جولائی 2019

جولائی 25 تا 31 جولائی، 2019

غذائی کمی

قومی غذائی سروے (نیشنل نیوٹریشن سروے) 2018 کے سندھ سے متعلق جاری کردہ نتائج میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سندھ میں وزن میں کمی کے شکار بچوں کی تعداد 41.3 فیصد ہے۔ صوبے میں نشونما میں کمی کے شکار (اسٹنٹڈ) بچوں کی شرح 45.5 فیصد بھی مجموعی قومی تناسب 40.2 فیصد سے بہت زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پانچ سال تک کی عمر کے ہر 10 میں سے پانچ بچے نشونما میں کمی کا شکار ہیں جبکہ ہر 10 میں سے دو بچے وزن میں کمی کا شکار ہیں۔ سروے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ صوبے میں بالغ لڑکیاں غذائی کمی کا دوہرا بوجھ برادشت کررہی ہے جن کی 40 فیصد تعداد خون کی کمی کا شکار پائی گئی ہے۔ سندھ میں پانچ سال سے کم عمر کے وہ بچے جو اپنی عمر کے مقابلے وزن اور جسامت میں کمی کا شکار (ویسٹڈ) ہیں ان کا تناسب 23.3 فیصد ہے۔ قومی غذائی سروے 2018 میں سندھ کا نمونہ 18,768گھرانوں پر مشتمل تھا۔
(ڈان، 25 جولائی، صفحہ15)

قومی غذائی سروے 2018 کے مطابق بلوچستان میں پانچ سال تک کی عمر کے 46.6 فیصد بچے نشونما میں کمی کی وجہ سے قد میں کمی کا شکار (اسٹنٹڈ) ہیں جبکہ 18.9 فیصد بچے اپنی عمر کے مقابلے وزن اور جسامت میں کمی کا شکار (ویسٹڈ) ہیں۔ رپورٹ کے مطابق غذائی کمی کی وجہ سے ایک طرف 31 فیصد بچے وزن میں کمی کا شکار ہیں تو دوسری طرف 16.7 فیصد بچے موٹاپے کا شکار ہیں۔ سروے میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ تولیدی عمر کی عورتوں (ومن آف ری پروڈکٹو ایج) میں سے 14.5 فیصد وزن میں کمی، 22.1 وزن میں زیادتی اور 12 فیصد موٹاپے کا شکار ہیں۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 26 جولائی، صفحہ7)

گندم

ایک خبر کے مطابق ملک بھر میں آٹا ملوں نے 80 کلو کی آٹے کی بوری کی قیمت میں 25 فیصد اضافہ کردیا ہے۔ سال 2019-20 کے منظور ہونے والے حالیہ بجٹ کے بعد فائن آٹے کی بوری (80کلو) کی قیمت 3,350 سے بڑھ کر 4,200 روپے ہوگئی ہے، جبکہ گزشتہ کچھ دنوں میں عام آٹے کی بوری (80کلو) کی قیمت 2,800 سے بڑھ کر 3,350 روپے ہوگئی ہے۔ آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمت کے پیش نظر نان بائی تنظیموں نے بھی نان اور روٹی کی قیمت میں دو روپے اضافہ کردیا ہے جس کے بعد روٹی کی قیمت آٹھ روپے سے بڑھ کر 10 روپے، نان کی قیمت 10 روپے سے بڑھ کر 12 روپے اور کلچہ کی قیمت 12 روپے سے بڑھ کر 15 روپے ہوگئی ہے۔ مل مالکان کے مطابق انھوں نے آٹے کی قیمت میں اضافہ ملوں کو بجلی پر ملنے والی تین روپے فی یونٹ زرتلافی کے خاتمے، گندم کی خریداری کے لیے حاصل کردہ قرض پر شرح سود 6.5 فیصد سے بڑھا کر 14 فیصد کرنے اور آٹے کی پیکنگ میں استعمال ہونے والے درآمدی مواد کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے کیا ہے۔ قیمت میں اضافے کی ایک اور وجہ صوبائی محکمہ خوراک کی جانب سے کئی ملوں کے لیے گندم کا کوٹہ مقرر نہ کرنا ہے جس کی وجہ سے انہیں کھلی منڈی سے گندم 1,500 روپے فی من خریدنا پڑرہا ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 28 جولائی، صفحہ11)

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے مطابق پنجاب حکومت نے گندم اور آٹے کی قیمتوں پر قابو پانے کے لئے مقامی منڈی میں گندم کی کچھ مقدار جاری کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) اور خوراک کے صوبائی محکموں کے پیش کردہ اعداد وشمار کے مطابق 7.63 ملین ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے جو گزشتہ سال اس ہی مدت کے دوران 11.37 ملین ٹن تھا۔ گندم کی سرکاری خریداری کا عمل تقریباً ختم ہوچکا ہے اور کسانوں سے 1,300 روپے فی من قیمت پر 4.034 ملین ٹن گندم خریدا گیا ہے۔ گندم کی سرکاری خریداری اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مقرر کردہ ہدف 6.250 ملین ٹن کے مقابلے 35 فیصد کم ہے۔ محکمہ خوراک سندھ نے اس سال کسانوں سے گندم نہیں خریدا۔
(بزنس ریکارڈر، 31 جولائی، صفحہ16)

کپاس

مقامی منڈی میں گزشتہ ہفتہ کے دوران کپڑا اور دھاگہ ملوں کی جانب سے کپاس کی خریداری میں اضافے کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ اس دوران کپاس کے کاروباری حجم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ کپاس کی قیمت میں 200 سے 300 روپے فی من اضافہ ہوا ہے۔ سندھ میں کپاس کی قیمت 8,650 سے 8,700 روپے فی من، پھٹی کی قیمت 3,800 سے 4,100 روپے فی من اور بنولا کی قیمت 1,550 سے 1,600 روپے فی من کے درمیان ہے۔ پنجاب میں کپاس کی فی من قیمت 8,700 سے 8,750 روپے، پھٹی 3,700 سے 4,200 روپے فی من جبکہ بنولہ کی قیمت 1,550 سے 1,600 روپے فی من ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 29 جولائی، صفحہ5)

کھاد

ایک خبر کے مطابق 30 جون 2019 تک چھ ماہ میں یوریا کی فروخت پانچ فیصد بڑھ کر 2.87 ملین ٹن ہوگئی ہے۔ حکومت نے گیس کے نرخوں میں اضافہ کردیا تھا جس پر عملدرآمد جولائی 2019 سے ہونا تھا، قیمتوں میں متوقع اضافے کے پیش نظر کسانوں، تھوک فروشوں، ترسیل کاروں کی جانب سے پیشگی خریداری یوریا کی فروخت میں اضافے کی وجہ ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں وقت پر بارشیں ہونا، جو فصلوں کے لیے بہتر ہے، بھی یوریا کی فروخت میں اضافے کا سبب ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 26 جولائی، صفحہ20)

مال مویشی

خیبر ایجنسی میں عید الاضحی کی آمد کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ تاجروں نے قیمت میں اضافے کی وجہ افغان سرحد طورخم سے مویشیوں کی درآمد پر پابندی کو قرار دیا ہے۔ ایک تاجر کے مطابق بھیڑ کی قیمت 5,000 سے بڑھ کر 8,000 روپے ہوگئی ہے۔ کچھ تاجر افغان صوبہ قندھار سے بھیڑیں پہلے کوئٹہ اس کے بعدانڈس ہائی وے کے ذریعے ضلع خیبر لارہے ہیں جس میں وقت لگتا ہے اور تاجروں کو اضافی اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ مویشیوں کے تاجر طورخم اور لنڈی کوتل انتظامیہ سے رابطے میں ہیں اور انھیں پابندی کے خاتمے کے لیے رضامند کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
(ڈان، 27 جولائی، صفحہ7)

ساہیوال نسل کی گائے طویل عرصے سے (مقامی) جینیاتی وسائل کے طور پر جانی جاتی ہے۔ 2014 میں ساہیوال نسل کے تحفظ (کنزرویشن) کو 100 سال مکمل ہونے پر حکومت نے آٹھ روپے کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا تھا۔ سخت موسمی حالات کا مقابلہ کرنے اور دودھ کی زیادہ پیداوار کے لئے مشہور ساہیوال نسل کو سات سے آٹھ ہزار سال قبل وادی سندھ کی قدیم تہذیب کے باشندے بھی پالا کرتے تھے۔ ایڈشنل ڈائریکٹر محکمہ مال مویشی ڈاکٹر ثمرین کوثر کا کہنا ہے کہ ساہیوال نسل کی گائے ضلع ساہیوال کی مقامی نسل سمجھی جاتی ہے لیکن یہ پاکپتن، اوکاڑہ اور خانیوال سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ ساہیوال نسل کی گائے 20 سے زائد ممالک کو برآمد بھی کی جاتی ہے، مثلاً 1950 میں یہ نسل آسٹریلیا برآمد کی گئی تھی۔ اب آسٹریلیا گوشت اور دودھ کی پیداوار کے لیے اس نسل کی افزائش کررہا ہے۔ آسٹریلیا ساہیوال نسل سے 50 لیٹر دودھ کی پیداوار حاصل کررہا ہے۔ اس سال منعقد ہونے والے دودھ کی پیداوار کے مقابلے میں ساہیوال نسل نے 24 سے 39 کلوگرام دودھ کی پیداوار دے کر اول درجہ حاصل کیا ہے۔ اس دودھ میں چکنائی کا اوسط تناسب 4.8 فیصد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں صرف 44 فارم باضابطہ طور پر اس گائے کی افزائش نسل کرنے والے فارم کے طور پر رجسٹرڈ ہیں۔ پاکستان میں انسانی آبادی میں اضافے کی شرح مویشیوں کی آبادی کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں مویشیوں کی آبادی میں اضافے کی شرح انسانوں کے مقابلے تین سے چار گنا زیادہ ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 29 جولائی، صفحہ11)

