مئی 2019

مئی 23 تا 29 مئی، 2019
زراعت
زرعی ترقی کے لئے بجٹ تجاویز کے حوالے سے ہونے والے ایک اجلاس میں تجویز دی گئی ہے کہ بڑے پیمانے پر کپاس کی در آمدات کو روکنے، اسے زیاں سے بچانے اور مقامی کسانوں کو بین الاقوامی منڈی کے برابر قیمت وصول کرنے کے قابل بنانے کے لئے کپاس کی درآمد پر ختم کی گئی ریگولیٹری ڈیوٹی کو بحال کیا جاسکتا ہے۔ اجلاس میں گزشتہ دو سالوں میں کھاد کی قیمتوں میں اضافے اور اس کے نتیجہ میں کھاد کے کارخانوں کی منافع خوری پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں ہونے والے اس اجلاس میں اہم فصلوں کے لئے امدادی قیمت، قرضوں تک رسائی، درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹی، جنیاتی (بائیو ٹیکنالوجی) بیجوں کی پیداوار و تقسیم، زرعی مشینری پر محصول، کھاد و جراثیم کش ادویات کی درآمدات پر محصول اور زرعی تحقیق کے لئے رقم کی فراہمی کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔
(بزنس یکارڈر، 23 مئی، صفحہ5)

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی سخت شرائط کے دباؤ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت بیج، کھاد اور کیڑے مار زہر پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی سمیت زرعی شعبہ کو دی گئی کچھ مراعات واپس لینے پر غور کررہی ہے۔ پی ٹی آئی نے اپنے منشور میں سستے مداخل کی فراہمی کے ذریعے کسانوں کی آمدنی اور شرح نمو بڑھانے کا عزم کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ مراعات واپس لی گئیں تو زرعی مداخل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوگا جس سے زرعی شعبہ پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ اس کے علاوہ حکومت کا یہ قدم پہلے سے جاری افراط زر کی پریشان کن صورتحال میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔
(بزنس ریکارڈر، 29 مئی، صفحہ20)

ایک خبر کے مطابق اینگرو فرٹیلائزرز لمیٹڈ، اینگرو فاؤنڈیشن اور ڈپارٹمنٹ آف فارن ایڈ اینڈ ٹریڈ، حکومت آسٹریلیانے دو سالوں میں اب تک معیاری بیج کے استعمال کے حوالے سے 4,000 چھوٹے کسانوں کو تربیت دی ہے جن میں 600 عورتیں بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے ہی کھیتوں کے محفوظ کردہ بیجوں کی قریبی دیہات کے کسانوں کو تقسیم، فروخت اور تبادلے کے لیے 290 چھوٹے کسانوں کو بطور کاروباری فرد (انٹرپنیور) تربیت دی گئی ہے جن میں 124 عورتیں شامل ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد بیج کی ترسیلی کڑیوں (سپلائی چین) کا حصہ بننے اور بیج کی پیداوار میں اعلی مہارت پیدا کرنے کے لئے چھوٹے کسانوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زیادہ آمدنی کے حصول کے لیے معمول کی کاشتکاری میں تصدیق شدہ بیجوں کا استعمال بھی اس منصوبے کا مقصد ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 29 مئی، صفحہ16)

مال مویشی
یورپی یونین کے پاکستان میں سفیر جین فرینکوئس نے کراچی میں کام کرنے والے اینگرو فوڈز لمیٹڈ کے تربیت یافتہ فارم منتظمین (سپروائزر) سے ڈیری فارموں کے دورے کے دوران ملاقات کی ہے۔ اینگرو فوڈز فارم کے بہتر انتظامی طریقوں کی تربیت اور ڈیری کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے ذریعے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کررہی ہے۔ اینگرو نے کل 1,263 افراد کو تربیت دی ہے جن میں 35 فیصد عورتیں ہیں۔ اس وقت 80 تربیت یافتہ فارم منتظم (سپروائزر) تجارتی ڈیری فارموں پر ملازمت کررہے ہیں۔ اس تربیتی منصوبے کے لیے سرمایہ یورپی یونین فراہم کررہی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 28 مئی، صفحہ5)

مرغبانی
پولٹری ایسوسی ایشن آف پاکستان کے وفد نے وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدلرزاق داؤد سے ملاقات میں تجویز دی ہے کہ مرغیوں کے چارے کے اجزاء سیلز ٹیکس سے مستثنی ہونے چاہیے جس سے چارے کی لاگت کم ہوگی اور مرغبانی شعبہ مسابقت کے قابل ہوگا۔ وزیراعظم کے مشیر نے وفد کو یقین دہانی کروائی ہے کہ مرغبانی شعبہ کی بڑھوتری کے لیے ان کی محصولات سے متعلق تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دیوہیکل عالمی غذائی کمپنی کارگل جیسی کمپنیاں پاکستانی منڈی میں اپنے کاروبار کو بڑھارہی ہیں جس سے مرغبانی شعبہ کو فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ کارگل نے پاکستان میں اگلے تین سے پانچ سالوں میں 200 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم کیا ہے۔ پاکستان میں سالانہ 18,000 ملین انڈے اور 2,250 ملین کلو گرام سے زیادہ مرغی کے گوشت کی پیداوار ہوتی ہے۔ ملک بھر کے دیہی علاقوں میں 15,000 سے زیادہ مرغی خانے (پولٹری فارم) ہیں۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 26مئی، صفحہ13)

گندم
حکومت پنجاب نے خیبر پختونخوا حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ حالیہ بارشوں سے گندم کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے حکومت پنجاب اس کی بین الصوبائی نقل حمل پر کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے۔ محکمہ زراعت خیبرپختونخوا کے اعلی افسر کے مطابق محکمہ خوراک پنجاب نے ایک خط میں کہا ہے کہ کے پی کے کو گندم کی ترسیل نہیں روکی گئی ہے اور اس حوالے سے زرائع ابلاغ میں چلنے والی خبریں غلط ہیں۔ آئین کی دفعہ 151 کے تحت غذائی اجناس کی بین الصوبائی ترسیل پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔
(بزنس ریکارڈر، 24مئی، صفحہ7)

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن، پنجاب نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ خوراک پنجاب مل مالکان اور چیف سیکریٹری پنجاب کے درمیان ہونے والے معاہدے، جس میں ملوں کو منڈی سے گندم خریدنے کی اجازت دی گئی تھی، کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ 100 سے زائد گندم سے لدے ٹرک میانوالی کے قریب ضبط کرلیے گئے ہیں جس کی وجہ سے مل مالکان کو ٹرانسپورٹ کی مد میں بھاری اخراجات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ آٹا ملیں 1,350 روپے فی من قیمت پر گندم خرید رہی ہیں جس پر نقل حمل کے اخراجات کے بعد لاگت 1,400 روپے فی من ہوجاتی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 24مئی، صفحہ16)

رواں مالی سال کپاس کی پیداوار میں 17.4 فیصد کمی کے نتیجہ میں زرعی شعبہ کی بڑھوتری میں 0.8 فیصد کمی ہوئی ہے۔ کپاس کی پیداوار میں کمی کی وجہ پانی کی قلت، مداخل کا کم استعمال، غیرمعیاری بیج، فصل کے ابتدائی مرحلہ میں کیمیائی کھاد کا استعمال اور زیر کاشت رقبہ میں 12 فیصد کمی کو قرار دیا گیا ہے۔ زرائع کا کہنا ہے کہ اینول پلان کوآرڈی نیشن کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ گندم میں پھپھوندی جیسی بیماریوں کی وجہ سے اس کی پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے صرف 0.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ چاول کی پیداوار میں 3.3 فیصد کمی دیکھی گئی ہے جبکہ گنے کی پیداوار بھی گزشتہ سال کے مقابلے 19.4 فیصد کم ہوئی ہے۔ چاول اور گنے کے زیر کاشت رقبے میں بھی بلترتیب 3.1 فیصد اور 17.9 فیصد کمی ہوئی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 25 مئی، صفحہ4)

ایک خبر کے مطابق پاکستان گندم کی پیداوار کا ہدف حاصل نہیں کرسکا۔ ملک میں مقررہ ہدف 25.5 ملین ٹن کے مقابلے 24.12 ملین ٹن گندم کی پیداوار ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزاہ محبوب سلطان کا کہنا ہے کہ بھاری بارشوں اور طوفان نے ملک میں گندم کی فصل کو نقصان پہنچایا ہے جس سے گزشتہ سال کے مقابلے پیداوار میں 1.28 ملین ٹن کمی ہوئی۔ صوبائی حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق 3.7 ملین ٹن کے گزشتہ ذخائر سمیت ملک میں 27.9 ملین ٹن گندم دستیاب ہوگا جبکہ ملکی طلب 25.8 ملین ٹن ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 29 مئی، صفحہ1)

