جون 2019

جون 27 تا 03 جولائی، 2019

زمین
وزیر جنگلات و جنگلی حیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے سندھ اسمبلی کو آگاہ کیا ہے کہ 78,444 ایکڑ جنگلات کی زمین غیر قانونی طور پر صوبائی محکمہ ریونیو نے مختلف اداروں اور شخصیات کو منتقل کی ہے۔ محکمہ جنگلات نے زمین کی منتقلی کے لیے کسی کو بھی سند عدم اعتراض (این او سی) جاری نہیں کی تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 80 فیصد زمین کی غیر قانونی منتقلی اس وقت ہوئی جب سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت نہیں تھی۔ صوبائی کابینہ نے سات جنوری، 2019 کو بورڈ آف ریونیو کو جنگلات کی زمین کی تمام منتقلیوں (الاٹمنٹ) کو منسوخ کرنے کی بھی ہدایت کردی تھی۔
(ڈان، 2 جولائی، صفحہ16)

زراعت
سندھ کے مختلف علاقوں میں ٹڈی دل کا حملہ جاری ہے جبکہ وفاقی و صوبائی حکومت اس کے خاتمے کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کررہی ہیں۔ سندھ حکومت نے وفاقی حکومت سے ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے مزید عملہ تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پہلے حملہ میں ٹڈی دل نے فصلوں کو 500 سے 600 ملین روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔ جنرل سیکریٹری ایون زراعت سندھ (سندھ چیمبر آف ایگری کلچر) زاہد حسین بھرگڑی نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ہفتہ بڑی تعداد میں افزائش کے بعد دوسرے حملہ میں ٹڈی دل فصلوں پر تباہی مچاد دینگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت چینی پر زرتلافی کی مد میں چار بلین روپے فراہم کرسکتی ہے تو کیا فضائی و زمینی اسپرے کے لئے 100 سے 200 ملین روپے خرچ نہیں کرسکتی ہے۔ صوبائی حکومت اسپرے کے لئے وفاقی حکومت پر انحصار کررہی ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 27 جون، صفحہ4)

ایک خبر کے مطابق ضلع دادو میں ہزاروں ایکٹر زرعی زمین پر ٹڈی دل پھیل گئے ہیں جس سے فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ کسان شکایت کررہے ہیں کہ کوئی وفاقی یا صوبائی حکومت اور ماہرین متاثرہ علاقے میں نقصان کا اندازہ لگانے اور فصلوں کے تحفظ کے لیے نہیں پہنچے ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ وفاق اور صوبوں کی عدم توجہی کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں اب تک فضائی اسپرے شروع نہیں کیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹڈی دل پہلے ہی ہزاروں ایکڑ زمین پر پھیلی کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچاچکے ہیں اور اب دریائے سندھ کے ساتھ کچے کے علاقے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
(ڈان، 29 جون، صفحہ17)

حیدر آباد میں دو روزہ آم کی نمائش کے افتتاح کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر زراعت سندھ اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ جب مئی کے آخر میں ضلع خیرپور کے تعلقہ نارا میں ٹڈی دل کی موجودگی ظاہر ہوئی تو سندھ حکومت نے محکمہ تحفظ نباتات (ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن) کو آگاہ کیا اور ٹڈی دل کی نقل و حمل سے ادارے کو باخبر رکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹڈی دل کی افزائش کا وقت تیزی سے قریب آرہا ہے اور اس کا آخری ٹھکانہ صحرا ہوگا جہاں یہ انڈے دینگے۔ اس وقت ان کی تعداد کئی گنا بڑھ جائے گی جس سے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ صحرائی علاقے میں فضائی اسپرے کیا جاسکتا ہے لیکن ان کے پاس صرف ایک جہاز ہے جو اسپرے کرسکتا ہے۔
(ڈان، 30 جون، صفحہ17)

کسان تنظیموں نے زرعی مداخل کی قیمتوں کو کم کرنے اور دیگر سہولیات کی فراہمی میں حکومتی ناکامی کے خلاف ملک گیر احتجاج کا عندیہ دیا ہے۔ پاکستان کسان اتحاد (پی کے آئی) نے کھاد، زرعی مشینری پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) خاتمے اور زرعی ٹیوب ویل کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی کے مطالبات پورے نہ ہونے پر مستقبل کی حکمت عملی ترتیب دینے کے لئے ہنگامی اجلاس منعقد کیا تھا۔ پی کے آئی کے صدر خالد کھو کھر کا کہنا تھا کہ حکومت نے ناصرف ہمارے مطالبات نہیں سنے بلکہ بجٹ 2019-20 میں کھاد پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس اور کپاس کے جنرز پر 10 فیصد جی ایس ٹی عائد کردیا ہے جس سے پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہوگا۔
(بزنس ریکارڈر، 1 جولائی، صفحہ13)

سندھ اور بلوچستان میں ٹڈی دل کے حملے کے بعد پنجاب حکومت ہنگامی صورتحال کے لیے پوری طرح چوکس ہے۔ محکمہ زراعت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خطرے کے پیش نظر فصلوں کو ممکنہ حملے سے بچانے کے لیے تمام ممکن اقدامات کیے جارہے ہیں۔ محکمے نے صورتحال کا مسلسل جائزہ لینے کے لیے جنوبی پنجاب میں خصوصی عملہ تعینات کردیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاق اور صوبے کے متعلقہ محکمے ہر وقت رابطے میں ہیں۔
(ڈان، 2جولائی، صفحہ10)

وزیر اعظم کے معتمد خاص جہانگیر خان ترین نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ سندھ حکومت ملک اور زرعی شعبہ کی خاطر وزیر اعظم کے زرعی منصوبے ”نیشنل ایگریکلچرل ایمرجنسی پروگرام“ کا حصہ بن جائے۔ وفاقی حکومت نے سندھ میں زرعی ترقی کے لیے 18 بلین روپے مختص کیے ہیں۔ سندھ حکومت کو سیاست ایک طرف رکھتے ہوئے اس منصوبے میں شامل ہونا چاہیے۔ سندھ کی اس منصوبے میں شمولیت ملکی زرعی معیشت کو کھڑا کرسکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل ایگریکلچرل ایمرجنسی پروگرام پر نظر ثانی کی گئی ہے۔309.7 بلین روپے لاگت کا یہ منصوبہ پانچ شعبہ جات میں 16 منصوبوں پر مشتمل ہے جسے قومی اقتصادی کونسل اس ماہ منظور کرے گی۔ جہانگیر خان ترین کی جانب سے منصوبے کے حوالے سے فراہم کی جانے والی تفصیلات کے مطابق 44.8 بلین روپے اہم فصلوں کی پیداوار میں اضافے اور روغنی بیج کی کاشت کو بڑھانے کے لئے خرچ کئے جائینگے۔ گندم کی فصل کے لئے 19.3 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں جس سے گندم کی اوسط پیداوار 33 من سے 40 من تک بڑھانے میں مدد ملے گی اور حکومت کو 1.5 ملین سے دو ملین ایکڑ زمین دوسری فصلوں کے لئے استعمال میں لانے کا موقع ملے گا۔ اسی طرح گنے کی پیداوار میں 150 من فی ایکڑ اضافے (650 سے 800 من) کے لئے 3.9 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت زمین ہموار کرنے والی 12,110 مشینوں (لیزر لیولر) پر زرتلافی پر فراہم کریگی۔ وزیر زراعت پنجاب کا کہنا تھا کہ حکومت 2022 تک لاہور، ڈیرہ غازی خان، حافظ آباد اور راولپنڈی میں چار نجی منڈیوں کا قیام عمل میں لائے گی۔
(ڈان، 3 جولائی، صفحہ3)

پانی
پانی پر ہونے والی ایک کانفرنس میں مقررین نے خبرادر کیا ہے کہ اگر سندھ حکومت نے پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لئے فوری اقدامات نہیں کئے تو بدین کا بڑا علاقہ اور زیریں سندھ کے دیگر علاقے صحرا میں تبدیلی ہوجائینگے۔ سابق سیکریٹری محکمہ آبپاشی اور سیو لاڑ ایکشن کمیٹی کے سربراہ میر محمد پڑھیار کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پانی کے مسئلہ کا آغاز 1985 میں ہوا جب سیاسی حکومت نے محکمہ آبپاشی کے حکام پر اپنے منظور نظر سیاستدانوں کو غیرقانونی زرائع سے پانی فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کیا۔ سیاسی شخصیات نے سکھر بیراج کی نہروں کی استطاعت کے برخلاف صحرائی علاقوں کو بھی پانی فراہم کرنے کے لیے مجبور کیا۔ پانی کا مسئلہ سکھر اور کوٹری بیراج کے درمیان پایا جاتا ہے جہاں سے دریائی پانی بڑے پمپنگ اسٹیشنوں کے ذریعے نکالا جارہا ہے۔ مورو۔دادو پل پر 400 کیوسک پانی نکالنے کی صلاحیت رکھنے والا ایک پمپنگ اسٹیشن قائم ہے۔ اس اسٹیشن سے پانی نکال کر بااثر افراد کی زمینوں تک پہنچایا جاتا ہے جو متعلقہ قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس طرح کے تمام منصوبے ماہرین و متعلقہ کسانوں کی مشاورت کے بغیر بدین اور زیریں سندھ کے کسانوں کا پانی چوری کرنے کے لئے قائم کئے گئے ہیں۔
(ڈان، 28 جون، صفحہ17)