بارشیں / سیلاب

ایک خبر کے مطابق خیبرپختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارشوں کے دوران ہونے والے حادثات میں چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب سے تعلق رکھنے والے چار افراد وادی کاغان میں تیز بارشوں کی زد میں آکر ہلاک ہوگئے۔ مٹی کے تودے گرنے سے مانسہرہ۔ ناران۔ جالکھنڈ سڑک آٹھ مقامات پر آمدورفت کے لیے بند ہوگئی جس کی وجہ سے ہزاروں مسافر اور سیاح پھنس گئے۔
(ڈان، 27 جولائی، صفحہ1)

کرم ایجنسی کے علاقے پاراچنار میں آندھی اور طوفانی بارشوں کی وجہ سے 22 افراد زخمی گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گھنٹوں جاری رہنے والی تیز بارش اور طوفان کی وجہ سے کئی گھر تباہ جبکہ سیلاب کے باعث سڑکیں بند ہوگئی ہیں۔ مقامی لوگوں کی مدد سے متعلقہ ادارے امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
(دی نیوز، 28 جولائی، صفحہ12)

تعلقہ گڑھی خیرو، ضلع جیکب آباد میں دو مقامات پر نہروں میں شگاف پڑنے سے سیلاب کے بعد ہزاروں ایکڑ پر کھڑی چاول کی فصل اور 10گھر بہہ گئے ہیں۔ 100 فٹ چوڑا ایک شگاف تاجا شاخ میں جبکہ 90 فٹ چوڑا شگاف بیگاری کنال میں ظاہر ہوا۔ ڈپٹی کمشنر جیکب آباد غضنفر علی قادری کے مطابق نو گھنٹے کی سخت کوشش کے بعد شگاف پر کردیے گئے ہیں۔
(ڈان، 28 جولائی، صفحہ17)

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں موسلادھار بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے 10 افراد ہلاک جبکہ 29 زخمی ہوگئے ہیں۔ صوبے کے 10 اضلاع سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق سیلاب میں 27 مویشی بھی بہہ گئے ہیں۔ نو گھر مکمل تباہ اور 16گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ متعلقہ محکموں نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کام شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سیلاب سے کئی سڑکیں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔
(بزنس ریکارڈر، 30 جولائی، صفحہ7)

نکتہ نظر

اس ہفتے کی سرفہرست خبریں ملک میں غذائی کمی سے متعلق اعدادوشمار پر مشتمل ہیں۔ اس ملک میں جہاں حکومت گندم کے ذخائر ضرورت سے کہیں زیادہ ہونے کی اطلاع دے رہی ہے، جہاں دنیا کی بہترین نسلوں کے مویشی پائے جاتے ہوں، اس ملک میں بھوک، غربت کے نتیجے میں بچوں میں اور عورتوں میں غذائی کمی کسی المیہ سے کم نہیں، خصوصاً صوبہ سندھ میں جہاں دریائے سندھ کے دونوں جانب تقریباً تمام اجناس، پھل سبزی اور مویشیوں کی پیداوار ہوتی ہے اور صوبہ بلوچستان میں جو اپنی معدنیات اور جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے اربوں ڈالر کے سی پیک منصوبے کا مرکز ہے، جہاں دنیا بھر کے سرمایہ دار مقامی وسائل سے منافع کمانے کے لیے تک و دو کررہے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ خوراک کے باوجود خود خوراک اگانے والے کسان مزدور صرف اور صرف اس لیے ان حالات میں ہیں کہ پیداواری وسائل پر ان کا اختیار نہیں، سندھ میں جاگیردار زرعی زمینوں پر قابض ہے تو بلوچستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے نام پر مقامی قدرتی وسائل سرمایہ دار کمپنیوں کے حوالے کیے جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں صوبوں میں دیہات میں رہنے والے چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور شدید غربت،بھوک اور غذائی کمی سے دوچار ہیں۔ یہ نیولبرل پالیسیوں کا ہی کرشمہ ہے کہ ایک طرف حکومت اپنے ملک کی ساہیوال نسل کو ڈاک ٹکٹ جاری کرکے اپنی پیچان قرار دیتی ہے لیکن اس کے افزائشی مراکز میں اضافے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کرتی کیونکہ ملک میں غیرملکی نسل کے مویشیوں کی افزائش اور ان کی فروخت سے جڑی کمپنیاں بڑے پیمانے حکومتی سرپرستی میں اپنی مصنوعات فروخت کرکے منافع کمارہی ہیں اور اس میں مزید اضافے کے لیے لابنگ بھی کرتی ہیں۔ عین اسی طرح آئی ایم ایف کے بنائے ہوئے بجٹ کو منظور کیا جاتا ہے جس سے ملک میں روٹی سمیت ہر غذائی اشیاء کی قیمت میں اضافہ ہورہا ہے لیکن دوسری طرف بھوک،غربت اور غذائی کمی کے خاتمے کے لیے ”احساس“ جیسے منصوبے شروع کیے جارہے ہیں۔ اس سرمایہ دارانہ نظام کی ایک خصلت یہ بھی ہے کہ یہ حق چھین کر معمولی خیرات دینے پر اکتفا کرتا ہے تاکہ کسان مزدور طبقہ باقی رہے اور ان کی محنت سے سرمایہ دار منافع کشید کرتا رہے۔ اس سے نجات کے لیے ضروری ہے کہ استحصال کا شکار کسان مزدور طبقہ متحد ہوکر اس نظام کو ہی اکھاڑ پھینکے۔

جولائی 18 تا 24 جولائی، 2019

زراعت

وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے زرعی کریڈٹ کارڈ اسکیم کو تحریک انصاف کا جدید اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کسانوں کو گندم، گنا اور دیگر فصلوں کی قیمت براہ راست ادا کی جائیگی۔ محکمہ زراعت سے متعلق ایک اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کو زرعی خدمات بھی زرتلافی کی حامل قیمتوں پر فراہم کی جائیں گی اور دیہاتوں میں اعلی قدر والی فصلوں کو فروغ دی جائیگا۔ ڈیرہ غازی خان، پنجاب کے پہاڑی علاقوں میں زیتون کی کاشت کو فروغ دیا جائیگا۔ کسانوں کو زرعی شعبہ میں ہونیوالی حالیہ جدت سے متعلق آگاہی فراہم کی جائیگی تاکہ وہ پھولوں کی کاشت سے بہتر آمدنی حاصل کرسکیں اور شہد کی پیداوار میں اضافے کے ذریعے زرمبادلہ حاصل کیا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادویات سازی میں استعمال ہونے والی فصلیں ناصرف مقامی دوا سازی کو فروغ دیں گی بلکہ ان سے زر مبادلہ بھی حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ کسانوں کو بیمہ پالیسی کے اجراء کے ذریعے تحفظ بھی فراہم کیا جارہا ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 19 جولائی، صفحہ16)

ایک خبر کے مطابق پاکستان میں اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت اور صنعتی ترقی کے منصوبے پر عملدرآمد کے لیے جاپان 5.2 ملین ڈالر فراہم کرے گا۔ اس سلسلے میں پاکستان میں اقوام متحدہ کا ادارہ برائے صنعتی ترقی کے نمائندے نے منصوبے کے مختلف پہلوں پر بات چیت کے لیے وفاقی وزیر سے ملاقات کی تھی۔ اس منصوبے کا مقصد نئی تکنیک کے ذریعے مویشیوں کے گوشت اور پھلوں کی پیداوار کو مستحکم کرنا ہے۔ اس منصوبے سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے کسانوں کے روزگار میں بہتری اور ان میں غربت میں کمی آئے گی۔ وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان اگلے ماہ کے پہلے ہفتے میں اس منصوبے کا افتتاح کریں گے۔
.(ڈان، 19 جولائی، صفحہ10)

عالمی بینک کے ایک چار رکنی وفد نے ایوان صنعت و تجارت لاہور کے صدر الماس حیدر سے ملاقات میں کہا ہے کہ عالمی بینک کے پروگرام اسٹرینتھنگ مارکیٹس فار ایگری کلچر اینڈ رورل ٹرانسفورمیشن ان پنجاب (اسمارٹ) کا مقصد فصلوں اور مال مویشی رکھنے والے کسانوں کی پیداوار کو بڑھانا ہے۔ عالمی بینک کے وفد سے ملاقات میں الماس حیدر کا کہنا تھا کہ زراعت پاکستان کی معیشت کا اہم ترین جز ہے جس کا مجموعی قومی پیداوار میں حصہ 18.5 فیصد ہے اور یہ شعبہ 38.5 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ سال 2018-19 میں زرعی شعبہ کی شرح نمو 0.85 فیصد رہی ہے۔ اگر پاکستان چھ سے سات فیصد شرح نمو حاصل کرنا چاہتا ہے اور خطہ کی مسابقتی معیشت بننا چاہتا ہے تو اسے زرعی پیداوار میں بڑھوتری کی ضرور ت ہے۔ الماس حیدر نے مزید کہا کہ ”یہ افسوسناک ہے کہ مال مویشی شعبہ کی ترقی کے لئے یہاں کوئی جنیاتی تبدیلی کا منصوبہ موجود نہیں ہے، ڈیری شعبہ کی پیداورا کو بہتر بنانے کے لیے مویشیوں کی نسل کو جنیاتی طور پر بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ زرعی منڈی کے قوانین میں ترمیم ہونی چاہیے تاکہ بڑی کمپنیاں آڑھتیوں کے بجائے براہ راست کسانوں سے اجناس خرید سکیں۔ زرعی شعبہ کا انتظام آزاد منڈی کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ حکومت کا کردار بطور نگران (ریگولیٹر) محدود ہونا چاہیے اور اسے زرعی پیداوار نہ خریدنی چاہیے اور ناہی فروخت کرنی چاہیے۔ اسی طرح زرعی اجناس کی برآمد کے قوانین کو بھی نرم کرنے کی ضرورت ہے۔ مقامی ضروریات پوری کرنے کے بعد اضافی زرعی پیداوار کو آزادنہ برآمد کرنے کی اجازت ہونی چاہیے“۔ الماس حیدر نے مزید کہا کہ ان سب اقدامات کے بعد عالمی خریدار پاکستان کو ایک اہم زرعی منڈی سمجھیں گے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 20 جولائی، صفحہ20)

