کیاجاسکتا ہے، اگر اس قانون پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ جاگیردارانہ، سرمایہ دارانہ ذہنیت کا حامل سیاسی و معاشی ڈھانچہ دوسری طرف صوبے کے ماہی گیروں کو ان کے بنیادی وراثتی حق سے محروم کرنے پر کمربستہ ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سندھ کے مختلف علاقوں میں ماہی گیر صوبے کے 500 سے زیادہ آبی وسائل پر بااثر جاگیرداروں کے قبضے کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں جس کا نتیجہ،خبر کے مطابق،انہیں دیگر آبی وسائل سے محرومی کی صورت ملا۔ جبکہ خود سندھ حکومت 2011 میں سندھ اسمبلی میں قانون سازی کے ذریعے ان ماہی گیروں کے مچھلی پکڑنے کے حقوق تسلیم کرچکی ہے اس کے باوجود ماہی گیری میں ٹھیکیداری نظام کا دوبارہ نفاذ زرعی مزدور عورتوں کے مجوزہ ایکٹ کے حوالے سے بھی خدشات کو جنم دے گا۔ ضروری ہے کہ حق انصاف کے ساتھ ادا ہو ناکہ صرف تسلیم ہو۔ انصاف پر مبنی وسائل کی تقسیم ہی خوشحال پائیدار سماج کی ضمانت ہوسکتی ہے۔
اگست 15 تا 21 اگست، 2019
زراعت
محکمہ زراعت پنجاب وفاقی حکومت کے اشتراک سے مشینی زراعت کو فروغ دینے اور تین اہم فصلوں چاول، گندم اور گنے کے بیج کی تبدیلی کے لئے ایک منصوبہ شروع کرنے جارہی ہے۔ محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد انجم علی نے حال ہی میں زرعی شعبہ سے وابستہ صحافیوں کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے 26 بلین روپے کے اس منصوبے کا انکشاف کیا۔ منصوبے پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منصوبے میں دیہی علاقوں میں زراعت کو منافع بخش بنانے اور پیداوار کو بہتر کرنے کے لئے تحقیق کے علاوہ روغنی بیجوں کی پیداوار کو فروغ دینا بھی شامل ہے۔ پاکستان 22 بلین روپے مالیت کے سبزیوں کے بیج، روغنی بیج اور چارے کے بیج درآمد کرتا ہے جبکہ مقامی طور پر صرف گندم، کپاس، باسمتی چاول اور گنے کے بیج کی پیداوار ہوتی ہے۔ 1976 کے بیج کے قانون کا کمزور نفاذ کسانوں کو معیاری بیج کی فراہمی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ تصدیق شدہ بیجوں کو اپنانے کا رجحان بہت کم ہے۔ باوجود اس کے کہ گندم ہماری بنیادی خوراک اور سب سے بڑی فصل ہے، کسان گندم کے بیج کو تبدیل کرنے کی طرف توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ اہم فصلوں کے قومی منصوبے اس مسئلے کے حل کے لیے تصدیق شدہ بیج رعایتی قیمت پر فراہم کررہے ہیں۔ اس پانچ سالہ منصوبہ کے لئے 60 فیصد رقم صوبائی حکومت جبکہ 40 فیصد رقم وفاقی حکومت ادا کریگی۔ یہ منصوبہ پیداوار میں اضافے اور پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت تصدیق شدہ بیجوں کی کاشت کو فروغ اور گندم کی بیجائی کی مشین (ویٹ پلانٹر) اور دیگر زرعی مشینری فراہم کی جائے گی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 15 اگست، صفحہ11)
کسان مزدور
ایک خبر کے مطابق پہلی بار زرعی شعبہ میں کام کرنے والی عورتوں کو رسمی طور پر مزدور تسلیم کا جائیگا اور وہ کم سے کم مقررہ اجرت کے ساتھ ساتھ طبی سہولیات اور دیگر مراعات کا مطالبہ کرسکیں گی۔ عورتوں کو محکمہ زراعت، ماہی گیری اور مال مویشی کے ذریعے قانونی، سماجی اور مالی تحفظ کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مسودہ قانون تیار کیا جارہا ہے جسے سندھ کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ ”سندھ وومن ایگریکلچر ورکرز ایکٹ“ نامی مجوزہ قانون کے تحت کسان مزدور عورتوں کا اندراج ہوگا اور انہیں سندھ حکومت کی مقرر کردہ کم سے کم اجرت دی جائے گی۔ عورتیں دن مین آٹھ گھنٹے کام کریں گی اور 90 روزہ زچگی چھٹیوں پر بھی جاسکیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ دو سال تک بچوں کو دودھ پلانے کے لئے انہیں محفوظ ماحول بھی فراہم کیا جائیگا۔ مزدور عورتیں سماجی تحفظ، قرضہ اور زرتلافی کے سرکاری منصوبوں سے فائدہ اٹھانے کی بھی اہل ہونگی۔ مسودہ کے مطابق عورتوں کو بیماری اور معمول کے طبی معائنے اور دیگر ضروریات کے لئے چھٹیاں لینے کا حق ہوگا اور ان کی ماہانہ تنخواہ سے کٹوتی نہیں ہوگی۔ مزدور عورتوں کو ملازمت کے حصول کا خط جاری کیا جائے گا۔ ان عورتوں کو اپنے حقوق و ذمہ داریوں کے لئے مزدور قوانین کے مطابق تنظیم سازی کی سہولت حاصل ہوگی۔ زرعی مزدور عورتوں کے درمیان ان کے کام، صنف، کام کے اوقات، ماحول، مذہب اور زبان کی بنیاد پرتفریق نہیں کی جائے گی۔ محکمہ صحت زرعی مزدور عورتوں کا اندراج کرے گا اور انہیں بے نظیر وومن ایگری کلچر ورکرز کارڈ جاری کیا جائے گا۔ مجوزہ قانون کے تحت حکومت سندھ مستقل طور پر ”بینظیر وومن سپورٹ پروگرام“ کا آغاز کرے گی جس کی سربراہی وزیر اعلی سندھ کریں گے۔ سندھ حکومت زرعی مزدور عورتوں کے لئے سہہ فریقی کونسل قائم کرے گی جو موسمی فصلوں کی بنیاد پر کھیتوں میں کام کرنے والی عورتوں کی اضافی اجرت کا تعین کرے گی۔ اس قانون کی رو سے تمام متعلقہ ادارے سندھ اسمبلی میں سہہ ماہی رپورٹ پیش کرنے کے پابند ہونگے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 17 اگست، صفحہ4)
گندم
محکمہ خوراک پنجاب نے آٹا ملوں کو سرکاری گندم ترسیل کرنے کی منظوری دیدی ہے، گندم کی ترسیل کا آغاز آج سے ہوگا۔ سرکاری گندم کی فراہمی پر 412 روپے فی من زرتلافی دی جائیگی جو آٹا ملوں کی جانب سے قیمت کم کرکے عوام کو کچھ مدد فراہم کرنے میں معاون ہوگی۔ حکومت کی جانب سے گندم کے اجراء کے بعد اس کی قیمت میں 40 سے 55 روپے فی من کمی کا امکان ہے۔ آٹا ملوں کو کھلی منڈی سے جو گندم کی بوری 1,787 روپے میں مل رہی تھی وہ اب 1,375 روپے میں دستیاب ہوگی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 16 اگست، صفحہ11)
کپاس
ملک میں کپاس کے زیر کاشت رقبے میں کمی کی وجہ سے سال 2019-20 میں کپاس کی 15 ملین گانٹھوں کی پیداوار کا ہدف پورا ہونے کا امکان نہیں ہے۔ یعنی پیداوار میں کمی کی وجہ سے حکومت کو 2.2 سے 2.5 ملین گانٹھیں کپاس درآمد کرنے کے لئے بھاری زرمبادلہ خرچ کرنا پڑے گا۔ گزشتہ سال کپاس کی چار ملین گانٹھوں کی درآمد پر 1.3 بلین ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 71.54 ملین ایکڑ ہدف کے مقابلے اس سال کپاس کا کل زیر کاشت رقبہ 69 ملین ایکڑ ہے۔ حکومت کپاس کی پیداوار بڑھانے میں کئی محازوں پر ناکام ہوئی ہے۔ کپاس کی ملکی ضرورت 15 سے 16 ملین گانٹھیں ہے جبکہ گزشتہ کئی سالوں سے اس کی پیداوار 11 سے 12 ملین گانٹھوں تک محدود ہے۔ پاکستان میں کپاس کی پیداوار دیگر ممالک میں 1,700 کلو گرام فی ہیکٹر کے مقابلے انتہائی کم 680 کلو گرام فی ہیکٹرہے۔
(ڈان، 18 اگست، صفحہ10)
کینو
کینو کے کاشتکاروں نے آنیوالے موسم میں کینو کی قیمت فروخت 600 روپے فی من (40 کلوگرام) مسترد کردی ہے اور اسے کاشتکاروں کو مالی نقصان پہچانے کے لئے تاجروں کی سازش قرار دیا ہے۔ کاشتکاروں کا یہ ردعمل آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹز ایسوسی ایشن اور کینو پروسسنگ کرنے والے کارخانوں کی جانب سے 2019-20 کی پیداوار کے حوالے سے حالیہ فیصلے کے بعد سامنے آیا۔ کاشتکاروں کے ایک گروہ نے متعلقہ حکام سے کاشتکاروں کی شکایات دور کرنے اور کینو کی معقول قیمت کے اعلان کا مطالبہ کیا ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قائمہ کمیٹی برائے باغبانی کے سابق چیئرمین احمد جواد کے مطابق گزشتہ سال کینو کی قیمت فروخت 850 روپے فی من تھی جبکہ اس سال کے لئے 600 روپے فی من قیمت جاری کی گئی ہے جو ناانصافی ہے کیونکہ ڈی اے پی، پوٹاش اور یوریا کھاد کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے بڑھ چکی ہیں جبکہ ڈیزل کی قیمت کے بارے میں تو ابھی بات ہی نہیں کی جارہی جس کی قیمت ریکارڈ بلند سطح پر ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی منظر نامہ اور سرکاری اداروں (آفیشل مکینزم) میں موجود کچھ گروہ سرگودھا میں قائم کینو کے پروسسنگ کارخانوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ پاکستانی کاشتکاروں نے سٹرس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سرگودھا کی مدد سے کامیابی کے ساتھ بغیر بیج کے کینو کی اقسام بھی کاشت کی ہیں۔
(ڈان، 15 اگست، صفحہ9)
سیکریٹری جنرل بزنس مین پینل احمد جواد نے چینی حکام کو تجویز دی ہے کہ چین کو لازمی طور پر سی پیک سمیت ہر راستے سے پاکستانی کینو برآمد کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔ پاکستانی کینو کی زیادہ مانگ کی وجہ سے چین پاکستانی کینو کی کم از کم 100,000 ٹن کی منڈی ہے۔ تاہم کینو کی برآمد اس پر منحصر ہے کہ ہم اس منڈی کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان نے فلپائن اور چین کی منڈیوں کو ہدف بنایا ہے اور اس سال کینو کی برآمد 20 فیصد تک بڑھنے کی توقع کی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 20 اگست، صفحہ5)
