ہم جینیاتی بیج کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟

بیج اپنی پیدائش سے ایک آزادقدرتی وسیلہ ہے جس کے کئی افعال ہیں، بیج جینیاتی وسائل کا ایک ذخیرہ ہے اور ہماری خوراک کا ایک ایسا بنیادی جز ہے جو اپنے اندر زندگی سمو کر کرہ ارض پر ناصرف انسان بلکہ ہر جاندار کی زندگی کو رواں رکھتا ہے۔ اس لیے بیج کو تجارتی جنس بنانا ایسا ہی ہے جیسے زندگی کو تجارت بنادینا۔

اس حوالے سے یہاں کچھ نکات مندرجہ زیل ہیں جو واضح کرتے ہیں کہ کیوں سوجھلا فار سوشل چینج، پاکستان کسان مزدور تحریک (پی کے ایم ٹی)، روٹس فار ایکوٹی اور دیگر سماجی تنظیمیں بلعموم ٹرید ریلیٹڈ آسپکٹس آف انٹی لیکچول پراپرٹی رائٹس (ٹرپس) اور بلخصوص سیڈ (ایمنڈیڈ) ایکٹ 2015 اور پلانٹ بریڈرز رائٹس ایکٹ 2016 کی مخالفت کرتی ہیں۔

:بیج پر کسانوں کا اجتماعی حق اور زندہ شے پر ملکیتی دعوی
بیج قدرت کا ایک تحفہ ہے جو کسی فرد یا کمپنی کی نہیں بلکہ اجتماعی ملکیت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کسان ہی ہیں جنہوں نے صدیوں بیج کی افزائش کی، تجربات کیے، اسے ذخیرہ کیا، تقسیم کیا اور محفوظ کیا ہے۔ یہ کسانوں اور دیہی آبادیوں کا اجتماعی علم ہی تھا جس نے انسانی تہذیب کو ہزاروں اقسام کے اجناس، سبزیاں، پھل اور پھولوں کی کاشت کے قابل بنایا۔ کسانوں نے نسل در نسل بیج کو محفوظ کیا اور یہ سلسلہ لاکھوں سال سے چلا آرہا ہے۔ یہاں ہزاروں اقسام ہیں جو کسانوں نے پیدا کی ہیں لیکن ہم کسانوں نے جب بھی نئی اقسام پیدا کیں فطرت کا احترام اور اس کے اصولوں کی پاسداری کی اور بیج میں پنہاں جینیاتی وسائل کا سب کے ساتھ آزادانہ تبادلہ کیا۔ ہم کسان جن کی تاریخ وادی سندھ کی تہذیب ہے جہاں باقائدہ زراعت کا آغاز ہوا اور ہمارے علم و تجربات کی بدولت ہماری نسلوں کو بہترین جینیاتی وسائل منتقل ہوئے۔ لہذا ہم یقین رکھتے ہیں کہ بیج آزاد ہے۔ یہ زندگی منتقل کرتا ہے اور بحیثیت ایک زندہ شے اسے محدود نہیں کیا جاسکتا، اسے کسی فرد یا کمپنیوں کی ملکیت نہیں قرار دیا جاسکتا۔ اگر یہ ملکیت ہے تو کسانوں کی اجتماعی ملکیت ہے۔ تاریخ میں ہم کسان ہی اس کے محافظ و نگہبان رہے ہیں۔ ہم نے بطور نگہبان اور محافظ اپنے فرائض سے انصاف کرتے ہوئے اس کا آزادانہ تبادلہ اور اسے تقسیم کیا ان سب سے جو اسے بطور خوراک، صحت اور زندگی استعمال کرنے کے خواہشمند تھے۔

:حیاتیاتی تنوع کو درپیش خطرات
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ 1960 کی دہائی میں سبز انقلاب کی آمد کے ساتھ ہی بیج کو جبراً ہم کسانوں کی ملکیت اور نگہبانی سے نکال کر اسے ایک تجارتی جنس میں تبدیل کردیا گیا۔ بیج پر کمپنیوں کے اختیار، بیج کی ہائبرڈ اقسام کا فروغ اور اب جینیاتی بیجوں کی بدولت ہم کسان صرف 50 سالوں میں اپنے زیادہ تر مقامی روایتی بیجوں سے محروم ہوگئے ہیں۔ متنوع جینیاتی وسائل جو ہزاروں سال میں محفوظ کیے گئے تھے ایک صدی سے بھی کم عرصے میں تقریباً ناپید ہوگئے ہیں۔