زمین

پنجاب کابینہ نے چولستان کے بے زمین کسانوں کو سرکاری زمین دینے کی منظوری دی ہے اور اس عمل کو شفاف بنانے کے لیے ایک جانچ کمیٹی قائم کردی۔ اجلاس میں سرکاری زمین کی منتقلی اور اسے نیلام عام کے ذریعے پٹے (لیز) پر دینے کی پالیسی میں ترمیم بھی منظور کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ بے زمین کسانوں کو لیز پر دی گئی زمین کے مالکانہ حقوق دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ وہ کسان جو 80 فیصد زمین کاشت کریں گے انہیں زمین کے مالکانہ حقوق ملیں گے۔ کابینہ کے اجلاس میں صادق آباد تحصیل کے علاقے چولستان میں تیل کی تلاش کے لیے نجی سرکاری شراکت داری کے تحت زمین دینے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔
(ڈان، 21 جولائی، صفحہ2)

وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب میاں اسلم اقبال نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ پنجاب کابینہ نے لینڈ لیز پالیسی کے تحت 120,700 ایکڑ زمین 30 اضلاع کے کسانوں میں تقسیم کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ کسانوں کو طویل عرصہ پہلے یہ غیرآباد زمین کاشتکاری کرنے کے لیے دی گئی تھی جسے کسانوں نے سخت محنت کے ذریعے آباد کیا، اب یہ زمین ان کسانوں کو منتقل کی جائے گی۔ اس سلسلے میں طریقہ کار وضح کرلیا گیا ہے۔ ہر ضلع کا کلیکٹر زمین کی مالیت طے کرے گا۔ کسانوں کو 12.5 ایکڑ تک زمین منتقل کی جائے گی۔
(بزنس ریکارڈر، 21 جولائی، صفحہ2)

غذائی کمی

ایک خبر کے مطابق قومی غذائی سروے (نیشنل نیوٹریشن سروے) 2018 میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کے تقریباً آدھے گھرانے اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ غربت کی وجہ سے تقریباً 50 فیصد سے زائد خاندانوں کو یومیہ دو وقت کا کھانا دستیاب نہیں ہے جو سنگین غذائی کمی کا باعث بن رہا ہے جس کے نتیجے میں 40.2 فیصد بچے دائمی غذائی کمی اور نشونما میں کمی کا شکار ہیں۔ غذائی کمی کی وجہ سے ان بچوں کی ذہنی و جسمانی نشونما رک جاتی ہے۔ سروے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ 36.9 فیصد پاکستانی گھرانے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں جنہیں مناسب مقدار اور قیمت میں غذائیت بخش خوراک تک رسائی حاصل نہیں۔ سیکریٹری جنرل پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن (پی پی اے) جنرل خالد شفیع کا کہنا ہے کہ غذائیت کے حوالے سے ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کے لئے وفاقی حکومت خوراک میں مصنوعی طور پر اضافی غذائیت شامل کرنے (فوڈ فورٹیفیکیشن) کے لیے قانونی مسودہ تیار کرچکی ہے جس سے گھی و آٹے جیسی اشیاء میں خرد غذائی اجزاء (مائیکرو نیوٹرنٹ) شامل کرنا لازمی ہوجائیگا۔
(دی ٰایکسپریس ٹربیون، 24 جولائی، صفحہ2)

گندم

مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کی سربراہی میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی میں وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی کم پیداوار کے تناظر میں روٹی اور گندم سے تیار ہونے والی اشیاء کی قیمت میں اضافے کے رجحان کی وجہ سے گندم اور آٹے کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اس سال حکومت کی طرف سے خریدی گئی گندم کی مقدار گزشتہ سال کے مقابلہ میں 33 فیصد کم ہے۔ ملک میں گندم وافر مقدار میں موجود ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں 28 ملین ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ ضرورت 25.84 ملین ٹن ہے۔ مقامی منڈی میں روٹی اور گندم کی دیگر اشیاء کی قیمتوں پر قابو پانے کے لئے اقتصادی رابطہ کمیٹی نے صوبوں کی معاونت سے نیشنل پرائس مانیٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد کرنے کی تجویز دی ہے۔
(ڈان، 18 جولائی، صفحہ1)

اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2019 میں گندم کی ہدف کے مقابلے کم پیداوار کے باوجود پہلے سے موجود ذخائر 25.8 ملین ٹن کی ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق گندم کی پیداوار کے اعداد وشمار کے حوالے سے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور قومی اقتصادی سروے (پاکستان اکنامک سروے) کے درمیان تضاد پایا جاتا ہے۔ سروے کے مطابق مالی سال 2019 میں گندم کی پیداوار 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ 25.2 ملین ٹن ہوئی ہے جبکہ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے حالیہ تخمینے کے مطابق مالی سال 2019 میں گندم کی پیداوار 24.3 ملین ٹن ہوئی ہے جو مقرر کردہ ہدف 25.1 ملین ٹن سے 3.2 فیصد کم ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 21 جولائی، صفحہ1)

کپاس

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے مقامی کپاس پر سیل ٹیکس کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ڈیوٹی اینڈ ٹیکس ریمیشن کے تحت کپاس کی (خصوصاً بھارت سے) درآمد کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ اپٹما کی جانب سے سیکریٹری ٹیکسٹائل ڈویژن کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ مقامی کپاس کی پیداوار پر اضافی ٹیکس 10 فیصد ہے جبکہ سوتی دھاگے (یارن) پر سیلز ٹیکس 17 فیصد ہے۔ ان حالات میں اضافی ٹیکسوں کی نفاذ کے بعد کوئی مقامی کپاس اور سوتی دھاگہ نہیں خریدے گا اور اس سے صرف کپاس درآمد کرنے والوں کو فائدہ ہوگا۔
(بزنس ریکارڈر، 21 جولائی، صفحہ2)

کھاد

وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار عبدلرزاق داؤد نے کہا ہے کہ کیمیائی کھاد کی قیمت میں گیس کے نرخ میں اضافے کی وجہ سے ہونے والا اضافہ 210 روپے تھا، لیکن گیس انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس میں کمی سے قیمت میں 200 روپے فی بوری کمی ہوئی، اس طرح صافی اضافہ 10 روپے فی بوری ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم نے یوریا کی قیمت میں صرف 10 روپے فی بوری اضافے کی اجازت دی ہے“۔ یوریا کی بوری کی قیمت 1,890 روپے ہے اور ہم نے یوریا کی فی بوری 10 روپے اضافہ کرنے کی اجازت دی ہے“۔
(ڈان، 19 جولائی، صفحہ10)

پانی

ضلع نوشہرو فیروز، سندھ میں مورو سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر یوسف ڈاہری ریگولیٹر کے نزدیک روہڑی کنال میں 120 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے 30 سے زائد دیہات اور ہزاروں ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں ڈوب گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ 2,500 سے 3,000 ایکڑ رقبے پر کھڑی کپاس، گنا اور سبزی کی فصلیں زیر آب آگئی ہیں۔ مقامی رہائشی علی مرادن ڈاہری نے شکایت کی کہ یوسف ڈاہری گاؤں کے مکینوں نے کئی دفعہ محکمہ آبپاشی حکام کو گاؤں کے قریب نہر کے کمزدور پشتے سے متعلق آگاہ کیا تھا لیکن محکمہ نے کوئی توجہ نہیں دی اور اس کی مظبوطی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ایوان زراعت سندھ (سندھ چیمبر آف ایگری کلچر) اور سندھ آبادگار اتحاد نے روہڑی کنال میں وسیع شگاف پڑنے پر سکھر بیراج کے چیف انجینئر، روہڑی کنال کے سپرٹنڈنٹ اور دیگر متعلقہ حکام کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سندھ آبادگار اتحاد کے صدر نواب زبیر تالپور کا کہنا تھا کہ بے نظیرآباد کے بااثر جاگیرداروں کی زمینوں کو سیراب کرنے والی نصرت نہر میں پانی فر اہم کرنے کے لئے روہڑی کنال کا پانی روکنا نہر میں شگاف سبب ہے۔ محکمہ آبپاشی شگاف پر کرنے کے لیے مرمت کا کام شروع کردیا ہے۔
(ڈان، 22 جولائی، صفحہ15)

نکتہ نظر

اس ہفتے کی خبروں میں ملک میں غربت اور غذائی کمی کے حوالے سے تشویشناک اعداد و شمار قابل افسوس تو ہیں ہی ساتھ ہی ملک میں رائج معاشی و زرعی پالیسیوں کے گورکھ دھندے کو بھی بے نقاب کررہے ہیں جس میں عالمی بینک جیسے عالمی امدادی ادارے، سرمایہ دار سامراجی ممالک اور ملکی سرمایہ دار طبقہ بھی شامل ہے۔ اس تضاد کو خبروں میں شامل ان سطروں کی مدد سے سمجھا جاسکتا ہے کہ خود حکومتی ادارہ کہتا ہے کہ ”اس وقت ملک میں 28 ملین ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ ضرورت 25.84 ملین ٹن ہے“۔ جبکہ ملک میں غربت اور بھوک کا یہ عالم ہے کہ ایک اور سرکاری ادارہ اپنی رپورٹ میں کہتا ہے کہ”غربت کی وجہ سے تقریباً 50 فیصد سے زائد خاندانوں کو یومیہ دو وقت کا کھانا دستیاب نہیں ہے جو سنگین غذائی کمی کا باعث بن رہا ہے جس کے نتیجے میں 40.2 فیصد بچے دائمی غذائی کمی اور نشونما میں کمی کا شکار ہیں“۔ حکومتی پالیسیوں اور اس کے دعوؤں میں واضح نظر آنے والا یہ تضاد اس بات کی دلیل ہے کہ صرف خوراک کی پیداوار یا اس کے اضافی ذخائر بھوک اور غذائی کمی کے خاتمے کی ضمانت نہیں ہیں۔ اصل مسئلہ خوراک اور اس کے زرائع پیداوار پر اختیار کا ہے جس سے اس ملک کے اکثریتی چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور محروم ہیں اور بڑے بڑے جاگیردار اور سرمایہ دار طبقہ قابض ہے جو کہیں اقتدار کے ایوان اور کہیں ایوان صنعت و تجارت میں بیٹھ کرملک کی اکثریتی عوام سے خوراک کا بنیادی حق بھی چھین لینے کے درپے ہیں۔ آزاد تجارتی پالیسیوں کے تحت ملکی پیداواری منڈی عالمی کمپنیوں کے حوالے کرنے کی تجاویز دینے والے تاجر حکومت سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر اس ملک کی باقی عوام سے بھی دو وقت کی روٹی چھین لینے کا سامان کررہے ہیں۔ یہ سرمایہ دار جاگیردار، تاجر صرف اور صرف چھوٹے اور بے زمین کسان مزدورں کی محنت کے بل پر قائم ہیں اگر یہ ایک ہوکر اپنے استحصال کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تو کوئی طاقت انہیں اپنے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کرسکتی۔