کھاد
سرکاری طور پر درآمد کی گئی 100,000 ٹن یوریا کراچی بندرگاہ پہنچ گئی ہے۔ وفاقی حکومت کی ہدایت پر ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) نے یوریا کی درآمد کے لئے پیشکش طلب کی تھیں۔ سب سے کم بولی دینے والی کمپنی امیروپا ایشیا کو ٹھیکہ دیا گیا جس نے 301.7 ڈالر فی ٹن قیمت پر یوریا فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔
(بزنس ریکارڈر، 16 اگست، صفحہ1)
پانی
منچھر جھیل میں پانی اس کی کم ترین سطح سے 110.5 فٹ بلند ہوگیا ہے۔ دریائے سند میں پانی میں اضافے کی وجہ سے آبپاشی حکام نے ارل ہیڈ اور ارل ٹیل کے ذریعے منچھر جھیل میں پانی جاری کیا ہے۔ سہون میں محکمہ آبپاشی کے انجینئر مہیش کمار نے کہا ہے کہ تین روز میں جھیل میں پانی کی سطح 109.6 فٹ سے بڑھ کر 110.5 فٹ ہوگئی ہے۔ جھیل میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے لیکن 114 فٹ پانی کی سطح تک کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جھیل پر گشت شروع کردیا گیا ہے اور تمام پشتے صحیح حالت میں ہیں۔
(ڈان، 16 اگست، صفحہ15)
کارپوریٹ
اینگرو کارپوریشن لمیٹڈ نے رواں سال کی دوسری سہماہی میں بعد از محصول 2.9 بلین روپے منافع کا اعلان کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ کمپنی کو فی حصص 4.97 روپے آمدنی ہوئی ہوئی ہے۔ اینگرو کارپوریشن کے منافع میں ہونے والا یہ اضافہ گزشتہ سال کے مقابلے 51 فیصد زیادہ ہے
(ڈان، 21 اگست، صفحہ10)
نکتہ نظر
پاکستان کی یہ بدنصیبی رہی ہے کہ کئی دہائیوں سے حکومت سرمایہ دار جاگیردار طبقہ اشرافیہ کے ہاتھ میں چلی آرہی ہے جس کی پالیسی سازی نے سب سے زیادہ زرعی شعبہ سے وابستہ چھوٹے اور بے زمین کسانوں کو متاثر کیا۔ برطانوی راج سے ہی زرعی زمینوں پر قابض اشرافیہ آج تک ملک کے کسان مزدور طبقہ کا استحصال کرتی آرہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کسان مزدوروں کو حقوق دینے کے لیے بنائے جانے والے قوانین تقریبا غیرموثر ہیں جن پر شاز و نادر ہی عملدرآمد ہوتا ہے۔ اس ہفتے کی سرفہرست دو خبریں اس تضاد کو صاف ظاہر کررہی ہیں۔ یقینا زرعی شعبہ میں کام کرنے والی مزدور عورتوں کے لیے مجوزہ قانون انہیں قانونی طور پر تحفظ فراہم کرتا ہے، لیکن سماجی طور پر یہ ان کے حق کا متبادل ہرگز نہیں ہوسکتا جب تک کہ بے زمین کسان مزدور مرد و عورتوں کے درمیان منصفانہ اور مساویانہ زمین کی تقسیم نہ ہو۔ اس پدر شاہی سماج میں عورتوں کو سماجی تحفظ انہیں بلاامتیاز معاشی طور پر خودمختار بنا کر ہی دیا جاسکتا ہے ناکہ صرف قانونی مسودوں میں۔ ایک اور خبر میں زرعی شعبہ میں پیداوار میں اضافے کے لیے کسانوں کو بیج تبدیل کرنے، جدید مشینری کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور اس کے لیے حکومت اربوں روپے مختص بھی کررہی ہے۔ یہ حکومتی پالیسی کسانوں کی نہیں بلکہ زراعت میں بیج، کیمیائی کھاد، زرعی زہر اور دیگر مداخل فروخت کرنے والی بین الاقوامی زرعی کمپنیوں کے منافع میں اضافے اور عالمی منڈی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہے جس سے کسانوں کی پیداوار میں تو شاید اضافہ کچھ ہوجائے لیکن ان کی آمدنی ان مہنگے ہوتے مداخل کے استعمال سے کم ہوتی جاتی ہے، کسان کمپنیوں کے بیج کا محتاج ہوجاتا ہے جو بغیر کیمیائی مداخل کے پیداوار نہیں دیتے۔ کیمیائی کھاد فروخت کرنے والی کمپنیوں کے منافع میں اربوں روپے کا اضافہ اور کسانوں میں بڑھتی ہوئی غربت، بھوک، غذائی کمی اور بیروزگاری اس شیطانی چکر کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ لازم ہے کہ اس ملک کے چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور اس شیطانی چکر سے نکلیں اور پالیسی سازی اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے جدوجہد کریں۔
اگست 8 تا 14 اگست، 2019
پانی