پانی
سپریم کورٹ نے پانی کی قیمت کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اگلی سماعت پر چاروں صوبوں کو پانی کے بل کے حوالے سے بنائے گئے طریقہ کار پر مشتمل رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے مزید ہدایت کی ہے کہ حکومت کمپنی سے پانی کا بل اس کی پیداواری صلاحیت کے بجائے پیداوار کے مطابق وصول کرے۔ پنجاب حکومت کو صوبے میں کمپنیوں کے پانی کے میٹر پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے میٹر نصب کرنے چاہیے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں فی لیٹر ایک روپیہ عائد کیا تھا۔ یہ رقم پیداوار کی بنیاد پر وصول کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 24 مئی، صفحہ3)
گورنر پنجاب چوہدری سرور نے پنجاب کھل پنچائیت اتھارٹی آرڈننس پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد دہائیوں پرانا محکمہ پنجاب اریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی (پیڈا) ختم ہوگیا ہے۔ محکمہ آبپاشی پنجاب نے صوبے میں فصلوں کے لئے پانی کی فراہمی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے نہروں اور واٹر کورسوں کو اپنے اختیار میں لے لیا ہے۔ عہدیدار کے مطابق پیڈا اپنے قیام کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوگیا تھا۔ پیڈا کی حدود میں آنے والے علاقوں سے آبیانہ وصولی کی شرح کم ہوکر 45 فیصد ہوگئی تھی جبکہ پیڈا سے پہلے محکمہ آبپاشی ان ہی علاقوں سے 70 فیصد آبیانہ وصول کرتا تھا۔
(ڈان، 25مئی، صفحہ2)

نکتہ نظر
مجموعی طور پر زرعی خبریں ملک میں اس شعبہ سے وابستہ چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں کے لیے مزید سخت حالات کی طرف اشارہ کررہی ہیں۔ گزشتہ سال اس شعبہ کو کھاد، بیج اور دیگر اشیاء پر حکومتی زرتلافی و مراعات کے باوجود زرعی پیداوار میں شرح نمو 2.07 فیصد تھی۔ اب حکومت زراعت سمیت تقریباً ہر شعبہ سے مراعات کا خاتمہ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے، جو مداخل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کی صورت ملک کی پیداوار اور کھپت دونوں سے جڑے غریب مزدور عوام کو مزید غربت اور بھوک میں دھکیلنے کا سبب بن سکتی ہے۔ عالمی سرمایہ دار اداروں اور ممالک کے دباؤ پر مرتب کی گئی پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ سرکاری کمیٹیوں کے اجلاس میں بیج، کھاد، زرعی زہر کی دستیابی، مرغبانی صنعتوں کے مسائل پر حکومت ان سے بجٹ تجاویز طلب کرتی ہے لیکن اس طبقے کی کوئی حقیقی نمائندگی پالیسی سازی میں شامل نہیں کی جاتی ہے جو پیداوار کو یقینی بناتا ہے اور افراط زر سے براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ گندم، انڈوں اور مرغیوں کی پیداوار کے ملکی اعدادوشمار خود اس بات کی دلیل ہیں کہ جب تک پیداواری وسائل، پیداوار اور اس حوالے سے پالسی سازی پر اختیار کسان مزدوروں کا نہیں ہوگا زیادہ پیداوار بھی غربت اور بھوک میں خاتمے کا سبب نہیں بن سکتی۔ مال مویشی اور بیج کے شعبہ میں جدت پر مبنی تربیت دے کسانوں کو غیرملکی کمپنیوں کے مداخل کا محتاج بناکر یہی کمپنیاں اپنے منافع کے لیے کسان مزدوروں کو خوراک و روزگار کا محتاج بنارہی ہیں۔ قوموں کی خوراک کی خودمختاری ہی دراصل حقیقی آزادی ہے جس کے لیے کسان مزدوروں پر جدوجہد لازم ہے۔

مئی 16 تا 22 مئی، 2019

جینیاتی مکئی
سیکریٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق ڈاکٹر ہاشم پوپلزئی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہ رپورٹس کے مطابق جینیاتی فصلوں میں استعمال ہونے والی ادویات (زہریلے اسپرے) سرطان کا سبب بن سکتی ہیں اور ملکی زرعی برآمدات کو متاثر کرسکتی ہیں۔ سیکریٹری کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو ملک میں (جینیاتی) فصل کے نقصانات سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی جائیگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہمارا کام حقائق بیان کرنا ہے، اس کے بعد فیصلہ کرنا حکومت کی صوابدید پر ہے“۔ سیکریٹری کی جینیاتی مکئی پر تحفظات پر قائمہ کمیٹی نے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (نارک) کو اگلے اجلاس میں ملک میں جنیاتی فصلوں سے ہونے والے نقصانات پر مفصل معلومات فراہم کرنے کے لیے کہا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 17مئی، صفحہ8)

امریکی محکمہ زراعت کی فارن ایگریکلچرل سروسز نے کہا ہے کہ مستقبل میں امریکہ و پاکستان کے درمیان مشترکہ منصوبوں میں مرغبانی، ماہی گیری اور مال مویشی شعبے میں امریکی سویا بین کا استعمال، جنیاتی مکئی رائج کرنا اور محفوظ خوراک کے یکساں معیارات مقرر کرنے کے لیے مختلف سرکاری محکموں کے ساتھ کام کرنا شامل ہے۔ امریکی محکمہ زراعت کے اسلام آباد میں نمائندے کیسی ای بین کے مطابق امریکی سویابین مرغبانی، ماہی گیری اور ڈیری صنعت میں بطور خام مال استعمال ہوگا۔ پاکستان میں جنیاتی مکئی کی منظوری زیر غور ہے جو کسانوں کی پیداوار میں اضافے اور زرعی کیمیائی مواد کے استعمال میں کمی کے لیے معاون ہوگی۔ امریکی محکمہ زراعت وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے قومی غذائی نظام منصوبے (نیشنل فوڈ سسٹم پروجیکٹ) کے لیے مدد کرے گا کیونکہ (اٹھارویں ترمیم کے تحت) اختیارات کی صوبوں کو منتقلی کے بعد پاکستان کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ ملک میں خوراک کے تحفظ کی مرکزی اتھارٹی (سینٹرل فوڈ سیکیورٹی اتھارٹی) ہو۔
(ڈان، 20 مئی، صفحہ5)

زراعت
کسان بورڈ پاکستان کے مرکزی صدر چوہدری نثار احمد نے حکومت پر زور دیا ہے کہ بجٹ 2019-20 میں زرعی شعبہ کو درپیش مسائل پر خصوصی توجہ دی جائے۔ حکومت کو زرعی شعبہ میں مداخل کی قیمت کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہیے۔ مداخل کی قیمتیں کم کرنے کے لیے حکومت کو بیج، کیمیائی کھاد پر زرتلافی دینی چاہیے جبکہ زرعی مشینری اور کیڑے مار زہر کے لیے زرتلافی پر مبنی خصوصی پیکچ دینا چاہیے۔
(بزنس ریکارڈر، 16 مئی، صفحہ16)

حیدرآباد میں مقامی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران سندھ آبادگار اتحاد کے نمائندوں نے آئندہ بجٹ میں زرعی شعبہ کے لیے خصوصی مراعات، مداخل پر زرتلافی اور جنرل سیلز ٹیکس کی چھوٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ سندھ آبادگار اتحاد کے صدر نواز زبیر تالپور کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کھاد پر زرتلافی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا جسے پورا نہیں کیا گیا۔ گزشتہ سال یوریا کی بوری کی قیمت 1,360 روپے تھی جو اب 1,800روپے میں فروخت ہورہی ہے۔ ٹریکٹر کی قیمت 1.7 ملین روپے سے بڑھ کر 2.1 ملین روپے ہوگئی ہے۔ پاکستان 2004 میں کپاس برآمد کرنے والا چوتھا بڑا ملک تھا لیکن 2010 سے اب تک وفاقی حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان اب کپاس درآمد کرنے والا دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔
(ڈان، 22 مئی، صفحہ 17)

گندم
آٹا مل مالکان نے مقامی ملوں کو گندم کی ترسیل پر پابندی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت کے خلاف صوبہ کے پی کے اور بلوچستان کو گندم کی ترسیل روکنے کے خلاف احتجاج شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔ آل پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ندیم بٹ اور صوبائی سربراہ حاجی محمد طارق نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ محکمہ خوراک پنجاب نے گندم خریداری مہم کے لئے یہ پابندی عائد کی ہے جو دوسرے صوبوں میں بحران کی وجہ بن سکتا ہے۔ پنجاب سے خیبر پختونخوا کو گندم کی ترسیل گزشتہ چند روز سے بند ہے جس کی وجہ سے خیبر پختونخواہ کے مل مالکان ملیں بند کرنے پر مجبور ہیں۔
(بزنس ریکارڈر، 16 مئی، صفحہ15)