جولائی 11 تا 17 جولائی، 2019

زراعت

محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق صوبے کے تین اضلاع میں 400 ملین روپے لاگت سے کو آپریٹو فارمنگ یعنی تعاون پر مبنی زراعت کے ذریعے فصلوں کی پیداوار میں اضافے کا دو سالہ پروگرام جلد شروع کیا جائے گا۔ محکمہ زراعت کے حکام کے مطابق یہ منصوبہ سیالکوٹ، سرگودھا اور رحیم یارخان اضلاع میں شروع کیا جائے گا۔ منصوبے میں خصوصی توجہ 137 دیہی تنظیموں (ولیج آرگنائزیشنز) کے قیام پر ہوگی۔ منصوبے میں ان تنظیموں کے اندارج کے علاوہ انہیں چلانے کے لیے 297.080 فنڈ کا قیام، کسانوں کی تربیت اور ان کی صلاحیت میں اضافے کے لیے 137گشتی اسکول (فارمرز فیلڈ اسکولز) اور مداخل فروخت کرنے والے 14 مراکز کا قیام بھی شامل ہے۔ اس منصوبے سے پیداوار اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا جس سے چھوٹے کسانوں کے روزگار میں بہتری اور غربت میں کمی آئے گی۔ منصوبے کے تحت اہم فصلوں گندم، چاول، کپاس اور گنے کی پیداوار میں 10 سے 15 فیصد اضافے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
(بزنس ریکارڈر، 13جولائی، صفحہ5)

ٹڈی دل تعلقہ نگر پارکر، سندھ کے مختلف علاقوں میں پہنچ گئے ہیں جس سے فصلوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق بڑی تعداد میں ٹڈی دل درختوں اور پودوں کے پتے کھاتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ ان کے مطابق اگر وفاقی اور سندھ حکومت کی جانب سے فوری اقدامات نہیں کیے گئے تو ٹڈی دل حالیہ بارشوں کے بعد کاشت کی جانے والی فصلوں کو شدید نقصان پہنچاسکتے ہیں۔
(ڈان، 13 جولائی، صفحہ17)

ایک خبر کے مطابق مالی سال 2019 کے دوران زرعی شعبہ کی کارکردگی (بڑھوتری) کم رہی ہے جس میں صرف 0.8 فیصد کا معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ مالی سال 2018 میں بڑھوتری کی شرح 3.9 فیصد تھی۔ زرعی شعبہ میں بڑھوتری کی یہ (0.8 فیصد) شرح اس سال کے ہدف 3.8 فیصد کے مقابلے انتہائی کم ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جاری کردہ سہہ ماہی رپورٹ کے مطابق فصلوں کی پیداوار میں 4.4 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ گزشتہ سال 2018 میں پیداوار میں 4.7 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ پانی کی کمی اور کھاد و زرعی اسپرے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کئی اہم فصلوں کی پیداوار اور زیر کاشت رقبے میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے خصوصا سندھ میں خریف کی فصلوں کے زیر کاشت رقبے میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 16 جولائی، صفحہ7)

مال مویشی

بلوچستان حکومت صوبہ میں مال مویشی شعبہ کی ترقی کے لئے جلد مال مویشی و ڈیری پالیسی 2019 کا اعلان کریگی۔ محکمہ مال مویشی کے حکام کے مطابق جلد اس سے متعلق نمائش منعقد ہوگی اور اس شعبہ میں نجی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے مراعات کا اعلان بھی کیا جائیگا۔ حکومت نے صوبے کے سات اضلاع میں مویشی بانی کو جدید بنانے کے لئے 52 ملین روپے مختص کئے ہیں۔ جانوروں کے ڈاکٹروں کی بے روزگاری پر قابو پانے اور مویشیوں کے لیے بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لئے ویٹنری ڈاکٹروں کی 150 ملازمتیں پیدا کی جائینگی۔ حکومت نے مویشیوں کے لیے 23 ڈسپنسریاں قائم کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی ہے۔ مستونگ میں اون اور اس سے متعلق تحقیقی مرکز کو فعال بنانے کے لئے 10 ملین روپے مختص کئے ہیں۔ ژوب، قلعہ عبداللہ، تفتان اور گوادر میں جانوروں کے دیگر مراکز (رنگ سینٹر) کے قیام عمل میں لانے کے لئے 250 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کوئٹہ میں واقع مذبح خانے کی مرمت کے لئے 100 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
(ڈان، 15 جولائی، صفحہ5)

گندم

آل پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن، خیبر پختونخوا نے آٹے پر 17 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے کو واپس لیا جائے کیونکہ اس سے غریب عوام براہ راست متاثرہونگے۔ ایسوسی ایشن کے اجلاس میں متفقہ طور پر منظور ہونے والی قرارداد میں سیلز ٹیکس کو مسترد کردیا گیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ٹیکسوں میں اضافے سے عوام کی زندگی بدتر ہوجائیگی۔ مل مالکان نے مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے اگلے روز ایک اور اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
(ڈان، 11 جولائی، صفحہ7)

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے) نے گندم سے بنی اشیاء اور چوکر پر جنرل ٹیکس عائد کیے جانے کے خلاف بطور احتجاج 17 جولائی سے تین روزہ ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پی ایف ایم اے کے مرکزی چیئرمین نعیم بٹ اور دیگر مل مالکان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ہڑتال کا اعلان کیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ملک میں گندم اور چوکر پر جنرل سیلز ٹیکس کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی لیکن حالیہ بجٹ میں ان اشیاء پر ٹیکس متعارف کروایا گیا ہے۔ اس اقدام سے آٹے سے تیار کردہ تمام اشیا متاثر ہونگی اور ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آٹا اور چوکر پر 17 فیصد جبکہ فائن آٹے پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ پی ایف ایم اے نے دعوی کیا ہے کہ ٹیکس کے نفاذ کے بعد 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 170 روپے اضافہ ہوگا۔ پی ایف ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹیکس واپس نہ لیا گیا تو ملک میں آٹے کی ترسیل روک دی جائے گی۔
(بزنس ریکارڈر، 13 جولائی، صفحہ3)

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے) نے ملک بھر میں ہڑتال کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ ہڑتال کا فیصلہ جہانگیر ترین کی جانب سے پی ایف ایم اے رہنماؤں کو گندم اور اس سے متعلقہ اشیاء پر ٹیکس نافذ نہ کیے جانے کی ضمانت دینے پر واپس لیا گیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا تھا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ عام طور پر یہ کہا جارہا تھا کہ آٹے پر سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔ اس معاملے پر ابہام دور کرنے کے لیے ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ آٹا اور اس کی اقسام میدہ سوجی وغیرہ پر ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ہے۔ جن اشیاء پر سے سیلز ٹیکس کی چھوٹ واپس لی گئی ہے ان میں گندم آٹا شامل نہیں ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 17 جولائی، صفحہ14)

چاول

پاکستان سے چاول کی برآمد میں اضافے کا رجحان ہے، مالی سال 2019 میں چاول کی برآمد اب تک کی بلند ترین سطح 2.07 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق پاکستان نے جولائی تا جون 2018-19 کے دوران 4.097 ملین ٹن چاول برآمد کیا ہے جبکہ گزشتہ سال 4.082 ملین ٹن چاول برآمد کیا گیا تھا۔ سابق چیئرمین رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ریپ) کے مطابق پاکستانی برآمد کنندگان بہتر پیداوار کے لیے اپنے طور پر چین سے چاول کے ہائبرڈ بیج درآمد کررہے ہیں، تاہم یہ ہائبرڈ بیج طویل مدت کے لیے کامیاب نہیں ہیں۔
(بزنس ریکارڈر، 12 جولائی، صفحہ5)

غربت

اسٹیٹ بینک کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان کی تقریباً آدھی آبادی شدید اور درمیانے درجے کے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے جبکہ صوبے کے 30 فیصد گھرانوں کو مستقل بھوک کا سامنا ہے۔ ملک کے 36.9 فیصد گھرانے غذائی عدم تحفظ جبکہ 18.3 فیصد گھرانے شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں باجود اس کے کہ پاکستان کئی اہم غذائی فصلوں میں خودکفیل ہے۔ قومی غذائی سروے 2018 کے مطابق پاکستان دنیا میں گندم پیدا کرنے والا آٹھواں، چاول پیدا کرنے والا دسواں، گنا پیدا کرنے والا پانچواں اور دودھ پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی تقریباً چوتھائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہیں یعنی ملک کی 50 ملین آبادی اپنی آمدن سے بنیادی ضروریات پوری نہیں کرسکتی۔
(ڈان، 16 جولائی، صفحہ1)