وزیر اعظم عمران خان نے سندھ میں پانی سے متعلق دیرینہ مسائل کے حل کے لیے واپڈا کو باضابطہ طور پر دریائے سندھ پر بیراج تعمیر کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ منصوبے کا مقام ٹھٹھہ سے 65 کلو میٹر جنوب اور کراچی سے 130 کلو میٹر مشرق میں دریا کے سمندر میں گرنے کے مقام سے 45 کلو میٹر اوپر واقع ہے جسے ”سندھ بیراج“ کا نام دیا گیا ہے۔ سندھ بیراج کو کوٹری بیراج کے زریں علاقوں سے شروع ہونے والے پانی کے تقریباً تمام مسائل بشمول زیر زمین سمندری پانی بڑھنے سے لیکر ڈیلٹا میں زمینی کٹاؤ تک، موسمی تبدیلی کے منفی اثرات سے لیکر دلدلی زمین، مینگروز، سمندری حیات کے خاتمے اور آبپاشی و گھریلو استعمال کیلئے پانی کی عدم دستیابی کے مسائل حل کرنے کے لئے ایک بڑا منصوبہ قرار دیا جارہا ہے۔ وزیر اعظم کو چیئرمین واپڈا ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل مزمل نے منصوبے سے متعلق فراہم کردہ معلومات میں کہا ہے کہ منصوبے کے مقاصد میں 4.1 ملین ایکڑ فٹ کے قیمتی آبی وسائل کو استعمال کرنے کے لئے دو سے تین ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنا، اردگرد کے علاقوں میں زراعت کے لئے پانی کی فراہمی، کوٹری بیراج کے علاقے میں دریائے سندھ کے ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانا، آس پاس کی 75,000 ایکڑ زمین کو سیلاب سے محفوظ بنانا اور کراچی و دیگر علاقوں کو گھریلو استعمال کے لئے پانی کی فراہمی شامل ہے۔ منصوبہ کی ابتدائی تجزیاتی رپورٹ (پی سی ٹو فزیبلٹی رپورٹ) پر تقریباً 350 ملین روپے لاگت آئیگی۔ مجوزہ منصوبہ دسمبر 2024 تک مکمل ہوگا۔
(ڈان، 8 اگست، صفحہ2)
پانی کے بہاؤ کی جانچ کے لیے ارسا کی تشکیل کردہ آبی ماہرین کی ٹیم نے گڈو اور سکھر بیراج کے پانی کی پیمائش کے تقریباً تمام مراکز پر آبپاشی عملے کی مل بھگت سے بڑے پیمانے پر پانی کی چوری، بد انتظامی و بدعنوانی کا انکشاف کیا ہے جو 30 فیصد پانی کے زیاں کا سبب بن رہا ہے۔ گڈو، سکھر اور کوٹری بیراجوں پر پانی کے اخراج کی پیمائش کے ذریعے حد سے زیادہ پانی کے زیاں کا پتا لگانے کے لیے اعلی سطح کی ایک چار رکنی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ وزارت آبی وسائل کے حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کو جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق جانچ کیے گئے تمام 13 مراکز میں پانی کے اخراج کے حوالے بڑے پیمانے پر غلط معلومات کی فراہمی، غلط پیمائش، چوری اور دیگر بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔ رپورٹ میں نہروں کی مرمت کے حوالے سے بدترین صورتحال کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
(ڈان، 8 اگست، صفحہ17)
سیکرٹری محکمہ آبپاشی ڈاکٹر سعید احمد منگنیجو کے مطابق سکھر و گڈو بیراج کی بحالی اور اسے جدید بنانے کے دو بڑے منصوبوں پر عالمی بینک کی فراہم کردہ 80 فیصد رقم سے کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ مقامی پریس کلب پر ایک پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ دونوں منصوبوں کی تخمینی لاگت 36 بلین روپے ہے۔ گڈو بیراج کی بحالی پر 16 بلین روپے جبکہ سکھر بیراج پر 20 بلین روپے لاگت آئیگی۔ دونوں منصوبوں کے بقیہ 20 فیصد اخراجات وفاقی و سندھ حکومت یکساں طور پر برداشت کرینگی۔ انھوں دعوی کیا ہے کہ گڈو بیراج منصوبے کا 20 فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ دونوں منصوبوں کو آئندہ تین سالوں میں مکمل ہونا ہے تاہم کوشش کی جارہی ہے کہ منصوبے طے شدہ وقت سے چھ ماہ قبل ہی مکمل کرلیے جائیں۔
(ڈان، 10 اگست، صفحہ17)
سیلاب
صوبہ سندھ کے اہم بیراجوں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث قدرتی آفات کی روک تھام کا صوبائی ادارہ پرونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سیلاب کا انتباہ جاری کیا ہے جس سے جان و مال کے نقصان کا خدشہ ہے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے 15 اضلاع کی انتظامیہ کو انتباہ جاری کیا گیا ہے جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ متوقع سیلاب سے نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لئے مناسب انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ ضلع سکھر، لاڑکانہ، گھوٹکی، کشمور، خیرپور، شکارپور، دادو، جامشورو، ٹنڈو محمد خان، مٹیاری، حیدرآباد، ٹھٹہ، سجاول، نوشہروفیروز اور ضلع بے نظیر آباد کی انتظامیہ کو انتباہ جاری کیاگیا ہے۔
(ڈان، 11 اگست، صفحہ16)
کھجور