پاکستان میں سالانہ فی کس پانی کی دستیابی 935 مربع میٹر ہوگئی ہے جو 70سال پہلے 5,260 مربع میٹر تھی۔ ماہرین کے مطابق اگر پانی کے تحفظ کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے گئے تو پانی کی دستیابی 860 مربع میٹر فی کس سے بھی کم ہوسکتی ہے اور 2040 تک یہ شرح 500 مربع میٹر فی کس تک کم ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی میعار کے مطابق پانی کی فی کس اوسط دستیابی 1,800 مربع میٹر ہونی چاہیے۔ 2025 تک ملک میں پانی کی طلب 274 ملین ایکڑ فٹ تک بڑھنے اور اس کی دستیابی 191 ملین ایکڑ فٹ رہنے کا امکان ہے جس سے طلب و رسد میں 83 ملین ایکڑ فٹ فرق پیدا ہوگا۔ پاکستان میٹھے پانی کا 93 فیصد زراعت میں استعمال کرتا ہے جس میں پانی کے بہتر استعمال کی صلاحیت میں اضافے کی ضرورت ہے۔ کچھ تحقیقات کے مطابق پانی کی ترسیل کے نہری نظام کے ذریعے صرف 33 فیصد پانی کھیتوں تک پہنچ پاتا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 29 جون، صفحہ2)

پنجاب حکومت نے پانی کی فراہمی و نکاسی کی سہولیات کی بہتری کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2019-20 میں 22.4 بلین روپے مختص کیے ہیں۔ مختص کی گئی رقم سے 12.175 بلین روپے جاری منصوبوں اور 10.225 بلین روپے نئے منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ اگر پچھلی حکومت سے موازنہ کیا جائے تو یہ رقم بہت کم ہے کیونکہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے 2017-18 کے بجٹ میں اس شعبے کے لیے 50 بلین روپے مختص کیے تھے۔ عالمی بینک کی جانب سے 2012 میں کی گئی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ ناقص نکاسی آب کے نظام کے اثرات کی وجہ سے سال 2006 میں ملکی معیشت کو 344 بلین روپے کا نقصان ہوا جو مجموعی قومی پیداوار کا 3.9 فیصد بنتا ہے۔ ناقص نکاسی کے نظام کے اثرات صحت پر پڑنے والے منفی اثرات اور ان پر آنے والے اخراجات سے جڑا ہے جو مجموعی طور پر معیشت اور سماجی اقتصادی ترقی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
(بزنس ریکارڈر، 29 جون، صفحہ5)

دریائے سندھ میں پانی کی کمی کے نتیجے میں کئی مہینوں سے خشک سالی جیسی صورتحال کا سامنا کرنے کے بعد سندھ کے ساحلی اضلاع کے کسانوں نے احتجاجی لانگ مارچ شروع کردیا ہے۔ کسانوں کا یہ احتجاج پانچویں دن میں داخل ہوگیا ہے جو ضلع سجاول سے شروع ہوکر ضلع ٹھٹھہ کے علاقے گھارو پہنچ گیا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ ضلع ٹھٹھہ میں پانی کا مصنوعی بحران پیدا کردیا گیا ہے جس سے ہزاروں کھیت متاثر ہور ہے ہیں جس کے ذمہ دار محکمہ آبپاشی کے عہدیدار اور بڑے جاگیردار ہیں۔ یہ احتجاجی لانگ مارچ تین جولائی کو مکلی، ٹھٹھہ میں ختم ہوگا جہاں ہزاروں کسان، سماجی کارکنان، مختلف سیاسی تنظیموں کے نمائندے پانی کے مسئلہ پر آواز اٹھائینگے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 2 جولائی، صفحہ5)

نوڈیرو اور شہداد کوٹ، سندھ میں پانی کی قلت کی وجہ سے لوگ احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے چاول کی کاشت کے لیے پانی کی فراہمی یقینی بنانے میں حکومتی ناکامی کی شدید مذمت کی ہے۔ 20 سے زیادہ دیہات سے آنے والے کسانوں کی بڑی تعداد نے لاڑکانہ۔سکھر شاہراہ کے ساتھ پنجو ڈیرو میں دھرنا دیا۔ ہاتھوں میں خشک ہوجانے والی چاول کی پنیری اٹھائے کسانوں نے محکمہ آبپاشی کے خلاف نعرے لگائے۔ شہداد کوٹ میں بھی کسانوں نے کوٹو موٹو چوک پر پانی کی قلت کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا۔
(ڈان، 2جولائی، صفحہ 17)

ڈیری
پنجاب فوڈ اتھارٹی کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے لاہور میں دودھ کے ترسیل کاروں نے جراثیم سے پاک دودھ ”پیسچرائزڈ ملک“ کی فروخت کی طرف منتقل ہونا شروع کردیا ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے کھلے دودھ کی فروخت پر 2022 تک پابندی کے تناظر میں دودھ کے ترسیل کاروں نے جراثیم سے پاک دودھ کی فروخت کی جانب منتقل ہونا شروع کیا۔ ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی محمد عثمان کے مطابق پیسچرائزیشن کے عمل کی وجہ سے دودھ کی قیمت میں سات روپے فی لیٹر اضافہ متوقع ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 3 جولائی، صفحہ11)

گندم
وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے (نئی) امدادی قیمت مسترد کرتے ہوئے گندم اور آٹے کے سابقہ نرخ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کسانوں سے گندم 1,300 روپے فی من امدادی قیمت پر خریدی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی آٹا ملوں کو گندم کی فراہمی اگست سے شروع ہوگی۔ کچھ دن پہلے محکمہ خوراک کی جانب سے اس حوالے سے کئی تجاویز وزیر اعلی کو بھیجی گئی تھیں۔ وزیر اعلی نے واضح کیا ہے کہ آٹے کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا جائے گا اور حکومت زرتلافی کا بوجھ برداشت کرے گی۔ گزشتہ سال محکمہ خوارک نے 1,300 روپے فی من قیمت پر آٹا ملوں کو گندم فروخت کی تھی اور آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی مل کی قیمت 760 اور تھوک قیمت 775 روپے مقرر کی گئی تھی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 3 جولائی، صفحہ11)

تمباکو
پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران تمباکو کے کاشتکاروں نے حکومت کی طرف سے عائد کردہ پیشگی ٹیکس میں بڑے پیمانے پر کمی کی سخت مذمت کی ہے اور حکومت پر زور دیا ہے کہ اس اقدام سے ذخیرہ اندوزوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور معیشت کو نقصان ہوگا۔ کاشتکاروں نے حکومت سے کسانوں کے معاشی قتل سے تحفظ فراہم کرنے کے لئے اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت نے تمباکو کی غیر قانونی تجارت روکنے کے لئے تمباکو پر (حالیہ بجٹ میں تجویز کردہ) 300 روپے فی کلو گرام پیشگی ٹیکس (فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی) کم کرکے 10 روپے فی کلو گرام کرنے کا اعلان کیا تھا۔
(ڈان، 28 جون، صفحہ7)

کھاد
نیشنل فرٹیلائزر ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق خریف کی بیجائی کا موسم زور وشور سے جاری ہے۔ مئی کے مہینے میں یوریا کی فروخت 103 فیصد بڑھ کر 593,000 ٹن ہوگئی جو ماہ اپریل میں 292,000 ٹن تھی۔ خریف کے موسم میں کیمیائی کھاد کی فروخت میں مثبت رجحان ہے جو اگلے ماہ بھی برقرار رہے گا۔ ڈی اے پی کی فروخت میں میں بھی اپریل کے مقابلے مئی میں 147 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مئی میں 213,000 ٹن ڈی اے پی فروخت ہوئی جبکہ ماہ اپریل میں فروخت 86,000 ٹن تھی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 27 جون، صفحہ20)

ماہی گیری
ایک خبرکے مطابق مالی سال 2018-19 میں مچھلی اور اس سے تیار اشیاء کی برآمدات میں گزشتہ سال اس ہی مدت کے مقابلہ میں 4.11 فیصد کمی آئی ہے۔ ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق جولائی تا مئی 2018-19 کے دوران سمندری خوراک کی برآمد 406.56 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ گزشتہ سال اس ہی مدت کے دوران 423.97 ملین ڈالر کی سمندری خوراک برآمد کی گئی تھی۔
(بزنس ریکارڈر، 1 جولائی، صفحہ13)

ماحول
ایک خبر کے مطابق حکومت نے 14 اگست، 2019 کے بعد اسلام آباد میں پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں پر 0.5 ملین روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمی تبدیلی میں وفاقی وزیر موسمی تبدیلی زرتاج گل کا کہنا تھا کہ 14 اگست کے بعد کسی کو بھی پلاسٹک کے تھیلے استعمال کرتے ہوئے پایا گیا تو اس پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کپڑے سے بنے تھیلے استعمال کریں۔
(بزنس ریکارڈر، 29 جون، صفحہ2)