کھاد

ایک خبر کے مطابق حکومت اور کھاد کی صنعتوں کے درمیان حالیہ گیس کی قیمت اور گیس انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس میں اضافے کو (کسانوں پر) منتقل کرنے کے لیے یوریا کی قیمت میں 210 روپے کے بجائے 110روپے اضافہ کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ تاہم اس کا باضابطہ اعلان وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالزاق دواؤد وزیر اعظم سے منظوری لینے کے بعد کریں گے۔ معاہدے کے مطابق یوریا کی نئی قیمت 1,890 روپے فی بوری ہوجائے گی جو اس وقت ودہولڈنگ ٹیکس کے بغیر 1,780 روپے فی بوری ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 12 جولائی، صفحہ1)

موسمی تبدیلی

اقوام متحدہ کے ادارے ”اکنامک اینڈ سوشل کونسل“ میں جمع کروائی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان موسمی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے لئے درکار سالانہ 10.7 بلین ڈالر اور کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے درکار سالانہ آٹھ سے 17 بلین ڈالر (بحیثیت کم کاربن کا اخراج کرنے والا ملک) بطور مالی معاوضہ طلب کررہا ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر ہونیوالی موسمی تبدیلی کے بدترین اثرات کا شکار ہے جبکہ عالمی سطح پر کاربن کا اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان 31 نمبر پر ہے اور موسمی تبدیل سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ساتواں ملک ہے۔ نیویارک میں پائیدار ترقی کے اہداف (ایجنڈا 2030) کے حوالے سے جاری اجلاس میں منصوبہ بندی کمیشن کی جانب سے تیار کردہ دستاویز کے مطابق پاکستان نے 2030 تک اپنے کاربن کے اخراج کو 20 فیصد کم کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے اور مستقبل کی منصوبہ بندی و حکمت عملیوں میں زرعی اور توانائی شعبہ میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
(ڈان، 15 جولائی، صفحہ3)

نکتہ نظر

اس ہفتے کی خبریں مجموعی طور پر ملکی زرعی معیشت میں تضادات پر مبنی پالیسیوں اور ان کے نتائج کو واضح کررہی ہیں۔ پاکستان بڑے پیمانے پر غذائی فصلیں کاشت کرنے والا ملک ہے جہاں مویشیوں کی کمی ہے نہ دودھ کی، اس کے باجود ملک کی آدھی آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے اور چوتھائی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزاررہی ہے۔ خوراک کی فراوانی کے باجود بھوک اور غربت اس بات کی دلیل ہے کہ صرف پیداوار میں اضافہ ملک سے غربت، بھوک اور غذائی کمی کے خاتمے میں معاون نہیں ہوگا کیونکہ پیداوار ی وسائل اور پیداوار پر اختیار اور ملکیت مخصوص طبقے کی ہے جبکہ پیداواری عمل کو ممکن بنانے والے اکثریتی طبقے کے پاس یا تو زمین ہے ہی نہیں اور ہے بھی تو اتنی کم کہ وہ بمشکل اپنے خاندان کا پیٹ بھرپاتے ہیں۔ اس مخصوص طبقے میں جاگیر دار، سرمایہ دار، افسر شاہی اور حکمران طبقہ شامل ہے جو قیام پاکستان سے لے کر آج تک عوام کو، کسانوں کو نت نئے غیرملکی منصوبوں کے ذریعے غربت اور بھوک کے خاتمے کی نوید سناتے ہیں لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ قومی سطح پر ہم آج بھی ناکام ہیں، لیکن یہ ضرور ہوا کہ پیداواری عمل سے وابستہ چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں کی محنت کا استحصال کرکے آج یہ طبقہ انتہائی ترقی کرکے بین الاقوامی سرمایہ داروں سے گٹھ جوڑ کررہا ہے اور بیج ہو یا زرعی زہر، یا زرعی مشینری، غرض ہر ٹیکنالوجی یہاں رائج کرکے پیداوار کو عالمی منڈی سے منسلک کررہا ہے جس کا فائدہ براہ راست مداخل کی غیر ملکی زرعی کمپنیوں اور پیداواری وسائل پر قابض اشرافیہ کو ہی ہوتا ہے۔ نتیجہ عوام نسل در نسل غربت، بھوک، غذائی کمی کا شکار چلی آرہی ہے۔ اپنے مفادات کے لیے قرض پر شروع کیے گئے یہ غیرملکی منصوبے بین الاقوامی زرعی کمپنیوں اور مقامی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو تو بھرپور فائدہ پہنچاتی ہیں لیکن عوام اس قرض کا بوجھ حکومتی عائد کردہ نت نئے ٹیکسوں کی صورت برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ اب وقت ہے کہ کسان مزدور عوام اس بوجھ کے ساتھ ساتھ اس طبقہ اشرافیہ کو بھی اتار پھینکے جو عالمی سامراجی قوتوں کا آلہ کار بن کر ملک کو حقیقی آزادی اور خوراک کی خودمختاری سے محروم کرتے چلے آرہے ہیں۔

جولائی 4 تا 10 جولائی، 2019

زراعت

وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے تناظر میں دونوں ممالک نے زرعی شعبہ میں تعاون بڑھانے کے لیے اقدامات پر بات چیت کی ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان اور امریکی سفیر پال جونز نے ملاقات میں اتفاق کیا ہے کہ یہ دورہ اہم شعبہ جات خصوصاً زراعت میں تعاون کے لیے ترجیحات کو اجاگر کرنے کے لیے بہت اہم ہوگا۔ امریکی سفیر کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ سے گوشت درآمد کرسکتا ہے۔ امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ پاکستان ایک اہم زرعی ملک ہے اور زرعی شعبہ میں ٹیکنالوجی کا تبادلہ، ویلیو ایڈیشن اور نجی سرکاری شراکتداری کو دونوں ممالک کی جانب سے خوش آمدید کہا جائے گا۔
(ڈان، 9 جولائی، صفحہ10)

جنوبی پنجاب میں فصلوں پر ٹڈی دل کے ممکنہ حملے کے پیش نظر صوبائی حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لئے 102 خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ تقریباً 23 ٹیمیں ڈیرہ غازی خان، 36 بہاولپور اور 43 ٹیمیں ملتان میں ٹڈی دل کے ممکنہ حملے کی نگرانی کریں گی۔ کچھ دن پہلے چیف سیکریٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر نے تمام متعلقہ اداروں کو جنوبی پنجاب میں ٹڈی دل کے خطرے سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کی ہدایت کی تھی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 7 جولائی، صفحہ11)

گندم

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے) پنجاب نے افغانستان کو آٹا اور اس سے بنی اشیاء کی برآمد پر پابندی کی تجویز کی شدید مخالفت کی ہے۔ ایسوسی ایشن کو خدشہ ہے کہ پابندی سے اربوں روپے کی آٹے کی صنعت برباد ہوجائے گی۔ پی ایف ایم اے، پنجاب کے چیرمین حبیب الرحمن لغاری کے مطابق کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں افغانستان کے لیے آٹا اور اس سے بنی اشیاء کی برآمد پر پابندی کی تجویز دی گئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں گندم کا بھاری ذخیرہ موجود ہے۔ پنجاب میں 4.8 ملین ٹن، پاسکو کے پاس دو ملین ٹن جبکہ 800,000 ٹن گندم سندھ حکومت کے گوداموں میں موجود ہے۔ گندم کی براہ راست افغانستان برآمد پر پابندی ہونی چاہیے لیکن آٹا اور اس ؎سے بنی اشیاء کی برآمد جاری رہنی چاہیے۔
(بزنس ریکارڈر، 6 جولائی، صفحہ5)

پنجاب حکومت نے مقامی منڈی میں گندم کی قیمت کو مستحکم اور ملوں کو گندم کی مسلسل فراہمی کے لئے صوبے سے باہر سرکاری گندم کی فروخت پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ خوراک پنجاب نے وزیر اعلی کو سمری بھیج دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس پابندی کا مقصد یومیہ ہزاروں ٹن گندم اور آٹے کی طورخم اور چمن سرحد سے افغانستان ترسیل روکنا ہے۔ نجی ذخائر سے گندم کی ترسیل جاری رہے گی لیکن ترسیل کاروں کو یہ تحریری ثبوت فراہم کرنا ہوگا کہ ترسیل کیا جانے والا گندم سرکاری نہیں ہے۔ پنجاب کے تمام آٹا ملوں اور گندم و آٹے کے تاجر پہلے ہی محکمہ خوراک کو اپنے ذخائر کی معلومات فراہم کرچکے ہیں۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 6 جولائی، صفحہ13)

آٹا

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 20 کلو وزن سے زیادہ آٹے کی بوری پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی جھوٹ ختم کردی ہے جس کے نتیجے میں اب 17 فیصد جی ایس ٹی تندوروں کو فروخت کی جانے والی 80 کلو کی آٹے کی بوری پر لاگو ہوگا جس سے اس کی قیمت میں 600 روپے فی بوری اضافہ ہوجائے گا۔ تندور مالکان کی جانب سے یہ اضافہ روٹی کی قیمت میں اضافے کے ذریعے صارفین پر منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ ایف بی آر کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق فائن آٹا اور میدے پر بھی جی ایس ٹی عائد کردیا گیا ہے۔ آٹے کی قیمتوں میں اضافے کو دیکھتے ہوئے پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیرمین نعیم بٹ نے چاروں صوبوں کے مل مالکان کا اجلاس لاہور میں طلب کیا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 10 جولائی، صفحہ2)

چاول

حکومت کی مسلسل کوششوں کے بعد قطر نے اپنی منڈی پاکستانی چاول کی برآمد کے لیے کھول دی ہے۔ اس سے پہلے قطر سرکاری طور پر پاکستان سے چاول برآمد نہیں کررہا تھا۔ قطر کی سرکاری ”سینٹرل ٹینڈرنگ کمیٹی“ ہر دو مہینے بعد 5,000 ٹن میعاری چاول کی خریداری کے لیے ٹینڈر جاری کرتی ہے۔ پاکستان ان ٹینڈر کے اہل نہیں تھا جس کی وجہ سے پاکستانی تاجر سالانہ 30,000 سے 40,000 ٹن چاول کی قطر برآمد سے محروم تھے۔
(ڈان، 10 جولائی، صفحہ10)