خیرپور، سندھ کی ضلعی انتظامیہ 24 اور 25 اگست کو کھجور میلہ اور ایک سیمینار منعقد کررہی ہے۔ اس حوالے سے منعقد کیے گئے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خیرپور محمد نعیم سندھو کا کہنا تھا کہ کھجور میلے کے انعقاد کا مقصد اس خطے میں کھجور کی پیداوار سے متعلق غیر ملکی تاجروں، سرمایہ کاروں اور محققین میں آگاہی پیدا کرنا اور کھجور کے کاشتکاروں کو زرمبادلہ کے حصول میں مدد فراہم کرنا ہے۔
(ڈان، 11اگست، صفحہ17)
مال مویشی
مال مویشی درآمد کرنے کی جزوی اجازت ملنے کے اگلے ہی دن بھیڑوں سے لدے کم از کم چار ٹرالر طور خم سرحد کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوئے ہیں۔ مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ ایک بھی درآمدی جانور مقامی منڈی میں نہیں لایا گیا اور انہیں فوری طور پر اسلام آباد روانہ کردیا گیا۔ کسٹم سے منظوری میں تاخیر کے باعث گرمی اور دم گھٹنے سے 15 بھیڑیں ہلاک ہوگئیں۔ تاہم طورخم اور لنڈی کوتل میں زرائع کا کہنا ہے کہ پابندی کے باوجود غیر معروف راستوں کے ذریعے پاکستان سے افغانستان گائے کی غیرقانونی برآمد جاری ہے۔ بڑی تعداد میں گائیں سرحدی محافظوں اور مقامی انتظامیہ کی مدد سے افغانستان لے جائی گئی ہیں۔
(ڈان، 10 اگست، صفحہ7)
موسمی تبدیلی
وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمی تبدیلی ملک امین اسلم کا کہنا ہے کہ دنیا کے درجہ حرارت میں ایک ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا تو پاکستان کے درجہ حرارت میں بھی ایک ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوگا اگر عالمی حدت کے اثرات کو کم نہیں کیا گیا۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ سننے میں ایک ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ معمولی ہو لیکن اس کے نتائج سنگین ہونگے خصوصاً ان حالات میں کہ جب پاکستان موسمی تبدیلی سے سب زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں ساتویں نمبر پر ہے۔ ملک امین اسلم ایک نئی رپورٹ کے نتائج سے آگاہ کررہے تھے جس میں آئندہ 30 سے 40 سالوں میں پاکستان میں درجہ حرارت میں اضافے سے خبردار کیا گیا ہے۔
(ڈان، 9 اگست، صفحہ4)
ماحول
سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی (ایس ای سی ایم سی) اور اینگرو پاور جن تھر لمیٹڈ (ای پی ٹی ایل) کے فلاحی ادارے تھر فاؤنڈیشن نے صوبہ بھر میں 100,000 پودے لگانے کے لئے محکمہ جنگلات سندھ کے ساتھ اشتراک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلہ میں تھر فاؤنڈیشن اور محکمہ جنگلات سندھ کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط بھی ہوئے ہیں۔ تھر فاؤنڈیشن محکمہ جنگلات سندھ کو 100,000 پودے فراہم کریگی۔ تھر میں ایک ملین درخت لگانے کے تھر فاؤنڈیشن کے ”تھر ملین ٹری منصوبہ“ کے تحت یہ اشتراک عمل میں لایا گیا ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 8 اگست، صفحہ5)
وفاقی حکومت کی جانب سے پلاسٹک کی تھیلیوں کے استعمال کے خلاف مہم کے اعلان کے بعد سندھ حکومت نے بھی یکم اکتوبر سے صوبے میں پلاسٹک کی تھیلیوں کے استعمال پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کی تھیلیوں کا استعمال ماحول کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ شہریوں سے درخواست ہے کہ اس مہم کی حمایت کریں اور ماحول کو بچائیں۔ ان کا مزید کا کہناتھا کہ پلاسٹک کی تھیلیوں کے خلاف قانون پہلے ہی پیش کیا جاچکا ہے جس پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کیا جائیگا۔ سندھ حکومت شہر کے مختلف علاقوں میں کپڑے کے تھیلے بھی تقسیم کرے گی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 9 اگست، صفحہ5)
نکتہ نظر