اگر ہم نے جینیاتی بیجوں کو اپنی خوراک و زراعت پر قبضے کی اجازت دی تو یہ قدم حیاتیاتی تنوع کی مزید تباہی کا سبب ہوگا۔ ہائبرڈ اور جینیاتی بیج ایک ہی قسم کی ایک جیسی فصل کی کاشت پر انحصار کرتے ہیں۔ جینیاتی بیج دراصل حیاتیاتی تنوع جو ایک گھمبیر باریکی سے جڑا ہوا نظام ہے، کو رد کرتا ہے۔ بیج کو ایک مشین میں تبدیل کردیا گیا ہے جس کی اہمیت پیداوار سے جانچی جاتی ہے، لیکن بیج کا کام صرف پیداوار دینا نہیں ہے۔ زندگی کو کئی شکلوں میں فروغ دینا بھی اس کا کام ہے اور اس فعل پر انسانی عقل اب تک عبور حاصل نہیں کرسکی ہے اور اسی لیے بیج کو صرف جمع تفریق کے فارمولے میں ڈھالنا سخت بیوقوفی ہے۔ نباتاتی حیات (پلانٹ لائف) پیچیدہ ہے، ایک غذائی چکر ہے، پرندوں سے لے کر رینگنے والے جانوروں تک، حشرات سے لے کر لاکھوں خردبینی جانداروں کے لیے ایک تحفظ ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ایک جیسے پودوں کی پیداوار متنوع حیات کا انکار اور کئی طرح کی ماحولیاتی آفات کی وجہ ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ زیادہ پیداوار دینے والی بیج کی اقسام پودوں میں کم از اکم ایک ایسی حیاتیاتی تبدیلی نہیں ہے جس کو اصلی حالت میں واپس نہ لایا جاسکے یعنی وقت کے ساتھ ان بیجوں سے جینیاتی مواد واپس بھی حاصل کیا جاسکتا ہے، لیکن جینیاتی بیج ایسی حیاتیاتی تبدیلیوں کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے جسے واپس پرانی شکل میں حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ مزید سنگین نقصان یہ ہے کہ جینیاتی بیجوں کی افزائش قدرتی بیجوں کے ساتھ ہوسکتی ہے جس کا مطلب ہے کہ بڑے پیمانے پر جینیاتی وسائل کی ناقابل تلافی آلودگی اور ملاوٹ ایک حقیقت ہے۔ ایک بار جینیاتی بیج فطرت میں پھیل جائیں تو یہ ایسا ہے جیسے کہ کوئی ایسی معذوری جسے کوئی دور نہیں کرسکتا اور اس کی افزائش جاری رکھی جائے جو ماحول میں موجود قدرتی اقسام کو آلودہ کرتا رہے۔

:خوراک و زراعت پر کمپنیوں کا غلبہ
زرعی کیمیائی اور بیج کمپنیوں نے ایسی قانونی حکمت عملی بنانے کے لیے تگ و دو کی ہے جس کی بنیاد پر بیج کو ان کی ملکیت کہا جائے۔ ایسا اس لیے ہے کہ بیج میں ایک منفرد خاصیت ہے کہ صرف ایک بیج بھی سینکڑوں اپنے جیسے بیج پیدا کرسکتا ہے، اسی لیے یہ ناممکن ہے کہ بیج پر اجارہ داری قائم کی جاسکے۔ ایسا صرف ایک قانونی نظام میں ممکن ہے جو ان کمپنیوں کو زندگی کو اختیار یا ملکیت میں لینے کی جازت دیتا ہو۔ جب منافع کمانے والی کمپنیوں کو بیج پر اختیار یا ملکیت دے دی جاتی ہے تو ایک قوم اپنی خوراک کی پیداوار پر اختیار سے محروم ہوجاتی ہے۔ کمپنیاں اپنی مرضی سے بیج کی قیمت کا تعین کرسکتی ہیں۔ کمپنیاں کسی بھی ملک میں بیج کی فروخت باآسانی روک سکتی ہیں۔ جنگ اور تنازعات کے اس دور میں بیج پر اختیار و ملکیت محتاجی میں ایک اور اضافہ ہے۔ آج کسان یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ انہیں کیا اگانا ہے، کسان کو منڈی میں دستیاب کمپنیوں کے بیجوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے اور کسان یہی دستیاب بیج کاشت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آج پاکستان میں تقریباً تمام سبزیاں کمپنیوں کے تیارکردہ بیجوں سے کاشت کی جارہی ہیں اور ہر ایک سبزی کی فصل پر زہریلی زرعی ادویات کی بھاری مقدار چھڑکی جاتی ہے۔ غریب ہو یا امیر پوری قوم کے پاس یہ آلودہ غذا کھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