کابینہ کی اقتصادی ابطہ کمیٹی نے 158 بلین روپے لاگت سے گندم کی خریداری مہم کی منظوری دیدی ہے۔ سیکریٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے اجلاس میں بتایا کہ حالیہ بارشوں و طوفان سے گندم کی فصل متاثر ہوئی ہے اور ابتدائی اندازے کے مطابق مجموعی طور پر گندم کی پانچ فیصد پیداوار کو نقصان ہوا ہے۔ اس وقت ملک میں 5.32 ملین ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس سال 25.56 ملین ٹن ہدف کے مقابلے 24.26 ملین ٹن گندم کی پیداوار ہوئی ہے۔
(ڈان، 16 مئی، صفحہ10)

محکمہ انسداد بدعنوانی (اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ) نے محکمہ خوراک سندھ کے 11 ملازمین اور دو تاجروں کے خلاف 431 ملین روپے مالیت کی 194,000گندم کی بوریاں غبن کرنے کے الزام میں مقدمات درج کرلیے ہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ، جامشورو نوراللہ شیخ کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزمان نے گزشتہ سال گندم خریداری مہم کے دوران ضلع دادو کے مختلف علاقوں سے 194,000 گندم کی بوریاں غبن کی تھیں۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے دو ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
(ڈان، 17 مئی، صفحہ17)

پنجاب کے وزیر ریونیو ملک محمد انور کا کہنا ہے کہ صوبے میں گندم کی سرکاری خریداری کا عمل معمول کے مطابق جاری ہے اور پنجاب حکومت 130 بلین روپے کی لاگت سے چار ملین ٹن گندم کی خریداری کا ہدف حاصل کرے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ بارشوں کے بعد گندم کی پانچ فیصد پیداوار کو نقصان پہنچا ہے۔ تمام ضلعی ریونیو افسران کو ہدایت کردی گئی ہے کہ جلد نقصانات کا سروے مکمل کرکے رپورٹ جمع کرائیں تاکہ متاثرہ کسانوں کے نقصان کی تلافی کی جاسکے۔
(بزنس ریکارڈر، 17 مئی، صفحہ2)

چیف سیکریٹری پنجاب اور پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن، پنجاب کے وفد کے درمیان ہونے والے اجلاس میں آٹا ملوں کو اس شرط پر منڈی سے گندم خریدنے کی اجازت دی گئی ہے کہ وہ کسانوں سے سرکاری قیمت پر گندم خریدیں گے۔ چیف سیکریٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر کا کہنا تھا کہ حکومت ملوں کے حقیقی مسائل حل کرے گی تاہم ملوں کو بھی منڈی میں آٹے کی قیمت کو قابو میں رکھنا ہوگا۔
(ڈان، 21 مئی، صفحہ2)

سندھ حکومت نے صوبے میں گندم کی متوقع قلت اور اس کے نتیجے میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خوراک سندھ ہری رام کشوری لال کا کہنا ہے کہ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (جنوبی زون) کی جانب سے سندھ میں ذخائر میں کمی کے خدشہ کے اظہار اور چارہ ملوں (فیڈ مل) کے لیے گندم کی خریداری پر پابندی کی تجویز کے بعد کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ داخلہ، کمشنرز اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی دوسرے صوبوں کو ترسیل پر پابندی یقینی بنانے کی ہدایت گئی ہے۔ وزیر خوراک کا مزید کہنا تھا اطلاعات کے مطابق سندھ سے یومیہ 10,000 ٹن گندم پنجاب ترسیل کیا جارہا ہے جس کے بعد سندھ حکومت نے پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔
(ڈان، 21 مئی، صفحہ17)

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے)، سندھ نے گندم کی درآمد پر 67 فیصد محصول ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال ملک میں سنگین بحران کا باعث بن سکتی ہے۔ ایسو سی ایشن نے وفاقی حکومت کے سامنے اپنا مطالبہ ایسے وقت میں پیش کیا کہ جب حکومت پنجاب اور سندھ نے گندم کی بین الصوبائی ترسیل پر پابندی عائد کردی ہے۔ حتی کہ پنجاب حکومت نے اضلاع کے درمیان گندم کی نقل حمل پر بھی غیر رسمی پابندی عائد کررکھی ہے جس کی وجہ سے دوسرے اضلاع سے آٹا ملوں کو جانے والی گندم کو بھی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے روکا جارہا ہے جو منڈی میں تشویش اور قیمتوں میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ سربراہ پی ایف ایم اے، سندھ جاوید یوسف کا کہنا ہے کہ گندم کی موجودہ قیمت 1,350 فی من ہوگئی ہے جو سرکاری قیمت سے زیادہ ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی اور گندم کی برآمد میں اضافہ سے گندم کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ یہ خدشہ ہے کہ ذخیرہ اندوز اس صورتحال سے فائدہ اٹھائیں گے۔ حکومت کو گندم کی برآمد پر عائد 67 فیصد محصول ختم کردینا چاہیے۔
(بزنس ریکارڈر، 22 مئی، صفحہ3)

آم
آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹز ایسوسی ایشن کے سربراہ وحید کے مطابق عالمی حدت آم کی پیداوار میں کمی کی بنیادی وجہ ہے۔ بھاری بارشیں اور طوفان پیداوار میں کمی کی وجہ ہیں۔ گزشتہ سال 1.8 ملین ٹن کے مقابلے اس سال آم کی پیداوار 1.2 ملین متوقع ہے۔ اس سال آم کی پیداوار میں گزشتہ سال کی نسبت 30 فیصد کمی کا اندیشہ ہے۔ پنجاب میں ریکارڈ 35 فیصد کمی اور سندھ میں 10کمی دیکھی جارہی ہے۔ دن میں موسم انتہائی گرم جبکہ رات میں ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ درجہ حرارت میں یہ اتار چڑھاؤ آم کی پیداوار کے لئے نامناسب ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 16 مئی، صفحہ20)

پانی بدین میں پانی کی سنگین قلت کے خلاف کئی ماہ تک احتجاج کرنے کے بعد کسانوں نے سندھ ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ حیدرآباد سرکٹ بینچ میں دائر درخواست میں پھلیلی کنال کی بحالی و مرمت کے منصوبہ میں تعمیری نقص (ڈیزائن فالٹ) ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے جو پانی کی قلت کی وجہ ہے۔ کسانوں کی درخواست پر عدالت نے مدعا علیہان (رسپونڈنٹس) کو 20 جون کے نوٹس جاری کیے ہیں۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ نئے تعمیری منصوبے کے تحت ہیڈ ریگولیٹر اور کراسنگ پر پانی کی ترسیل کے لئے بالائی سطح (کرسٹ لیول) میں اضافہ غیرقانونی اور درخواست گزاروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 21 مئی، صفحہ4)

نکتہ نظر
اس ہفتے کی سرفہرست خبریں ملک میں جینیاتی مکئی کی کاشت کی منظوری کے حوالے سے ہیں۔ گو کہ یہ موضوع گزشتہ کئی ماہ سے خبروں میں ہے خصوصاً جب نیشنل ایگری کلچرل ریسرچ کونسل نے جینیاتی بیج کی منظوری کے لیے منعقد ہونے والا کمیٹی کا اجلاس اچانک منسوخ کیا اور اگلے اجلاس میں بھی جینیاتی مکئی کے بیج کی منظوری نہیں دی گئی۔ قومی زرعی تحقیقی ادارے کی جینیاتی بیج کی منظوری میں ہچکچاہٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی ماہرین بھی جینیاتی بیج کی منظوری کے حق میں نہیں جس سے ملکی برآمدات کو شیدی نقصان ہوگا کیونکہ یورپ سمیت دنیا کے زیادہ تر ممالک میں جینیاتی تبدیلی کی حامل خوراک کی درآمد پر پابندی ہے اور پاکستان کی زیادہ تر برآمدات زرعی اشیار پر مبنی ہیں۔ جینیاتی فصلوں کے طبی نقصان کی نشاندہی خود سیکریٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے قائمہ کمیٹی میں اپنے بیان میں کی کہ ان فصلوں پر استعمال ہونے والا زہر جسے گلائفوسیٹ کہا جاتا ہے سرطان جیسے موزی مرض کو جنم دے سکتا ہے۔ اس خدشہ پر خود امریکی اور فرانس کی عدالتیں یہ زہر بنانے والی کمپنی مونسانٹو پر کئی بلین روپے جرمانہ عائد کرکے تصدیق کرچکی ہیں کہ یہ زہر سرطان میں پھیلاؤ کا باعث ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ کئی ماہ سے امریکی اور دیگر سرمایہ دار کمپنیوں کے نمائندے مسلسل حکومت حتی کہ وزیر اعظم سے ملاقات کرکے جینیاتی مکئی کی منظوری کے لیے لابنگ میں مصروف ہیں جس کا اظہار اس خبر سے ہوتا ہے کہ امریکی فارن ایگری سروس پاکستان میں امریکی سویابین کی فروخت اور جینیاتی مکئی رائج کرنے میں مدد کررہی ہے۔ ملک میں امریکی جینیاتی سویابین کی درآمد اور جینیاتی مکئی کی کاشت ناصرف پاکستان میں گوشت، دودھ کی پیداوار کو آلودہ کرے گی بلکہ پاکستان کو ان اشیاء کی برآمد سے بھی محرومی کا سبب بنے گی۔ حقائق سے منہ موڑ کر ملکی کسانوں کو جینیاتی بیج بنانے والی کمپنیوں کا محتاج بناکر کسی طور اس ملک کے کسانوں کو خوشحال نہیں بنایا جاسکتا کیونکہ اس ٹیکنالوجی کا واحد مقصد جینیاتی بیج اور دیگر مداخل بنانے والی کمپنیوں کے کاروبار اور منافع میں اضافہ ہے جس کی قیمت اس ملک کے عوام کو آلودہ زہریلی خوراک اور ملک کو معاشی نقصانات کی صورت چکانی پڑے گی۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی دہائی دے کر زراعت کو جدید بنانے والے نام نہاد ماہرین کو چاہیے کہ وہ کم از کم اس معاملے میں بھی امریکہ اور فرانس جیسی جدید سوچ اپنا کر جینیاتی فصلوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔

مئی 9 تا 15 مئی، 2019
گندم
ایوان زراعت سندھ (سندھ چیمبر آف ایگری کلچر) کے جنرل سیکریٹری زاہد بھرگڑی نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ سندھ حکومت کے کسانوں سے گندم نہ خریدنے کے فیصلے سے کسانوں کو مجموعی طور پر 28 بلین روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔ گودام خالی ہونے کے باوجود حکومت سندھ کا یہ فیصلہ باعث تشویش ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طرح کا فیصلہ کسان دشمن ہے جسے واپس لیا جانا چاہیے اور حکومت کو کسانوں سے گندم کی خریداری کا آغاز کرنا چاہیے۔ اگر سندھ حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو کسان احتجاج کریں گے۔
(ڈان، 9 مئی، صفحہ17)

پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن محکمہ خوراک پنجاب کی جانب سے کھلی منڈی سے گندم لے جانے والی گاڑیاں ضبط کیے جانے کے معاملے پر اپنی حکمت عملی وضح کرنے کے لیے 16 مئی کو اجلاس منعقد کرے گی۔ ایسوسی ایشن کے رہنما عاصم رضا احمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ خوراک کھلی منڈی سے گندم کی خریداری کی حوصلہ شکنی کررہا ہے۔ انہوں نے کھلی منڈی میں گندم کی قیمت 1200 سے بڑھ 1400 روپے فی من ہوجانے پر بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے قیمت میں اضافے کو تشویشناک قرار دیا ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 11 مئی، صفحہ5)

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن، سندھ کے چیئرمین جاوید یوسف نے وزیر اعلی سندھ کو لکھے گئے خط میں آگاہ کیا ہے کہ سندھ سے یومیہ دو ہزار ٹن گندم دیگر صوبوں کو منتقل کیا جارہا ہے جس سے کھلی منڈی میں دستیاب گندم کے ذخیرے پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ایسوسی ایشن نے دعوی کیا ہے کہ گزشتہ سال گندم مناسب طریقے سے ذخیرہ نہیں کی گئی اور گندم کو کیڑے مکوڑوں سے تحفظ کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے۔ گندم کی مقدار کے اعداوشمار غلط ہیں اور تقریباً 50 فیصد گندم حقیقتاً دستیاب ہے جبکہ سرکاری دستاویزات کے مطابق سندھ حکومت کے پاس گزشتہ سال کے گندم کا 800,000 ٹن ذخیرہ موجود ہے۔
(ڈان، 14 مئی، صفحہ10)

ایک خبر کے مطابق راولپنڈی اسلام آباد آٹے کے بحران کے دہانے پر ہے۔ محکمہ خوراک پنجاب کے حکام گندم کی کی ترسیل پر پابندی کے بہانے پنجاب کے دیگر شہروں سے اسلام آباد اور راولپنڈی آنے والے ٹرکوں کو ضبط کررہے ہیں۔ محکمہ خوراک کے ڈپٹی ڈائریکٹر راولپنڈی ڈویژن نے دونوں شہروں کے کمشنروں کی سفارش پر فوڈ ڈائریکٹر پنجاب کو لکھے گئے خط میں سرکاری گوداموں سے گندم فروخت کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ منڈی میں گندم کمی پر قابو پایا جاسکے۔ اخبار کو دستیاب معلومات کے مطابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر چیف سیکریٹری نے خود گندم کی خریداری مہم کی نگرانی کی تھی اور گندم کی خریداری کے حوالے سے تمام ڈپٹی کمشنروں کو نئی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ صوبے کے سرحدی علاقوں میں گندم کی صوبے سے باہر منتقلی روکنے کے لیے ناکے (چیک پوسٹیں) قائم کیے جاچکے ہیں جبکہ آٹا ملوں کو گندم کی خریداری اور اس کی نقل و حمل کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق پنجاب حکومت نے باردانے کے حصول کے لیے 773,000 درخواستیں منظور کی ہیں لیکن صرف اب تک 251,000 کسانوں نے باردانہ وصول کیا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹربیون، 15 مئی، صفحہ10)

آم
اس سال موسمی تبدیلی نے سنگین اثرات مرتب کئے ہیں جو آم کی پیداوار میں 30 فیصد کمی کا باعث بن رہے ہیں۔ آم کی برآمد کا موسم 20 مئی 2019 سے شروع ہوگا جبکہ اس سال 100,000 ٹن آم کی برآمد کا ہدف مقرر کیا گیاہے۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹز ایسوسی ایشن کے سربراہ وحید احمد کے مطابق پاکستان میں آم کی کل پیداوار 30 فیصد کمی کے ساتھ 1.2 ملین ٹن رہنے کا امکان ہے جو گزشتہ سال 1.8 ملین تھی۔ موسمی تبدیلی کے نتیجے میں تیز آندھیوں و طوفان اور غیر متوقع بارشوں کی وجہ سے آم کی فصل کو سندھ میں 10 فیصد جبکہ پنجاب میں تقریباً 35 فیصد نقصان پہنچا ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 10 مئی، صفحہ7)

ڈیری
پنجاب فوڈ اتھارٹی نے لاہور میں صارفین کو صحت بخش، خالص دودھ کی فراہمی کے لیے کھلے دودھ کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پابندی کے بعد لاہور اس آزمائشی منصوبے کا ایک مثالی شہر بن جائے گا جہاں مستقبل قریب میں صرف جراثیم سے پاک (پسچیرائزڈ) دودھ دستیاب ہوگا۔ کھلے دودھ پر پابندی عید کے بعد متوقع ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی حکام کے مطابق پسچیرائزڈ دودھ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے لاہور میں دودھ کو جراثیم سے پاک کرنے کے کارخانے (پسچیرائزڈ یونٹ) قائم کیے جائیں گے جس کے لیے مقام اور ان کی تعمیر سے متعلق معاملات طے کرلیے گئے ہیں۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 9 مئی، صفحہ11)

ٹیٹرا پیک پاکستان نے عوام کو محفوظ دودھ کی فراہمی کے لیے دودھ کی جانچ کرنے والے چھ یونٹ حکومت پنجاب کے حوالے کردیے ہیں۔ یہ یونٹ وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ چوہدری کے حوالے کیے گئے جو صنعتی علاقے سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں ٹیٹرا پیک پاکستان کے کارخانے کا دورہ کررہے تھے۔
(بزنس ریکارڈر، 15 مئی، صفحہ16)

کیمیائی کھاد
ایڈوائزری کونسل آف فرٹیلائزر مینوفیکچررز آف پاکستان نے حکومت سے زرتلافی کی مد میں کھاد کمپنیوں کو 20.67 بلین روپے کی ادائیگی کے لئے آئندہ بجٹ میں رقم مختص کرنے کے لیے کہا ہے۔ 2019-20 کے بجٹ کے لئے اپنی تجاویز میں کونسل نے کھاد کی صنعت میں استعمال ہونے والے تمال مداخل بشمول گیس پر جنرل سیلز ٹیکس صفر کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس کے علاوہ پیداوار میں خام مال کے طور پر استعمال ہونیوالے سلفر، مائع قدرتی گیس (اایل این جی) کو بھی صفر درجہ ٹیکس میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ کونسل نے ملک میں ڈی اے پی کھاد کی دستیابی اور رسائی کو بہتر بنانے کے لیے ایڈشنل سیلز ٹیکس ختم کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔
(ڈان، 15 مئی، صفحہ10)