کھاد

وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ کھاد کی صنعتیں آئندہ بات چیت تک کھاد کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کریں گی۔ فرٹیلائزر ریویو کمیٹی کے اجلاس میں وزیر اعظم کے مشیر نے زور دیا کہ کسانوں کو مدد کی فراہمی اور صنعتوں کے ساتھ پیشہ وارانہ تعلقات حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 4 جولائی، صفحہ13)

وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ گیس کی قیمت میں اضافے کے بعد کھاد کی فی بوری قیمت میں 100 روپے اضافہ ہوسکتا ہے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ کھاد کی صنعت نے فی بوری 200 روپے اضافے کا مطالبہ کیا تھا جو حکومت کو منظور نہیں ہے۔ بجٹ سے پہلے کھاد تیار کرنے والوں کے ساتھ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ کھاد کے کارخانے قیمت نہیں بڑھائینگے، اب گیس کی قیمت بڑھ گئی ہے تاہم ”منگل کو کابینہ نے گیس انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس میں کمی کردی ہے“۔
(ڈان، 10 جولائی، صفحہ10)

مال مویشی

ایک خبر کے مطابق صوبائی حکومت مال مویشی مالکان کی ضروریات پوری کرنے اور ڈیری شعبہ کو ترقی دینے کے لیے جلد مال مویشی و ڈیری پالیسی جاری کرے گی۔ متعلقہ محکمے کے افسر کا کہنا ہے کہ ہے کہ حکومت نے صوبے کے سات اضلاع میں مویشی بانی کو جدید بنانے کے لیے 52 ملین روپے مختص کیے ہیں۔ اس کے علاوہ محکمہ جلد مال مویشی سے متعلق نمائش بھی منعقد کرے گا۔ حکومت مال مویشیوں کی صحت سے متعلق سہولیات میں بہتری اور مویشی ڈاکٹروں میں بیروزگاری پر قابو پانے کے لیے انہیں 150 ملازمتیں فراہم کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ مویشیوں کے لیے 23 نئی ڈسپنسریوں کے قیام کی بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 10 جولائی، صفحہ7)

پانی

وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں جاری پانی کی سنگین قلت کے تناظر میں صوبے کی ضرورت کے مطابق ارسا سے پانی فراہم کرنے کے لئے کہا جائیگا۔ سکھر بیراج پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ چشمہ بیراج سے نیچے 245,000 کیوسک پانی پہنچنے کے بعد صورتحال بہتر ہونے کی امید کی جارہی تھی۔ تاہم ایسا ہونے کے باوجود سندھ میں پانی کی قلت برقرار ہے۔ کہیں ایک طرف تو سیلاب کا خطرہ ہے جبکہ دوسری طرف (سندھ میں) پانی کی قلت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے کسان تشویش میں مبتلا ہیں، حتی کہ گڈو اور کوٹری بیراج پر بھی پانی کی قلت کا سامنا ہے۔
(ڈان، 8 جولائی، صفحہ15)

ایوان زراعت سندھ نے حیدرآباد میں اپنے ایک اجلاس میں کوٹری بیراج سے منسلک علاقے میں پانی کی قلت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جس سے چاول کی کاشت متاثر ہورہی ہے۔ اجلاس میں کہا گیا ہے کہ کوٹری بیراج کی کنالوں میں 50 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے جبکہ کنالوں سے منسلک نہروں (ڈسٹری بیوٹریز) میں اس وقت 70 فیصد پانی کی کمی ہے اور نہر کے آخری سروں کو پانی کی فراہمی بند ہے۔ ایوان زراعت سندھ نے ڈیزل، کھاد، بیج، مشینری اور زرعی زہر کی قیمت میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے اعلان کردہ بجٹ 2019-20 میں زرعی شعبہ کو مراعات نہیں دیں اور یہ شعبہ شدید متاثر ہورہا ہے۔
(ڈان، 8 جولائی، صفحہ15)

نکتہ نظر

اس ہفتے کی خبروں میں دو پہلو نمایاں ہیں۔ ایک وزیر اعظم کا دورہ امریکہ اور دوسرا حکومتی ٹیکس پالیسی ہے جو اس ملک میں ناصرف چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں کو مداخل کی بڑھتی ہوئی قیمت کی صورت متاثر کررہی ہے بلکہ عوام کے لیے آٹا اور روٹی کی قیمت میں اضافے کا بھی سبب بنی ہے۔ وزیر اعظم کی دورہ امریکہ سے متعلق ترجیحات خود امریکی سفیر نے بیان کردی ہیں کہ امریکہ پاکستان کو ایک اہم زرعی ملک کے طو پر دیکھتا ہے۔ یعنی امریکہ کے لیے پاکستان اپنی زرعی ٹیکنالوجی فروخت کرنے کے لیے اہم ترین ملک ہے جہاں ویلیو ایڈیشن سے لے کر مال مویشی شعبہ تک امریکی کمپنیوں کے لیے منافع کمانے کا بھرپور موقع ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں کی خبروں میں یہ وضاحت ملتی ہے کہ کس طرح پاکستان نیولبرل پالیسیوں کے تحت ملکی قوانین کو عالمی سرمایہ دار کمپنیوں کی خواہشات کے مطابق ڈھالنے میں سرگرداں ہے جس سے مجموعی زرعی معیشت اور غذائی شعبہ میں تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ اس کی ایک مثال زرعی منڈیوں کے لیے مارکیٹ ریگولیٹری اتھارٹیوں اور خوراک کے معیار کے لیے فوڈ اتھارٹیوں کا قیام ہے جو ملکی زرعی پیداوار کے کاروبار سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کے خاتمے کا سبب بنے گا۔ پھر چاہے وہ منڈی دودھ کی ہو یا گندم و آٹے کی، یا پھر پھل و سبزی، یہ تمام شعبہ جات سپلائی چین اور ویلیو ایڈیشن کی صنعتوں میں تبدیل ہوکر سرمایہ داروں کے لیے منافع کے حصول کا زریعہ ثابت ہوتے ہیں۔ خود امریکی سفیر نے بھی اس لیے ان شعبہ جات میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔ اس عمل کو کارپوریٹ فارمنگ یا جدید صنعتی زراعت کے زریعے بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ جس میں جدید مشینری، مہنگے درآمدی بیجوں اور سرکاری مراعات کے بل پر بڑے پیمانے پر پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔ اس صنعتی کاشت میں چھوٹا کسان منڈی میں مسابقت کے قابل نہیں رہتا اور زراعت چھوڑ کر مزدوری پر مجبور ہوجاتا ہے۔ آٹے پر 17 فیصد جی ایس ٹی کا نفاذ اور کھاد کی صنعتوں کے لیے گیس انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس میں کمی سے صاف ظاہر ہے کہ تمام تر پالیسی سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کی فلاح و منافع کے لیے ہے ناکہ تندور چلانے والے چھوٹے کاروباری افراد اور چھوٹے و بے زمین کسان مزدوروں کے لیے جن کے بل پر اس ملک کی معیشت کھڑی ہے۔

جون 27 تا 3 جولائی، 2019

زمین

وزیر جنگلات و جنگلی حیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے سندھ اسمبلی کو آگاہ کیا ہے کہ 78,444 ایکڑ جنگلات کی زمین غیر قانونی طور پر صوبائی محکمہ ریونیو نے مختلف اداروں اور شخصیات کو منتقل کی ہے۔ محکمہ جنگلات نے زمین کی منتقلی کے لیے کسی کو بھی سند عدم اعتراض (این او سی) جاری نہیں کی تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 80 فیصد زمین کی غیر قانونی منتقلی اس وقت ہوئی جب سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت نہیں تھی۔ صوبائی کابینہ نے سات جنوری، 2019 کو بورڈ آف ریونیو کو جنگلات کی زمین کی تمام منتقلیوں (الاٹمنٹ) کو منسوخ کرنے کی بھی ہدایت کردی تھی۔
(ڈان، 2 جولائی، صفحہ16)

زراعت

سندھ کے مختلف علاقوں میں ٹڈی دل کا حملہ جاری ہے جبکہ وفاقی و صوبائی حکومت اس کے خاتمے کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کررہی ہیں۔ سندھ حکومت نے وفاقی حکومت سے ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے مزید عملہ تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پہلے حملہ میں ٹڈی دل نے فصلوں کو 500 سے 600 ملین روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔ جنرل سیکریٹری ایون زراعت سندھ (سندھ چیمبر آف ایگری کلچر) زاہد حسین بھرگڑی نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ہفتہ بڑی تعداد میں افزائش کے بعد دوسرے حملہ میں ٹڈی دل فصلوں پر تباہی مچاد دینگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت چینی پر زرتلافی کی مد میں چار بلین روپے فراہم کرسکتی ہے تو کیا فضائی و زمینی اسپرے کے لئے 100 سے 200 ملین روپے خرچ نہیں کرسکتی ہے۔ صوبائی حکومت اسپرے کے لئے وفاقی حکومت پر انحصار کررہی ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 27 جون، صفحہ4)

ایک خبر کے مطابق ضلع دادو میں ہزاروں ایکٹر زرعی زمین پر ٹڈی دل پھیل گئے ہیں جس سے فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ کسان شکایت کررہے ہیں کہ کوئی وفاقی یا صوبائی حکومت اور ماہرین متاثرہ علاقے میں نقصان کا اندازہ لگانے اور فصلوں کے تحفظ کے لیے نہیں پہنچے ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ وفاق اور صوبوں کی عدم توجہی کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں اب تک فضائی اسپرے شروع نہیں کیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹڈی دل پہلے ہی ہزاروں ایکڑ زمین پر پھیلی کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچاچکے ہیں اور اب دریائے سندھ کے ساتھ کچے کے علاقے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
(ڈان، 29 جون، صفحہ17)