یہ اہم نکتہ ہے کہ بیج پر اب صرف چار بڑی کمپنیوں بائیر (Bayer)، کیم چائنہ (Chem China)، بی اے ایس ایف (BASF) اور کورٹیوا (Corteva) کا غلبہ ہے۔ کچھ ہی سالوں میں ان چار کمپنیوں نے بیج کے شعبہ پر اجارہ داری قائم کرلی ہے جن کا عالمی سطح پر بیج کی 60 فیصد فروخت پر قبضہ ہے۔ صرف 10 سال پہلے 2009 میں عالمی سطح پر تقریباً 100 بیج کمپنیاں تھیں۔ حد یہ ہے کہ صرف پچھلے دو سے تین سالوں میں بڑے پیمانے پر ان کمپنیوں کا آپس میں انضمام ہوا جیسے کہ بائیر نے مونسانٹو کو خرید لیا جو آج بیج کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ 2017 میں ڈوپونٹ ڈاؤ کمپنی میں ضم ہوکر امریکہ کی ڈاؤ ڈوپونٹ کمپنی بن گئی اور اس سال کمپنی نے اپنا زرعی شعبہ الگ کرکے اسے کورٹیوا ایگری سائنس کا نام دے دیا۔

:پیداواری لاگت
کسانوں کے لیے ہائبرڈ اور جینیاتی بیجوں کا مطلب ہے کہ انتہائی مہنگی پیداواری لاگت۔ بیج کمپنیوں نے ”پیکچ ڈیل“ بنادی ہیں یعنی اگر آپ مخصوص برانڈ کا بیج خریدیں گے تو آپ کو کمپنی کے ہی تجویز کردہ مخصوص نباتات کش، کرم کش زرعی زہر بھی خریدنے پڑیں گے۔ یوں کسان کمپنی کی کئی مصنوعات خریدنے پر مجبور ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ ان سب کے بعد بھی اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ کسان منافع بخش پیداوار حاصل کرسکے گا۔
یہ اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے کہ ہائبرڈ اور جینیاتی بیج اضافی کیمیائی کھادوں کے بغیر اگ نہیں سکتے اور کیمیائی کھادیں کیڑے مکوڑوں کے لیے پرکشش ہوتی ہیں، لہذا ہماری خوراک انتہائی خطرناک کیمیائی مواد کی بھاری مقدار جزب کرلیتی ہے۔ آج ایسا کوئی چھوٹا کسان نہیں جو قرض دار نہ ہو۔ کسان ہائبرڈ اور جینیاتی بیج اس امید پر کاشت کرتے رہتے ہیں کہ وہ زیادہ پیداوار حاصل کریں گے اور اپنا قرض چکاسکیں گے، لیکن وہ ہر موسم میں فصل کی کٹائی کے بعدمزید قرض میں ڈوب جاتے ہیں۔
ایسے شواہد کی کمی نہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ جینیاتی بیج ناصرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ناکام ہوچکے ہیں۔ کچھ سال پہلے امریکی محکمہ زراعت گینس (GAINS)کی رپورٹ میں لکھا گیا تھا کہ پاکستان میں تقریباً 95 فیصد کپاس جینیاتی بیجوں سے کاشت ہوتی ہے۔ یہ بیج پاکستان میں 2000 کی دہائی میں متعارف کیے گئے تھے اور نتیجہ سامنے ہے۔ سب جانتے ہیں کہ گزشتہ کچھ سالوں سے ملک میں کپاس کی پیداوار کم ہورہی ہے اور ہم عالمی منڈی سے مسلسل کپاس درآمد کررہے ہیں۔ کپاس کے جینیاتی بیج ناصرف کیڑے مکوڑے کے حملے روکنے میں ناکام ہوے بلکہ مزید دیگر کیڑوں کے حملے کا سبب بھی بنے، جنہیں اکثر’سپر بگ‘ کہا جاتا ہے جس کے لیے اب زرعی زہر کی بھاری مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔

:پانی اور زمین