پانی
بلوچستان حکومت نے صوبے میں نصب زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی نظام پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلی جام کمال کی صدارت میں ہونیوالے ایک اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں 29,000 بجلی سے چلنے والے زرعی ٹیوب ویل نصب ہیں۔ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان ٹیوب ویلوں کی تصدیق کے لیے جیو ٹیسٹنگ میکنزم اپنایا جائے گا۔ (ڈان، 10 مئی، صفحہ5)

کھجور
ایک اخباری رپورٹ کے مطابق دنیا میں کھجور پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہونے کے باوجود جدت نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں کھجور کی صنعت ابتری کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے اعداد وشمار کے مطابق 1999 تک پاکستان میں سالانہ 540,000 ٹن کھجور کی پیداوار ہوتی تھی جس میں اضافے کے بجائے سال 2015-16 میں کھجور کی پیداوار کم ہوکر 467,000 ٹن ہوگئی۔ بلوچستان میں سب سے زیادہ کھجور کی پیداوار ہوتی ہے جو مجموعی پیداوار کا 45 فیصد ہے۔ سندھ میں 43 فیصد، خیبر پختونخواہ میں دو فیصد جبکہ پنجاب میں کھجور کی ایک فیصد پیداوار ہوتی ہے۔ بلوچستان کے ضلع تربت میں 100,000 ٹن جبکہ سندھ کے ضلع خیرپور میں 237,000 ٹن کھجور پیدا ہوتی ہے جو ملک کی مجموعی پیداوار کا 42 فیصد ہے۔ 2016 میں پاکستان نے 102 ملین ڈالر مالیت کی کھجور برآمد کی جو 200 ملین ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ پاکستان اس وقت جو تین سو اقسام پیدا کرتا ہے وہ بھی 50 سال پرانی ہیں جن کی عالمی منڈی میں زیادہ طلب نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں پاکستانی کھجور کی قیمت 100 سے 250 روپے فی کلو کے درمیان ہے جہاں دیگراقسام کی کھجور 700 روپے فی کلو تک میں فروخت ہوتی ہے۔ کھجور کی پیداوار میں جدت نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان اس سے ممکنہ آمدنی سے محروم ہورہا ہے۔ پاکستان امریکہ، کینڈا، فرانس، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ملیشیا اور متحدہ عرب امارات کو تازہ کھجور برآمد کرتا ہے جو مجموعی پیداوار کے 10 فیصد پر مشتمل ہے۔ زیادہ تر خشک کھجور بھارت کو برآمد کی جاتی ہے جس نے اس وقت پاکستانی اشیاء پر 200 فیصد درآمدی محصول عائد کردیا ہے۔ اس محصول سے خشک کھجور کی برآمد بری طرح متاثر ہورہی ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 12 مئی، صفحہ13)

ماہی گیری
سندھ حکومت نے سمندر میں مچھلی اور جھینگے کے شکار پر جون و جولائی کے مہینے میں پابندی عائد کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ حکام کے مطابق اس ماہ کے آخر تک پابندی کا اعلامیہ جاری ہونے کا امکان ہے۔ ملک میں سمندر میں موجود مچھلیوں اور جھینگوں کی افزائش جاری رکھنے کے لیے یہ پابندی ضروری ہے جہاں سمندری خوراک کی برآمد کم ہورہی ہے۔ ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمد جولائی تا مارچ سال 2018-19 میں سات فیصد کم ہوکر 293.887 ملین ڈالر ہوگئی ہے۔ (بزنس ریکارڈر، 15 مئی، صفحہ2)

غربت
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت اگلے مالی سال سے دو نئے منصوبے ”کفالت“ اور ”تحفظ“ کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کفالت منصوبے کے تحت ”ایک عورت ایک بینک کھاتہ“ (ون ومن ون اکاؤنٹ) پالیسی کے زریعے تقریباً چھ ملین عورتوں کی مالی حوالے سے (فنانشل اینڈ ڈیجیٹل انکلوژن) شمولیت کو یقینی بنانا اور تحفظ منصوبے کے تحت ملک کے دوردراز علاقوں میں غریب خاندانوں کو طبی اور غذائی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ حکام کے مطابق دونوں منصوبے ”احساس پروگرام“ میں شامل ہونگے جس کا مقصد ملک میں غربت میں کمی کرنا ہے۔ احساس پروگرام کا باضابطہ آغاز نئے مالی سال سے کیا جائے گا۔
(بزنس ریکارڈر، 12 مئی، صفحہ1)

غذائی کمی
سول ہسپتال مٹھی، تھرپارکر میں غذائی کمی اور بیماریوں کی وجہ سے مزید آٹھ بچے جانبحق ہوگئے ہیں جس کے بعد اس سال اب تک جانبحق ہونے والے بچوں کی تعداد 321 تک پہنچ گئی ہے۔ بیمار بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ شدید بیمار افراد کو ہسپتال منتقل کرنے اور میت کی منتقلی کے لیے انہیں مفت ایمبولنس بھی فراہم نہیں کی جاتی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ کنووں کا انتہائی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے ان کے علاقوں میں پانی سے ہونے والی بیماریاں عام ہیں۔
(ڈان، 9 مئی، صفحہ17)

نکتہ نظر
اس ہفتے کی سرفہرست خبروں میں گندم کے حوالے سے خبریں نمایاں ہیں جن سے مجموعی تاثر یہی ابھرتا ہے کہ حکومتی بد انتظامی اور بروقت اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے ناصرف کسان بلکہ صارفین بھی متاثر ہورہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سندھ سے گندم دیگر صوبوں اور مجموعی طورپر یومیہ بھاری مقدار میں پاکستان سے افغانستان برآمد ہورہی ہے جس کے نتیجے میں ناصرف مقامی منڈی پر دباؤ بڑھ رہا ہے بلکہ آٹے کی قیمت میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ مجموعی طور پر اہم ملکی پیداوار چاہے وہ گندم ہو یا آم یا پھر کھجور نیولبرل پالیسیوں کے نتیجے میں کہیں کسان زیادہ پیداوار لے کر بھی نقصان سے دوچار ہیں اور کہیں موسمی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں آنے والی آفات کی وجہ سے پیداوار میں کمی کا شکار ہوکر نقصان سے دوچار ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عالمی بینک کی جانب سے کلائمٹ اسمارٹ ایگری کلچر کے لیے شروع کیے گئے منصوبے میں یہ بنیادی شرائط شامل تھیں کہ پاکستان گندم کی خریداری کو محدود کرتے ہوئے ترک کردے اور اس پر کسانوں کو دی جانے والی زرتلافی کا خاتمہ کرے۔ سندھ میں گندم کی خریداری روک دینا، ملک سے گندم کی برآمد پر محصول کا خاتمہ اور پنجاب میں گندم کی نقل و حمل پر پابندیاں گندم کی منڈی سے حکومتی اختیار کے خاتمے کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو مستقبل میں ناصرف ملکی غذائی تحفظ کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتی ہے بلکہ خوراک کی قیمت میں اضافے کا بھی سبب بنے گی، اس ملک میں جہاں غذائی کمی کے نتیجے میں آئے روز بچوں کی ہلاکتوں کی خبریں عام ہوں۔

مئی 2 تا 8 مئی، 2019
آم
آم کی پیداوار میں 70 ممالک میں پاکستان چھٹے نمبر پر ہے لیکن آم کی عالمی برآمدات میں پاکستان کاحصہ صرف 3.2 فیصد ہے جس کی اہم وجوہات میں محدود میعاد زندگی (شیلف لائف)، ناقص بنیادی ڈھانچہ اور قرنطینہ کے مسائل شامل ہیں۔ نیسلے پاکستان کی جانب سے ایک ملین روپے کی مالی مدد سے مینگو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، ملتان قطرہ قطرہ آبپاشی نظام متعارف کروارہا ہے جو فی درخت 14 لیٹر پانی کی ضرورت کے حساب سے ایک ایکڑ باغ کو سات سے آٹھ منٹ میں سیراب کرسکتا ہے۔ اس طریقے سے پانی دینے کے روایتی طریقہ کار کے مقابلے 90 فیصد پانی کی بچت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور طریقہ کار درختوں کی شاخوں کے گھناؤ کی دیکھ بھال (کنوپی مینجمنٹ) ہے جس میں دو درختوں کے مابین فاصلہ کم ہوتا ہے۔ روایتی طریقہ کار کے تحت ایک ایکڑ پر 36 سے 42 درخت لگائے جاتے ہیں جبکہ کنوپی مینجمنٹ کے تحت درختوں کی تعداد فی ایکڑ 1,300 سے 2,000 ہوتی ہے۔ نیسلے پاکستان کے پائیدار زراعت کے ماہر اللہ بخش کے مطابق درختوں کی کاٹ چھانٹ پر مبنی تکنیک سے ان کی اونچائی کم رکھا جاتا ہے جس سے ان درختوں کی دیکھ بھال آسان ہوتی ہے۔ ان تمام طریقوں کے استعمال سے روایتی کاشتکاری کے مقابلے فی ایکڑ آم کی پیدوار کو تین گنا بڑھایا جاسکتا ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 2 مئی، صفحہ8)