اس ہفتے کی زیادہ تر خبریں پانی اور ماحول سے متعلق ہیں جن میں کئی پریشان کن حقائق تو پیش کیے ہی گئے ہیں ساتھ ہی پانی اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے منصوبوں سے متعلق خبریں بھی شامل ہیں۔ سندھ بیراج کی تعمیر کے بیان کردہ مقاصد اگر پورے ہوں تو یقینا یہ سندھ کے کسانوں کے لیے ایک اچھی خبر ہوسکتی ہے، لیکن یہاں یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ دریائے سندھ سے سمندر میں گرنے والے پانی کی انتہائی کم مقدار پہلے ہی ڈیلٹا اور اس سے جڑی حیات کی تباہی کا سبب بن رہی ہے، موسمی تبدیلی کے اثرات کے علاوہ سندھ میں بااثر جاگیر دار، سیاسی اشرافیہ کی جانب سے متعلقہ محکموں کی ملی بھگت سے پانی کی چوری کسانوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی ہے جس کی تصدیق ارسا کی قائم کردہ ٹیم نے جانچ کے بعد جاری رپورٹ میں بھی کیا۔ 30 فیصد پانی کا زیاں اور پانی کی چوری روک کر یقینا کئی ماہ سے احتجاج کرنے والے کسانوں کو کسی قدر پانی فراہم کیا جاسکتا ہے کہ جس سے ان کا روزگار برقرار رہ سکے۔ یہ سرمایہ دار طرز معیشت کا ہی خاصہ ہے کہ ایک طرف اینگرو کول مائننگ کمپنی تھرپاکر کو زہریلے پانی سے خود آلودہ کرکے مقامی آبادیوں کو دربدر اور بے زروزگار کرتی ہے تو دوسری طرف پرفریب سماجی ذمہ داریوں کے تحت درخت لگانے کے لیے محکمہ جنگلات سے اشتراک کرتی ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ محکمہ جنگلات تھر میں آلودگی کے اس پھیلاؤ کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرتا۔ موجودہ جاگیرداری اور سرمایہ داری نظام میں ملک کے عوام خصوصاً چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور پانی، ماحول اور موسم کے غیر پائیدار استعمال کی وجہ سے سیلاب، بے وقت بارشوں، درجہ حرارت میں اضافے جیسے گھمبیر مسائل کا شکار ہوکر بھوک و غربت میں پستے رہیں گے جب تک کہ قدرتی وسائل کا پائیدار استعمال کرتے ہوئے زراعت و معیشت سے عالمی بینک جیسے سرمایہ دار اداروں اور ان کی نیولبر پالیسیوں سے جان نہ چھڑا لی جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے ان تمام تر ماحولیاتی آلودگی، موسمی تبدیلی اور دیگر مسائل کے شکار چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور خود میدان عمل میں آئیں اور ان مسائل کے پائیدار حل کے لیے فیصلہ سازی اپنے ہاتھ میں لیں۔
اگست 1 تا 7 اگست، 2019
زراعت
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے زرعی اجناس کی کمپیوٹرائزڈ خریدوفروخت (ای ٹریڈنگ) اور ویئر ہاؤس رسیپٹ فنانسنگ (یعنی جدید گوداموں میں ذخیرہ کردہ پیداوار کی بنیاد پر قرض کے حصول) کو فروغ دینے کے لئے زرعی اجناس کو بطور رہن رکھ کر انہیں ذخیرہ و محفوظ کرنے والی کمپنیوں ”کولیٹرل مینجمنٹ کمپنیز“ کے لیے قوائد و ضوابط (کولیٹرل مینجمنٹ کمپنیز ریگولیشن 2019) جاری کردیے ہیں۔ اس ضابطہ کے تحت کم از کم 200 ملین روپے کی عوامی سرمایہ کاری کی حامل کوئی بھی پبلک لمیٹڈ کمپنی بطور کولیٹرل مینجمنٹ کمپنی اپنا اندراج (رجسٹریشن) کراوسکتی ہے۔ یہ کمپنیاں اپنے تصدیق و تسلیم شدہ گوداموں میں زرعی اجناس کی وسیع اقسام کو ذخیرہ و محفوظ کرنے کی سہولیات فراہم کریں گی۔ کمپنیاں زرعی اجناس کو محفوظ و ذخیرہ کرنے کے عوض ایک برقی رسید (الیکٹرانک رسید) جاری کریں گی جس کے بدلے کسان یا زرعی اجناس گودام میں جمع کروانے والا فرد مالیاتی اداروں سے قرض حاصل کرسکے گا اور حصص بازار (ایکسچینج) میں اس کا تبادلہ (ٹریڈنگ) بھی کرسکے گا۔
(ڈان، 3 اگست، صفحہ10)
محکمہ داخلہ سندھ کے جاری کردہ ایک اعلامیہ کے مطابق ضلع تھرپارکر اور عمر کوٹ میں دفعہ 144 کے تحت سرکاری زمین، ریت کے ٹیلوں پر اور چراہگاہوں کے لئے مختص علاقوں میں فصلوں کی کاشت پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی زمینوں پر فصلوں کی کاشت سے ناصرف مویشی چارے سے محروم ہوتے ہیں بلکہ یہ مقامی لوگوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کی بھی وجہ ہے۔ مٹھی، نگرپارکر، کالوئی اور چھاچھرو تعلقوں میں بارش کے بعد تھر کے باسیوں نے آنے والے ہفتوں اور مہینے میں مزید بارشوں کی امید پر اپنی روایتی فصلیں کاشت کرنا شروع کردی تھیں۔ بارشوں پر منحصر اس خطے میں اچھی پیداوار کے لیے 10 سے 15 دنوں کے وقفے میں پانچ سے چھ مرتبہ بارشوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
(ڈان، 5 اگست، صفحہ15)