ہائبرڈ اور جینیاتی بیجوں کے ساتھ بیرونی مداخل کے استعمال کے اہم نکتہ کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ بیج بیرونی مداخل کے استعمال اور اضافی پانی کے استعمال پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان ایک نیم بارانی خطہ ہے جو پانی کے لے بارشوں اور اپنے گلیشیئرز پر انحصار کرتا ہے جہاں نہری پانی کی ترسیل کم ہے۔ یہ ایک عام حقیقت ہے لہذا ڈیموں کی تعمیر پر توجہ مرکوز ہے۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ آنے والی دہائیوں میں بڑی جنگوں کی وجہ پانی ہوگا۔ نہری پانی ناصرف سرحد پار بلکہ اندرون ملک چاروں صوبوں کے درمیان بھی تنازعات اور تناؤ کی وجہ ہے۔ جبکہ ہم قیمتی آبی وسائل کو ایسے بیجوں کے فروغ پر ضائع کررہے ہیں جس نے ہمارے کسانوں کے لیے کئی سطحوں پر محتاجی پیدا کردی ہے۔ آج حکومت پاکستان بشمول حکومت پنجاب کی پالیسی زرعی آزاد تجارت پر مبنی ہے جس میں برآمدات میں اضافے پر زور ہے۔ یعنی جب ہم کمپنیوں کے بیج استعمال کرتے ہیں ناصرف ہم اپنے ملک کے کم ہوتے ہوئے آبی ذخائر کا اضافی استعمال کررہے ہوتے ہیں بلکہ ہم اپنا پانی بھی برآمد کررہے ہوتے ہیں۔
یہ اب ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پاکستان نے کارپوریٹ فارمنگ کو ایک مثالی پالیسی کے طور پراپنا لیا ہے، لیکن اس پالیسی کی کیا قیمت چکائی جارہی ہے؟ پانی کی قلت کے شکار ممالک اور وہ ممالک جہاں زمین زرخیز نہیں ہے یا پھر کیمیائی زراعت کی وجہ سے وہ اپنی زمین تباہ کرچکے ہیں، پاکستان میں زمین حاصل کررہے ہیں۔ پہلے ہی متحدہ عرب امارات کی کمپنی الدھرا سندھ میں زمین حاصل کرچکی ہے جہاں مویشیوں کے لیے چارہ کاشت ہورہا ہے، یہ چارے کی ایسی قسم ہے جو زیادہ پانی پر انحصار کرتی ہے۔ اسی طرح چین نے بھی زرعی شعبہ میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ یہ دلچسپی پاکستان میں جینیاتی ٹیکنالوجی کے استعمال اور غذائی اجناس کی کاشت کے لیے ہے جسے برآمد کیا جاسکے۔

:آلودگی، محفوظ غذاہیت بخش خوراک اور صحت
بیج پر غلبہ صرف کمپنیوں کے فراہم کردہ بیجوں پر انحصار کا معاملہ نہیں بلکہ اس زہر کا بھی ہے جو اب ہمارے غذائی نظام کا حصہ بن گیا ہے۔ اگر کوئی ہمارے کھانے کی پلیٹ پر کیمیکل چھڑک دے ہم اسے نہیں کھائیں گے، لیکن ہم اس حقیقت سے آنکھ چراتے ہیں کہ جینیاتی بیج مٹی میں اپنی کاشت کے پہلے دن سے لے کر تقریباً کٹائی تک زہرکے ساتھ پروان چڑھتے ہیں۔ جینیاتی بیجوں میں بی ٹی بیج اور بھی بدتر اس لیے ہے کہ اس میں بیج کے اندر ہی زہر شامل کیا جاچکا ہوتا ہے، یوں یہ زہر پورے پودے میں پھیل جاتا ہے۔ کیا پاکستانیوں کو صاف و محفوظ غذائیت سے بھرپور خوراک کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں ہے؟
انسان اور دیگر تمام جانداروں کو اس زہریلی آلودگی کی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ آج معاشرہ کئی طرح کی پھیلتی ہوئی بیماریوں کا شکار ہے جس کی وجہ زہریلی غذا اور ماحول بنا ہے جو صنعتی زراعت کا”تحفہ“ ہے۔ اس کے علاوہ یہ بیماریاں گھرانے پر سخت جسمانی اور ذہنی دباؤ ڈالتی ہیں۔ یہ بھی واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ زیادہ تر پاکستانیوں کے لیے ان بیماریوں کا مہنگا ترین علاج کروانا تقریباً ناممکن ہے۔ سرطان کے علاج پر 17 سے 20 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں اور اس کے بعد بھی یہ ضروری نہیں کہ انسانی جان بچ جائے۔