ڈیری شعبہ
اینگرو فوڈز اور فرائس لینڈ کمپینا کی انتظامیہ نے گورنر ہاؤس میں سندھ کے گورنر عمران اسماعیل سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کا مقصد نجی اور سرکاری شراکت داری سے ڈیری شعبے سے جڑے چھوٹے کسانوں کے لیے پائیدار روزگار پیدا کرنے اور پاکستانی عوام کو محفوظ ڈیری مصنوعات کی فراہمی پر بات چیت کرنا تھا۔ اس وقت زراعت میں ڈیری شعبہ کا حصہ 50 فیصد ہے اور مجموعی قومی پیداوار میں اس شعبے کا حصہ 11 فیصد ہے۔ اس حوالے سے مینجنگ ڈائریکٹر اینگرو فوڈز کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں غذائی معیار کو ریگولیٹری اتھارٹیوں کے ذریعے محفوظ ڈیری مصنوعات کے وژن سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 3مئی، صفحہ5)

غذائی کمی
نیشنل فورٹیفکیشن الائنس پاکستان نے عالمی غذائی پروگرام اور آسٹریلیا کی حکومت کے تعاون سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں غذائی کمی سے نمٹنے کے لیے آٹے میں مصنوعی غذائیت شامل کرنے (فورٹیفیکیشن) کے منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ عالمی غذائی پروگرام کے پاکستان میں نمائندے فنبار کوران کے مطابق پاکستان کی تقریباً آدھی آبادی ضروری غذائیت (مائیکرو نیوٹرینٹ) کی کمی کا شکار ہے جو بچوں میں نشونما میں کمی، خون کی کمی اور دیگر طبی مسائل کی وجہ ہوسکتی ہے۔ غذائیت کی اس کمی کو دور کرنے کے لیے ملک میں پہلے ہی بڑے آٹا ملوں میں فورٹیفیکیشن کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ اگلے پانچ سالوں میں توقع ہے کہ تمام بڑی آٹا ملوں کی پیداوار لازمی غذائی اجزاء سے بھرپور یعنی فورٹیفائیڈ ہوگی۔ تاہم یہ ہدف اس وقت تک مکمل طور پر پورا نہیں کیا جاسکتا جب تک (چھوٹی) آٹاچکیوں کی پیداوار بھی فورٹیفائیڈ نہ ہو۔
(ڈان، 4 مئی، صفحہ4)

پانی
پاکستان میں عالمی بینک کے ڈائریکٹر پاتھاموتھو النگوان نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پالیمنڑی سروسس میں ایک عوامی سماعت کے دوران حکومت پاکستان کے پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ نقصانات کو کم کرنے کے لیے، بہتر پانی کے انتظام پر مبنی نظام کے ذریعے ملکی معیشت کو دو ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کے لیے اس کے استعمال کے طریقوں کی ازسرنو منصوبہ بندی کریں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اپنا 90 فیصد پانی پانچ فصلوں چاول، گنا، کپاس، گندم اور مکئی پہ خرچ کرتا ہے جن کا حصہ مجموعی قومی پیداوار میں 20 فیصد سے بھی کم ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں زیر استعمال پانی کا 69 فیصد انسانی استعمال کے قابل نہیں ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمی تبدیلی ملک امین اسلم کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ”پانی کی بڑی مقدار ضائع ہورہی ہے اور صرف نو فیصد پانی ذخیرہ کیا جاتا۔ تاہم پاکستان پانی کے ذخیرے کو یقینی بنانے کے لیے آبی منصوبے سی پیک کے ماتحت لانے کی کوشش کررہا ہے“۔
(بزنس ریکارڈر، 3 مئی، صفحہ3)

وزیر اعظم عمران خان نے مہمند ڈیم کے تعمیراتی کام کا افتتاح کردیا ہے۔ اس منصوبے سے 800 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی اور ڈیم میں 1.2 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جاسکے گا۔ دریائے سوات پر تعمیر کیے جانے والے مہمند ڈیم کی تکمیل سے 17,000 ایکڑ بنجر زمین زیر کاشت آئے گی۔ مہمند ڈیم سے 13.32 ملین مربع میٹر پانی پشاور شہر کو بھی فراہم کیا جائے گا۔ افتتاحی تقریب میں فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ، سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور دیگر نے شرکت کی۔
(ڈان، 3مئی، صفحہ1)

گندم
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے)، پنجاب نے صوبے میں گندم کی خریداری کا ہدف مکمل ہونے تک پیداور کی صوبے سے باہر ترسیل پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ پی ایف ایم اے، پنجاب کے سربراہ حبیب لغاری نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی سطح پر خریداری کا ہدف مکمل ہونے کے بعد ہی صوبہ سے باہر گندم بھیجی جاسکتی ہے۔ وزیر اعلی پنجاب، چیف سیکریٹری، ڈائریکٹر محکمہ خوراک کو ارسال کئے گئے خط میں پنجاب سے دیگر صوبوں کو معیاری گندم کی ترسیل پر تحفظات کا اظہار کیا گیاہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر صوبائی حکومت نے اس سلسلے میں فوری اقدامات نہیں کئے تو گندم قیمت بڑھ سکتی ہے۔ (ڈان، 2 مئی، صفحہ2)

ایک خبر کے مطابق حکومت کی جانب سے بلا محصول گندم کی برآمد کی اجازت دینے کی وجہ سے یومیہ 100,000 گندم کے تھیلے افغانستان برآمد کیے جارہے ہیں۔ گندم کی برآمد کا گھریلو صارفین پر اچھا اثر نہیں پڑا ہے اور پنجاب کی کئی منڈیوں میں گندم کی قیمت دس سالوں کی بلند ترین سطح پر آگئی ہے۔ راولپنڈی میں گندم کی قیمت 1,370 روپے فی من جبکہ لاہور، گجرانوالہ اور دیگر اضلاع میں کھلی منڈی میں قیمت 1,305 سے 1,335 روپے فی من پر آگئی ہے جس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ افغانستان کی بڑھتی ہوئی گندم کی طلب طورخم، چمن، وانا اور لاؤچی سرحدی گزرگاہ کے ذریعے پوری کی جارہی ہے۔ افغان تاجروں کے مطابق افغانستان کی منڈی میں گندم 1,584 روپے فی من (39,614 روپے فی ٹن) فروخت ہورہی ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 8 مئی، صفحہ11)

کپاس
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (PCGA) کے مطابق یکم مئی تک کپاس کی پیداوار 10.77 ملین گانٹھیں ہوئی ہے جو پچھلے سال کے مقابلے 6.94 فیصد کم ہے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب میں کپاس کی پیداوار 9.55 فیصد کمی کے بعد 6.628 ملین گانٹھیں اور سندھ میں 2.45 فیصد کمی کے بعد 4.149 ملین گانٹھیں ہوئی ہے۔ مجموعی پیداوار سے کپڑا ملوں نے 10 ملین گانٹھیں جبکہ برآمد کنندگان نے 103,540گانٹھیں خریدی ہیں۔ سب سے زیادہ کپاس کی پیداوار ضلع سانگھڑ، سندھ میں 1.28 ملین گانٹھیں ہوئی ہے۔ اس وقت صرف تین جننگ کے کارخانے کام کررہے ہیں جن میں سے دو پنجاب اور ایک سندھ میں ہے۔
(ڈان، 4 مئی، صفحہ10)

ماحول
ؓبلوچستان کابینہ نے وزیر اعظم عمران خان کے سبز پاکستان منصوبے کے تحت 10 بلین سونامی ٹری منصوبے کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت صوبے میں 250 ملین نئے درخت اور پنیری کاشت کی جائے گی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اس منصوبے پر کل 16 بلین روپے لاگت آئے گی جس کا 75 فیصد وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔ اس منصوبے سے بلوچستان میں جنگلات کے رقبے میں اضافہ ہوگا اور جنگلی حیات کو تحفظ ملے گا۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 3مئی، صفحہ7)