سندھ حکومت نے کراچی کے صنعتی علاقوں میں نکاسی کی لائنوں کی تنصیب اور آبی فضلے کی صفائی کے پانچ کارخانوں (کمبائن ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس) کی تعمیر کے لئے نئے مالی سال کے بجٹ میں دو بلین روپے مختص کئے ہیں۔ ان کارخانوں کی مدد سے سمندر میں گرنے سے پہلے یومیہ 94 ملین گیلن صنعتی فضلہ صاف کیا جاسکے گا۔ اس منصوبہ کو 2021 تک مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ منصوبے پر 11.7 بلین روپے لاگت آئے گی جس کا 33 فیصد وفاقی حکومت جبکہ 67 فیصد صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ ادارہ فراہمی و نکاسی آب کراچی (کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ) نے منصوبہ کا حتمی نقشہ تیار کرلیا ہے۔ نکاسی کی لائنوں کی تنصیب کا کام جولائی 2019 میں شروع کیا جائیگا اور دو کارخانوں کی تنصیب کا کام اگست میں شروع کیا جائیگا۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 1 جولائی، صفحہ4)

نکتہ نظر
اس ہفتے کی خبروں میں پاکستان خصوصاً صوبہ سندھ میں پانی کی شدید کمی اور ملک میں زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے منصوبہ بندی پر مبنی خبریں اہم ہیں۔ اب تک سندھ کے ساحلی اضلاع شدید پانی کی کمی سے دوچار تھے جہاں کسان موسمی تبدیلی کے نتیجے میں سیم و تھور، سمندر کے بڑھنے سے پہلے ہی متاثر تھے اب پانی کی شدید کمی کا شکار ہوکر مزید غربت اور بھوک کی دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں اور پچھلے کئی ماہ سے احتجاج کررہے ہیں۔ لیکن اب خریف کے موسم میں بھی کسان پانی کی قلت کی وجہ سے چاول کاشت کرنے سے قاصر ہیں اور احتجاج کررہے ہیں۔ یقینا خریف کے موسم میں پانی کی یہ کمی اس کی تقسیم میں ناانصافی کی وجہ سے ہے کیونکہ دریائے سندھ میں پانی کا 80 فیصد بہاؤ اسی موسم میں ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر احتجاج کرنے والے کسان بھی پانی کی قلت کا ذمہ دار جاگیرداروں کو ٹہراتے ہیں جنہیں بدعنوان آبپاشی حکام کی مدد حاصل ہوتی ہے۔زرعی شعبہ میں پالیسی سازی سے لے کر پیداواری وسائل پر اختیار تک یہی جاگیردار اور سرمایہ دار طبقہ حاوی ہے جو کہیں جنگلات کی زمینوں پر قابض ہوکر، کہیں پانی چوری کرکے اور کہیں پیداوار میں اضافے کے لیے پالیسی سازی کرکے اپنی شوگر ملوں میں اضافہ کررہا ہے اور دوسری طرف چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور خوراک کاشت کرکے بھی بھوک اور غربت کا شکار ہورہے ہیں۔ زمین، پانی جیسے ملکی پیداواری وسائل کا غیرپائیدار استعمال کرکے برآمدات کو بڑھانے کے لیے حکومت سینکڑوں ارب روپے مختص کرتی ہے لیکن آبپاشی نظام میں پانی کے زیاں کو روکنے کے لیے آبپاشی ڈھانچے کی مرمت و بحالی کے لیے بجٹ ناہونے کے برابر مختص کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس غیرملکی کمپنیوں کے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے آبپاشی کی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر 60 فیصد زرتلافی دی جارہی ہے جس کا فائدہ زمیندار اور جاگیردار طبقہ ہی اٹھاسکتا ہے ناکہ چند ایکڑ پر کاشت کرنے والا چھوٹا کسان۔ معاملہ پانی کی قلت کا ہو، پیداواری اخراجات میں اضافے کا یا پھر منڈی میں قیمت نہ ملنے کا اس کے پیچھے ایک ہی طبقہ ہے جو حکمران بھی ہے، جاگیردار بھی ہے، افسرشاہی بھی ہے جس کا اپنامفاد عالمی سرمایہ دار کمپنیوں اور ممالک کے مفاد سے جڑا ہے، یہ طبقہ ہر گز چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور طبقے کے مفاد میں پالیسی سازی نہیں کرے گا۔ ضروری ہے کہ کسان مزدور طبقہ خود ان وسائل اور اختیار کے لیے منظم ہوکر جدوجہد کرے۔

جون 20 تا 26 جون، 2019
زراعت
بائیر کراپ سائنس ڈویژن کی جانب سے جدید زرعی طریقوں کو فروغ دینے اور بائیر کی جدید ٹیکنالوجی و زیادہ پیداوار دینے والے بیجوں کی نمائش کے لیے ایک روزہ کسان آگہی پروگرام منعقد کیا گیا۔ تجرباتی کھیتوں کی نمائش میں ماہرین نے کسانوں کو جدید زرعی طریقوں اور ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ آگہی پروگرام میں بتایا گیا کہ ”مکئی کی 70 فیصد پیداوار استعمال کرنے والی مرغبانی کی صنعت سالانہ 10 سے 12 فیصد بڑھ رہی ہے۔ موجودہ تناسب سے 2023 تک صرف مرغبانی صنعت کی ضرورت ہی سات ملین ٹن متوقع ہے جبکہ پاکستان میں مکئی کی موجودہ پیداوار چھ ملین ٹن ہے۔ یہ ضروری ہے کہ طلب پوری کرنے کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجی کو اپنایا جائے“۔ اس موقع پر 350 سے زائد کسانوں کو زیادہ پیداوار دینے والے مکئی کے تجرباتی کھیت کا دورہ کروایا گیا اور جدید زرعی طریقوں کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔
(بزنس ریکارڈر، 21 جون، صفحہ16)

محکمہ زراعت پنجاب پھل، سبزی اور زیادہ قدر والی فصلوں کی عالمی سطح پر اہمیت اجاگر کرنے کے لیے 22 تا 23 جون پنجاب زرعی نمائش 2019 (پنجاب ایگری ایکسپو 2019) کا انعقاد کررہی ہے۔ نمائش میں تقریباً 3,000کسان اور نو ممالک کے 46 نمائش کنندگان شرکت کریں گے۔ پاکستان کو 80 فیصد زرمبادلہ زراعت سے حاصل ہوتا ہے جس میں پنجاب کا حصہ 60 فیصد ہے۔ نمائش کا افتتاح وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کرینگے۔
(بزنس ریکارڈر، 21 جون، صفحہ16)

عالمی بینک نے خیبر پختونخوا میں آبپاشی نظام میں بہتری اور چھوٹے کسانوں کی مہارت میں اضافہ کرکے ان کی پیداوار کی قدر میں اضافے کے ذریعے زرعی پیداوار میں مدد فراہم کرنے کے لیے 171 ملین ڈالر کی منظوری دے دی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق خیبرپختونخوا کے کسانوں کو پانی کے کم استعمال کی اہلیت، جدید ٹیکنالوجی کا عدم استعمال، زیادہ قدر والی زراعت (ہائی ویلیو ایگری کلچر ویلیو چین) کے لیے مہارت اور معلومات کے فقدان جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ جس کا نتیجہ غیر ترقی پزیر دیہی معیشت ہے جو موسمی تبدیلی کی وجہ سے خطرے کا شکار ہے۔ کے پی اریگیٹڈ ایگری کلچر امپرومنٹ پرجیکٹ ان مسائل کو مقامی آبادیوں کے واٹر کورسوں کی بحالی، واٹر یوزر ایسوسی ایشنز کے قیام، موثر آبپاشی نظام کے تعارف، لیزر لینڈ لیولر، فنی مہارت اور زرعی منڈی اور مواقعوں سے متعلق معلومات کی فراہمی کے ذریعے حل کرے گا۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 22 جون، صفحہ13)

وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمی تبدیلی امین اسلم نے کہا ہے کہ موسمی تبدیلی سے مطابقت رکھنے والی زرعی پالیسی (کلائمٹ اسمارٹ زرعی پالیسی) جلد کابینہ میں منظوری کے لئے پیش کی جائیگی۔ اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او / فاؤ) کے وفد سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور موسمی تبدیلی کے تناظر میں زرعی طریقوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں نصف آبادی روزگار کے لیے زراعت پر منحصر ہے، زرعی طریقوں میں جدت لانا ناگزیر ہے۔ فاؤ کی پاکستان میں نمائندہ مینا ڈولاچی نے اس سلسلہ میں مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وفد کا کہنا تھا کہ فاؤ کا تجویز کردہ پروگرام جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہوگا جو پالیسی سازوں اور کسانوں کو بنیادی اور اہم معلومات فراہم کرے گا۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 22 جون، صفحہ10)

پانی
سیو بدین کمیٹی (بدین بچاؤ کمیٹی) کی جانب سے ضلع بدین میں پانی کی قلت کے خلاف کدھن ٹاؤن میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ علاقے کے تاجروں نے چھ گھنٹے تک اپنا کاروبار مکمل طور پر بند رکھا اور کسانوں کے ساتھ احتجاجی ریلی میں شرکت کی۔ سیو بدین کمیٹی کے رہنماؤں نے محکمہ آبپاشی سندھ اور سندھ اریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی (سیڈا) کے عہدیداروں کو پانی کی قلت کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع بدین کے حصے کا پانی بااثر زمینداروں کی زمینوں کی طرف موڑا گیا ہے۔
(ڈان، 21 جون، صفحہ17)

بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنماء خورشید شاہ نے حکومت کو ڈیم بنانے کے لیے سرکاری ترقیاتی پروگرام سے 15 فیصد رقم مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار سے کہا تھا کہ اگر آپ ڈیم بنانے کے لیے مخلص ہیں تو حکومت کو کہیں کہ وہ ضمنی بجٹ کے لیے اجلاس بلائے اور ڈیم کی تعمیر کے لیے سرکاری ترقیاتی پروگرام سے 15 فیصد رقم مختص کردے۔ ”میں نے چیف جسٹس کو یہ بھی کہا تھا کہ آپ نے عطیات کے ذریعے 10 بلین روپے جمع کیے ہیں اور (ان عطیات کے لیے) تشہیر پر 11 بلین روپے خرچ کیے ہیں، یہ سستی شہرت کا ایک حربہ تھا“۔
(بزنس ریکارڈر، 22 جون، صفحہ17)

کپاس
کپاس کے تاجر بجٹ 2019-20 میں مقامی سطح پر خام کپاس پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی مخالفت کررہے ہیں۔ اپنے ایک بیان میں کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے اس تجویز کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کپاس کی پیداوار کی حوصلہ شکنی ہوگی، برآمد متاثر ہوگی اور یہ تجویز حکومت کی ملک میں کپاس کی تجارت کو فروغ دینے کی پالیسی کے خلاف ہے۔ کپاس کی ہموار برآمد میں رکاوٹ کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت کی فراہمی میں بھی رکاوٹ بنے گی۔ بیان کے مطابق 2018 میں کپاس کی پیداوار 14.3 ملین گانٹھ ہدف کے مقابلے 10.8 ملین گانٹھیں ہوئی تھی جبکہ اس سال حکومت نے 15 ملین گانٹھوں کا پیداواری ہدف مقرر کیا ہے۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے رکن نسیم عثمان کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھ پائے ہیں کہ حکومت نے 15 ملین گانٹھوں کا ہدف کیوں مقرر کیا ہے، ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے یہ تخمینہ زمینی حقائق کو جانے بغیر لگایا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 21 جون، صفحہ13)

حیدرآباد میں سندھ کمیونٹی فاؤنڈیشن (ایس سی ایف) کے دفتر میں ہونے والے ایک اجلاس میں ضلع مٹیاری کی کپاس چننے والی خواتین کی 10 انجمنوں (ٹریڈ یونینز) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آنے والے موسم میں کپاس کی چنائی کی اجرت 500 روپے فی من مقررکی جائے۔ ایس سی ایف کے جاوید حسین کا کہنا ہے کہ جلد کپاس کی چنائی کا موسم شروع ہوجائیگا لیکن تاحال زرعی شعبہ میں کام کرنے والے غیر رسمی مزدوروں کی اجرت مقرر کرنے کے لئے کوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ (سیرا) کے تحت کپاس چننے والوں کو صرف تنظیم سازی کا حق دینے سے ان کے مسائل حل نہیں ہونگے بلکہ ان مزدوروں کو ورکرز ویلفیئر فنڈ، سماجی تحفظ اور دیگر طبی تحفظ کے منصوبوں سے بھی منسلک کرنا چاہیے۔ ایس سی ایف کی عائشہ آغا کا اس موقع پر کہنا تھا کہ منہ ڈھانپنے کے لیے ماسک، دستانے اور پینے کے پانی کی فراہمی اور کام کرنے کے بہتر ماحول کی فراہمی کے لیے قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 24 جون، صفحہ20)

گندم
ایک خبر کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے گندم کی قیمت کو مستحکم رکھنے اور ذخیرہ اندوزی و منافع خوری کی حوصلہ شکنی کے لئے کھلی منڈی میں گندم فراہم کئے جانے کا امکان ہے۔ وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان نے ویٹ ریویو کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گندم کے حوالے سے مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس وقت صوبوں کے پاس 24.27 ملین ٹن گندم موجود ہے اس کے علاوہ 3.72 ملین ٹن گزشتہ سال کا ذخیرہ بھی موجود ہے۔ مجموعی طور پر 28 ملین ٹن گندم ملک میں موجود ہے جبکہ کھپت 25.84 ملین ٹن ہے۔ کمیٹی میں اس بات پر بھی توجہ دی گئی کہ چارہ بنانے والی صنعتوں (فیڈ انڈسٹری) میں گندم کا استعمال بھی اس کی قیمت میں اضافے کی وجہ ہے۔ منڈی میں مکئی کی قیمت گندم سے زیادہ ہے یہی وجہ ہے کہ چارہ بنانے والی صنعتیں گندم استعمال کررہی ہیں۔
(ڈان، 20 جون، صفحہ10)

پنجاب کے ڈپٹی کمشنروں کی غفلت اور صوبائی محکمہ خوراک کے ساتھ رابطے کے فقدان کی وجہ سے صوبے میں آٹے کی قیمت کے حوالے جاری صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ آٹا ملوں کے لئے سرکاری قیمت پر گندم کی خریداری کے بھی ذمہ دار ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنروں نے اس سلسلہ میں اب تک کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا بلکہ آٹے کی قیمت میں اضافہ کا الزام محکمہ خوراک پر لگایا جارہا ہے۔ اب پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن حکومت کی جانب سے فراہم کی جانیوالی گندم اور آٹے کی نئی قیمت مقرر کرنے کا مطالبہ کررہی ہے جو اس وقت افراط زر، بجلی و ایندھن کی قیمت اور ڈالر کی قیمت بڑھنے کے باوجود ڈیڑھ سال قبل مقرر کی گئی قیمتوں پر فروخت ہورہا ہے۔ ایسوسی ایشن چاہتی ہے کہ گندم کی پسائی 100 روپے فی من میں 10 روپے کا اضافہ کیا جائے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 25 جون، صفحہ11)

تمباکو
خیبر پختونخوا کے کاشتکار حکومت کی جانب سے سبز تمباکو پر 300 روپے فی کلو گرام پیشگی محصول کے نفاذ پر تقسیم نظر آتے ہیں۔ کاشتکاروں کے ایک گروہ کا دعوی ہے کہ اضافی ٹیکس سے کسانوں پر بوجھ میں اضافہ ہوگا جبکہ دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ محصول کسانوں پر عائد نہیں کیا گیا ہے۔ تمباکو کے کاشتکاروں کی تنظیم ٹوبیکو گروورز ایسوسی ایشن کے چیئرمین لیاقت یوسف زئی کا کہنا ہے کہ صوبے میں تقریباً 65,000 ہزار کاشتکار ہیں اور پاکستان ٹوبیکو بورڈ نے 14,500 کاشتکاروں کو اپنی فصل تمباکو کمپنیوں کو فروخت کرنے کے اجازت نامہ جاری کئے ہیں۔ بقیہ 50,500 کاشتکاروں کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے ان کا روزگار خطرے میں ڈال دیا گیا ہے کیونکہ وہ اپنی پیداوار مقرر کردہ قیمت پر فروخت نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے وہ اپنی پیداواری لاگت بھی وصول نہیں کرسکتے۔ عائد کردہ پیشگی محصول پر تنقید کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت تیارکنندگان (تمباکو مینوفیکچررز) پر محصول عائد کرے۔ تمباکو خریف کی فصل ہے جو مردان، صوابی، بونیر، چارسدہ، مانسہرہ اور مالاکنڈ کے کچھ علاقوں میں کاشت کی جاتی ہے۔ مجموعی طور پر ملک میں 46,000 ہیکٹر رقبے پر تمباکو کاشت ہوتا ہے۔
(ڈان، 20 جون، صفحہ10)