اس حوالے سے مونسانٹو کی نباتات کش دوا راؤنڈ اپ ریڈی کے خلاف قانونی مقدمات کی فہرست کو بھی یاد رکھنا ضروری ہے جس میں گلائیفو سیٹ ہوتا ہے۔ گلائفوسیٹ کو عالمی ادارہ صحت کے زیلی ادارے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر نے انسانوں میں ممکنہ طور پر سرطان کی وجہ قرار دیا ہے۔ ایک امریکی جوڑے میں سرطان کی وجہ بننے پر مونسانٹو کو ایسے ہی ایک مقدمے میں دو بلین ڈالر سے زائد ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو اپنی زمین پر گلائفوسیٹ استعمال کرتے تھے۔
پاکستان میں غذائی کمی آج ایک عام مسئلہ بن چکی ہے۔ پاکستان کے تقریباً آدھے بچے غذائی کمی کا شکار ہیں۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ جو خوراک ہم اپنے کھیتوں میں کاشت کرتے ہیں وہ ہماری بھوک تو مٹاتی ہے لیکن غذائیت خصوصاً مائیکرونیوٹرنٹ فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ ہماری مقامی اقسام ناصرف مقامی زرعی مداخل (جیسے کہ مویشیوں کا فضلہ و ہری کھاد اور پانی کی کم مقدار) پر منحصر تھیں بلکہ ان کی جڑیں زمین میں گہرائی تک جاتی تھیں جہاں سے وہ قدرتی طور پر مٹی سے معدنیات حاصل کرتی تھیں، جبکہ ہائبرڈ اور جینیاتی پودے اپنی غذا یوریا اور دیگر کیمیائی کھادوں سے حاصل کرتے ہیں جو کمپنیوں کے نمائندے متعارف کرواتے ہیں۔ نتیجہ خوراک میں غذائیت کی کمی۔
انسانوں میں بیماریوں اور موت کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ صنعتی زراعت میں کیمیکلز کے بھاری استعمال نے پھول پودوں اور ان سے جڑی حیات کی بہت سی اقسام کا خاتمہ کردیا جس کی ایک عام مثال تتلی اور شہد کی مکھیاں ہیں۔ یہ چھوٹے سے کیڑے زیرگی کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور انسانوں کے لیے شہد جیسی غذائیت بخش خوراک پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح زرعی زہر کے چھڑکاؤ اور کیمیائی کھادوں کے استعمال سے پرندوں کی سینکڑوں اقسام کا خاتمہ ہوچکا ہے۔
ہمارے اس شاندار ماحولیاتی نظام کا توازن اور ماحول برباد ہوچکا ہے۔ آج کسان ناصرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں بھوک، غربت، قرض کے بوجھ، بیماریوں اور اموات کا سامنا کررہے ہیں جس میں بیج کے بنیادی کردار سے انحراف کرنا ممکن نہیں جسے منافع کے حصول کے لیے ان کمپنیوں نے جکڑ رکھا ہے جن کے لیے کرہ ارض اور انسانی زندگی سے کہیں زیادہ دولت و منافع اہم ہے۔

:سامراجی تسلط
اس میں کوئی شک نہیں کہ بیج سے متعلق موجودہ قانونی ڈھانچے کی بنیاد ڈبیلیو ٹی او کا معاہدہ ٹرپس ہے۔ ڈبلیو ٹی او نے آزاد تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک وسیع قانونی ڈھانچہ تیار کیا ہے جن میں سے ایک ٹرپس معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ ایک تو شمالی ممالک کی کمپنیوں کی اجارہ داری بیج کے شعبہ پر قائم رہے اور دوسرا یہ کہ بیج کو تجارتی جنس بنانا مشکل تھا۔ بیج پر سے کسانوں کے اختیار کو ختم کرنے کا واحد راستہ یہی تھا کہ قانون سازی کی جائے جو کسانوں کے صدیوں پرانے اجتماعی حق کو غضب کرسکے۔
یہ واضح ہے کہ سرکاری حکام اس پالیسی اور قانونی پابندیوں کے حق میں نہیں جو ڈبلیو ٹی او پاکستان پر نافذ کررہا ہے۔ 1995 میں ڈبلیو ٹی او کے قیام کے بعد گزشتہ 25 سالوں میں اختلافات واضح ہوگئے ہیں۔ ان اختلافات کی بنیاد ناصرف کسانوں کے حقوق کا احترام ہے بلکہ وطن دوست احساسات اور قومی مفاد بھی ہے۔ ملکی مفاد میں بہتر ہے کہ خوراک کے نظام میں محتاجی ختم ہو اور کسان و صارف دونوں کا تحفظ ہو اور آخر کار ملک کو مزید محتاجی سے تحفظ حاصل ہو۔