نکتہ نظر
اس ہفتے کی خبروں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایک تاثر ابھر کے سامنے آتا ہے وہ ہے کارپوریٹ یا کمپنیوں کا ملکی پیداوار میں بڑھتا ہوا عمل دخل۔ ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کے اعلی افسران براہ راست گورنر سے ملاقات کرکے پالیسی تجویز کرتے ہیں اور اس بات کا اپنی ہی جانب میں تعین کرتے ہیں کہ کسانوں کو پائیدار روزگار کس طرح فراہم کیا جائے۔ بظاہر نظر آتا ہے کہ خوراک کے تحفظ کی آڑ میں کمپنیاں چاہے کھلا دودھ ہو یا کھلے مصالحہ جات یا گوشت غرض ہر غذائی اشیاء کی پیداوار کرنے اور اسے ترسیل کرنے والے چھوٹے کاروباری افراد اور کسانوں کے کردار کا خاتمہ کیا جارہا ہے۔ اس تناظر میں کمپنیوں کی ایما پر بنائی گئی کئی طرح کی اتھارٹیوں اور قانون سازی نے سرمایہ داروں کے لیے منڈی پر قبضے کی راہ ہموار کی ہے۔ دودھ اور ڈیری مصنوعات کی کمپنیاں ملک میں جگہ جگہ مال مویشی شعبہ میں کئی منصوبوں پر کام کررہی ہیں جس کا مقصد کسانوں کی بہبود ہرگز نہیں ہے کیونکہ مویشی پالنے والے چھوٹے کسانوں کے حالات تو نہیں بدلے البتہ کمپنیوں کے تیار کردہ مویشیوں کے چارے، ادویات اور افزائش نسل کے ٹیکے کی فروخت اور ان کمپنیوں کا منافع کئی گنا ضرور بڑھ گیا ہے۔ دوسری طرف سرکاری تحقیقی اداروں پر بھی نیسلے جیسی سرمایہ دار کمپنی کا اثر رسوخ نظر آتا ہے جو اسے امداد دے کر قطرہ قطرہ آبپاشی نظام جیسی مہنگی جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ نیسلے کے اس طرح کے منصوبے کیوں شروع کیے جاتے ہیں اس کے لیے اتنا جان لینا بھی شاید کافی ہوکہ پانی کے تحفظ کے لیے سرمایہ خرچ کرنے والی نیسلے پنجاب میں صرف شیخوپورہ سے ہی زیر زمین پانی کا بے دردی سے اخراج کرکے اس پانی کو پاکستان کی ہی عوام کو انتہائی مہنگے داموں فروخت کرکے اربوں روپے منافع کماتی ہے۔ یہ کمپنیاں اور ان کو تحفظ دینے والے عالمی سرمایہ دار امدادی ادارے ہی جدت کے ساتھ غیر پائیدار طریقہ پیداوار متعارف کرواکر ہمارے لیے پالیسی تجویز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”آپ کے ملک میں 69 فیصد استعمال ہونے والا پانی انسانی استعمال کے لیے نامناسب ہے، اور آپ کے ہاں آدھی آبادی غذائیت کی کمی کا شکار ہے!“ اس غذائیت کو پورا کرنے کے لیے اب آب پھر سے غیرملکی کمپنیوں کی فورٹیفیکیشن ٹیکنالوجی خریدیں۔ سرمایہ دار اداروں اور کمپنیوں کا یہ شیطانی چکر مسائل کی وجہ ہے ناکہ ان کا حل جسے اس ملک کے عوام بلخصوص پیداواری شعبہ سے جڑے چھوٹے کسانوں کو سمجھنا ہوگا۔

اپریل 25 تا 1 مئی، 2019
زمین
وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے اطلاعات و قانون مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ 660 میگاواٹ تھرکول پروجیکٹ کے افتتاح کے بعد کابینہ نے مزید پانچ بجلی گھر تعمیر کرنے کے لیے اسلام کو ٹ، تھرپارکر میں زمین فراہم کرنے کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ نے گورانو ڈیم، تھرپارکر کے 757 متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ ادا کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔ ہر متاثرہ خاندان کو سالانہ ایک لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔
(بزنس ریکارڈر، 26 اپریل، صفحہ11)

زراعت
آسٹریلیا حکومت کے تحت آسٹریلیا۔بلوچستان ایگری بزنس پروگرام کے پہلے مرحلے میں چھ اضلاع کی زرعی پیداوار کی قدر میں 9.1 ملین ڈالر کا اضافہ ہو ا ہے جس سے کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں مدد ملی ہے۔ منصوبے سے بلوچستان میں فصلوں اور مال مویشیوں کی پیداوار میں اضافے میں مدد ملی ہے اور کسانوں کو جدید تکنیک سے بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ کھیتوں کے بہتر انتظام، پیداوار میں اضافے اور پانی کے انتظام کے بہتر طریقے متعارف کروائے گئے ہیں۔ منصوبے کے پہلے مرحلے کے اختتام پر 340 دیہی آبادیوں کے 30,600 گھرانوں میں غذائی تحفظ کی صورتحال بہتر دیکھی گئی ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد دوسرے مرحلے کا آغاز کردیا گیا ہے جو 2023 تک جاری رہے گا۔
(ڈان، 28 اپریل، صفحہ10)

پانی
کسانوں کو پانی کے موثر استعمال میں مشاورت فراہم کرنے کے لیے نیشنل ایگری کلچر ریسرچ سینٹر (نارک) میں ایک آزمائشی منصوبے کا آغاز کردیا گیا ہے۔ نارک کے ڈائریکٹر ڈاکٹر منیر احمد کے مطابق ملک میں صرف 40,000 ایکڑ زمین پر قطرہ قطرہ آبپاشی نظام نصب ہے جبکہ ملک میں آبپاشی کے ذریعے کاشت کیا جانے والا رقبہ 20 ملین ایکڑ ہے۔ شمسی توانائی سے منسلک یہ منصوبہ سات ایکڑ رقبے پر محیط ہے۔ بین القوامی غذائی کمپنی نیسلے نے قطرہ قطرہ آبپاشی نظام اور فوارہ آبپاشی نظام کی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے اس منصوبے پر 4.5 ملین روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ نیسلے کمپنی پہلے ہی شیخوپورہ میں پنجاب حکومت کے اشتراک سے ایک منصوبہ شروع کرچکی ہے جس سے سالانہ 54 ملین لیٹر پانی بچایا جاسکتا ہے۔
(بزنس ریکارڈر،25 اپریل، صفحہ19)

ارتقاء انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسس کی جانب سے وفاقی اردو یونیورسٹی، کراچی میں پانی کے موضوع پر ہونے والی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سماجی کارکن و ماہر شہری منصوبہ بندی عارف حسن نے کہا ہے کہ پاکستان کو بڑے ڈیموں کے بجائے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر پر توجہ دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تربیلا ڈیم کا 40 فیصد حصہ مٹی سے بھر چکا ہے جس کی وجہ سے زراعت کے لیے پانی کی فراہمی میں کمی ہوگئی ہے۔ سماجی کارکن ڈاکٹر عذرا طلعت سعید کا کہنا تھا کہ 43 ممالک کے 700 ملین افراد کو صاف پانی میسر نہیں جبکہ پانی کی کمی کے پیچھے موسمی تبدیلی کا عنصر بھی ہے۔ لوگوں کے طرز زندگی میں تبدیلی اور جدید ٹیکنالوجی خصوصا آمدورفت و نقل حمل کے شعبہ جات میں جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے۔ انھوں نے پانی کی تقسیم کے نظام کی نجکاری کی شدید مخالت کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی تقسیم کے نظام پر سرکاری اختیار ہونا لازمی ہے۔ کراچی کی مثال سامنے ہے جہاں نجی تقسیم کار جیسے کہ ٹینکر مافیا نے شہریوں کے لیے بے تحاشہ مسائل کھڑے کیے ہیں۔ سیاسی و آبی ماہر ابرار قاضی کا کہنا تھا کہ ”در حقیقت ملک میں پانی کی کوئی کمی نہیں ہے، مسئلہ پانی کی تقسیم اور انتظام کا ہے“
(دی نیوز، 28 اپریل، صفحہ16)

وزیر اعظم عمران خان دو مئی کو مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس سلسلے میں ہونے والی تقریب میں وزیراعظم، سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور وفاقی وزراء شرکت کریں گے۔ مہمند ڈیم میں 1.9 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا جبکہ ڈیم سے بجلی کی پیداواری صلاحیت 800 میگاواٹ ہوگی۔ ڈیم سے 17,000 ایکڑ زمین کو سیراب کیا جاسکے گا۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 1مئی، صفحہ3)