نکتہ نظر
اس ہفتے کی خبروں میں سرفہرست خبر بائیر کی جانب سے کسانوں کو مکئی کی کاشت کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی بیج، آلات و طریقوں کی طرف راغب کرنے کے لیے انہیں آزمائشی کھیتوں کا دورہ کروانے سے متعلق ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے ملک میں مکئی کی پیداوار میں اضافے اور اسے مختلف بیماریوں سے بچانے کے لیے جینیاتی مکئی متعارف کروانے کے لیے لابنگ کا سلسلہ جاری ہے جس پر گزشتہ ہفتوں کی خبروں میں بھی نکتہ نظر بیان کیا جاچکا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے حکمران جس سرمایہ دار معاشی نظام سے جڑ کر ترقی کی منزلیں طے کرنے پر کمربستہ ہیں اس میں ہر قدم پر، ہر سطح پر ہر زاویے سے استحصال کسان مزدور طبقہ کا ہی ہوتا ہے جبکہ حکمران چاہے وہ کسی بھی جماعت سے وابستہ ہوں ہمیشہ ملکی اور غیرملکی سرمایہ داروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ان حکمرانوں کی ہی مسلط کردہ آزاد تجارتی پالیسیوں کے تحت ملک میں بیج اور دیگر مداخل بنانے والی غیر ملکی زرعی کمپنیوں کو ناصرف چھوٹے کسان مزدورں کے استحصال کی کھلی چھوٹ حاصل ہے بلکہ یہ کمپنیاں اب یہ بھی طے کرنے کے لیے آزاد ہیں کہ ملک میں مکئی کی پیداوار میں اضافہ ہونا چاہیے ناکہ کپاس کی پیداوار میں جو مقامی صنعت کے لیے بنیادی خام مال ہے۔ موجودہ حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک کو بین الاقوامی ضروریات کے لیے خوراک اور ایندھن کی پیداوار کے ایک جدید کارخانے میں تبدیل کیا جارہا ہے جو اس ملک کے کسانوں کو بیروزگاری اور محتاجی کے دلدل میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ اس ملک کے کسانوں کے لیے زراعت کاروبار نہیں بلکہ ان کی خوراک و خودمختاری کی ضمانت ہے۔ عالمی بینک جیسے سرمایہ دار اداروں سے اس ضمانت کے بدلے آبپاشی اور زراعت کی جدید ٹیکنالوجی کا حصول کبھی بھی اس خطے کے کسانوں کو خوشحال نہیں بناسکے گا۔ بلکل اسی طرح جیسے کہ کپاس چننے والی مزدورو عورتوں کو ماسک اور دستانے پہنا کر انہیں خوشحال نہیں بنایا جاسکتا۔ انہیں خوشحال صرف اور صرف پائیدار طریقہ زراعت اپنا کر اور ان کا حق دے کر بنایا جاسکتا ہے جو زمین، بیج، پانی اور دیگر قدرتی وسائل کی صورت کہیں جاگیردار، کہیں سرمایہ دار بن کر ان سے چھینا جارہا ہے۔

جون 13 تا 19 جون، 2019

زراعت

بلوچستان کو متاثر کرنے کے بعد ٹڈی دل نے سندھ کے ضلع خیرپور کے مختلف حصوں کا رخ کرلیا ہے۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے محکمہ تحفظ نباتات (ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن) نے متاثرہ دونوں صوبوں میں کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ تاہم کسان حکومتی اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں۔ خیرپور کے متاثرہ علاقوں میں ٹھری میر واہ، بیر وارو اور کھبر وارو شامل ہیں جبکہ بلوچستان میں گوادر، لسبیلہ،، چاغی اور کیچھ اضلاع کے کم از کم 25 مقامات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس نے تمام متاثرہ علاقوں کام شروع کردیا ہے۔ محکمہ نباتات کے ڈائریکٹر (ٹیکنیکل) محمد طارق خان کے مطابق اب تک بلوچستان میں 5,020 ہیکٹر کا علاقہ کامیابی سے ٹڈیوں سے پاک کیا جاچکا ہے۔
(ڈان، 13 جون، صفحہ14)

زرعی شعبہ کی صوبوں کو منتقلی کے بعد پہلی بار مالی سال 2019-20 کے لیے صوبوں کی جانب سے زرعی شعبہ کے لیے مجموعی طور پر 50 بلین روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی شعبے کی منتقلی کے بعد صوبے اس پر توجہ نہیں دے رہے اور زرعی شعبے کا بجٹ کم ہوکر 60 فیصد رہ گیا ہے۔ زراعت صوبائی معاملہ ہونے کے باوجود وفاقی حکومت صوبوں کو اس مد میں 12 بلین روپے فراہم کرے گی۔
(ڈان، 14 جون، صفحہ10)

وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سطح پر چاول کی پیداوار میں سندھ کا حصہ 36 فیصد، گنے کی پیداوار میں 29 فیصد، کپاس کی پیداوار میں 34 فیصد اور گندم کی پیداوار میں 15 فیصد ہے۔ حکومت سندھ کی جانب سے مالی سال 2019-20 کے لئے زرعی شعبہ میں 8.4 بلین روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس میں 4.7 بلین روپے غیرملکی مدد بھی شامل ہے۔ محکمہ زراعت نے مالی سال 2018-19 میں 893.4 ملین روپے کے اخراجات کئے ہیں جبکہ اسے 1.74 بلین روپے کی رقم جاری کی گئی تھی۔ حکومت سندھ 1,850 واٹر کورسوں کو پکا کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ اس کے علاوہ 400 تھریشر، 400 روٹیویٹرز، 400 زیرو ٹائلج، 500 خود کار لوڈر، 20,000 توانائی سے چلنے والے اسپرے اور 500 ٹریکٹر ٹرالیوں پر کسانوں کو زرتلافی دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 15 جون، صفحہ20)

پنجاب حکومت نے مالی سال 2019-20 کے بجٹ میں 19 جاری اور 27 نئے منصوبوں کے لیے زرعی شعبہ میں 15,500 ملین روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق حکومت خوراک کی پیداوار، اس کے معیار، مقدار اور غذائیت میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ موسمی تبدیلی سے مطابقت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے ذریعے ایگری ویلیو چین میں نجی شعبہ کی شراکت کو ممکن بنانا چاہتی ہے۔ تمام مقررہ اہداف واٹر کورسوں کو بہتر بناکر، 10,000 ایکڑ پر جدید آبپاشی نظام کی تنصیب، 2,500 ایکڑ پر زیتون کی کاشت جیسے اقدامات کے زریعے حاصل کیے جائیں گے۔
(بزنس ریکارڈ، 15 جون، صفحہ15)

وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے ٹڈی دل سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور دعوی کیا ہے کہ حکومت ٹڈی دل سے نمٹنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے۔ اخبار سے بات کرتے ہوئے خیرپور کے کسانوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کسانوں کا کہنا تھا کہ 30 سے 40 ہزار ہیکٹر رقبے پر کپاس کی فصل متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ فوری طور پر مؤثر اقدامات نہیں کئے گئے تو کپاس کی فصل سے کچھ کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود لاکھوں کی تعداد میں ٹڈی دل کپاس کی فصل پر حملہ کرسکتا ہے۔ ایوان زراعت سندھ، خیرپور کے صدر نثار خاصخیلی کا کہنا ہے کہ کپاس کی فصل کا علاقہ ٹڈی دل کے متاثرہ علاقے سے صرف سات کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔
(ڈان، 17 جون، صفحہ1)

گندم
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن، پنجاب نے وفاقی بجٹ 2019 پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ ٹیکسوں کی وجہ سے دیگر اشیاء سمیت آٹے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکومت نئے ٹیکس کاروں کو نظام میں شامل کرنے کے بجائے موجودہ ٹیکس کاروں پر بوجھ میں اضافہ کررہی ہے۔ جنوبی پنجاب میں گندم کی قیمت 1,420 روپے فی من سے تجاوز کرگئی ہے۔ حکومت کو فوری طور پر ملوں کے لئے گندم کی قیمت فروخت جاری کرنا چاہیے تاکہ ذخیرہ اندوز منڈی میں گندم لے کر آئیں۔
(بزنس ریکارڈر، 13 جون، صفحہ17)

ملک میں گندم کی اچھی فصل ہونے کے باوجود صارفین زیادہ قیمت ادا کررہے ہیں کیونکہ ملوں نے تین ماہ سے بھی کم عرصے میں آٹے کی قیمت میں پانچویں بار اضافہ کردیا ہے۔ 2.5 نمبر آٹے کی قیمت 39 روپے فی کلو ہوگئی ہے جو اس سے قبل 37.5 روپے فی کلو تھی۔ اسی طرح فائن و سپر فائن آٹے کی قیمت 41 روپے فی کلو سے بڑھ کر 43 روپے فی کلو ہوگئی ہے۔ ماہ اپریل سے اب تک سندھ کی آٹا ملوں نے 2.5 نمبر آٹے کی قیمت میں پانچ روپے جبکہ فائن او سپر فائن آٹے کی قیمتوں میں 5.50 روپے فی کلو اضافہ کیا ہے۔ گندم کی قیمت میں اضافے کو آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ قرار دیتے ہوئے ایک مل مالک کا کہنا تھا کہ 100 کلو گندم کی بوری 3,700 روپے میں دستیاب ہے جو عید سے پہلے 3,400 جبکہ اپریل میں 3,000 روپے میں فروخت ہورہی تھی۔ گزشتہ ماہ آٹا مل مالکان نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو گندم و آٹے کے بحران سے خبردار کیا تھا اور یومیہ 20,000 ٹن گندم کی بین لاصوبائی نقل و حرکت پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ سندھ حکومت نے 21 مئی کو اس تناظر میں گندم کی بین الاصوبائی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی تھی۔ آٹا ملوں کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے نہ تو گندم کی خریداری کی پالیسی متعارف کرائی ہے اور نہ ہی اس کی سرکاری قیمت فروخت مقرر کی ہے۔ دستاویزات کے مطابق سندھ میں گزشتہ سال کا آٹھ لاکھ ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ در حقیقت صرف چار لاکھ ٹن ذخیرہ دستیاب ہے۔ پابندی کے باوجود سندھ سے پنجاب کو گندم کی ترسیل کا سلسلہ جاری ہے۔
(ڈان، 13 جون، صفحہ10)