ملک میں جنیاتی مکئی کی منظوری کے تناظر میں یہ مدنظر رکھا جائے کہ زرعی شعبہ سے وابستہ تمام شراکت داروں نے، جن میں کسان، ملکی بیج کمپنیاں اور خوراک تیار کرنے والے مقامی کارخانے شامل ہیں، ملک میں جنیاتی مکئی کی کاشت کی اجازت دینے کے سخت خلاف ہیں۔ جینیاتی مکئی اپنی کراس پولینیشن یا زیرگی کے عمل کی وجہ سے انتہائی خطرناک ہے اور یہ یقینی ہے کہ جینیاتی مکئی مقامی جینیاتی وسائل کو آلودہ کردے گا جنہیں دوبارہ اصل شکل میں حاصل نہیں کیا جاسکتا، اس کا نتیجہ ملک سے مقامی مکئی کی اقسام کے خاتمے کی صورت نکلے گا۔ سیکریٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے بھی نشاندہی کی ہے کہ جینیاتی مکئی پیداوار میں کوئی واضح اضافہ نہیں کرتی، ناہی اس کے استعمال سے پیداواری لاگت کم ہوتی ہے اور نا ہی درآمد۔ مزید یہ کہ ”جینیاتی مکئی کی منظوری سے درآمدی اخراجات بڑھ سکتے ہیں اور ہماری برآمدات بھی متاثر ہوسکتی ہیں“۔
یہ بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے کہ جینیاتی مکئی کی منظوری کے بعد جینیاتی اور غیر جینیاتی مکئی کے لیے کوئی قانونی ڈھانچہ اور قوائد و ضوابط یا نظام موجود نہیں جو کسانوں اور صارفین کو تحفظ فراہم کرتے ہوں۔ اس کے علاوہ یہاں جینیاتی فصلوں کے لیے کسانوں کی تربیت کا بھی کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ جینیاتی اور غیر جینیاتی دونوں فصلوں کا ایک ساتھ کاشت کیا جانا ایک بڑا مسئلہ ہے جہاں 95 فیصد کسانوں کے پاس پانچ ایکڑ سے کم زمین ہے۔ اس صورتحال میں جینیاتی اور غیرجینیاتی فصلوں کے درمیان کراس پولی نیشن کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
خبروں کے مطابق دفاعی اداروں کی جانب سے بھی جینیاتی ٹیکنالوجی کی کاشت کی سخت مخالفت نظر آرہی ہے۔ فوج اور حساس ادارے آئی ایس آئی کے نمائندوں نے اس حوالے سے ایک مشاورتی اجلاس میں شرکت کی۔ ملٹری اسٹریٹیجک پلاننگ ڈویژن کے نمائندے کے مطابق جینیاتی فصلوں کی منظوری الگ الگ فصلوں کی بنیاد پر ہونی چاہیے اور جینیاتی مکئی کو پاکستان میں کاشت کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔
یہ بھی قابل غور ہے کہ کئی ممالک کو جینیاتی فصلوں پر سخت تحفظات ہیں۔ مثلاً 2017 میں یورپی یونین نے جینیاتی چاول پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اسی طرح چین نے کئی کھیپوں میں جینیاتی ملاوٹ کی وجہ سے سرسوں کے بیج اور اس سے بنے کھانوں کی پاکستان سے درآمد پر 2013 میں پابندی عائد کردی۔ یہ پابندی اب تک برقرار ہے اور ہم اپنی اس منڈی کو کھوچکے ہیں۔ روس اور کئی وسط ایشیائی ریاستیں جینیاتی فصلوں کی اجازت نہیں دیتے۔ خلیجی ممالک نے بھی جینیاتی فصلوں پر پابندی عائد کررکھی ہے۔


اوپر پیش کردہ مواد سے واضح ہے کہ کسانوں، شہریوں اور پورے معاشرے کے لیے ایک صحت مند خوراک اگانے کا نظام اہم ترین ضرورت ہے جس کا ایک اہم ترین جز بیج ہے۔ لہذا ہم اپنے بیجوں کے تحفظ کے لیے پرعزم اور ڈٹے ہوئے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ عدالت اس مقدمے کے ہر پہلو کو مدنظر رکھے گی، عوامی حقوق، کسانوں، اور قومی مفاد کو ترجیح دے گی ناکہ غیرملکی کمپنیوں کے مفادات کو۔