چاول
ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان برآمد کنندگان کی سہولت اور چاول کی برآمد میں اضافے کے لیے کراچی میں ”رائس سٹی“ کے قیام کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے اگلے اجلاس میں اس منصوبے کو منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ کارپوریشن کے چیرمین ریاض احمد میمن کا کہنا تھا کہ کارپوریشن برآمد کنندگان کو اجناس کی فروخت میں آسانی کے لیے ایک ویب سائیٹ بھی متعارف کروارہی ہے۔ یہ ایک طرح کی آن لائن منڈی کی طرح ہوگی جہاں برآمد کنندگان اپنی اشیاء درآمد کنندگان کے لیے پیش کرسکیں گے۔ اس ویب سائیٹ پر مختلف ممالک کے درآمد کنندگان کی معلومات دستیاب ہونگی۔
(بزنس ریکارڈر، 25 اپریل، صفحہ16)

سندھ حکومت نے زمین کو سیم وتھو ر سے محفوظ رکھنے اور اس کی زرخیزی بحال رکھنے کے لیے مستقل بہنے والی نہروں (پرینیل کنال) جیسے گھوٹکی فیڈر کنال، روہڑی کنال اور نارا کنال کے اطراف کے علاقوں میں چاول کی کاشت پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلی ہاؤس میں ہونے والے اعلی سطح کے اجلاس میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے تمام ڈویژنل کمشنرز کو اس پابندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کپاس کی کاشت مئی جبکہ چاول کی کاشت جون میں شروع ہوتی ہے جس پر وزیر اعلی نے محکمہ آبپاشی کو مئی میں پانی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسان کپاس کاشت کرسکیں۔ وزیر اعلی نے پانی کی فراہمی اور کسانوں کو کم پانی سے کاشت ہونے والی فصلوں کی طرف راغب کرنے کی منصوبہ بندی کے لیے سیکریٹری محکمہ آبپاشی، زراعت اور ریونیو پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔
(ڈان، 27 اپریل، صفحہ17)

کپاس
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ کسانوں کے لیے فصل کی بہتر قیمت کا حصول یقینی بنانے کے لیے کپاس کی کم سے کم امدادی قیمت مقرر کرے۔ اور اگر کپاس کی قیمت مقرر کردہ امدادی قیمت سے نیچے گرے تو حکومت کو کسانوں کے تحفظ کے لیے مداخلت کرنی چاہیے۔ کمیٹی نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق سے کہا ہے کہ کپاس کی پیداواری لاگت کا تخمینہ لگایا جائے اور اس کی بنیاد پر امدادی قیمت مقرر کی جائے۔ کمیٹی نے کسانوں کی کپاس سے دیگر فصلوں کی طرف منتقلی پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
(ڈان، 30 مارچ، صفحہ10)

کھجور
اراکین پارلیمنٹ نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستانی برآمدات پر 200 فیصد ٹیکس عائد کرنے کے بعد کھجور کی برآمد میں تیزی سے کمی ہوئی ہے۔ رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ کھجور کی برآمد میں تجارتی رکاوٹیں باعث تشویش ہیں۔ مقامی طور پر کھجور کی وافر پیداوار کے باجود حکومت ایران اور سعودی عرب سے کھجور کیوں درآمد کر رہی ہے؟ نفیسہ شاہ کے سوال پر پارلیمانی سیکریٹری برائے تجارت شاندانہ گلزار خان کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارتی درآمد کنندگان کو اب 200 فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑ رہاہے جس کے بعد انھوں نے پاکستان سے کھجور کی درآمد روک دی ہے۔ کھجور کی چھ مختلف منڈیوں جیسے کہ فرانس، جرمنی، برطانیہ، امریکہ اور انڈونیشیا سے بات چیت جاری ہے جو کھجور کے بڑے خریدار ہیں۔
(ڈان، 25 اپریل، صفحہ10)

ماہی گیری
بھارتی جیل میں قید ایک اور پاکستانی ماہی گیر ہلاک ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ماہی گیر آبادیاں خوف کا شکار ہیں کیونکہ 100سے زائد ماہی گیر اب بھی بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ فشرمین کو آپریٹو سوسائٹی کے مطابق انھیں حکام کی جانب سے سہیل رشید نامی ماہی گیر کی موت کی اطلاع ملی۔ رشید اکتوبر 2016 سے بھارتی گجرات کی ایک جیل میں قید تھے۔ بھارتی حکام کی جانب سے اب تک ماہی گیر کی موت کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔
(ڈان، 26 اپریل، صفحہ14)

موسمی تبدیل
موسمی تبدیلی اور محکمہ موسمیات کی پیشنگوئی کے تناظر میں کمشنر حیدرآباد محمد عباس بلوچ نے تمام سرکاری محکموں کو بڑے پیمانے پر سیلاب (سپر فلڈ) کے لئے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ حیدرآباد میں ایک اجلاس کے دوران کمشنر نے صحت، تعلیم، آبپاشی، بلدیات، مال مویشی اور دیگر محکموں کو اپنی تیاری سے متعلق رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ محکمہ تعلیم سے ان اسکولوں کی فہرست بھی طلب کی گئی ہے جنہیں امدادی مراکز کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہو۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 30 اپریل، صفحہ5)

خشک سالی
پاکستان میں اقوام متحدہ کے نمائندے نیل بھونی کی زیر صدارت ایک وفد نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات میں خشک سالی سے متاثرہ علاقے تھر، کوہستان اور کاچھو میں ہنگامی مدد فراہم کرنے اور مستقبل میں خشک سالی کے اثرات کم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس وفد میں یونیسیف اور فاؤ کے نمائندے بھی شامل تھے۔ (ڈان، 25 اپریل، صفحہ17)

نکتہ نظر
حکومتی پالیسیوں خصوصاً زراعت میں زمین اور پانی سے متعلق پالیسیوں کے جائزے سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت صرف اور صرف کارپوریٹ شعبے اور سرمایہ داروں کے لیے نجی شعبہ کے ذریعے ملک میں پیداوار کے عمل کو آگے بڑھانا چاہتی ہے جس کی قیمت اس ملک کے عوام ہر سطح پر چکارہے ہیں۔ سندھ حکومت کی جانب سے چھوٹے کسانوں کو تقسیم کی گئی ہزاروں ایکڑ زمین کی لیز منسوخ کرنا اور کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی تعمیر کے لیے زمین فراہم کرنا اس کی صرف ایک مثال ہے جبکہ تھر کے باسیوں پر اس منصوبے سے پڑنے والے معاشی، سماجی اور ماحولیاتی اثرات خود ایک بڑا المیہ ہے جس کے اثرات ابھی ظاہر ہونا باقی ہیں۔ اسی طرح شیخوپورہ میں چند ایکڑ زمین سے معمولی سرچارچ ادا کرکے بڑے پیمانے پر زیر زمین پانی کھینچ کر بوتلوں میں بھرنا اور اسے مہنگے داموں فروخت کرنا، جبکہ دوسری طرف نیسلے کمپنی سرکاری ادارے نارک میں کسانوں کو پانی کے تحفظ کے گر سکھارہی ہے جس سے بڑی بڑی غیر ملکی کمپنیوں کا کاروبار وابستہ ہے کیونکہ قطرہ قطرہ آبپاشی اور فوارہ آبپاشی نظام اور ان کے چلانے کے لیے شمسی توانائی کا نظام اور اس سے جڑے آلات انتہائی مہنگے داموں درآمد کیے جاتے ہیں جو چھوٹے کسانوں کی دسترس سے باہر ہیں۔ پالیسی سازی میں یہ تضاد ملک میں چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں کے لیے دن با دن حالات کی خرابی کی ایک وجہ ہیں۔ حکومتی مجموعی رویہ اور پالیسی سازی ہی ملک میں غربت اور بھوک کی بنیادی وجہ ہے کہ جس کے تحت سیلاب سے بچنے، غیر ملکی مدد سے پیداوار میں اضافے اور پانی کے تحفظ کے لیے سرکاری اقدامات جیسی خانہ پری تو کی جاتی ہے لیکن موسمی تبدیلی اور سیلاب کی وجوہات کو نظر انداز کرکے ماحول دشمن، غیر پائیدار پیداواری طریقوں کو جدت کا نام دے کر اپنایا جاتا ہے، کسان کو بھاری سرمایہ خرچ کرکے پانی محفوظ کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے لیکن مقامی آبی وسائل کو بیدردی سے استعمال کرکے اسے مقامی آبادیوں کو ہی فروخت کرکے کمپنیوں کو منافع کمانے کی کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ ضروری ہے کہ پیداواری وسائل اور پالیسی سازی کا عمل پیداوار سے جڑے اکثریتی محروم طبقے کے ہاتھ ہو جو پائیدار اصولوں پر ان وسائل کے استعمال سے ملک سے بھوک، غربت اور بیروزگاری جیسے عوامل کا خاتمہ کرسکتا ہے۔