پنجاب حکومت نے آئندہ مالی بجٹ میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی زرتلافی میں 60 فیصد کمی کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ کمی گندم کی خریداری پر دی جانے والی 27 بلین روپے کی رقم کو ایک بلین روپے اور رمضان پیکج کی 5.5 بلین روپے کی رقم کو دو بلین تک محدود کرکے کی جائے گی۔ بجٹ دستاویز کے مطابق پنجاب حکومت نے خوراک، نقل حمل اور زراعت کے لئے گزشتہ سال مختص کردہ 53.3 بلین روپے کے مقابلے 21 بلین روپے زرتلافی کے لئے مختص کئے ہیں۔ بجٹ میں چینی پر زرتلافی کی فراہمی کے لئے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی ہے۔ گندم کی خریداری پر زرتلافی میں کمی حکومت کی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ ہے جس میں قیمت کا تعین منڈی پر چھوڑنے اور اگلی پیداوار میں نجی شعبہ کو مزید فعال کردار ادا کرنے دیا جائے تاکہ حکومتی اخراجات کو کم کیا جاسکے۔
(ڈان، 19 جون، صفحہ2)

شہد
وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان کے مطابق پاکستان سالانہ 12,000 ٹن شہد پیدا کرتا ہے۔ پیر مہر علی شاہ ایرڈ ایگریکلچرل یونیورسٹی میں شہد میلے میں انھوں نے پیشہ ور ماہرین اور شہد بانی کرنے والوں کی پیداواری صلاحیتوں میں اضافے پر زور دیا ہے۔ میلہ کا انعقاد یونیورسٹی کے شعبہ حشریات نے ایگری ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان کے تعاون سے کیا جس کا مقصد شہد کی مکھیوں، شہد اور اس سے بنی مصنوعات کو فروغ دینا تھا۔
(ڈان، 19 جون، صفحہ4)

آم
ایک خبر کے مطابق میرپور خاص، سندھ میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نمائش ہال میں آم و موسم گرما کے دیگر پھلوں کا سالانہ 45 واں میلہ جاری ہے۔ کمشنر میرپور خاص عبدالوحید شیخ نے تین روزہ میلے کا افتتاح کیا۔ چیئرمین انتظامیہ کمیٹی محمد عمر بھگیو کے مطابق میلے میں 50 اسٹالوں پر 200 سے زائد اقسام کے آم نمائش کے لئے پیش کئے گئے ہیں۔ (ڈان، 15 جون، صفحہ17)

پانی
شدید گرمی میں بدین کے کسانوں، تاجروں اور مقامی افراد کی بڑی تعداد نے پانی کی قلت کے خلاف ملکانی شریف ٹاؤن سے خیرپور گمبو، بدین تک ایک کلومیٹر طویل احتجاجی مارچ کیا۔ مظاہرین نے خیرپور گمبو پہنچنے کے بعد پنگریو۔ جھڈو شاہرا پر تین گھنٹے تک احتجاجی دھرنا بھی دیا۔ کسان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کسان نہروں میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے شدید بحران کا شکار ہیں کیونکہ ان کے حصے کا پانی محکمہ آبپاشی کی معاونت سے بااثر زمیندار چوری کررہے ہیں۔ سکھر بیراج کی کنالوں میں وافر مقدار میں پانی ہونے کے باوجود آبپاشی حکام ان کے حصے کا پانی فراہم نہیں کررہے ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے پانی کی سنگین قلت کی وجہ سے زرخیز زرعی علاقہ بنجر ہوگیا ہے۔
(ڈان، 13 جون، صفحہ17)

غذائی کمی
تھرپارکر، سندھ میں غذائی کمی، متعدی امراض اور طبی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے 11 نوزائیدہ بچے دم توڑگئے۔ 10 بچے سول ہسپتال،مٹھی میں اور ایک بچہ تعلقہ چھاچھروں میں جانبحق ہوا۔ ان اموات کے بعد یکم جنوری سے اب تک مرنے والے بچوں کی تعداد غیر سرکاری طور پر 380 ہوگئی ہے۔
(ڈان، 15 جون، صفحہ17)

نکتہ نظر
بجٹ کے حوالے سے پیش کردہ تجاویز میں وفاق سمیت صوبوں کی ترجیح واضح طور پر کسانوں کے لیے زرتلافی کے خاتمے خصوصاً گندم کی خریداری پر دی جانے والی زرتلافی کا خاتمہ ہے جس کا مطالبہ آزاد تجارت کو فروغ دینے والا عالمی خوراک و زراعت کا ادارہ ایف اے او اور عالمی بینک بھی پاکستان سے ماضی میں کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ حکومت جس نے مرحلہ وار زرتلافی کم کی تھی، ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے اس حکومت نے براہ راست ہی تمام تر زرتلافی مخصوص شعبہ جات تک محدود کردیں جس سے صنعتی زراعت، موسمی تبدیلی سے مطابقت رکھنے والی زراعت، جدید آبپاشی نظام پر منحصر زراعت کو فروغ حاصل ہو اور اس ٹیکنالوجی کو فروخت کرنے والی سرمایہ دار بین القوامی کمپنیاں چاہے وہ بیج کی ہوں، مشینری کی یا قطرہ قطرہ آبپاشی نظام کی، ان کے کاروبار اور منافع میں اضافہ ہو۔ اس صورتحال میں ہم کہ سکتے ہیں کہ عوام کا وہ پیسہ جو پہلے سستی خوراک اور کسان کو اس کی پیداوار کی مناسب قیمت ادا کرنے میں سرف ہوتا تھا وہ اب بین الاقوامی کمپنیوں کے منافع اور کاروبار کو فروغ دینے کے لیے استعمال ہوگا۔ یہی نہیں گندم کی خرید و فروخت، اس کی ترسیل اور ذخیرے کے نظام کو بھی نجی سرمایہ کار کمپنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑدینا بھی آزاد تجارتی پالیسیوں کا حصہ ہے جس پر عمل درآمد اب تیز کردیا گیا۔ گندم کے جدید ذخائر جسے سائلس بھی کہتے ہیں کی تعمیر، اسے فعال رکھنے پر آنے والی لاگت وغیر سب منڈی میں فروخت ہونے والی گندم کی قیمت میں اضافے کی صورت سامنے آئے گی، خاص کر اس صورت میں کہ جب ان جدید ذخائر کی تعمیر کے لیے بھی ملک بین الاقوامی کمپنیوں کا محتاج ہو۔ اگر سادے لفظوں میں کہا جائے تو حکومت نے آزاد تجارتی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے چھوٹے اور غریب کسانوں کے لیے زراعت کو مہنگا بنادیا ہے اور منڈی کے نرخوں پر پیداوار فروخت کرکے کسان خالی ہاتھ رہ جاتا ہے جبکہ منافع بیج، کھاد، زہر، جدید آبپاشی نظام اور مشینری بنانے والی کمپنیاں سمیٹ لیتی ہیں، اب پیداوار کی خریدوفروخت اور اس کی برآمد پر بھی اختیار ان ہی کمپنیوں کو دینے کا آغاز ہوچکا ہے جس کا نتیجہ چھوٹے پیمانے پر کاشت اور پیداوار کی خرید و فروخت کرنے والے طبقے میں بے روزگاری اور غربت کی صورت سامنے آئے گا۔

جون 6 تا 12 جون، 2019
زراعت
ایک خبر کے مطابق روپے کی قدر میں کمی کے تناظر میں درآمد شدہ بیج کی قیمت میں 15 سے 20 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ اس اضافے کی وجہ سے حکومت کی جانب سے بیج کی مقامی پیداوار کے فروغ کے لئے مراعات کا اعلان متوقع ہے۔ ایک سرکاری اندازے کے مطابق گزشتہ مالی سال 2017-18 میں اہم سبزیوں کے تقریباً 100 فیصد بیج درآمد کیے گئے تھے۔ سبزیوں کی پیداوار کے لیے سوائے آلو کے درآمدی بیج کا استعمال 93.12 فیصد تھا۔ مکئی کا 71.13 فیصد جبکہ چارے کی کاشت کے لئے 86.33 فیصد درآمدی بیج استعمال کیا گیا۔ چیئرمین ایگری فورم پاکستان ابراہیم مغل نے ملک میں بیج کی قیمت میں کمی کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
(دی نیوز، 9 جون، صفحہ17)

قومی اقتصادی سروے 2018-19 کے مطابق زرعی شعبہ میں بڑھوتری کی شرح متوقع ہدف 3.8 فیصد کے مقابلے 0.85 فیصد ہوئی جو انتہائی معمولی ہے۔ اہم فصلوں کی پیداوار میں 6.55 فیصد کمی کی وجہ سے بڑھوتری کی شرح 3.6 فیصد ہدف کے مقابلے منفی 4.43 فیصد رہی۔ گنے کی پیداوار میں 19.4 فیصد، کپاس کی پیداوار میں 17.5 فیصد اور چاول کی پیداوار میں 3.8 فیصد کمی ہوئی ہے جبکہ مکئی کی پیداوار میں 6.9 فیصد اور گندم کی پیداوار میں 0.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سروے کے مطابق مال مویشی شعبہ میں 3.8 فیصد ہدف کے مقابلے چار فیصد بڑھوتری ہوئی ہے۔ ماہی گیری شعبہ میں 0.79 فیصد اور جنگلات کے شعبہ میں 6.47 فیصد بڑھوتری ہوئی ہے۔ پیاز و مرچ کی پیدوار میں بلترتیب دو فیصد اور 0.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تاہم دالیں، آم اور آلو کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے۔
(ڈان، 11 جون، صفحہ10)

قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا ہے کہ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے صوبوں کی مشاورت سے حکومت 280 بلین روپے کا پانچ سالہ پروگرام شروع کررہی ہے۔ 218 بلین روپے آبی ڈھانچے کی تعمیر بشمول چھوٹے آبی ذخائر کی تعمیر کے ذریعے پانی کی دستیابی کو بہتر بنانے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ گندم، چاول، گنا اور کپاس کی پیداوار میں اضافے کے لیے 44.8 بلین روپے جبکہ ماہی گیری شعبے کے لیے 9.3 بلین روپے مختص کیے گیے ہیں۔ حکومت نے چھوٹے اور درمیانی سطح کے کسانوں کے لیے مال مویشی شعبہ میں اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے 5.6 بلین روپے مختص کیے ہیں۔ اس کے علاوہ بجٹ میں ٹیوب ویلوں کے لیے زرتلافی جاری رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں بلوچستان کے کسانوں سے ٹیوب ویل کے بل کی مد میں 10,000 روپے ماہانہ وصول کیے جائیں گے جبکہ بقیہ 75,000 روپے وفاقی اور صوبائی حکومت ادا کریں گی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 12جون، صفحہ20)

مختلف کسان تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ 2019-20 کے مجوزہ بجٹ میں زرعی شعبے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ کسان بورڈ پاکستان نے 16 جون کو موجودہ حکومت کی زراعت دشمن پالیسیوں کے خلاف جماعت اسلامی کی احتجاجی ریلی میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔ باسمتی گرورز ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر فاروق باجوہ کے مطابق حکومت نے ایک طرف 300 بلین روپے کے ٹیکس نافذ کردیے ہے جبکہ دوسری طرف اس شعبہ کے لیے آٹے میں نمک کے برابر رقم مختص کی ہے۔ حکومت نے چینی پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح سات فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کردی ہے جس کا کسانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انھوں نے حکومت کی جانب سے ٹریکٹر پر سیل ٹیکس میں اضافے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس سے چھوٹے ٹریکٹر کی قیمت میں یکدم 40,000 روپے کا اضافہ ہوگا۔ حکومت نے کرم کش اور نباتات کش زرعی زہر (پسٹی سائیڈ) پر بھی جی ایس ٹی کی چھوٹ واپس لے لی ہے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے اور جی ایس ٹی کے نفاذ سے زرعی زہر کی جو بوتل 500 روپے میں دستیاب تھی اب 900 سے 1,000 روپے میں فروخت ہوگی۔ انھوں نے قدرتی گیس اور کھاد کی صنعتوں کے لیے بجلی پر دی جانے والی زرتلافی ختم کرنے پر بھی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس سے زرعی مداخل کی قیمت بڑھے گی۔ پاکستان میں زرعی شعبہ میں سب سے زیادہ سالانہ 14 بلین لیٹر ڈیزل استعمال ہوتا ہے جس پر حکومت 39 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کررہی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 12جون، صفحہ3)

مال مویشی
قومی اقتصادی سروے 2018-19 کے مطابق موجودہ دور حکومت میں ملک میں گدھوں اور بھینسوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ گھوڑے، اونٹ اور خچر کی آبادی مستحکم رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گدھوں کی تعداد میں 100,000 جبکہ بھینسوں کی تعداد میں ایک ملین سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ سروے کے مطابق 2017-18 میں ملک میں گدھوں کی آبادی 5.3 ملین سے بڑھ کر 2018-19 میں 5.4 ملین جبکہ بھینسوں کی آبادی 37.7 ملین سے بڑھ کر 38.8 ملین ہوگئی ہے۔ سروے کے مطابق ملک میں خچروں کی تعداد 0.2 ملین، اونٹ 1.1 ملین جبکہ گھوڑوں کی تعداد 0.4 ملین ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 12جون، صفحہ10)

غذائی کمی
قومی غذائی سروے (نیشنل نیوٹریشن سروے) 2018-19 کے مطابق پاکستان میں ہر تیسرا بچہ وزن میں کمی کا شکار ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ایک تقریب میں سروے جاری کیا۔ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخواہ میں بچوں کو ماؤں کا دودھ پلانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ بلوچستان اور سابقہ قبائلی علاقہ جات میں غذائی کمی کے شکار افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ہر 10 میں سے چوتھا بچہ غذائی کمی کا شکار ہیں۔ تقریباً 40.9 فیصد لڑکے جبکہ 39.4 فیصد لڑکیاں غذائی کمی اور 28 فیصد لڑکیاں وزن میں کمی کا شکار ہیں۔ پاکستان میں تقریباً 50 فیصد لڑکیاں خون میں کمی کا شکار ہیں۔ تقریبا 48.8 فیصد بچوں کو ماں کا دودھ دستیاب ہے۔ خیبر پختونخواہ میں ماں کے دودھ پر منحصر بچوں کا تناسب 60 فیصد ہے۔ پاکستان میں 36.9 فیصد آبادی غذائی کمی کی شکار ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 11 جون، صفحہ2)

پانی
وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ تقریباً پورے سندھ مین زیر زمین پانی آلودہ ہوچکا ہے اور وہ اس مسئلہ کے حل کے لئے آبی ماہرین اور امدادی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ حکومت دیہی علاقوں میں پانی کی فراہمی و نکاسی کو بہتر بنارہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی کو صاف کرنے اور زیر زمین پانی کی سطح اور اس کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے بھی کام کررہی ہے۔ منچھر جھیل آلودہ پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے اور حکومت سندھ عالمی بینک، یورپی امدادی ادارے اور ماہرین کے ساتھ منچھر جھیل کی صفائی و بحالی پر کام کررہی ہے۔
(ڈان، 9 جون، صفحہ15)

ایک خبر کے مطابق ملک کے بالائی علاقوں میں برف پگھلنے سے دریا سندھ کے تین بیراجوں گڈو، سکھر اور کوٹری میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ دریا میں پانی کی سطح میں اضافے کے بعد امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں نہروں میں پانی کی مقدار میں اضافہ ہوگا جو نہروں کے آخری سرے کے علاقوں کو بھی سیراب کرے گا۔ پورا ملک شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے جو بڑے پیمانے پر برف پگھلنے کی وجہ ہے جس سے دریائے سندھ میں بہاؤ بڑھ رہا ہے۔ دریائے سندھ پر قائم تینوں بیراجوں پر گزشتہ کچھ ہفتوں میں پانی کے بہاؤ میں گزشتہ سال کے مقابلے 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
(ڈان، 12 جون، صفحہ17)

نکتہ نظر
اس ہفتے کی زیادہ تر خبریں ملکی زرعی پیداورا میں کمی، پیداواری لاگت میں اضافہ اور ملک میں غذائی کمی کی تشویشناک صورتحال پیش کررہی ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ پاکستان اب سبزیوں کی کاشت کے لیے تقریباً 100 فیصد درآمدی بیجوں پر انحصار کررہا جبکہ مکئی اور ہائبرڈ چاول کے بیج بھی بڑے پیمانے پر درآمد کیے جارہے ہیں۔ موجودہ ملکی معیشت آئی ایم ایف جیسے عالمی مالیاتی اداروں کے رحم و کرم پر ہے جس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ملکی پیداواری شعبہ غیرملکی مداخل کے استعمال پر منحصر ہے۔ ملکی معیشت آج عالمی مالیاتی اداروں کی محتاج ہے اور پیداوار کرنے والا کسان غیرملکی بیج اور دیگر کیمیائی مداخل بنانے والی دیوہیکل زرعی کمپنیوں کا۔ محتاجی کے اس سفر کی ایک تاریخ ہے جس کی ابتداء ملک میں جاگیرداری نظام کو برقرار رکھ کر، سبز انقلاب کے نام پر کسانوں کو بیج اور کیمیائی زہر کا محتاج بنانے سے ہوئی جس نے ملک میں غربت اور غذائی کمی کا ایسا شیطانی جال بچھادیا ہے جس نے قوم کی آدھی افرادی قوت کو غذائی کمی کا شکار بنا کر پیداواری عمل کو متاثر کیا ہے۔ مزید ظلم یہ کہ نااہل حکمران ہر دور میں ملکی زراعت و معیشت پر قابض ہونے والی کمپنیوں اور سرمایہ دار ممالک سے ہی حل طلب کرتے ہیں جو خود ان مسائل کے ذمہ دار ہیں۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک خودانحصار اورخودمختار نہیں ہوسکتی جب تک اس کے پیداواری شعبہ سے جڑے چھوٹے کسان خومختار اورخودانحصار نہیں ہونگے، کسان کی خودمختاری کے لیے لازم ہے کہ وہ غیرملکی بیجوں اور دیگر مداخل پر انحصار ختم کرکے اپنی روایتی زراعت پر لوٹ آئے، یہ طریقہ پیداوار ہی ہے جس پر ڈالر مہنگا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ کسان کو منڈی سے کمپنیوں کے بیج خرینے ہی نہیں پڑتے اور قوم کو زہر سے پاک غذائیت سے بھرپور خوراک میسر ہوتی ہے۔ یہی غربت کے خاتمے اور بچوں میں غذائی کمی کے خاتمے کا ایک پائیدار حل ہے۔