حیدر آباد میں دو روزہ آم کی نمائش کے افتتاح کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر زراعت سندھ اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ جب مئی کے آخر میں ضلع خیرپور کے تعلقہ نارا میں ٹڈی دل کی موجودگی ظاہر ہوئی تو سندھ حکومت نے محکمہ تحفظ نباتات (ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن) کو آگاہ کیا اور ٹڈی دل کی نقل و حمل سے ادارے کو باخبر رکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹڈی دل کی افزائش کا وقت تیزی سے قریب آرہا ہے اور اس کا آخری ٹھکانہ صحرا ہوگا جہاں یہ انڈے دینگے۔ اس وقت ان کی تعداد کئی گنا بڑھ جائے گی جس سے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ صحرائی علاقے میں فضائی اسپرے کیا جاسکتا ہے لیکن ان کے پاس صرف ایک جہاز ہے جو اسپرے کرسکتا ہے۔
(ڈان، 30 جون، صفحہ17)

کسان تنظیموں نے زرعی مداخل کی قیمتوں کو کم کرنے اور دیگر سہولیات کی فراہمی میں حکومتی ناکامی کے خلاف ملک گیر احتجاج کا عندیہ دیا ہے۔ پاکستان کسان اتحاد (پی کے آئی) نے کھاد، زرعی مشینری پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) خاتمے اور زرعی ٹیوب ویل کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی کے مطالبات پورے نہ ہونے پر مستقبل کی حکمت عملی ترتیب دینے کے لئے ہنگامی اجلاس منعقد کیا تھا۔ پی کے آئی کے صدر خالد کھو کھر کا کہنا تھا کہ حکومت نے ناصرف ہمارے مطالبات نہیں سنے بلکہ بجٹ 2019-20 میں کھاد پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس اور کپاس کے جنرز پر 10 فیصد جی ایس ٹی عائد کردیا ہے جس سے پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہوگا۔
(بزنس ریکارڈر، 1 جولائی، صفحہ13)

سندھ اور بلوچستان میں ٹڈی دل کے حملے کے بعد پنجاب حکومت ہنگامی صورتحال کے لیے پوری طرح چوکس ہے۔ محکمہ زراعت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خطرے کے پیش نظر فصلوں کو ممکنہ حملے سے بچانے کے لیے تمام ممکن اقدامات کیے جارہے ہیں۔ محکمے نے صورتحال کا مسلسل جائزہ لینے کے لیے جنوبی پنجاب میں خصوصی عملہ تعینات کردیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاق اور صوبے کے متعلقہ محکمے ہر وقت رابطے میں ہیں۔
(ڈان، 2جولائی، صفحہ10)

وزیر اعظم کے معتمد خاص جہانگیر خان ترین نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ سندھ حکومت ملک اور زرعی شعبہ کی خاطر وزیر اعظم کے زرعی منصوبے ”نیشنل ایگریکلچرل ایمرجنسی پروگرام“ کا حصہ بن جائے۔ وفاقی حکومت نے سندھ میں زرعی ترقی کے لیے 18 بلین روپے مختص کیے ہیں۔ سندھ حکومت کو سیاست ایک طرف رکھتے ہوئے اس منصوبے میں شامل ہونا چاہیے۔ سندھ کی اس منصوبے میں شمولیت ملکی زرعی معیشت کو کھڑا کرسکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل ایگریکلچرل ایمرجنسی پروگرام پر نظر ثانی کی گئی ہے۔309.7 بلین روپے لاگت کا یہ منصوبہ پانچ شعبہ جات میں 16 منصوبوں پر مشتمل ہے جسے قومی اقتصادی کونسل اس ماہ منظور کرے گی۔ جہانگیر خان ترین کی جانب سے منصوبے کے حوالے سے فراہم کی جانے والی تفصیلات کے مطابق 44.8 بلین روپے اہم فصلوں کی پیداوار میں اضافے اور روغنی بیج کی کاشت کو بڑھانے کے لئے خرچ کئے جائینگے۔ گندم کی فصل کے لئے 19.3 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں جس سے گندم کی اوسط پیداوار 33 من سے 40 من تک بڑھانے میں مدد ملے گی اور حکومت کو 1.5 ملین سے دو ملین ایکڑ زمین دوسری فصلوں کے لئے استعمال میں لانے کا موقع ملے گا۔ اسی طرح گنے کی پیداوار میں 150 من فی ایکڑ اضافے (650 سے 800 من) کے لئے 3.9 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت زمین ہموار کرنے والی 12,110 مشینوں (لیزر لیولر) پر زرتلافی پر فراہم کریگی۔ وزیر زراعت پنجاب کا کہنا تھا کہ حکومت 2022 تک لاہور، ڈیرہ غازی خان، حافظ آباد اور راولپنڈی میں چار نجی منڈیوں کا قیام عمل میں لائے گی۔
(ڈان، 3 جولائی، صفحہ3)

پانی

پانی پر ہونے والی ایک کانفرنس میں مقررین نے خبرادر کیا ہے کہ اگر سندھ حکومت نے پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لئے فوری اقدامات نہیں کئے تو بدین کا بڑا علاقہ اور زیریں سندھ کے دیگر علاقے صحرا میں تبدیلی ہوجائینگے۔ سابق سیکریٹری محکمہ آبپاشی اور سیو لاڑ ایکشن کمیٹی کے سربراہ میر محمد پڑھیار کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پانی کے مسئلہ کا آغاز 1985 میں ہوا جب سیاسی حکومت نے محکمہ آبپاشی کے حکام پر اپنے منظور نظر سیاستدانوں کو غیرقانونی زرائع سے پانی فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کیا۔ سیاسی شخصیات نے سکھر بیراج کی نہروں کی استطاعت کے برخلاف صحرائی علاقوں کو بھی پانی فراہم کرنے کے لیے مجبور کیا۔ پانی کا مسئلہ سکھر اور کوٹری بیراج کے درمیان پایا جاتا ہے جہاں سے دریائی پانی بڑے پمپنگ اسٹیشنوں کے ذریعے نکالا جارہا ہے۔ مورو۔دادو پل پر 400 کیوسک پانی نکالنے کی صلاحیت رکھنے والا ایک پمپنگ اسٹیشن قائم ہے۔ اس اسٹیشن سے پانی نکال کر بااثر افراد کی زمینوں تک پہنچایا جاتا ہے جو متعلقہ قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس طرح کے تمام منصوبے ماہرین و متعلقہ کسانوں کی مشاورت کے بغیر بدین اور زیریں سندھ کے کسانوں کا پانی چوری کرنے کے لئے قائم کئے گئے ہیں۔
(ڈان، 28 جون، صفحہ17)

پاکستان میں سالانہ فی کس پانی کی دستیابی 935 مربع میٹر ہوگئی ہے جو 70سال پہلے 5,260 مربع میٹر تھی۔ ماہرین کے مطابق اگر پانی کے تحفظ کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے گئے تو پانی کی دستیابی 860 مربع میٹر فی کس سے بھی کم ہوسکتی ہے اور 2040 تک یہ شرح 500 مربع میٹر فی کس تک کم ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی میعار کے مطابق پانی کی فی کس اوسط دستیابی 1,800 مربع میٹر ہونی چاہیے۔ 2025 تک ملک میں پانی کی طلب 274 ملین ایکڑ فٹ تک بڑھنے اور اس کی دستیابی 191 ملین ایکڑ فٹ رہنے کا امکان ہے جس سے طلب و رسد میں 83 ملین ایکڑ فٹ فرق پیدا ہوگا۔ پاکستان میٹھے پانی کا 93 فیصد زراعت میں استعمال کرتا ہے جس میں پانی کے بہتر استعمال کی صلاحیت میں اضافے کی ضرورت ہے۔ کچھ تحقیقات کے مطابق پانی کی ترسیل کے نہری نظام کے ذریعے صرف 33 فیصد پانی کھیتوں تک پہنچ پاتا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 29 جون، صفحہ2)

پنجاب حکومت نے پانی کی فراہمی و نکاسی کی سہولیات کی بہتری کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2019-20 میں 22.4 بلین روپے مختص کیے ہیں۔ مختص کی گئی رقم سے 12.175 بلین روپے جاری منصوبوں اور 10.225 بلین روپے نئے منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ اگر پچھلی حکومت سے موازنہ کیا جائے تو یہ رقم بہت کم ہے کیونکہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے 2017-18 کے بجٹ میں اس شعبے کے لیے 50 بلین روپے مختص کیے تھے۔ عالمی بینک کی جانب سے 2012 میں کی گئی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ ناقص نکاسی آب کے نظام کے اثرات کی وجہ سے سال 2006 میں ملکی معیشت کو 344 بلین روپے کا نقصان ہوا جو مجموعی قومی پیداوار کا 3.9 فیصد بنتا ہے۔ ناقص نکاسی کے نظام کے اثرات صحت پر پڑنے والے منفی اثرات اور ان پر آنے والے اخراجات سے جڑا ہے جو مجموعی طور پر معیشت اور سماجی اقتصادی ترقی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
(بزنس ریکارڈر، 29 جون، صفحہ5)

دریائے سندھ میں پانی کی کمی کے نتیجے میں کئی مہینوں سے خشک سالی جیسی صورتحال کا سامنا کرنے کے بعد سندھ کے ساحلی اضلاع کے کسانوں نے احتجاجی لانگ مارچ شروع کردیا ہے۔ کسانوں کا یہ احتجاج پانچویں دن میں داخل ہوگیا ہے جو ضلع سجاول سے شروع ہوکر ضلع ٹھٹھہ کے علاقے گھارو پہنچ گیا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ ضلع ٹھٹھہ میں پانی کا مصنوعی بحران پیدا کردیا گیا ہے جس سے ہزاروں کھیت متاثر ہور ہے ہیں جس کے ذمہ دار محکمہ آبپاشی کے عہدیدار اور بڑے جاگیردار ہیں۔ یہ احتجاجی لانگ مارچ تین جولائی کو مکلی، ٹھٹھہ میں ختم ہوگا جہاں ہزاروں کسان، سماجی کارکنان، مختلف سیاسی تنظیموں کے نمائندے پانی کے مسئلہ پر آواز اٹھائینگے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 2 جولائی، صفحہ5)