30 جون 2019 کو ختم ہونے والے مالی سال میں بینکوں کی جانب سے زرعی شعبہ میں سرمایہ کاری میں اضافے کے باوجود یہ سرمایہ کاری پانی کی کمی کی وجہ سے کسانوں کی پیداوار بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے۔ مالی سال 2018-19 میں زرعی شعبے میں دیے جانے والے قرضے 21 فیصد بڑھ کر 1,174 بلین روپے تک پہنچ گئے ہیں جو مقررہ ہدف 1,250 بلین روپے سے معمولی کم ہے۔ اسٹیٹ بینک کی تیسری سہماہی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2018-19 میں اہم فصلوں چاول، کپاس، گنا اور گندم کی پیداوار میں کمی دیکھی گئی ہے۔ کپاس کی پیداوار میں 17.5 فیصد، چاول کی پیداوار میں 3.3 فیصد، گنے کی پیداوار 19.4 فیصد اور گندم کی پیداوار میں 3.2 فیصد کمی ہوئی ہے۔ تاہم مکئی کی پیداوار میں 6.9 اضافہ ہوا ہے۔ پیداوار میں کمی بڑی حد تک زیر کاشت رقبہ میں کمی کے باعث ہوئی ہے جس کی بڑی وجہ بیجائی کے موسم کے دوران پانی کی کمی اور بنیادی زرعی مداخل جیسے کہ بیج، کیمیائی کھاد اور زرعی زہر کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 6 اگست، صفحہ13)
گندم
ایوان وزیر اعظم میں ہونے والے ایک اعلی سطح کے اجلاس میں پنجاب میں گندم کی سرکاری قیمت میں اضافے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ گندم کی 40 کلو کی بوری کی قیمت 1,375 روپے جبکہ 20 کلو آٹے کی قیمت 808 روپے مقرر کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ پنجاب کابینہ کی جانب سے نئی قیمتوں کی باضابطہ منظوری اگلے ہفتے متوقع ہے اور حکومت عید کے بعد نئی قیمت پر ملوں کو گندم کی فراہمی دوبارہ شروع کرے گی۔ چیف سیکریٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر کے مطابق گندم کی 1,300 روپے فی من قیمت غیر حقیقی اور مصنوعی ہے جبکہ 1,375 روپے فی من مناسب ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 4 اگست، صفحہ1)
سرکاری گوداموں اور منڈی میں اضافی گندم ہونے کے باوجود وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اس کی قیمت میں اضافہ کی وجوہات بتانے میں ناکام ہوگئی ہے۔ سیکریٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق ہاشم پوپلزئی نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ کو بتایا ہے کہ ”ہمارے پاس اس کی واضح وجہ موجود نہیں ہے، ہمارا خیال ہے کہ گندم اور آٹے کی قیمت میں اضافے کی وجہ اس کی غیرقانونی برآمد (اسمگلنگ) اور کچھ کاروباری گروہوں کی جانب سے اس کا مرغیوں کی خوراک میں استعمال ہے، کیونکہ گزشتہ کچھ مہینوں میں مکئی مزید مہنگا ہوگیا ہے“۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے 17 جولائی کو گندم کی برآمد پر پابندی عائد کردی ہے تاہم اب بھی گندم افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کو غیرقانونی طور پر برآمد کیا جارہا ہے۔
(ڈان، 6 اگست، صفحہ4)
کپاس
حکومت کی جانب سے ملک میں کپاس کے زیر کاشت رقبے میں تیزی سے کمی پر قابو پانے کے لیے کپاس کی اشارتی قیمت 4,000 روپے فی من مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کی سربراہی میں قائم ایک کمیٹی وزات قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے کپاس کی قیمت کے حوالے سے پیش کی گئی سمری پر غور کرے گی۔ کپاس کی اشارتی قیمت مقرر کرنے کی یہ سمری اقتصادی رابطہ کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں مشیر صنعت و تجارت رزاق داؤد کی درخواست پر رد کردی گئی تھی۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے وزارت صنعت و تجارت کے ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی بنانے کی بھی تجویز دی ہے جس کا مقصد کپاس کی قیمتوں پر نظر رکھنا اور اس صورتحال پر بھی نظر رکھنا ہے کہ کپاس کی قیمت ایک مخصوص حد سے نیچے نہ آئے۔
(بزنس یکارڈر، 6 اگست، صفحہ6)
چاول
رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، کالا شاہ کاکو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد صابر نے وزیر زراعت پنجاب نعمان لنگریال کو مختصر جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ رواں موسم کے دوران پنجاب میں چاول کی فصل 4.7 ملین ایکڑ رقبے پر کاشت کی گئی ہے اور توقع ہے کہ چاول کی فی ایکڑ اوسط پیداوار 35 من رہے گی۔ امید ہے کہ چاول کی مزید پیداوار اس کی برآمد دو بلین ڈالر تک لے جانے میں معاون ہوگی۔ وزیر زراعت نے کسانوں کے مسائل براہ راست معلوم کرنے کے لئے لاہور ڈویژن کے کاشتکاروں اور زرعی اداروں کا دورہ کیا۔
(بزنس ریکارڈر، 2 اگست، صفحہ16)
کھجور