مئی 30 تا 5 جون، 2019
زراعت
ضلع خیرپور، سندھ میں زرعی زمینوں پر ٹڈیوں کے جھنڈ دیکھے گئے ہیں جس سے کھیتوں کو زبردست نقصان کا خطرہ ہے۔ ایوان زراعت سندھ کے ضلعی صدر نثار حسین خاصخیلی کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی و وفاقی حکومت نے فوری اقدمات نہیں کئے تو تقریباً 100,000 ایکڑ رقبے پر کپاس کی فصل متاثر ہونے کا امکان ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں وفاقی حکومت کی پانچ ٹیمیں ٹڈیوں کے حملے پر قابو پانے کے لیے کام کررہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان میں سے ایک ٹیم خیرپور بھیجی جائے اور ضلع میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا جائے۔ ٹڈیوں کے یہ جھنڈ سبز پتے کھاتے ہیں جن پر قابو پانے کا روایتی طریقہ زمین اور فضا میں کرم کش زہر کا اسپرے ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 3 جون، صفحہ4)

وفاقی حکومت نے مستقبل میں سرکاری ترقیاتی پروگرام سے صوبے کو فائدہ پہنچانے والے پانی سے متعلق منصوبوں کے لیے سرمایہ فراہم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت اس کے بجائے اگلے سال زراعت، ماہی گیری اور مال مویشی شعبہ میں بڑھوتری کے لیے 97.5 بلین روپے کے نئے منصوبوں کا آغاز کرے گی۔ اعلی سرکاری افسر نے اخبار کو بتایا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر خان ترین کی سربراہی میں قائم خصوصی ٹاسک فورس نے ان شعبہ جات میں منصوبوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ان منصوبوں میں سے کچھ اب تک منظور نہیں ہوئے ہیں اورکچھ منظوری کے مراحل میں ہیں جن کے لیے سرکاری ترقیاتی پروگرام میں سال 2019-20 کے لیے 10.453 بلین روپے مختص کردیے گئے ہیں۔
(ڈان، 4جون، صفحہ10)

گندم
ایک خبر کے مطابق گندم کی پیداوار کم ہونے کی وجہ سے اس کی بڑے پیمانے پر ذخیرہ اندوزی شروع ہوگئی ہے جس کی وجہ سے گندم کے سنگین بحران کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ گندم کے بڑے برآمد کنندہ اور وزیر اعظم کے مشیر برائے سمندری امور محمود مولوی نے خبردار کیا ہے کہ ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے آنے والے دنوں گندم کی قیمت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا مقامی منڈی میں گندم کی قلت سے بچنے اور اس کی قیمت کو اعتدال میں رکھنے کے لیے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی ضرورت ہے ”بصورت دیگر لوگوں کو گندم کے بحران کے لیے تیار رہنا چاہیے“۔ گندم کی مسلسل قلت پاکستان کو عالمی منڈی سے گندم کی درآمد پر مجبور کرسکتی ہے جس سے ملکی خزانہ پر پڑنے والے بوجھ میں مزید اضافہ ہوگا۔ آئندہ دنوں میں ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کی وجہ سے آٹے کی قیمت میں دو سے پانچ روپے اضافے کا امکان ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 3 جون، صفحہ15)

وفاقی حکومت نے گندم کی برآمد پر فوری طور پر پابندی عائد کرنے کی تجویز مسترد کردی ہے باوجود اس کے کہ حالیہ بارشوں سے گندم کی فصل کو پانچ فیصد نقصان ہوا ہے۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے فوری طور پر گندم کی برآمد پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا کہنا ہے کہ صوبوں اور پاسکو کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق دستیاب گندم سالانہ طلب 25.84 ملین ٹن سے کہیں زیادہ ہے۔ گندم کی برآمد پر فوری پابندی کی ضرورت نہیں ہے اور موجودہ صورتحال کی ہر ہفتے نگرانی کی جارہی ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 4جون، صفحہ13)

خشک سالی
جیکب آباد میں درجہ حرارت 51 ڈگری سیلسیس تک پہنچ جانے کے بعد محکمہ موسمیات نے اگلے ہفتے سندھ کے چھ اضلاع میں درمیانے درجے کی خشک سالی کی پیشنگوئی کی ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں اس دورانیہ میں بارش نہیں ہوگی اور خشک سالی کی صورتحال جاری رہے گی۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں دادو، سکھر، موئن جودڑو اور لاڑکانہ میں درجہ حرارت 49 ڈگری سیلسیس، تھل، رحیم یار خان اور بھاولنگر میں 48 ڈگری سیلسیس، لاہور، فیصل آباد، ملتان میں 46 ڈگری سیلسیس، حیدرآباد 45، پشاور 44، اسلام آباد 41، کراچی، مظفرآباد 37 اور گلگت میں 34 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت تھا جبکہ اگلے 24 گھنٹوں میں ملک کے زیادہ تر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کی توقع ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 2 جون، صفحہ3)

پانی
انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے مطابق درجہ حرارت میں اضافہ کی وجہ سے تمام بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ دریاؤں میں پانی کا بہاؤ 249,100 کیوسک سے بڑھ کر 288,400 کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔ دریائے سندھ پر قائم تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1409.82 فٹ ریکارڈ کی گئی جو کہ اس کی کم ترین سطح 1,386 فٹ سے 23.82 فٹ بلند ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 5 جون، صفحہ3)

آم
کمشنر حیدرآباد محمد عباس بلوچ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں اعلان کیا گیا ہے کہ حیدرآباد ایکسپو سینٹر میں تین روزہ آم میلہ 2019 منعقد کیا جائے گا۔ کمشنر نے اجلاس کے شرکاء پر زور دیا ہے کہ تمام شراکت دار آم میلے میں بھرپور حصہ ڈالیں تاکہ مناسب طریقے سے آم میلے کا انعقاد کیا جاسکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میلے کی تاریخ کا تعین اور اس کی منصوبہ بندی کے لیے ٹیم تشکیل دی جانی چاہیے۔ کمشنر نے ٹنڈوالہیار، ٹنڈو محمد خان، مٹیاری اور حیدرآباد کے متعلقہ افسران کو آم کے کاشتکاروں کی فہرست تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
(ڈان، 1 جون، صفحہ17)

ماحول
ایک خبر کے مطابق گلگت بلتستان حکومت اور اقوام متحدہ کا ادارہ برائے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے برفانی جھیلوں کے پھٹنے سے سیلاب کے خطرہ کو کم کرنے کے لیے پانچ سالہ منصوبے کا آغاز کردیا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں جھیلوں کی دیکھ بھال کا منصوبہ گلیشئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ رسک ریڈکشن ان ناردرن پاکستان پراجیکٹ II کے دوسرے مرحلہ کے لیے فریقین میں معاہدہ ہوا تھا۔ تحقیق کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبر پختون خواہ میں گلیشئروں کے پگھلنے سے 3,044 سے بھی زیادہ جھیلیں موجود ہیں جن میں سے 36 کو خطرناک تصور کیا جاتا ہے جن سے 7.1 ملین افراد کو خطرہ لاحق ہے۔
(ڈان، 1 جون، صفحہ3)

نکتہ نظر
گندم کے حوالے سے شامل کی جانے والی خبر میں وزیر اعظم کے مشیر جو خود بھی گندم کے برآمد کنندہ ہیں، نے ملک میں گندم کے شدید بحران کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ حکومتی مشیر کی گئی منظر کشی اور وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا ذخائر تسلی بخش قرار دینے کا بیان یا تو حکومتی سطح پر بدانتظامی اور واضح پالیسی کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے جس سے غیریقینی پیدا ہوتی ہے جس کا بھرپور فائدہ منافع خور، ذخیرہ اندوز اور برآمد کنندگان اٹھاتے ہیں۔ یا پھر یہ کہ گندم کے برآمد کنندگان اس خدشے کا بھی شکار ہیں کہ ذخیرہ اندوزی گندم کی قیمت میں اضافے کا سبب بنے گی جس سے ان کے لیے برآمد مشکل کا شکار ہوسکتی ہے۔ سرمایہ دار وزیر مشیر گندم اور دیگر فصلوں کی پیداوار لاگت میں افراط زر میں اضافے کی وجہ سے ہونے والے ہوشربا اضافے پر تو خاموش رہتے ہیں لیکن جہاں چوٹ ان کے منافع کو لگے تو عوام و کسان کے دکھ درد کا سہارا لے کر پالیسی سازی میں دیر نہیں کرتے، عدلیہ سے نااہل قرار دیے گئے سرمایہ دار سیاستدان کیا کبھی ملک کے کروڑوں غریب کسان مزدوروں کے لیے منصوبہ سازی میں اپنے کاروباری مفادات کو نظرانداز کریں گے! ہرگز نہیں، سرمایہ دار اور جاگیر داروں پر مشتمل نام نہاد عوام کسان دوست حکومتوں کی عوامی وسائل کے استعمال میں بدعنوانی کی ایک تاریخ ہے جو اس ملک میں گزشتہ کئی دہائیوں سے چلی آرہی ہے۔ اس روش کو بدلنے اور چھوٹے کسانوں کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے خود ان کسان کو ہی میدان عمل میں آنا ہوگا جس کے لیے کسانوں کو منظم ہوکر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