نوڈیرو اور شہداد کوٹ، سندھ میں پانی کی قلت کی وجہ سے لوگ احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے چاول کی کاشت کے لیے پانی کی فراہمی یقینی بنانے میں حکومتی ناکامی کی شدید مذمت کی ہے۔ 20 سے زیادہ دیہات سے آنے والے کسانوں کی بڑی تعداد نے لاڑکانہ۔سکھر شاہراہ کے ساتھ پنجو ڈیرو میں دھرنا دیا۔ ہاتھوں میں خشک ہوجانے والی چاول کی پنیری اٹھائے کسانوں نے محکمہ آبپاشی کے خلاف نعرے لگائے۔ شہداد کوٹ میں بھی کسانوں نے کوٹو موٹو چوک پر پانی کی قلت کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا۔
(ڈان، 2جولائی، صفحہ 17)

ڈیری

پنجاب فوڈ اتھارٹی کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے لاہور میں دودھ کے ترسیل کاروں نے جراثیم سے پاک دودھ ”پیسچرائزڈ ملک“ کی فروخت کی طرف منتقل ہونا شروع کردیا ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے کھلے دودھ کی فروخت پر 2022 تک پابندی کے تناظر میں دودھ کے ترسیل کاروں نے جراثیم سے پاک دودھ کی فروخت کی جانب منتقل ہونا شروع کیا۔ ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی محمد عثمان کے مطابق پیسچرائزیشن کے عمل کی وجہ سے دودھ کی قیمت میں سات روپے فی لیٹر اضافہ متوقع ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 3 جولائی، صفحہ11)

گندم

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے (نئی) امدادی قیمت مسترد کرتے ہوئے گندم اور آٹے کے سابقہ نرخ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کسانوں سے گندم 1,300 روپے فی من امدادی قیمت پر خریدی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی آٹا ملوں کو گندم کی فراہمی اگست سے شروع ہوگی۔ کچھ دن پہلے محکمہ خوراک کی جانب سے اس حوالے سے کئی تجاویز وزیر اعلی کو بھیجی گئی تھیں۔ وزیر اعلی نے واضح کیا ہے کہ آٹے کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا جائے گا اور حکومت زرتلافی کا بوجھ برداشت کرے گی۔ گزشتہ سال محکمہ خوارک نے 1,300 روپے فی من قیمت پر آٹا ملوں کو گندم فروخت کی تھی اور آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی مل کی قیمت 760 اور تھوک قیمت 775 روپے مقرر کی گئی تھی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 3 جولائی، صفحہ11)

تمباکو

پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران تمباکو کے کاشتکاروں نے حکومت کی طرف سے عائد کردہ پیشگی ٹیکس میں بڑے پیمانے پر کمی کی سخت مذمت کی ہے اور حکومت پر زور دیا ہے کہ اس اقدام سے ذخیرہ اندوزوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور معیشت کو نقصان ہوگا۔ کاشتکاروں نے حکومت سے کسانوں کے معاشی قتل سے تحفظ فراہم کرنے کے لئے اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت نے تمباکو کی غیر قانونی تجارت روکنے کے لئے تمباکو پر (حالیہ بجٹ میں تجویز کردہ) 300 روپے فی کلو گرام پیشگی ٹیکس (فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی) کم کرکے 10 روپے فی کلو گرام کرنے کا اعلان کیا تھا۔
(ڈان، 28 جون، صفحہ7)

کھاد

نیشنل فرٹیلائزر ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق خریف کی بیجائی کا موسم زور وشور سے جاری ہے۔ مئی کے مہینے میں یوریا کی فروخت 103 فیصد بڑھ کر 593,000 ٹن ہوگئی جو ماہ اپریل میں 292,000 ٹن تھی۔ خریف کے موسم میں کیمیائی کھاد کی فروخت میں مثبت رجحان ہے جو اگلے ماہ بھی برقرار رہے گا۔ ڈی اے پی کی فروخت میں میں بھی اپریل کے مقابلے مئی میں 147 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مئی میں 213,000 ٹن ڈی اے پی فروخت ہوئی جبکہ ماہ اپریل میں فروخت 86,000 ٹن تھی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 27 جون، صفحہ20)

ماہی گیری

ایک خبرکے مطابق مالی سال 2018-19 میں مچھلی اور اس سے تیار اشیاء کی برآمدات میں گزشتہ سال اس ہی مدت کے مقابلہ میں 4.11 فیصد کمی آئی ہے۔ ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق جولائی تا مئی 2018-19 کے دوران سمندری خوراک کی برآمد 406.56 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ گزشتہ سال اس ہی مدت کے دوران 423.97 ملین ڈالر کی سمندری خوراک برآمد کی گئی تھی۔
(بزنس ریکارڈر، 1 جولائی، صفحہ13)

ماحول

ایک خبر کے مطابق حکومت نے 14 اگست، 2019 کے بعد اسلام آباد میں پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں پر 0.5 ملین روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمی تبدیلی میں وفاقی وزیر موسمی تبدیلی زرتاج گل کا کہنا تھا کہ 14 اگست کے بعد کسی کو بھی پلاسٹک کے تھیلے استعمال کرتے ہوئے پایا گیا تو اس پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کپڑے سے بنے تھیلے استعمال کریں۔
(بزنس ریکارڈر، 29 جون، صفحہ2)

سندھ حکومت نے کراچی کے صنعتی علاقوں میں نکاسی کی لائنوں کی تنصیب اور آبی فضلے کی صفائی کے پانچ کارخانوں (کمبائن ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس) کی تعمیر کے لئے نئے مالی سال کے بجٹ میں دو بلین روپے مختص کئے ہیں۔ ان کارخانوں کی مدد سے سمندر میں گرنے سے پہلے یومیہ 94 ملین گیلن صنعتی فضلہ صاف کیا جاسکے گا۔ اس منصوبہ کو 2021 تک مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ منصوبے پر 11.7 بلین روپے لاگت آئے گی جس کا 33 فیصد وفاقی حکومت جبکہ 67 فیصد صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ ادارہ فراہمی و نکاسی آب کراچی (کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ) نے منصوبہ کا حتمی نقشہ تیار کرلیا ہے۔ نکاسی کی لائنوں کی تنصیب کا کام جولائی 2019 میں شروع کیا جائیگا اور دو کارخانوں کی تنصیب کا کام اگست میں شروع کیا جائیگا۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 1 جولائی، صفحہ4)

نکتہ نظر

اس ہفتے کی خبروں میں پاکستان خصوصاً صوبہ سندھ میں پانی کی شدید کمی اور ملک میں زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے منصوبہ بندی پر مبنی خبریں اہم ہیں۔ اب تک سندھ کے ساحلی اضلاع شدید پانی کی کمی سے دوچار تھے جہاں کسان موسمی تبدیلی کے نتیجے میں سیم و تھور، سمندر کے بڑھنے سے پہلے ہی متاثر تھے اب پانی کی شدید کمی کا شکار ہوکر مزید غربت اور بھوک کی دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں اور پچھلے کئی ماہ سے احتجاج کررہے ہیں۔ لیکن اب خریف کے موسم میں بھی کسان پانی کی قلت کی وجہ سے چاول کاشت کرنے سے قاصر ہیں اور احتجاج کررہے ہیں۔ یقینا خریف کے موسم میں پانی کی یہ کمی اس کی تقسیم میں ناانصافی کی وجہ سے ہے کیونکہ دریائے سندھ میں پانی کا 80 فیصد بہاؤ اسی موسم میں ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر احتجاج کرنے والے کسان بھی پانی کی قلت کا ذمہ دار جاگیرداروں کو ٹہراتے ہیں جنہیں بدعنوان آبپاشی حکام کی مدد حاصل ہوتی ہے۔زرعی شعبہ میں پالیسی سازی سے لے کر پیداواری وسائل پر اختیار تک یہی جاگیردار اور سرمایہ دار طبقہ حاوی ہے جو کہیں جنگلات کی زمینوں پر قابض ہوکر، کہیں پانی چوری کرکے اور کہیں پیداوار میں اضافے کے لیے پالیسی سازی کرکے اپنی شوگر ملوں میں اضافہ کررہا ہے اور دوسری طرف چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور خوراک کاشت کرکے بھی بھوک اور غربت کا شکار ہورہے ہیں۔ زمین، پانی جیسے ملکی پیداواری وسائل کا غیرپائیدار استعمال کرکے برآمدات کو بڑھانے کے لیے حکومت سینکڑوں ارب روپے مختص کرتی ہے لیکن آبپاشی نظام میں پانی کے زیاں کو روکنے کے لیے آبپاشی ڈھانچے کی مرمت و بحالی کے لیے بجٹ ناہونے کے برابر مختص کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس غیرملکی کمپنیوں کے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے آبپاشی کی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر 60 فیصد زرتلافی دی جارہی ہے جس کا فائدہ زمیندار اور جاگیردار طبقہ ہی اٹھاسکتا ہے ناکہ چند ایکڑ پر کاشت کرنے والا چھوٹا کسان۔ معاملہ پانی کی قلت کا ہو، پیداواری اخراجات میں اضافے کا یا پھر منڈی میں قیمت نہ ملنے کا اس کے پیچھے ایک ہی طبقہ ہے جو حکمران بھی ہے، جاگیردار بھی ہے، افسرشاہی بھی ہے جس کا اپنامفاد عالمی سرمایہ دار کمپنیوں اور ممالک کے مفاد سے جڑا ہے، یہ طبقہ ہر گز چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور طبقے کے مفاد میں پالیسی سازی نہیں کرے گا۔ ضروری ہے کہ کسان مزدور طبقہ خود ان وسائل اور اختیار کے لیے منظم ہوکر جدوجہد کرے۔