بھارت کی جانب سے پاکستانی برآمدات پر 200 فیصد محصول عائد کیے جانے کے بعد چھوہارے کی برآمد کے لئے پاکستان نے سری لنکا کا رخ کیا ہے۔ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی دعوت پر کھجور کے درآمد کنندگان پر مشتمل تین رکنی وفد سری لنکا سے سکھر پہنچ گیا ہے۔ وفد ایون صنعت و تجارت سکھر اور آغا قادر آباد کھجور منڈی کا دورہ کرے گا۔ پاکستانی برآمدات پر بھارت کی جانب سے بھاری محصول عائد کیے جانے کی وجہ سے پاکستان سے خشک کھجور کی برآمد بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ امکان ہے کہ سری لنکا کے درآمد کنندگان کا دورہ پاکستان سے کھجور کی برآمدات کو بڑھانے میں معاون ہوگا۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 6 اگست، صفحہ20)
پانی
وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واؤڈا نے کالا باغ ڈیم منصوبہ بحال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومتوں نے پاکستان دشمنوں کے زیر اثر اس منصوبے کو معطل کیا جنہوں نے ہمیشہ آبی ذخائر کی تعمیر کو متنازع بنایا۔ وفاقی وزیر کے مطابق انہوں نے کالا باغ ڈیم منصوبے کو بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے حوالے سے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ (وفاق اور صوبوں کے درمیان) تمام عدم توازن کی وجہ اختیارات کی وفاق سے صوبوں کو منتقلی ہے، جسے کسی بھی قیمت پر درست کرنے کی ضرورت ہے۔
(ڈان، 1 اگست، صفحہ1)
ماہی گیری
حکام یورپی ممالک اور امریکہ کو سمندری خوراک کی برآمد میں اضافہ کے لئے بلوچستان کے علاقہ گڈانی، لسبیلہ میں ماہی گیری کے لئے بندرگاہ (فش ہاربر) کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ یہ فش ہاربر 2015 میں ایک نجی کمپنی ایم کے پاکستان نے تیار کی تھی جس کے لیے کمپنی نے 350,000 روپے فی ایکڑ کے حساب سے 172 ایکڑ زمین پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن سے خریدی تھی تاہم قانونی طور پر اس زمین کی منتقلی کے لیے وزیر اعظم کی منظوری ضروری ہے جو اب تک نہیں ملی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں پاکستانی سمندری خوراک کی طلب ہونے کے باوجود ملک میں مچھلی کی برآمد کے لیے اسے صنعتی پیمانے پر تیار کرنے والے صرف دو کارخانے (پراسسنگ پلانٹ) ہیں جبکہ بھارت میں ان کارخانوں کی تعداد 396، عمان میں 27، ایران میں 101 اور بنگلہ دیش میں 72 ہے۔
(ڈان، 5 اگست، صفحہ5)
نکتہ نظر
اس ہفتے کی سرفہرست خبر ملک میں زرعی پیداواری منڈی میں کی جانے والی اصلاحات کو مزید نمایاں کررہی ہے۔ اس سے پہلے حکومت زرعی منڈی کو ”جدید“ بنانے کے لیے پنجاب ایگری کلچرل مارکیٹ ریگولیٹری اتھارٹی جیسے اقدامات کرچکی ہے جس کا واضح مقصد زرعی پیداواری شعبہ میں نیولبرل اصلاحات کرنے کے بعد اب زرعی پیداوار کی منڈی پر قابض ہونا ہے۔ عالمی سرمایہ دار ممالک اور ان کے اداروں کے دباؤ پر کی جانے والی ان اصلاحات کے نتیجے میں زرعی پیداواری شعبہ میں جس طرح کارپوریٹ فارمنگ اور چھوٹے و بے زمین کسان مزدوروں کو بین الاقوامی بیج اور دیگر مداخل بنانے والی کمپنیوں کا محتاج بنا کر، پیداواری لاگت میں اضافے کے ذریعے انہیں بھوک و غربت کا شکار بنادیا گیا، انہیں زراعت چھوڑ کر شہروں میں مزدوری کرنے پر مجبور کردیا گیا اسی طرح، بظاہر نظر آتا ہے کہ اب مقامی سطح پر چھوٹی زرعی منڈیوں میں پیداوار کے کاروبار سے منسلک افراد کو بھی بیروزگار کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، کیونکہ دیہات کی سطح پر ہی جدید گوداموں میں پیداوار خرید کر، اسے محفوظ بنا کر، آن لائن ہی ملک اور بیرون ملک فروخت کرنے کے اس سارے مالیاتی نظام سے ایک عام زرعی پیداواری منڈی میں چھوٹے پیمانے پر خرید وفرخت کرنے والا مقامی فرد اور خود کسان ناواقت ہے اور ناہی اس کے پاس کثیر سرمایہ ہے کہ وہ ایک کمپنی قائم کرکے اپنا کاروبار جاری رکھ سکے۔ شاید یہ قیاس غلط نہیں کہ جس طرح پیداواری طریقوں اور بیج پر بین الاقوامی سرمایہ دار کمپنیاں اپنا اختیار مضبوط کررہی ہیں اسی طرح پیداوار کے کاروبار اور اس کے ذخیرے پر بھی کمپنیاں مکمل طور پر قابض ہونے کی کوشش کررہی ہیں جس کے بعد عوام خوراک کے حصول کے لیے خصوصاً کسی بڑی ناگہانی آفت یا ہنگامی صورتحال میں ان کمپنیوں کی محتاج ہوسکتی ہے، خصوصاً اس وقت کہ جب عالمی بینک کے دباؤ پر صوبے گندم جیسی اہم غذائی جنس کی سرکاری خریداری اور اس کے ذخائر سے مرحلہ وار دستبردار ہورہے ہیں۔